وجود

... loading ...

وجود

رہائی کے بعد پھر گرفتاری :معروف حریت رہنما مسرت عالم بٹ کو زیر حراست شہید کرنے کا خدشہ

جمعه 01 جنوری 2016 رہائی کے بعد پھر گرفتاری :معروف حریت رہنما مسرت عالم بٹ کو زیر حراست شہید کرنے کا خدشہ

MA

عدالت عالیہ کی طرف سے رہائی کے احکامات پانے کے فوراً بعد پولیس نے ایک مرتبہ پھر سینئر حریت لیڈر اورمسلم لیگ چیئر مین مسرت عالم بٹ کودوبارہ گرفتار کرلیا ہے۔ انہیں منگل کی شام کو کورٹ بلوال جیل جموں کے احاطے سے ہی دوبارہ گرفتارکرلیاگیا جہاں وہ مقید تھے۔یاد رہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران یہ دوسرا موقع ہے جب عدالت کی طرف سے ان پر عائد پبلک سیفٹی ایکٹ کالعدم قرار دئے جانے کے تناظر میں انہیں رہائی کے بعد پھر سے حراست میں لیا گیا۔مسرت عالم کو2010کے ایجی ٹیشن کے دوران کلیدی رول ادا کرنے کے الزام میں چار ماہ کی روپوشی کے بعد پولیس کے ا سپیشل آپریشن گروپ نے گرفتارکرلیا تھا۔

مسرت عالم1971ء کو زیندار محلہ سری نگر میں پیدا ہوئے۔سری نگر کے معروف علمی ادارے ٹینڈلل بسکو سکول سے بارہویں جماعت کا امتحان پاس کرکے ایس پی کالج سرینگر سے سائنس مضامین میں گریجویشن کیا۔ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے مسرت عالم نے 1987میں مسلم متحدہ محاذ کے قیام کے دوران اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا اور اس دوران میں عوامی ریلیوں میں بھرپور شرکت کی۔1987انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں ہونے کے بعد وہ 1990 میں عسکری تحریک کا بھی حصہ بنے۔مسرت عالم گزشتہ 25برسوں کے دوران تقریباََ 14 سال تک پابند سلاسل رہے۔ان کی سربراہی میں حریت پسندتنظیم جموں و کشمیر مسلم لیگ ،سید علی گیلانی کی قیادت والی آل پارٹیز حریت کا نفرنس کا حصہ ہے ۔وہ جموں و کشمیر کے جوانوں میں کا فی مقبول ہیں،سید علی گیلانی کے کافی قریب سمجھے جاتے ہیں ۔ 2007ء میں سید علی گیلانی نے تحریک حریت کے جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی اور جموں و کشمیر مسلم کا فرنس کے غلام نبی سمجھی کے ساتھ ساتھ مسرت عالم کو بھی اپنا جا نشین قرار دیا۔

سید علی گیلانی نے مسرت عالم بٹ پر 31ویں بار پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کرنے کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بات بھارت کے جمہوری دعوے کے لیے باعث شرم اور قابل مذمت ہے کہ بھارتی حکمران ایک شخص کےخلاف برسرِ پیکار ہیں۔

مسرت عالم کی عدالت عالیہ سے رہائی اور ریاستی سرکار کی طرف سے پھر گرفتاری کے خلا ف مذمت کا سلسلہ جاری ہے ۔سید علی گیلانی نے مسرت عالم بٹ پر 31ویں بار پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کرنے کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بات بھارت کے جمہوری دعوے کے لیے باعث شرم اور قابل مذمت ہے کہ بھارتی حکمران ایک شخص کے خلاف برسرِ پیکار ہیں اور ان کو مسلسل سیاسی انتقام گیری کا نشانہ بنایا جارہا ہے،سید علی گیلانی نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ انہیں زیر حرست شہید بھی کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کو انسانی حقوق کے عالمی اداروں خاص کر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک ’’غیر قانونی قانون‘‘ قرار دیا ہے اور اس کے اطلاق کو انسانی حقوق کی سنگین پامالی قرار دیا ہے، البتہ جموں کشمیر میں اس کا مسلسل اور بے دریغ اطلاق آج بھی جاری ہے اور صرف 2015 کے سال میں 82شہریوں کو اس کالے قانون کے تحت پابند سلاسل بنایا گیا ہے۔ حریت چیئرمین نے انسانی حقوق کے لیے سرگرم مقامی اور عالمی اداروں سے پرزور اپیل کی کہ وہ مسرت عالم بٹ کو بار بار پی ایس اے کے تحت نظربند رکھنے کی غیر قانونی کارروائی کا سنجیدہ نوٹس لیں اور ان کے تحفظ اور فوری رہائی کے لیے اپنے اثرورسوخ کو استعمال میں لائیں۔ جموں و کشمیر فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ نے مسرت عالم بٹ کی مسلسل گرفتاری پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقامی عدالتوں سے رہائی کے احکامات کے باوجود ان پر بار بار پی ایس اے کا اطلاق اس بات کا غماز ہے کہ ریاست میں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ قانون کی عملداری سے ناواقف حکام کی خواہشات ہی کا چلن اور رواج ہے۔ انہوں نے عدالت کی جانب سے مسرت عالم پر عائد سیفٹی ایکٹ کالعدم کرنے کے باوجود ،ان کی دوبارہ گرفتاری کو لاقانونیت سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے انصاف پسند حلقوں کو اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ کس طرح جموں کشمیر کے حدود میں قانون و انصاف کو روندتے ہوئے افراد کی آزادی پر قدغن لگائی جارہی ہیں۔ہم ان کی مسلسل نظر بندی کے سلسلے میں قانونی ماہرین سے صلاح مشورہ کرکے آئندہ کی کارروائی کے بارے میں اقدامات اٹھائیں گے۔جماعت اسلامی نے کے ترجمان زاہد علی نے مسرت عالم کی غیر قانونی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خیالات کے اظہار کی آزادی، بنیادی جمہوری اقدار اور اصولوں میں شامل ہے جس کے بغیر جمہوریت کا تصور ہی محال ہے مگر ہمارے اس بدقسمت خطے میں مقہور اور مجبور عوام کو اپنی رائے کے اظہار کی بھی اجازت نہیں ہے اور ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرنا ایک بڑا جرم مانا جاتا ہے۔ یہاں کے عوام 1947سے ہی ظلم و جبر اور سرکاری بربریت کے شکار ہیں اور اُن کے بنیادی حقوق کو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ پامال کیا جاتا ہے۔ سچ بات کہنے والے کے لیے ایسے سیاہ قوانین وضع کیے گئے ہیں کہ سالہاسال تک اُس کو پس زنداں رکھنے کا جواز پیدا کیا گیا ہے۔ مسرت عالم پر اکیتیسواں حکمِ نظر بندی عائد کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ عدالتی احکامات کو ردی کاغذ سمجھ کر ٹوکری کی نذرکیا جاتا ہے۔حزب سربراہ اور متحدہ جہاد کو نسل کے چیئرمین سید صلاح الدین نے اپنے بیان میں کہا کہ معروف حریت رہنما ،مسرت عالم بٹ کی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتاری ،کوئی انہونی بات نہیں تاہم اس سے حکمرانوں ،اور بھارتی عدلیہ کی اوقات سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ جموں و کشمیر میں اصل حکمرانی فوج اور انٹیلی جنس کے ہاتھوں میں ہے ،با قی سب فسانہ ہے ۔جہاد کونسل کے سربراہ نے واضح کیا کہ مسرت عالم پر اب تک 30مرتبہ سیفٹی ایکٹ لگ چکا ہے ،لیکن ان کے عزم و حوصلے میں نہ تب کمی آئی نہ اب آئیگی ۔گرفتاریاں ،شہادتیں اس تحریک کو کا میابی سے ہمکنار کرنے کا ذریعہ ہیں ،ان شا ء اﷲ یہ تحریک ضرور منزل پر پہنچے گی۔دختران ملت جموں و کشمیرنے معروف مزاحمتی قائد مسرت عالم بٹ کی مسلسل حراست کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ اور اسکی فورسز نے خود اپنی عدلیہ کا مذاق بنایا ہے۔ بھارتی ایجنسیاں جموں کشمیر کی مزاحمتی قیادت کو ہراساں کرکے انکی آواز کو دبانے کی سازشیں کر رہی ہیں۔ دختران ملت کی ترجمان نے کہاکہ باوجود اسکے کہ عدالت نے مسلم لیگ کے چیرمین مسرت عالم بٹ کو پھر سے رہا کردیا ہے انہیں مسلسل حراست میں رکھا گیا ہے اور ان پر ایک بار پھر فرضی الزامات کے تحت کالے قوانین نافذ کئے جارہے ہیں۔دختران ملت کی ترجمان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ انہیں مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری لا قانونیت کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیئے۔ جموں کشمیر مسلم لیگ کے چیئرمین خان سوپوری نے مسلم لیگ کے محبوس چیئرمین مسرت عالم بٹ کی جیل احاطے میں دوبارہ گرفتا ری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کی مانگ کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے حربوں سے بھارت جموں و کشمیر کی مبنی برحق جد وجہد کو کمزور نہیں کر سکتا ہے بلکہ اس سے تحریک آزادی کو مزید تقویت ملے گی ۔


متعلقہ خبریں


ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید وجود - جمعه 24 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا

مضامین
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ وجود هفته 25 اپریل 2026
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ

امریکا ٹوٹ جائے گا۔۔۔ وجود هفته 25 اپریل 2026
امریکا ٹوٹ جائے گا۔۔۔

علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح وجود هفته 25 اپریل 2026
علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح

پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں وجود جمعه 24 اپریل 2026
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں

ایران جنگ میں بھارتی تنہائی وجود جمعه 24 اپریل 2026
ایران جنگ میں بھارتی تنہائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر