وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ایگزیکٹ ایک ارب کا ٹیکس ہڑپ گیا: بول کے مخالف جیو اور ایکسپریس نے اس خبر کو کیوں دبایا؟

پیر 28 دسمبر 2015 ایگزیکٹ ایک ارب کا ٹیکس ہڑپ گیا: بول کے مخالف جیو اور ایکسپریس نے اس خبر کو کیوں دبایا؟

Axact-Geo-Express-SRB

سندھ ریونیو بورڈ کی انتظامیہ کی صریح غفلت کی وجہ سے صوبائی خزانے کو تقریباً ایک ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ اس نے ایگزیکٹ سے ‘سیلز ٹیکس آن سروسز’ وصول نہیں کیا۔ مگر یہ کہانی کا صرف ایک رخ ہے، اصل کہانی اس سے کہیں زیادہ پُرپیچ ہے اور یہ ایگزیکٹ سے کہیں زیادہ سندھ ریونیو بورڈ اور ذرائع ابلاغ کے درمیان موجود ایک خاموش ملی بھگت کے بدترین اور مسلسل جاری بدعنوانی کے ایک سلسلے سے جڑی ہے۔

سب سے پہلے تو ایگزیکٹ کے مسئلے کو ہی لیجئے جس کی تفصیلات سے اصل کہانی کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ دستاویزی ثبوت اور ایگزیکٹ کے جمع کردہ سیلز ٹیکس ریٹرنز ظاہر کرتے ہیں کہ 2014ء کے چار مہینوں مئی، جون، جولائی اور اگست میں ایگزیکٹ نے ‘فراہم کردہ یا مقامی طور پر سپرد کردہ خدمات’ کے ضمن میں 1.18 ارب روپے ظاہر کئے؛ یہ رقم ایگزیکٹ کی جانب سے جمع کرائے گئے ریٹرنز کے منسلکہ ‘سی’ میں شامل ہے لیکن ادارے کی جانب سے اعلان کے باوجود سندھ ریونیو بورڈ 16 فیصد سیلز ٹیکس وصول کرنے میں بدستور جھجک رہا ہے۔

یہ ایس آر بی انتظامیہ کی صریح غفلت ہے یا نااہلی، لیکن اس سے خزانے کو 200 ملین روپے کا نقصان ضرور پہنچا ہے۔ اگر مذکورہ چار مہینوں میں اعلان کردہ رقم کو درست سمجھا جائے اور اوسط کاروبار کا اندازہ لگایا جائے تو ان مہینوں میں جن میں ایگزیکٹ نے سرے سے آمدنی ہی ظاہر نہیں کی، اوسط سیلز ٹیکس تقریباً 1.2 بلین روپے بنتا ہے، جس کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

ایگزیکٹ کے اپنے جمع کردہ سیلز ٹیکس ریٹرنز ظاہر کرتے ہیں کہ 2014ء کے چار مہینوں مئی، جون، جولائی اور اگست میں ایگزیکٹ نے اپنی خدمات کی فراہمی کے ضمن میں 1.18 ارب روپے کمائے،اگر اسی اوسط کو پور ے سال پر قیاس کیا جائے تو اوسط سیلز ٹیکس ایک ارب سے زائد بنتا ہے۔

ایگزیکٹ نے حیران کن طور پر جولائی 2013ء سے مارچ 2014ء کے درمیان نو ماہ میں ایس آر بی کے روبرہ پیش کردہ دستاویزات میں کوئی رقم ظاہر نہیں کی۔ اس کا مطلب ہےکہ نو مہینے تک ایگزیکٹ نے کوئی کاروبار نہیں کیا، نہ کوئی درآمد کی، نہ برآمد اور نہ ہی کوئی سروسز انجام دیں اور نہ فراہم کیں۔ جبکہ سروسز ایکٹ 2011ء میں سندھ سیلز ٹیکس کی شق 28 کے مطابق ایس آر بی قانونی طور پر کم از کم اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے کے کسی افسر کو تحقیقات یا تفتیش کے لیے مقرر کر سکتا ہے جو ایس ایس ٹی ایکٹ 2011ء کی شق 48 کے مطابق اس عرصے میں ہونے یا نہ ہونے والے آڈٹ کی تحقیقات یا تفتیش کر سکتا ہے۔ یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ ایگزیکٹ نے جولائی 2013ء سے اب تک سیلز ٹیکس آن سروسز پر ایک پیسہ بھی ادا نہیں کیا اور ایس آر بی نے بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایس آر بی ایگزیکٹ کے ریٹرنز پر فراڈ کو جاننے کی صلاحیت رکھتا تھا یا وہ ناقابلِ بیان وجوہات کی بنیاد پر جان بوجھ کر خاموش رہا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سندھ ریونیو بغیر کسی باقاعدہ چیئرمین اور چار اراکین کے اپنے امور چلا رہا ہے۔ صرف ایک رکن تاشفین خالد نیاز ہیں جو چیئرمین کا عبوری عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں اور ان کے عہدے کی میعاد بھی 28 فروری 2015ء کو مکمل ہو چکی ہے۔ ایس آر بی کے ذرائع بتاتے ہیں کہ کوئی ممبر آڈٹ ہوتا تو ایگزیکٹ کے آڈٹ کا اندازہ لگاتا اور ایس آر بی کو ریٹرنز جمع نہ کروانے پر سزا لاگو کرنے میں مدد دیتا۔

Shoaib-Shaikh

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس گروپ، حکومت پاکستان کے افسر نذیر احمد سیہڑ کو اپریل 2014ء میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، حکومت پاکستان کی جانب سے رکن آڈٹ سندھ ریونیو بورڈ مقرر کیاتھا۔ لیکن چیئرمین بورڈ تاشفین خالد نے ان کو اجازت نہیں دی اور تقرری کے معاملے کو مجازاتھارٹی وزیر اعلیٰ سندھ کی منظوری کے لیے سندھ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈی نیشن ڈپارٹمنٹ منتقل کردیا۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ قانون، وزارت سندھ کی خاموش رضامندی کے بعد نذیر احمد سیہڑ کی تقرری کی منظوری دی۔

ایس جی اے اینڈ سی ڈی کے مطابق چیف سیکرٹری سندھ کی رضامندی سے نذیر احمد سیہڑ کی بطور رکن ایس آر بی تقرری کی منظوری دی جاچکی ہے لیکن چیئرمین تاشفین خالد نے ایک مرتبہ پھر اپنی طاقت ظاہر کرتے ہوئے بی-20 کے افسر کو ایس آر بی میں شمولیت سے روک دیا۔

اب اس بھدنامے (اسکینڈل) کے اصل سوال کی طرف آتے ہیں۔ایگزیکٹ نے پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی ہونے کا دعویٰ کیا اور نتیجے میں تمام ذرائع ابلاغ کی اکٹھ سے زبردست مخالفت کا سامنا کیا۔ اسی ادارے نے ایک ٹی وی چینل بول کو لانے کا اعلان کیا اور چینل کے منظرعام پر آنے سے قبل ہی اِسے ذرائع ابلاغ کا سب سے بڑا ادارہ باور کرادیا۔ دوسری طرف پاکستان کے دیگر تمام چینلز اور اخبارات نے اس ادارے کے خلاف جعلی اسناد دینے کے اب تک غیر ثابت شدہ اسکینڈل پر ایک طوفان اُٹھا دیا ۔ یہاں تک کہ ایگزیکٹ کے چیف ایگزیکٹو شعیب شیخ کو گرفتار کر لیا گیا۔ اور بول کا بولنے سے پہلے ہی گلا گھونٹ دیا گیا۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ جس ایگزیکٹ کے خلاف ہر جھوٹی سچی خبرکو شائع کر رہے تھے، جس میں سے ابھی تک ایک خبر بھی کسی قانونی اور سرکاری سطح پر ثابت نہیں کی جاسکی۔بول اور ایگزیکٹ کے خلاف کاروباری مسابقت کی وجہ سے تعصبات کے شکار ہو کر ذرائع ابلاغ کو اُس کے خلاف ننگی تلوار بنا دینے والے ٹی وی اور اخبار کے مالکان نے ایگزیکٹ کے خلاف اس 200 ملین کے اصلی اور حقیقی اسکینڈل (بھدنامے) کو تمام تر ثبوتوں کے باوجود اُٹھانے سے گریز کیا۔ آخر کیوں؟

دراصل ایگزیکٹ کے خلاف مہم میں اصل کردار ادا کرنے والے جیو ، ایکسپریس اور دنیا سمیت تمام ادارے اس 200 ملین کے اسکینڈل (بھد نامے) کو اس لئے منظر عام پر لانے سے گریز کرتے رہے کیونکہ اس طرح سندھ ریونیو بورڈ اور اس کے عبوری چیئرمین تاشفین خالد نیاز کا کردار بھی سامنے آتا۔ پاکستان کے تمام ذرائع ابلاغ کے ادارے سندھ ریونیو بورڈ اور اس کے عبوری چیئرمین تاشفین خالد نیاز کے ساتھ ایک ملی بھگت رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ سندھ میں شائع ہونے والے تمام اشتہارات پر سندھ حکومت کی طرف سے عائد کئے گئے سولہ فیصد سیلز ٹیکس کو وصولنے کا مجاز ادارہ سندھ ریونیو بورڈ ہے۔ اور تاشفین خالد نیاز سالہا سال سے یہ ٹیکس وصول نہیں کر رہے۔ چنانچہ ذرائع ابلاغ کے تمام ادارے سندھ ریونیو بورڈ سے متعلق کسی بھی خبر کو اپنے ہاں جگہ نہیں دیتے۔ اس معاملے میں ان کی حساسیت کا عالم یہ ہے کہ جیو اور ایکسپریس جو روایتی طور پر ایک دوسرے کے حریف ہیں ، اور ایگزیکٹ کے معاملے میں متفق ہو کر اس مہم کا حصہ تھے، یہاں تک کہ اُن کے خلاف جھوٹی خبریں شائع ہی نہیں کر رہے تھے بلکہ گھڑ بھی رہے تھے، اُنہوں نے بھی اس خبر کی طرف دیکھنا تک گوارا نہیں کیا۔ کاروباری مفادات اور مسابقت میں ایگزیکٹ کے خلاف دنیا کا ہر اُصول ، مذہب کا ہر حوالہ، سچائی کا ہر کلیہ ، انصاف کا ہر زاویہ اُبھارنے والے یہ ادارے صرف سندھ ریونیو بورڈ سے اپنے کاروباری مفادات کے تحفظ اور ٹیکس کی رقم ہڑپنے کی خاطر اپنے سب سے بڑے ظاہر کئے گئے دشمن کے خلاف میسر خبر اور اس بھدنامے کی اشاعت سے بھی اپنا دامن بچا گئے۔ یہ اس پورے اسکینڈل (بھدنامے)کی پوری تصویر ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکی ایئر فورس کا بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

امریکی ایئر فورس نے بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ کیا ہے ، تین ماہ سے بھی کم وقت میں امریکی نیو کلیئر میزائل فورس کا یہ اپنی نوعیت کا دوسرا تجربہ ہے ۔بیلسٹک میزائل کیلی فورنیا میں وینڈن برگ ایئر فورس بیس سے داغا گیا جس نے بحر الکاہل میں ہدف کو نشانہ بنایا۔امریکی حکام نے اس میزائل تجربے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ، تاہم اسے امریکی نیوکلیئر میزائل ڈیفنس سسٹم کی آپریشنل صلاحیت کے اظہار کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔واضح رہے کہ 2 اکتوبر کو بھی امریکی ایئر فورس نے بین البراعظمی بیلسٹک می...

امریکی ایئر فورس کا بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ

ایران ، حالیہ احتجاج میں 1360 مظاہرین ہلاک، 10 ہزار گرفتار وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

یکم نومبر کو ایران میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف اٹھنے والی احتجاجی تحریک کے دوران پولیس اور پاسداران انقلاب نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں ہزاروں مظاہرین جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔ایران میں نومبر کے وسط میں شروع ہونے والے احتجاج کے دوران پہلی ہلاکت سیرجان شہرمیں ہوئی۔ اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے احتجاج ملک کے طول وعرض میں پھیل گیا۔ حکومت نے احتجاج کا دائرہ پھیلتے دیکھا تو انٹرنیٹ پرپابندی عائد کردی اور طاقت کا استعمال بڑھا دیا۔ ایرانی حکومت ک...

ایران ، حالیہ احتجاج میں 1360 مظاہرین ہلاک، 10 ہزار گرفتار

امریکا کا چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے، صدر ٹرمپ کی منظوری کا انتظار وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

بلومبرگ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکا اور چین تجارتی معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا ہے اور معاہدے کے اصول بھی وضع کرلیے ہیں تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اس کی منظوری باقی ہے ۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی کا ایک مرحلہ باقی ہے اور وہ صدر ٹرمپ کی طرف سے اس کی منظوری ہے ۔"بلومبرگ" کا کہنا ہے کہ اسے چین اور امریکا کیدرمیان ممکنہ سمجھوتے کے حوالے سے باخبر ذرائع کی طرف سے ا...

امریکا کا چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے، صدر ٹرمپ کی منظوری کا انتظار

امریکی سینیٹ کی قرارداد نے امریکا ترکی تعلقات خطرے میں ڈال دیے ، انقرہ وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

ترکی نے امریکی سینٹ کی طرف سے آرمینی باشندوں کے قتل عام سے متعلق ایک بل کی منظوری پر سخت رد عمل ظاہرکیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی سینٹ کی قرارداد سے واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان تعلقات خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔خبر رساں اداروں کے مطابق انقرہ نے متنبہ کیا ہے کہ امریکی سینیٹ نے آرمینی نسل کشی کو تسلیم کرنے کے لیے ایک قرارداد منظور کرکے امریکا اور ترکی کے باہمی تعلقات خطرے میں ڈال دئیے ہیں۔ترکی کے ایوان صدر کے ڈائریکٹراطلاعات فخرالدین الٹن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی کان...

امریکی سینیٹ کی قرارداد نے امریکا ترکی تعلقات خطرے میں ڈال دیے ، انقرہ

اب کسی بھی زبان میں بات کرنا گوگل اسسٹنٹ سے ممکن وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

اب کوئی میسجنگ یا چیٹنگ ایپ ہو یا روزمرہ کی زندگی، آپ کو بات چیت کے دوران دوسرے کی زبان نہ بھی آتی ہو تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، آپ کو بس گوگل کے اس بہترین فیچر کو استعمال کرنا ہوگا۔درحقیقت گوگل کے اس فیچر کی بدولت بیشتر افراد تو کوئی دوسری زبان سیکھنے کی زحمت ہی نہیں کریں گے کیونکہ زندگی کے ہر شعبے میں مدد کے لیے گوگل ہے نا۔گوگل نے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز کے لیے اپنے ڈیجیٹل اسسٹنٹ میں انٹرپریٹر موڈ کو متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جو آپ کے فون میں رئیل ٹائم می...

اب کسی بھی زبان میں بات کرنا گوگل اسسٹنٹ سے ممکن

ایران کو پوری طاقت سے جواب دیں گے ،امریکی وزیر دفاع وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے ایوان نمائندگان کی آرمڈ فورس کمیٹی کو بتایا کہ ان کا ملک اپنے دفاع کو مستحکم کرنے اور اپنے اتحادیوں کو ایران کے خطرات کا مقابلہ کرنے کا اہل بنانا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ایران ہمارے مفادات یا افواج پر حملہ کرتا ہے تو ہم فیصلہ کن طاقت کے ساتھ جواب دیں گے ۔ادھر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ روز کہا تھا کہ واشنگٹن ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کرنے کی تیاری کررہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے مختلف اداروں، کمپنیوں اور افراد کے خل...

ایران کو پوری طاقت سے جواب دیں گے ،امریکی وزیر دفاع

ٹرمپ کا یہود مخالف بائیکاٹ روکنے کیلئے صدارتی حکم نامہ جاری وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کالج کیمپسز میں یہودیوں کی مخالفت اور اسرائیل کا بائیکاٹ روکنے کے لیے نیا صدارتی حکم نامہ جاری کردیا ہے ۔ٹرمپ کے اس متنازع اقدام کے تحت ایسے تعلیمی اداروں کی حکومتی امداد روکی جاسکے گی جو یہودی اور اسرائیل مخالف واقعات کی روک تھام میں ناکام رہیں گے ۔صدارتی حکم نامے کے تحت محکمہ تعلیم کالج کیمپس میں یہود مخالف عناصر کے خلاف براہ راست کارروائی کر سکے گا۔اس ایگزیکٹو آرڈر کے تحت حکومت کو بحیثیت نسل، قوم یا مذہب یہودیت کی تشریح کی اجازت ہوگی ۔

ٹرمپ کا یہود مخالف بائیکاٹ روکنے کیلئے صدارتی حکم نامہ جاری

امریکا کا افغانستان میں فوج کو محدود کرنے پر غور وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکا افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد کو کم کرنے پر غور کررہا ہے ۔ جس کے لئے حکام کئی طریقہ کار کا جائزہ لے رہے ہیں۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں سے لڑنے کے لئے امریکی فوجیوں کی تعداد کم کی جائیگی، تاہم انہوں نے حتمی تعداد نہیں بتائی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس اختیارات ہیں۔ اس وقت افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 13ہزار ہے جن میں سے 5 ہزار سیکورٹی سے متعلق آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ باقی اہلکار افغان سیکورٹی فورسز ...

امریکا کا افغانستان میں فوج کو محدود کرنے پر غور

ایردوان کے اقدامات ترکی کیلئے تکلیف دہ نتائج کا باعث بن سکتے ہیں، امریکی سینیٹر وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کے لییایک بل پر رائے شماری کے بعد ریپبلکن سینیٹر جیمز رچ نے کہا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوآن نے ترکی کو خراب راستے پرڈال دیا ہے ۔مسٹر رچ نے 'العربیہ' اور 'الحدثہ' چینلز کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ صدر ایردوآن کے فیصلے اور اقدامات ترکی کے لیے تکلیف دہ نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترکی غلط سمت کی طرف جارہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ انقرہ کے خلاف پابندیوں کے بل پر رائے شماری کے بعد ترک حکام کو اپنے فیصلو...

ایردوان کے اقدامات ترکی کیلئے تکلیف دہ نتائج کا باعث بن سکتے ہیں، امریکی سینیٹر

اسرائیلی مظالم کے عرب ممالک بھی ذمہ دار ہیں،طیب اردوان وجود - بدھ 11 دسمبر 2019

ترکی کے صدر رجب طیب ا ردوان نے خبردار کیا ہے کہ فلسطین اور مقبوضہ بیت المقدس کی صورت حال تیزی کے ساتھ مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے ، بعض عرب ممالک اور مغرب فلسطینیوں کے خلاف جرائم میں اسرائیل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس طرح مغرب اور عرب ممالک بھی فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی ریاست کے جرائم میں قصور وار ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم کے سماجی امور سے متعلق وزارتی اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم مسلمانوں کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ القدس کا د...

اسرائیلی مظالم کے عرب ممالک بھی ذمہ دار ہیں،طیب اردوان

افغانستان، بگرام ایئر بیس پر حملہ، 2کار بم دھماکے ،30افراد زخمی وجود - بدھ 11 دسمبر 2019

افغانستان کے صوبے پروان کے بگرام ایئر بیس پر حملہ کیا گیا ہے جس کے دوران 2 بارود سے بھری گاڑیوں کے دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں 30افراد زخمی ہو گئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بارودی مواد سے بھری 2 گاڑیوں کے ذریعے غیر ملکی فوجی بیس کو نشانہ بنایا گیا ، جس کے قریب ہی ایک زیرِ تعمیر ہسپتا ل اور اسکول بھی موجود ہے ۔دھماکوں کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی، جسے کے نتیجے میں 30 سے زائد شہری زخمی ہوئے ہیں، ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے البتہ تاحال کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی ہے ۔ا...

افغانستان، بگرام ایئر بیس پر حملہ، 2کار بم دھماکے ،30افراد زخمی

بھارتی موسیقار کا لے پالک بیٹی کے ہاتھوں سفاکانہ قتل وجود - بدھ 11 دسمبر 2019

بھارت میں مقامی موسیقار بینٹ رابیلو اپنی لے پالک بیٹی کے ہاتھوں قتل کر دیے گئے ، بیٹی نے باپ کو قتل کرنے کے بعد نعش کے متعدد ٹکڑے کیے جنہیں تین سوٹ کیسوں میں ڈال کر دریا میں بہا دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز مٹھی دریا کے قریب سے ایک سوٹ کیس ملا جس میں 59 سالہ بینٹ کے ہاتھ اور دوسرے جسم کے کٹے ہوئے اعضا برآمد کیے گئے ۔ممبئی پولیس کے مطابق یہ دوسرا سوٹ کیس ہے جو مٹھی دریا سے برآمد کیا گیا ہے ، پولیس نے بتایا کہ ممبئی کے علاقے مہاراشٹرا سے ایک سوٹ کیس بر آمد کیا گیا تھا جس...

بھارتی موسیقار کا لے پالک بیٹی کے ہاتھوں سفاکانہ قتل