... loading ...

سندھ ریونیو بورڈ کی انتظامیہ کی صریح غفلت کی وجہ سے صوبائی خزانے کو تقریباً ایک ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ اس نے ایگزیکٹ سے ‘سیلز ٹیکس آن سروسز’ وصول نہیں کیا۔ مگر یہ کہانی کا صرف ایک رخ ہے، اصل کہانی اس سے کہیں زیادہ پُرپیچ ہے اور یہ ایگزیکٹ سے کہیں زیادہ سندھ ریونیو بورڈ اور ذرائع ابلاغ کے درمیان موجود ایک خاموش ملی بھگت کے بدترین اور مسلسل جاری بدعنوانی کے ایک سلسلے سے جڑی ہے۔
سب سے پہلے تو ایگزیکٹ کے مسئلے کو ہی لیجئے جس کی تفصیلات سے اصل کہانی کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ دستاویزی ثبوت اور ایگزیکٹ کے جمع کردہ سیلز ٹیکس ریٹرنز ظاہر کرتے ہیں کہ 2014ء کے چار مہینوں مئی، جون، جولائی اور اگست میں ایگزیکٹ نے ‘فراہم کردہ یا مقامی طور پر سپرد کردہ خدمات’ کے ضمن میں 1.18 ارب روپے ظاہر کئے؛ یہ رقم ایگزیکٹ کی جانب سے جمع کرائے گئے ریٹرنز کے منسلکہ ‘سی’ میں شامل ہے لیکن ادارے کی جانب سے اعلان کے باوجود سندھ ریونیو بورڈ 16 فیصد سیلز ٹیکس وصول کرنے میں بدستور جھجک رہا ہے۔
یہ ایس آر بی انتظامیہ کی صریح غفلت ہے یا نااہلی، لیکن اس سے خزانے کو 200 ملین روپے کا نقصان ضرور پہنچا ہے۔ اگر مذکورہ چار مہینوں میں اعلان کردہ رقم کو درست سمجھا جائے اور اوسط کاروبار کا اندازہ لگایا جائے تو ان مہینوں میں جن میں ایگزیکٹ نے سرے سے آمدنی ہی ظاہر نہیں کی، اوسط سیلز ٹیکس تقریباً 1.2 بلین روپے بنتا ہے، جس کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔
ایگزیکٹ نے حیران کن طور پر جولائی 2013ء سے مارچ 2014ء کے درمیان نو ماہ میں ایس آر بی کے روبرہ پیش کردہ دستاویزات میں کوئی رقم ظاہر نہیں کی۔ اس کا مطلب ہےکہ نو مہینے تک ایگزیکٹ نے کوئی کاروبار نہیں کیا، نہ کوئی درآمد کی، نہ برآمد اور نہ ہی کوئی سروسز انجام دیں اور نہ فراہم کیں۔ جبکہ سروسز ایکٹ 2011ء میں سندھ سیلز ٹیکس کی شق 28 کے مطابق ایس آر بی قانونی طور پر کم از کم اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے کے کسی افسر کو تحقیقات یا تفتیش کے لیے مقرر کر سکتا ہے جو ایس ایس ٹی ایکٹ 2011ء کی شق 48 کے مطابق اس عرصے میں ہونے یا نہ ہونے والے آڈٹ کی تحقیقات یا تفتیش کر سکتا ہے۔ یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ ایگزیکٹ نے جولائی 2013ء سے اب تک سیلز ٹیکس آن سروسز پر ایک پیسہ بھی ادا نہیں کیا اور ایس آر بی نے بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایس آر بی ایگزیکٹ کے ریٹرنز پر فراڈ کو جاننے کی صلاحیت رکھتا تھا یا وہ ناقابلِ بیان وجوہات کی بنیاد پر جان بوجھ کر خاموش رہا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سندھ ریونیو بغیر کسی باقاعدہ چیئرمین اور چار اراکین کے اپنے امور چلا رہا ہے۔ صرف ایک رکن تاشفین خالد نیاز ہیں جو چیئرمین کا عبوری عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں اور ان کے عہدے کی میعاد بھی 28 فروری 2015ء کو مکمل ہو چکی ہے۔ ایس آر بی کے ذرائع بتاتے ہیں کہ کوئی ممبر آڈٹ ہوتا تو ایگزیکٹ کے آڈٹ کا اندازہ لگاتا اور ایس آر بی کو ریٹرنز جمع نہ کروانے پر سزا لاگو کرنے میں مدد دیتا۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس گروپ، حکومت پاکستان کے افسر نذیر احمد سیہڑ کو اپریل 2014ء میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، حکومت پاکستان کی جانب سے رکن آڈٹ سندھ ریونیو بورڈ مقرر کیاتھا۔ لیکن چیئرمین بورڈ تاشفین خالد نے ان کو اجازت نہیں دی اور تقرری کے معاملے کو مجازاتھارٹی وزیر اعلیٰ سندھ کی منظوری کے لیے سندھ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈی نیشن ڈپارٹمنٹ منتقل کردیا۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ قانون، وزارت سندھ کی خاموش رضامندی کے بعد نذیر احمد سیہڑ کی تقرری کی منظوری دی۔
ایس جی اے اینڈ سی ڈی کے مطابق چیف سیکرٹری سندھ کی رضامندی سے نذیر احمد سیہڑ کی بطور رکن ایس آر بی تقرری کی منظوری دی جاچکی ہے لیکن چیئرمین تاشفین خالد نے ایک مرتبہ پھر اپنی طاقت ظاہر کرتے ہوئے بی-20 کے افسر کو ایس آر بی میں شمولیت سے روک دیا۔
اب اس بھدنامے (اسکینڈل) کے اصل سوال کی طرف آتے ہیں۔ایگزیکٹ نے پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی ہونے کا دعویٰ کیا اور نتیجے میں تمام ذرائع ابلاغ کی اکٹھ سے زبردست مخالفت کا سامنا کیا۔ اسی ادارے نے ایک ٹی وی چینل بول کو لانے کا اعلان کیا اور چینل کے منظرعام پر آنے سے قبل ہی اِسے ذرائع ابلاغ کا سب سے بڑا ادارہ باور کرادیا۔ دوسری طرف پاکستان کے دیگر تمام چینلز اور اخبارات نے اس ادارے کے خلاف جعلی اسناد دینے کے اب تک غیر ثابت شدہ اسکینڈل پر ایک طوفان اُٹھا دیا ۔ یہاں تک کہ ایگزیکٹ کے چیف ایگزیکٹو شعیب شیخ کو گرفتار کر لیا گیا۔ اور بول کا بولنے سے پہلے ہی گلا گھونٹ دیا گیا۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ جس ایگزیکٹ کے خلاف ہر جھوٹی سچی خبرکو شائع کر رہے تھے، جس میں سے ابھی تک ایک خبر بھی کسی قانونی اور سرکاری سطح پر ثابت نہیں کی جاسکی۔بول اور ایگزیکٹ کے خلاف کاروباری مسابقت کی وجہ سے تعصبات کے شکار ہو کر ذرائع ابلاغ کو اُس کے خلاف ننگی تلوار بنا دینے والے ٹی وی اور اخبار کے مالکان نے ایگزیکٹ کے خلاف اس 200 ملین کے اصلی اور حقیقی اسکینڈل (بھدنامے) کو تمام تر ثبوتوں کے باوجود اُٹھانے سے گریز کیا۔ آخر کیوں؟
دراصل ایگزیکٹ کے خلاف مہم میں اصل کردار ادا کرنے والے جیو ، ایکسپریس اور دنیا سمیت تمام ادارے اس 200 ملین کے اسکینڈل (بھد نامے) کو اس لئے منظر عام پر لانے سے گریز کرتے رہے کیونکہ اس طرح سندھ ریونیو بورڈ اور اس کے عبوری چیئرمین تاشفین خالد نیاز کا کردار بھی سامنے آتا۔ پاکستان کے تمام ذرائع ابلاغ کے ادارے سندھ ریونیو بورڈ اور اس کے عبوری چیئرمین تاشفین خالد نیاز کے ساتھ ایک ملی بھگت رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ سندھ میں شائع ہونے والے تمام اشتہارات پر سندھ حکومت کی طرف سے عائد کئے گئے سولہ فیصد سیلز ٹیکس کو وصولنے کا مجاز ادارہ سندھ ریونیو بورڈ ہے۔ اور تاشفین خالد نیاز سالہا سال سے یہ ٹیکس وصول نہیں کر رہے۔ چنانچہ ذرائع ابلاغ کے تمام ادارے سندھ ریونیو بورڈ سے متعلق کسی بھی خبر کو اپنے ہاں جگہ نہیں دیتے۔ اس معاملے میں ان کی حساسیت کا عالم یہ ہے کہ جیو اور ایکسپریس جو روایتی طور پر ایک دوسرے کے حریف ہیں ، اور ایگزیکٹ کے معاملے میں متفق ہو کر اس مہم کا حصہ تھے، یہاں تک کہ اُن کے خلاف جھوٹی خبریں شائع ہی نہیں کر رہے تھے بلکہ گھڑ بھی رہے تھے، اُنہوں نے بھی اس خبر کی طرف دیکھنا تک گوارا نہیں کیا۔ کاروباری مفادات اور مسابقت میں ایگزیکٹ کے خلاف دنیا کا ہر اُصول ، مذہب کا ہر حوالہ، سچائی کا ہر کلیہ ، انصاف کا ہر زاویہ اُبھارنے والے یہ ادارے صرف سندھ ریونیو بورڈ سے اپنے کاروباری مفادات کے تحفظ اور ٹیکس کی رقم ہڑپنے کی خاطر اپنے سب سے بڑے ظاہر کئے گئے دشمن کے خلاف میسر خبر اور اس بھدنامے کی اشاعت سے بھی اپنا دامن بچا گئے۔ یہ اس پورے اسکینڈل (بھدنامے)کی پوری تصویر ہے۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...