وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

’سازشی نظریات‘ جو بعد میں حقیقت ثابت ہوئے

جمعرات 24 دسمبر 2015 ’سازشی نظریات‘ جو بعد میں حقیقت ثابت ہوئے

سازشی نظریات، جنہیں انگریزی میں Conspiracy theories کہتے ہیں، کا نام سنتے ہی ذہن میں یہی آتا ہے کہ یہ کوئی بے وقوفانہ سی بات ہوگی، جو ایک حقیقت کو جھٹلانے کے لیے استعمال کی گئی ہوگی۔ یعنی ان نظریات کا حقیقت سے دور پرے کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ واقعی چند ایسے “سازشی نظریات” وجود رکھتے ہیں، جن کا ابتدا میں تو بہت مذاق اڑایا گیا، لیکن بعد میں یہ حقیقت ثابت ہوئے۔

علاج کے نام پر تجربات

tuskegee-syphilis-experiment

امریکی محکمہ صحت نے 1932ء میں ٹسکیجی انسٹیٹیوٹ کے تعاون سے سیاہ فام مردوں میں آتشک کے مرض کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کیا، اس امید کے ساتھ کے ان کا علاج شروع کیا جائے گا۔ تحقیق میں 600 سیاہ فام باشندوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 399 میں یہ مرض پایا گیا اور 201 اس سے محفوظ تھے۔ گو کہ ان افراد پر ظاہر یہ کیا گیا کہ انہیں علاج فراہم کیا جا رہا ہے لیکن درحقیقت انہیں کبھی درست ادویات اور علاج دیا ہی نہیں گیا بلکہ ان پر 40 سال تک مختلف تجربات کیے جاتے رہے۔ حالانکہ اس وقت پنسلین موجود تھی، جو اس مرض میں ترجیحی دوا بھی ہے اور دستیاب بھی تھی، لیکن محققین نے مریضوں کو اندھیرے میں رکھا اور انہیں کبھی یہ دوا نہیں لگائی گئی۔

اس منصوبے کو صرف چھ ماہ جاری رکھنے کا ارادہ تھا، لیکن یہ 40 سال تک چلتا رہا یہاں تک کہ 1972ء میں ذرائع ابلاغ نے حقیقت آشکار کردی۔ نتائج سامنے آنے کے بعد زبردست عوامی ردعمل کی وجہ سے اس پروگرام کو روک دیا گیا اور بعد میں اس تحقیق کو “اخلاقی طور پر غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا گیا۔

کینسر کا سبب بننے والا وائرس پولیو ویکسین میں

jonas-salk-polio-vaccine

100 ملین سے زیادہ امریکی باشندوں کو پولیو کی ایک ایسی ویکسین لگا دی گئی، جو ایسے وائرس سے آلودہ تھی، جو کینسر کا سبب بنتا ہے۔

1954ء سے 1961ء کے دوران امریکا میں جو پولیو ویکسین استعمال کی گئی اس میں ایس وی 40 کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔ محققین کا اندازہ ہے کہ اس عرصے میں 98 ملین افراد پر یہ ویکسین استعمال کی جا چکی تھی۔ تحقیقات میں بتایا گیا کہ ویکسین کے خالق یوناس سالک نے اس کی تیاری کے دوران ایسے بندروں کے خلیات استعمال کیے تھے، جن میں ایس وی 40 موجود تھا۔ یوں یہ لاکھوں ویکسینز میں چلی گئی۔ وفاقی حکومت نے اسی سال پولیو ویکسین کو تبدیل کردیا، البتہ کہا جاتا ہے کہ مزید دو سال تک کسی نہ کسی سطح پر یہ آلودہ ویکسین مختلف مقامات پر استعمال ہوتی رہی۔

ایس وی 40 کے بارے میں سائنس دان کہتے ہیں کہ یہ جانوروں میں کینسر کا سبب بنتا ہے، البتہ انسان میں اس وائرس کی موجودگی اور کینسر کے مرض کے براہ راست کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی رائے قائم نہیں ہوئی ہے۔ البتہ آزاد تحقیق بتاتی ہے کہ ایس وی 40 بچوں اور بالغان میں دماغ اور پھیپھڑوں کی رسولی کا سبب ضرور بنتی ہے۔

ویت نام جنگ کا سبب بننے والا واقعہ دراصل ڈرامہ

photo-from-gulf-of-tonkin

خلیج ٹونکن واقعہ امریکا کی ویت نام میں براہ راست مداخلت کا سبب بنا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کوئی واقعہ سرے سے پیش ہی نہیں آیا تھا۔ امریکی بحری جہاز یو ایس ایس میڈوکس کو 2 اور 4 اگست 1964ء میں خلیج ٹونکن میں شمالی ویت نام کی تین جنگی کشتیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ گو کہ اس واقعے میں کسی کی جان نہیں گئی لیکن مبینہ جارحانہ کارروائی کانگریس کو ایک قرارداد منظور کرنے کے لیے کافی تھی جس کے بعد صدر لنڈن جانسن نے جنوب مشرقی ایشیا کے اس ملک پر چڑھائی کا حکم دیا۔

اس واقعے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ امریکا ویت نام جنگ میں کودنے کا فیصلہ کر چکا تھا اور ایک نہ ہونے والے واقعے کو جواز بنایا گیا۔ گو کہ ابتدا ہی سے اس واقعے پر شکوک و شبہات ظاہر کیے گئے تھے لیکن دہائیوں تک مزاحمت کرنے کے بعد بالآخر 2005ء میں نیشنل سیکورٹی ایجنسی کی خفیہ دستاویزات منظر عام پر آ گئیں جن میں قبول کیا گیا تھا کہ 4 اگست والا واقعہ سرے سے پیش ہی نہیں آیا تھا۔ امریکا کا دعویٰ رہا ہے کہ شمالی ویت نام کی کشتیوں نے امریکی جہاز پر فائرنگ کی تھی جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔

دہشت گردی خود کریں، الزام کیوبا پر لگائیں

fidel-castro

امریکا کے فوجی رہنماؤں نے دہشت گرد حملوں کا ایک ایسا منصوبہ بنایا تھا جس کے بعد الزام کیوبا پر لگایا جا سکے۔ 1962ء میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے “آپریشن نارتھ ووڈز” کی منظوری دی تھی۔ یہ ایک ایسا منصوبہ تھا جس میں کیوبا کے خلاف جنگ کے لیے حمایت اکٹھی کی جانی تھی اور آخر کار کمیونسٹ رہنما فیڈل کاسترو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جاتا۔

حکومت کی خفیہ دستاویزات، جو اب منظر عام پر آ چکی ہیں، بتاتی ہیں کہ اس منصوبے میں دہشت گردی کے واقعے کے شکار افراد کی آخری رسومات تک شامل تھیں اور یہ سب جعلی ہوتا، یعنی تابوت خالی۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر افواہیں پھیلانا اور خلیج گوانتانامو میں ایک امریکی بحری جہاز کو دھماکے سے اڑا دینا بھی شامل تھا تاکہ الزام کیوبا پر لگایا جا سکے۔

یہ “عظیم” مشورے امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے وزیر دفاع رابرٹ میک نمارا کو پیش کیے گئے۔ یہ تو معلوم نہیں کہ میک کا پہلا ردعمل کیا تھا، لیکن انہوں نے چند دن بعد ان تجاویز کو مسترد کردیا تھا۔

منشیات کے اثرات جانچنے کے لیے شہریوں پر خفیہ تجربات

ken-kesey-one-flew-over-the-cuckoos-nest

امریکی سی آئی کے سائنٹیفک ریسرچ ڈویژن نے “ایم کے الٹرا” کے نام سے ایک آپریشن کا آغاز کیا، جس میں انسانوں پر تحقیق کی گئی۔ اس میں محققین نے خواب آوری، احساسات سے محرومی، تنہائی، تشدد اور سب سے اہم ایل ایس ڈی نامی منشیات کے شہریوں پر پڑنے والے اثرات پر تجربات کیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی کو علم نہیں تھا کہ وہ دراصل تجربے سے گزر رہے ہیں۔

یہ تجربات کرنے کے لیے سی آئی اے نے جیلوں، ہسپتالوں اور دیگر اداروں کا رخ کیا اور انہیں اس بارے میں مکمل طور پر خاموش رہنے کا کہا گیا۔ محکمہ نے ہیروئن کے عادی افراد کو پروگرام میں شمولیت کے لیے ہیروئن فراہم کرنے تک کے لالچ دیے۔

جب تک یہ معاملہ منظر عام پر آیا، تب تک کل 30 جامعات تحقیق کے لیے اس منصوبے میں شامل ہو چکی تھیں۔ ان تجربات کے دوران کم از کم ایک شخص کی جان تو چلی گئی تھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے ایل ایس ڈی ہضم کرلی تھی۔

معاملے کی سنگینی کا اندازہ سی آئی اے کو بھی شروع سے تھا یہی وجہ ہے کہ جنوری 1973ء میں اس وقت کے ڈائریکٹر سی آئی اے رچرڈ ہیلمس نے ایم کے الٹرا پروگرام کی تمام دستاویزات تلف کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ جب بعد ازاں کانگریس نے معاملے کی تحقیقات شروع کیں تو کسی کو کچھ “یاد” نہیں تھا، یہاں تک کہ ہیلمس کو بھی۔ بڑی مشکل سے کچھ دستاویزات کو مل گئیں لیکن آج تک اس معاملے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

سوویت آبدوز اور تین نیوکلیئر بیلسٹک میزائل

glomar-explorer-project-azorian

1974ء میں سی آئی اے نے خفیہ طور پر ایک ڈوبی ہوئی سوویت آبدوز کو نکالا، جس میں تین جوہری بیلسٹک میزائل نصب تھے۔ کے 129 نامی یہ آبدوز 8 مارچ 1968ء کو بحر الکاہل میں ڈوب گئی تھی اور اس کو تلاش کرنے کی تمام روسی مہمات ناکام ہوئیں۔ 1974ء میں امریکا نے ایک خفیہ منصوبہ شروع کیا جس کا نام ‘پروجیکٹ ایزوریئن’ رکھا گیا۔ اس کا مقصد اس آبدوز اور اس میں نصب جوہری ہتھیاروں کو نکالنا تھا۔ تین بیلسٹک میزائلوں میں سے ہر ایک میں ایک میگاٹن نیوکلیئر وارہیڈ تھا۔

صدر رچرڈ نکسن نے اس منصوبے کی منظوری دی اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر رچرڈ ہیلمس نے اس منصوبے کو ایک انتہائی خفیہ فائل کا حصہ بنایا، جس تک صرف حکومت کے مخصوص عہدیداران کی رسائی تھی۔

فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت بالآخر یہ دستاویزات منظر عام پر آئیں اور معلوم ہوا کہ محکمہ اس آبدوز کے چند حصے نکالنے میں کامیاب بھی ہوگیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اہم منصوبے میں شریک بحری جہاز ہیوز گولمار ایکسپلورر کے بارے میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ سمندر میں مینگنیز کی تلاش کر رہا ہے جبکہ حقیقت کچھ اور تھی۔ اس معاملے کی مکمل تفصیلات اب بھی منظر عام پر نہیں ہیں اور کافی رازوں پر سے پردہ اٹھنا ابھی باقی ہے۔

ایران کو اسلحہ کی فروخت، وہ بھی پابندی کے ایام میں

reagan-iran-contra-scandal

1985ء میں ریگن انتظامیہ کے سینئر عہدیداروں نے ایران کو اسلحہ فروخت کرنے کی سہولت دی، جس اس وقت پابندی کی زد میں تھا۔ حکومت نے اسلحے کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع کو بعد ازاں نکاراگوا کے حکومت مخالف باغیوں کونٹراس کی مدد میں استعمال کیا۔

معاملے کا آغاز اس وقت ہوا جب لبنان میں ایک گروپ نے سات امریکی باشندوں کو یرغمال بنا لیا۔ معاملے پر تفصیلی گفتگو کے بعد، جس میں اسرائیل بھی شامل تھا، امریکا نے یرغمالی آزاد کرانے میں مدد کے بدلے ایران کو اسلحہ فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا۔ بیشتر یرغمالی رہا کرلیے گئے، لیکن 1986ء میں ایرانی ذرائع سے یہ خبر سامنے آئی۔ ریگن انتظامیہ نے بار ہا تردید کی اور کانگریس میں ان کے خلاف سماعت بھی ہوئی۔ جس کے بعد حکومتی دستاویزات کو جزوی طور پر کھولا گیا اور کئی دستاویزات کی خفیہ حیثیت ختم کرکے معاملے کی حقیقت جانی گئی۔ صدر ریگن اس کام میں شامل تھے یا نہیں اور انہیں کتنا علم تھا، اس بارے میں ابھی تک وضاحت سے کچھ نہیں کہا جا سکا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ معاملے کی سماعت کے دوران ایران کو اسلحے کی فروخت کو سرے سے کوئی جرم سمجھا ہی نہیں گیا ، بلکہ الزام کونٹراس کی مدد کا لگا۔ سماعت میں انتظامیہ نے چند دستاویزات پیش کرنے سے انکار بھی کیا۔

عراق پر حملے کے لیے ڈرامہ

nayirah-c-span

1990ء میں کویت پر عراق کے حملے کے بعد عراق کو سبق سکھانے اور جنگ کے لیے عوامی رائے کو ہموار کرنے کے لیے ایک ڈرامہ رچایا گیا۔ نیّرہ نامی ایک 15 سالہ کویتی لڑکی نے کانگریس کے روبرو شہادت دی کہ اس نے عراقی فوجیوں کو کویت کے ایک ہسپتال میں بچوں کو انکیوبیٹرز سے نکال کر زمین پر پٹختے دیکھا ہے۔

بعد ازاں تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ سارا منصوبہ پبلک ریلیشنز کے معروف ادارے ہل اینڈ نولٹن نے تیار کیا تھا۔ کویتی انجمن سٹیزن فار اے فری کویت کے کہنے پر اس کی تیاری کی گئی تھی اور نیّرہ دراصل امریکا میں کویتی سفیر کی بیٹی تھیں۔

بہرحال، نیّرہ کا بیان اپنا کام کر چکا تھا، اس نے جس خوبصورتی کے ساتھ اپنے ڈائیلاگ ادا کیے، اس نے سب کے دل پسیج لیے اور عراق پر فوری چڑھائی کردی گئی۔

اس لیے اگر کوئی نائن الیون اور دیگر بڑے واقعات کے بارے میں حکومت کے موقف پر یقین نہیں رکھتا، تو اس کا مذاق مت اڑائیں۔ ہوسکتا ہے کہ حقیقت وہی ہو جو آپ کو پسند نہیں آ رہی اور آپ اس پر ‘سازشی نظریہ’ کی پھبتی کس رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں آج عیدالفطر منائی جارہی ہے وجود - اتوار 24 مئی 2020

پاکستان میں شوال کا چاند نظر آگیا جس کے بعد ملک بھر میں آج24مئی بروز اتوار کو عیدالفطر منائی جارہی ہے۔ ہفتہ کو شوال کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں مفتی منیب الرحمان کی سربراہی میں ہوا جس کے بعد پریس کانفرنس میں مفتی منیب الرحمان نے چاند نظر آنے کا اعلان کیا۔اجلاس میں محکمہ موسمیات کے ماہرین بھی شریک تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر صوبوں میں بھی زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس ہوئے ہیں جہاں سے شہادتیں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو بھیجی گئیں۔مفتی منیب الرح...

پاکستان میں آج عیدالفطر منائی جارہی ہے

ٹرمپ انتظامیہ نے جوہری تجربہ کرنے سے متعلق تبادلہ خیال کیا، واشنگٹن پوسٹ کا انکشاف وجود - اتوار 24 مئی 2020

امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے چین اور روس کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے جوہری تجربہ کرنے سے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے ۔واضح رہے کہ امریکا نے 1992 میں آخری جوہری تجربہ کیا تھا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن پوسٹ نے اپنے دعویٰ کے حق میں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار اور دو سابق عہدیداروں کا حوالہ دیا۔رپورٹ میں سینئر حکام کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے 15 مئی کو ہونے والے ایک اجلاس میں جوہری تجربے سے متعلق گفتگو ک...

ٹرمپ انتظامیہ نے جوہری تجربہ کرنے سے متعلق تبادلہ خیال کیا، واشنگٹن پوسٹ کا انکشاف

پلازما حاصل کرنے والے کووِڈ مریضوں میں موت کی شرح کم ہے ، امریکی تحقیق وجود - اتوار 24 مئی 2020

امریکا میں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے کسی شخص سے پلازمہ حاصل کر کے کووِڈـ19 سے شدید بیمار پڑنے والے افراد کو لگایا جائے تو ان کی حالت سنبھلنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جبکہ انھیں ہسپتال میں داخل دیگر مریضوں کی بہ نسبت کم آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے ۔تحقیق کے مطابق جو لوگ کووِڈ 19 جیسے کسی انفیکشن سے بچ جاتے ہیں، ان کے خون میں ایسی اینٹی باڈیز یعنی پروٹین پیدا ہوجاتے ہیں جو جسم کے مدافعتی نظام کو وائرس سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔خون کا وہ جزو ...

پلازما حاصل کرنے والے کووِڈ مریضوں میں موت کی شرح کم ہے ، امریکی تحقیق

چین، وبا کے بعد پہلی مرتبہ یومیہ نئے متاثرین کی تعداد صفرہوگئی وجود - اتوار 24 مئی 2020

چین کے شہر ووہان میں گذشتہ سال کے اواخر میں کورونا وائرس کی وبا کے شروع ہونے سے اب تک پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کوئی نئے متاثرین سامنے نہیں آئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق حکام نے بتایا کہ گزشتہ روز کسی نئے مریض میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے ۔حکام کے مطابق چین میں اب تک 84 ہزار 81 افراد اس وائرس سے متاثر جبکہ 4638 افراد اس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔نیشنل ہیلتھ کمیشن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دو نئے مشتبہ مریض ضرور ہیں جن میں سے ایک شنگھائی میں بیرونِ ملک سے آنے والا مسافر ...

چین، وبا کے بعد پہلی مرتبہ یومیہ نئے متاثرین کی تعداد صفرہوگئی

افغان لڑکیوں نے گاڑیوں کے پرزوں سے سستے وینٹی لیٹر بنا نا شروع کر دیے وجود - اتوار 24 مئی 2020

افغانستان میں لڑکیوں کی ایک روبوٹکس ٹیم نے اپنی توجہ کورونا وائرس کے مریضوں کی مدد پر مرکوز کر لی ہے اور انھوں نے گاڑیوں کے پْرزوں سے سستے وینٹیلیٹر بنانا شروع کر دیے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ان نوجوان لڑکیوں کو 2017 میں امریکہ میں ہونے والے ایک مقابلے میں روبوٹ بنانے پر خصوصی انعام سے نوازا گیا تھا۔

افغان لڑکیوں نے گاڑیوں کے پرزوں سے سستے وینٹی لیٹر بنا نا شروع کر دیے

جون کے بعد برطانیامیں داخل ہو نے والے کو 14 دن کیلئے سیلف آئسولیٹ ہونا ہو گا، وزیر داخلہ وجود - اتوار 24 مئی 2020

8 برطانیا کی وزیرِ داخلہ پریتی پٹیل نے کہا ہے کہ برطانیہ کی سرحد پر نئے اقدامات لیے جا رہے ہیں تاکہ انفیکشن کی دوسری لہرکو روکا جاسکے ۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 8 جون کے بعد جو بھی برطانیہ میں داخل ہو گا اسے 14 دن کے لیے سیلف آئسولیٹ ہونا ہو گا۔وزیرِ داخلہ نے کہا کہ خطرہ ہے کہ گرمیوں میں برطانیہ آنے والے اور بیرون ملک چھٹیاں گزار کر واپس آنے والے اپنے ساتھ وائرس کو بھی لے آئیں۔انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں انفیکشن ریٹ کم ہو رہا ہے اور یہ امپورٹڈ کیسز ایک بڑا ...

جون کے بعد برطانیامیں داخل ہو نے والے کو 14 دن کیلئے سیلف آئسولیٹ ہونا ہو گا، وزیر داخلہ

ڈنمارک میں سنیما، تھیئٹر اور میوزیم کھل گئے وجود - اتوار 24 مئی 2020

ڈنمارک میںمیوزیمز، آرٹ گیلیریز، چڑیا گھروں، سنیماؤں اور تھیٹروں کو اپنے دروازے کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے ۔ ڈنمارک میڈیا کے مطابق یہ خبر اس وقت آئی ہے جب حکومت کے کسی ریسکیو پیکج پر رضامندی کے بغیر برطانیا کی تھیٹر کی صنعت کے متعلق بہت خراب پیشن گوئیاں کی جا رہی ہیں۔ ویسٹ اینڈ کی اعلیٰ پروڈیوسر سونیا فریئڈمین نے کہا ہے کہ برطانوی تھیٹر کی صنعت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے ۔ڈنمارک کی صنعت کے متعلق ہدایات جاری کر دی گئیں ۔ہدایت نامے کے مطابق ہر سیٹ کے بعد دوسری سیٹ خالی ہو گی یا...

ڈنمارک میں سنیما، تھیئٹر اور میوزیم کھل گئے

صدر ٹرمپ کا عبادت گاہوں کو فوراً کھولنے کا حکم وجود - اتوار 24 مئی 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عبادت گاہوں کو فوراً کھولنے کا حکم دیدیا ۔وائٹ ہاؤس میں ایک بریفنگ کے دوران انہوںنے عبادت گاہوں کے بارے میں کہا کہ یہ فوراً کھول دی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ امریکہ میں زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے نہ کہ کم'انھوں نے یہ بات ان ریاستوں کے ان گورنروں پر تنقید کرتے ہوئے کہی جہاں شراب کی دکانیں اور اسقاط حمل کے کلنک کھلے ہوئے ہیں۔دریں اثنا بیماریوں کے کنٹرول اور بچاؤ کے ادارے نے گرجا گھروں کو کھولنے کے بارے میں ہدایات جاری کی ہیں۔رواں مہینے ...

صدر ٹرمپ کا عبادت گاہوں کو فوراً کھولنے کا حکم

تاریخ میں پہلی بار کراچی میں بڑا فضائی حادثہ، 90 مسافر ، عملے کے 8 ارکان سوار تھے وجود - هفته 23 مئی 2020

صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں 22 مئی کی سہ پہر کو پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے آنے والا پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے ) کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا جو کراچی میں اپنی نوعیت کا پہلا بڑا حادثہ تھا۔لاہور سے کراچی آنے والا طیارہ پی کے 8303 کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اترنے سے کچھ منٹ قبل ہی تکنیکی خرابی کے باعث قریبی آبادی میں گر گر تباہ ہوا۔ابتدائی رپوٹس کے مطابق طیارے میں 90 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے جن میں کم عمر بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔طیارے م...

تاریخ میں پہلی بار کراچی میں بڑا فضائی حادثہ، 90 مسافر ، عملے کے 8 ارکان سوار تھے

طیارہ حادثہ، نریندرا مودی، اشرف غنی سمیت عالمی رہنماؤں کا اظہار افسوس وجود - هفته 23 مئی 2020

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے ) کا لاہور سے کراچی آنے والا مسافر طیارہ اے 320 ایئربس جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ کراچی کے قریب رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا، حادثے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ، افغان اشرف غنی سمیت عالمی رہنمائوں نے اظہار افسوس کیا ہے ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے دکھ میں شریک ہیں، غم کے اس موقع پر افغان قوم پاکستان کے ساتھ ہے ۔اسلام آباد میں امریکی چ...

طیارہ حادثہ، نریندرا مودی، اشرف غنی سمیت عالمی رہنماؤں کا اظہار افسوس

بھارت میں ایک دن میں ریکارڈ 6 ہزارسے زائد کیسز کا اضافہ وجود - هفته 23 مئی 2020

بھارت میں ایک دن میں کورونا وائرس کے ریکارڈ 6 ہزار 88 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 18 ہزار 447 ہوگئی۔بھارتی میڈیارپورٹ کے مطابق بھارت کی 11 ریاستوں میں ایک ہی دن میں 6 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ۔رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ 2 ہزار 187 کیسز مہاراشٹرا میں درج ہوئے ۔علاوہ ازیں مہاراشٹرا میں اموات کی تعداد دیگر ریاستوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے جہاں اب تک ایک ہزار 454 افراد وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔دوسری جانب بھارت میں وبائی امراض کے باعث ہلاکتوں ...

بھارت میں ایک دن میں ریکارڈ 6 ہزارسے زائد کیسز کا اضافہ

پی آئی اے نے امریکا کی پانچویں پرواز کا اعلان کردیا وجود - هفته 23 مئی 2020

پی آئی اے نے امریکا کی پانچویں پرواز کا اعلان کردیا،خصوصی پرواز 31 مئی کو اسلام آباد سے امریکہ کے شہر نیو جرسی جائے گی ۔ ترجمان کے مطابق نیو جرسی کے نیو آرک ائیرپورٹ سے اسلام آباد کیلئے پرواز یکم جون کو روانہ ہوگی۔ جاری اعلامیہ کے مطابق واشنگٹن میں قائم پاکستانی سفارت خانہ اور دیگر چار شہروں میں پاکستانی قونصل خانے پاکستانیوں کی رجسٹریشن کررہے ہیں ۔ اعلامیہ کے مطابق جن کی رجسٹریشن ہو گئی ہے ان کو ان پروازوں پر ترجیح دی جائے گی ـخصوصی پرواز پر امریکہ جانیوالے افراد کو فوری طور...

پی آئی اے نے امریکا کی پانچویں پرواز کا اعلان کردیا