وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پہلی جنگِ عظیم کی نایاب رنگین تصاویر

هفته 19 دسمبر 2015 پہلی جنگِ عظیم کی نایاب رنگین تصاویر

1917ء، پہلی جنگ عظیم کے خونی ایام کا چوتھا سال، جس میں مغربی محاذ پر لاکھوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اسی سال جنوری میں امریکا نے ایک ٹیلی گرام پکڑا، جو جرمنی سے میکسیکو بھیجا گیا تھا اور اس میں میکسیکو پر دباؤ ڈالا گیا تھا کہ وہ امریکا کے خلاف اعلانِ جنگ کرے، یوں امریکا بھی اس تنازع میں داخل ہو گیا۔ اسی سال اپریل میں شمن دے دام کی تباہ کن جارحانہ کارروائی بھی کی گئی جس میں فرانس نے ڈھائی لاکھ جانوں کے عوض صرف 500 گز کا علاقہ فتح کیا۔ ردعمل میں بڑے پیمانے پر بغاوت پھیلی اور نجانے کتنے فوجی میدان چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

لیکن 1917ء وہی سال تھا جب لومیری برادران کی آٹوکروم رنگین فوٹوگرافی کی ٹیکنالوجی کو باقاعدہ طور پر دس سال مکمل ہو چکے تھے۔ یہ ابتدائی رنگین ٹیکنالوجی رنگوں کو ایسی صورت میں پیش کرتی تھی کہ آج وہ تصاویر کوئی خواب و خیال کی چیز لگتی ہیں۔

گو کہ یہ ٹیکنالوجی تیز رفتار حرکات اور جنگ کی ہنگامہ خیزی کو محفوظ کرنے کے لیے موزوں نہیں تھی لیکن فوٹو گرافرز نے محاذ سے دور ان پرسکون لمحات کو ضرور آٹو کروم سے محفوظ کیا، جس میں ایک لامتناہی اور احمقانہ جنگ میں شامل فوجی کچھ آرام کرلیتے تھے۔ آئیے آپ کو بھی دکھاتے ہیں:

فرانسیسی افواج میں خدمات انجام دینے والے سینی گالی سپاہی مغربی محاذ پر آرام کررہے ہیں، جون 1917ء

فرانسیسی افواج میں خدمات انجام دینے والے سینی گالی سپاہی مغربی محاذ پر آرام کررہے ہیں، جون 1917ء


پہلی جنگ عظیم، مغربی محاذ، معرکہ این پر موجود فرانسیسی فوجی مشین گن پر اپنی پوزیشنیں سنبھال رہے ہیں

پہلی جنگ عظیم، مغربی محاذ، معرکہ این پر موجود فرانسیسی فوجی مشین گن پر اپنی پوزیشنیں سنبھال رہے ہیں


جون 1917ء، بیلجیئم میں ویسٹ فلینڈرز کے قریب 19 بارودی سرنگوں کے زبردست دھماکوں کے بعد بننے والا گڑھا، جس کا قطر 116 میٹر اور گہرائی 45 میٹر تھی۔ یہ بارودی سرنگیں برطانوی افواج نے جرمن افواج کے لیے بچھائی تھی۔ اس دھماکے میں کل 10 ہزار فوجی مارے گئے تھے جس میں پورا تھرڈ رائل باویریئن ڈویژن شامل تھا۔ ان بارودی سرنگوں میں کل 21 ٹن دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ یہ جوہری دھماکوں کے علاوہ تاریخ کے سب سے بڑے دھماکوں میں شمار ہوتا ہے، جس کی آواز لندن اور ڈبلن تک سنی گئی تھی۔

جون 1917ء، بیلجیئم میں ویسٹ فلینڈرز کے قریب 19 بارودی سرنگوں کے زبردست دھماکوں کے بعد بننے والا گڑھا، جس کا قطر 116 میٹر اور گہرائی 45 میٹر تھی۔ یہ بارودی سرنگیں برطانوی افواج نے جرمن افواج کے لیے بچھائی تھی۔ اس دھماکے میں کل 10 ہزار فوجی مارے گئے تھے جس میں پورا تھرڈ رائل باویریئن ڈویژن شامل تھا۔ ان بارودی سرنگوں میں کل 21 ٹن دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ یہ جوہری دھماکوں کے علاوہ تاریخ کے سب سے بڑے دھماکوں میں شمار ہوتا ہے، جس کی آواز لندن اور ڈبلن تک سنی گئی تھی۔


جرمن پسپائی کے بعد فرانس میں کام کرنے والا ایک الجزائری۔ 1917ء

جرمن پسپائی کے بعد فرانس میں کام کرنے والا ایک الجزائری۔ 1917ء


ہند چینی سے تعلق رکھنے والا ایک کارکن، مغربی محاذ۔ 1917ء

ہند چینی سے تعلق رکھنے والا ایک کارکن، مغربی محاذ۔ 1917ء


افریقہ سے تعلق رکھنے والے دو فرانسیسی فوجی کھانا تیار کر رہے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم، مغربی محاذ۔ 1917ء

افریقہ سے تعلق رکھنے والے دو فرانسیسی فوجی کھانا تیار کر رہے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم، مغربی محاذ۔ 1917ء


ایک چھوٹی بچی اپنی گڑیا کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ اس کے پہلو میں دو بندوقیں اور ایک فوجی تھیلا زمین پر رکھا ہے۔ پہلی جنگ عظیم، مغربی محاذ، فرانس۔ 1917ء

ایک چھوٹی بچی اپنی گڑیا کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ اس کے پہلو میں دو بندوقیں اور ایک فوجی تھیلا زمین پر رکھا ہے۔ پہلی جنگ عظیم، مغربی محاذ، فرانس۔ 1917ء


فرانس کی 370 ویں انفنٹری ریجمنٹ کے سپاہی پہلی جنگ عظیم کے مغربی محاذ پرمعرکہ این کے دوران کھانا کھاتے ہوئے

فرانس کی 370 ویں انفنٹری ریجمنٹ کے سپاہی پہلی جنگ عظیم کے مغربی محاذ پر معرکہ این کے دوران کھانا کھاتے ہوئے


ایک فرانسیسی فوجی خاردار تاروں کا معائنہ کررہا ہے۔ پہلی جنگ عظیم، مغربی محاذ، 1917ء

ایک فرانسیسی فوجی خاردار تاروں کا معائنہ کررہا ہے۔ پہلی جنگ عظیم، مغربی محاذ، 1917ء


پانچ فرانسیسی فوجی غنس (Reims) کے کھنڈرات میں ملبہ تلاش کر رہے ہیں، جسے جرمن توپ خانے اور فضائی حملوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران 60 فیصد تباہ کردیا تھا

پانچ فرانسیسی فوجی غنس (Reims) کے کھنڈرات میں ملبہ تلاش کر رہے ہیں، جسے جرمن توپ خانے اور فضائی حملوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران 60 فیصد تباہ کردیا تھا


دو فرانسیسی فوجی اور ساں-ژاں-دے-وینیا کی محرابوں کے ساتھ کھڑے ہیں، جو توپ خانے کی گولا باری سے بری طرح متاثر ہوا تھا

دو فرانسیسی فوجی اور ساں-ژاں-دے-وینیا کی محرابوں کے ساتھ کھڑے ہیں، جو توپ خانے کی گولا باری سے بری طرح متاثر ہوا تھا


بوربورگ، فرانس کے ایک فیلڈ ہسپتال کے ڈاکٹر، نرسیں اور طبی عملہ

بوربورگ، فرانس کے ایک فیلڈ ہسپتال کے ڈاکٹر، نرسیں اور طبی عملہ


سینی گال کے بمبارا سپاہی جو فرانس کی افواج میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ جون 1917ء

سینی گال کے بمبارا سپاہی جو فرانس کی افواج میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ جون 1917ء


برطانیہ کی چینی مزدور کور کے کارکنوں کا مصر میں ایک کیمپ، ان افراد کو مشرق وسطیٰ کی مہم کے لیے بھرتی کیا گیا تھا

برطانیہ کی چینی مزدور کور کے کارکنوں کا مصر میں ایک کیمپ، ان افراد کو مشرق وسطیٰ کی مہم کے لیے بھرتی کیا گیا تھا


ساں الریخ، فرانس میں فرانسیسی افواج کے سینی گالی سپاہی کھانے کا انتظار کر رہے ہیں

ساں الریخ، فرانس میں فرانسیسی افواج کے سینی گالی سپاہی کھانے کا انتظار کر رہے ہیں


ہرتزباخ کے محاذ کے قریب ایک فرانسیسی چوکی

ہرتزباخ کے محاذ کے قریب ایک فرانسیسی چوکی


سوئٹزرلینڈ اور فرانس کی سرحد پر سوئس سرحدی گارڈز کا ایک گروپ، جون 1917ء

سوئٹزرلینڈ اور فرانس کی سرحد پر سوئس سرحدی گارڈز کا ایک گروپ، جون 1917ء


فرانسیسی افواج مغربی محاذ کے قریب ایک 370 ملی میٹر کی ریلوے گن کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں

فرانسیسی افواج مغربی محاذ کے قریب ایک 370 ملی میٹر کی ریلوے گن کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں


دنکرک، فرانس میں جرمن بمباری کے بعد لگنے والی آگ کو بجھانے کے لیے عملہ کام کر رہا ہے، ستمبر 1917ء

دنکرک، فرانس میں جرمن بمباری کے بعد لگنے والی آگ کو بجھانے کے لیے عملہ کام کر رہا ہے، ستمبر 1917ء


ایک فرانسیسی سپاہی مغربی محاذ پر پوزیشن دیکھ رہا ہے، جون 1917ء

ایک فرانسیسی سپاہی مغربی محاذ پر پوزیشن دیکھ رہا ہے، جون 1917ء


ہرتزباخ میں فرانسیسی فوجی، جون 1917ء

ہرتزباخ میں فرانسیسی فوجی، جون 1917ء


پامیر، فرانس میں ایک پل کی حفاظت کے لیے کھڑا الجزائری محافظ

پامیر، فرانس میں ایک پل کی حفاظت کے لیے کھڑا الجزائری محافظ


غنس، فرانس میں ایک اخبار بیچنے والا

غنس، فرانس میں ایک اخبار بیچنے والا


فرانسیسی فوجی کالائے کی ایک دکان پر اخبارات کا مطالعہ کرتے ہوئے، ستمبر 1917ء

فرانسیسی فوجی کالائے کی ایک دکان پر اخبارات کا مطالعہ کرتے ہوئے، ستمبر 1917ء


غنس، فرانس میں ایک سپاہی روٹی کا ایک ٹکڑا کھاتے ہوئے، اپریل 1917ء

غنس، فرانس میں ایک سپاہی روٹی کا ایک ٹکڑا کھاتے ہوئے، اپریل 1917ء


ویسٹ فلینڈرز میں توپ خانے سے تباہ شدہ میدان جنگ میں ایک ریلوے لائن پر کھڑے فرانسیسی سپاہی، ستمبر 1917ء

ویسٹ فلینڈرز میں توپ خانے سے تباہ شدہ میدان جنگ میں ایک ریلوے لائن پر کھڑے فرانسیسی سپاہی، ستمبر 1917ء


سوئسوں، فرانس میں محاذ جنگ سے آنے والے زخمی فوجیوں کے ایک ہسپتال کا منظر

سوئسوں، فرانس میں محاذ جنگ سے آنے والے زخمی فوجیوں کے ایک ہسپتال کا منظر


موش، فرانس میں ایک فوجی قبرستان

موش، فرانس میں ایک فوجی قبرستان


متعلقہ خبریں


پہلی جنگ عظیم میں 9 لاکھ مسلمان اتحادی افواج کی جانب سے لڑے، نئی تحقیق وجود - جمعرات 28 جنوری 2016

برطانیہ میں ایک نئی تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ مسلمانوں نے اتحادی فوج کی جانب سے جنگ میں حصہ لیا۔ برمنگھم سٹی یونیورسٹی میں لیکچرار ڈاکٹر اعصام عیسیٰ پہلی عالمی جنگ میں مسلمانوں کی شرکت پر تحقیق کررہے تھے۔ انہوں نے پایا کہ کم از کم 8 لاکھ 85 ہزار مسلمان اتحادی افواج میں بھرتی ہوئی۔ حالانکہ ابتدائی اندازوں کی وجہ سے عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہ تعداد 4 لاکھ تھی۔ یعنی حقیقتاً یہ تعداد دوگنی سے بھی زیادہ تھی۔ ڈاکٹر عیسی...

پہلی جنگ عظیم میں 9 لاکھ مسلمان اتحادی افواج کی جانب سے لڑے، نئی تحقیق