وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

جمبو جیٹ عہد کا خاتمہ قریب

جمعه 18 دسمبر 2015 جمبو جیٹ عہد کا خاتمہ قریب

40 سے زیادہ سالوں تک جمبو جیٹ طیاروں نے دنیا بھر کے آسمانوں پر راج کیا لیکن ہوا بازی کے بدلتے ہوئے قوانین، ایئر لائنوں کی کاروباری حکمت عملی میں تبدیلی اور ٹربوفین انجن ٹیکنالوجی میں بہتری کے ساتھ ہی ان دیو ہیکل جہازوں کا باب آہستہ آہستہ بند ہو رہا ہے۔

1969ء میں متعارف کروائے جانے کے بعد بوئنگ 747 نے سفر کے انداز ہی بدل دیے۔ 500 مسافروں کو لے کر 6 ہزار میل کی مسافت تک پرواز کی صلاحیت رکھنے والے جمبو جیٹ طیاروں نے ایئر لائنوں کو نت نئے مقامات تک پہنچانے اور اپنے آپریشن کے اخراجات کو کم کرکے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے قابل بنایا۔

سالوں بلکہ دہائیوں تک بوئنگ کے یہ دیوہیکل طیارے میک ڈونیل ڈوگلس، لاک ہیڈ اور ایئربس کا مقابلہ کرتے رہے۔ پھر 2005ء میں ایئر بس نے دو منزلہ اے 380-800 طیارہ متعارف کروایا جو بوئنگ کے جمبو جیٹ کا سب سے بڑا حریف بن کر سامنے آیا۔ لیکن آ جکل بوئنگ اور ایئربس دونوں کو ان جہازوں کو نئے خریدار ڈھونڈنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ایک بڑے ہوائی جہاز کی خریداری کے اخراجات، اور ساتھ ہی یہ اس حقیقت کا سامنا بھی کہ وہ توانائی بچت کے حوالے سے نسبتاً غیر موثر ہیں، ان جہازوں کو جدید دور میں غیر عملی بنا دیا ہے۔

ہوا بازی کے قوانین میں تبدیلی کی وجہ سے بھی بڑے جیٹ طیاروں کی طلب کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ گزشتہ آٹھ سالوں میں بوئنگ نے صرف 45 جمبو طیارے فروخت کیے ہیں۔ جن کی بڑی اکثریت بھاری بھرکم سامان اٹھانے والے طیاروں کی حیثیت سے حاصل کی گئی ہے۔ اب رواں سال کے اوائل میں ہی بوئنگ اعلان کر چکا ہے کہ وہ اپنی 747 کی پیداوار صرف ایک طیارہ فی مہینہ تک لے آئے گا۔ جبکہ ایئر بس نے دو سال قبل الامارات کو فروخت کردہ ڈبل ڈیکر جیٹ کے بعد سے اب تک ایک آرڈر بھی حاصل نہیں کیا۔

دراصل جدید ٹربو فین انجن قابل اعتماد ہیں، اور اب تک اُن کا سیفٹی ریکارڈ بھی بہت عمدہ ہے ۔ اس کے مقابلے میں چار انجن کے بڑے جمبو جیٹ طیارے ایندھن بھی بہت کھاتے ہیں ۔ اس لیے جمبو 747 کا جانا ٹھہر گیا ہے ۔ یہاں تک کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) تک ایک، ایک کرکے 747 طیاروں کو چھوڑ کر جدید اور دو انجن والے 777 پر منتقل ہو رہی ہے۔

اس سے پہلے کہ یہ خوبصورت ہوائی جہاز ہمیشہ کے لیے آسمانوں سے اوجھل ہوجائے۔ آئیے چند یادگار تصاویر دیکھتے ہیں:

فروری 1969ء میں بوئنگ 747 کی پہلی پرواز

فروری 1969ء میں بوئنگ 747 کی پہلی پرواز


یہ دیو ہیکل جہاز اور اس کو بنانے کے لیے تیار کی گئی فیکٹری صرف 16 ماہ میں تعمیر کی گئی، اور اس میں 50 ہزار بوئنگ ملازمین نے حصہ لیا

یہ دیو ہیکل جہاز اور اس کو بنانے کے لیے تیار کی گئی فیکٹری صرف 16 ماہ میں تعمیر کی گئی، اور اس میں 50 ہزار بوئنگ ملازمین نے حصہ لیا


اس کام کا حصہ بننے والے افراد کو آج بھی “Incredibles" کہا جاتا ہے

اس کام کا حصہ بننے والے افراد کو آج بھی “Incredibles” کہا جاتا ہے


550 افراد تک کی گنجائش کے ساتھ 747 نے بوئنگ 707 اور اپنے وقت کے دیگر ہوائی جہازوں کو پیچھے چھوڑ دیا

550 افراد تک کی گنجائش کے ساتھ 747 نے بوئنگ 707 اور اپنے وقت کے دیگر ہوائی جہازوں کو پیچھے چھوڑ دیا


1970ء میں پان ایم ایئر لائنز کے بیڑے میں شامل ہونے والے اس دیو ہیکل جیٹ طیارے کو دیکھ کر عوام حیران رہ گئے

1970ء میں پان ایم ایئر لائنز کے بیڑے میں شامل ہونے والے اس دیو ہیکل جیٹ طیارے کو دیکھ کر عوام حیران رہ گئے


پہلی جدت کے بعد جاری کیا گیا بوئنگ 747-100طیارہ

پہلی جدت کے بعد جاری کیا گیا بوئنگ 747-100طیارہ


1971ء کے اواخر میں زیادہ طاقتور انجن اور زیادہ طویل فاصلے تک جانے والی 200 سیریز شروع کی گئی

1971ء کے اواخر میں زیادہ طاقتور انجن اور زیادہ طویل فاصلے تک جانے والی 200 سیریز شروع کی گئی


ایک دہائی بعد 747 کو ایک مرتبہ پھر جدید ترین انجن اور دوسری منزل پر زیادہ وسعت کے ساتھ بنایا گیا۔ یہ ورژن 300 کہلایا

ایک دہائی بعد 747 کو ایک مرتبہ پھر جدید ترین انجن اور دوسری منزل پر زیادہ وسعت کے ساتھ بنایا گیا۔ یہ ورژن 300 کہلایا


300 سیریز بوئنگ کی توقعات پر پوری نہ اتر سکی۔ اس لیے 1989ء میں 400سیریز جاری کی گئی ہے۔ اس میں جدید ایویونکس، مکمل گلاس کاک پٹ سہولات اور زیادہ طویل فاصلے تک جانے کی صلاحیت تھی ۔ یہ 747 کی مقبول ترین سیریز بنی۔

300 سیریز بوئنگ کی توقعات پر پوری نہ اتر سکی۔ اس لیے 1989ء میں 400سیریز جاری کی گئی ہے۔ اس میں جدید ایویونکس، مکمل گلاس کاک پٹ سہولات اور زیادہ طویل فاصلے تک جانے کی صلاحیت تھی ۔ یہ 747 کی مقبول ترین سیریز بنی۔


2011ء میں بوئنگ نے اپنے جمبو جیٹ کا جدید ترین ورژن 747-8 جاری کیا۔ 250 فٹ لمبا یہ تاریخ کا سب سے طویل ہوائی جہاز ہے

2011ء میں بوئنگ نے اپنے جمبو جیٹ کا جدید ترین ورژن 747-8 جاری کیا۔ 250 فٹ لمبا یہ تاریخ کا سب سے طویل ہوائی جہاز ہے


اس پورے عرصے میں بوئنگ مختلف کاموں کے لیے استعمال کیا گیا، جیسا کہ  یہ آگ بجھانے کے کام میں آنے والا یہ جہاز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس پورے عرصے میں بوئنگ مختلف کاموں کے لیے استعمال کیا گیا، جیسا کہ یہ آگ بجھانے کے کام میں آنے والا یہ جہاز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


خلائی شٹل کو ایک مقام سے دوسری جگہ پہنچانے والا بوئنگ 747

خلائی شٹل کو ایک مقام سے دوسری جگہ پہنچانے والا بوئنگ 747


یا پھر سازوسامان کی ترسیل کے لیے

یا پھر سازوسامان کی ترسیل کے لیے


ساتھ ہی بوئنگ 747 مختلف سربراہان مملکت کے زیر استعمال بھی رہے ہیں، جیسا کہ چین یہ صدارتی ہوائی جہاز جس میں چینی صدر پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں۔ پاکستانی سرحدی حدود میں داخل ہوتے ہی پاک-چین اشتراک سے بنائے گئے جے ایف17 طیارے ساتھ ساتھ محو پرواز ہیں

ساتھ ہی بوئنگ 747 مختلف سربراہان مملکت کے زیر استعمال بھی رہے ہیں، جیسا کہ چین یہ صدارتی ہوائی جہاز جس میں چینی صدر پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں۔ پاکستانی سرحدی حدود میں داخل ہوتے ہی پاک-چین اشتراک سے بنائے گئے جے ایف17 طیارے ساتھ ساتھ محو پرواز ہیں


یہ دیکھیں جاپان کے سربراہ مملکت کا ہوائی جہاز

یہ دیکھیں جاپان کے سربراہ مملکت کا ہوائی جہاز


اور یہ سب سے مشہور امریکا کا 'ایئر فورس ون' یعنی امریکی صدر کے زیر استعمال بوئنگ 747

اور یہ سب سے مشہور امریکا کا ‘ایئر فورس ون’ یعنی امریکی صدر کے زیر استعمال بوئنگ 747


دنیا کی کئی بڑی ایئر لائنز آج جس مقام پر ہیں ان میں بوئنگ 747 نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے، جیسا کہ تھائی ایئرویز

دنیا کی کئی بڑی ایئر لائنز آج جس مقام پر ہیں ان میں بوئنگ 747 نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے، جیسا کہ تھائی ایئرویز


آسٹریلیا کی کنٹاس

آسٹریلیا کی کنٹاس


سنگاپور

سنگاپور


امریکا کی ڈیلٹا

امریکا کی ڈیلٹا


جرمنی کی لفتھانسا

جرمنی کی لفتھانسا


بھارت کی سرکاری ایئر لائن 'ایئر انڈیا'

بھارت کی سرکاری ایئر لائن ‘ایئر انڈیا’


کے ایل ایم

کے ایل ایم


ہانگ کانگ کی کیتھے پیسفک

ہانگ کانگ کی کیتھے پیسفک


کوریئن ایئر

کوریئن ایئر


امریکا کی یونائیٹڈ

امریکا کی یونائیٹڈ


برٹش ایئر ویز

برٹش ایئر ویز


جاپان ایئر لائنز

جاپان ایئر لائنز


اور آج دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں شمار ہونے والی ایئر نیوزی لینڈ۔

اور آج دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں شمار ہونے والی ایئر نیوزی لینڈ۔


بوئنگ نے آج تک ڈیڑھ ہزار سے زیادہ 747 طیارے فروخت کیے ہیں

بوئنگ نے آج تک ڈیڑھ ہزار سے زیادہ 747 طیارے فروخت کیے ہیں


اور اس نے اپنے زمانے میں سپر سونک کانکرڈ طیاروں تک کو پیچھے چھوڑ دیا

اور اس نے اپنے زمانے میں سپر سونک کانکرڈ طیاروں تک کو پیچھے چھوڑ دیا


بوئنگ نے آج تک ڈیڑھ ہزار سے زیادہ 747 طیارے فروخت کیے ہیں

بوئنگ نے آج تک ڈیڑھ ہزار سے زیادہ 747 طیارے فروخت کیے ہیں


ارے، ناراض مت ہوں۔ ہم آپ کو پاکستان کے بوئنگ 747 طیارے بھی دکھا رہے ہیں۔ آخر کسی زمانے میں پی آئی اے کو دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں سے ایک بنانے میں ان کا بھی بڑا کردار رہا ہے۔

PIA1


PIA7


PIA2


PIA6


PIA5


PIA3


PIA8


PIA4


متعلقہ خبریں


یوکرین دنیا کا سب سے بڑا طیارہ چین کو دے گا وجود - هفته 10 ستمبر 2016

یوکرین نے کہا ہے کہ وہ سوویت دور میں خلائی شٹل پروگرام کے لیے بنایا گیا دنیا کا سب سے بڑا جیٹ طیارہ اگلے پانچ سالوں میں چین کو فراہم کرے گا۔ یہ اے این-225 مریا طیارہ 1980ء کی دہائی میں ہوائی جہاز بنانے والے ادارے انتونوف نے تیار کیا تھا جو چھ انجنوں پر ہے بھاری سازوسامان کے لیے کام آتا ہے۔ یہ ادارہ 1952ء میں سائبیریا سے کیف منتقل ہوا تھا جو 1991ء میں سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد یوکرین کا دارالحکومت بنا۔ انتونوف اور ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنا نے گزشتہ ہفت...

یوکرین دنیا کا سب سے بڑا طیارہ چین کو دے گا

وزیر اعظم کو وطن واپس لانے کے لیے پی آئی اے کو تیس کروڑ کی چپت وجود - جمعه 08 جولائی 2016

وزیر اعظم نوازشریف کی طرف سے وطن واپسی کے فیصلے کے بعد حکومت کی ہدایت پر وزیر اعظم کی لندن سے وطن واپسی کے لیے بوئنگ 777 طیارے کو مختص کر دیا گیا ہے۔ مذکورہ طیارے کے فلائٹ آپریشن سے الگ ہونے کے باعث قومی ادارے کو کم از کم 30 کروڑ روپے کا نقصان پہنچے گا۔ واضح رہے کہ وزیرا عظم ایک طویل عرصے سے لندن میں بغرض علاج مقیم ہے جس پر ملک کے اندر کافی متنازع آراء پائی جاتی ہیں۔ ملک سے ایک طویل غیر حاضری کے بعد وزیراعظم نوازشریف کی وطن واپسی کے لیے کافی چہ مگوئیاں کی جارہی تھیں۔ بالآخ...

وزیر اعظم کو وطن واپس لانے کے لیے پی آئی اے کو تیس کروڑ کی چپت

روس نے جدید مسافر طیاروں کی دنیا میں قدم رکھ دیا وجود - جمعه 10 جون 2016

روس نے ایک نئے ہوائی جہاز کی رونمائی کی ہے جس کا مقصد ملک میں جہاز سازی کو ایک مرتبہ پھر فروغ دینا اور مغربی جہازوں پر انحصار کو کم کرنا ہے۔ ایم سی 21 نامی دو انجن رکھنے والا یہ ہوائی جہاز چھوٹے اور درمیانے درجے کا فاصلہ طے کرنے والا مسافر طیارہ ہے، جس کی رونمائی سائبیریا کے شہر ارکوتسک میں ہوئی۔ اسے ارکوت کارپوریشن نے بنایا ہے جو سرکاری یونائیٹڈ ایئرکرافٹ کارپوریشن کا حصہ ہے۔ پرانے سوویت ڈیزائنوں کے مقابلے میں یہ نیا جیٹ وزن کم رکھنے اور ایندھن کے استعمال میں موثر ہونے ک...

روس نے جدید مسافر طیاروں کی دنیا میں قدم رکھ دیا

حکومت کے دہرے کردار کی ایک اور مثال، نئی ائیر لائن بنانے کے عمل کا آغاز کردیا گیا! وجود - جمعه 25 مارچ 2016

نواشریف کی حکومت جمہوریت کی بالادستی اور پارلیمنٹ کی برتری کی تسبیح تو ہر وقت پڑھتی رہتی ہے مگر عملاً وہ اپنے آمرانہ اور یکطرفہ اقدامات سے کسی بھی طرح دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہوتی۔ اس کی تازہ ترین مثال حکومت کی طرف سے ایک نئی ائیر لائن کے قیام پر کام کرنے سے سامنے آئی ہے۔ حکومت ایک طرف پی آئی اے ( پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن) کی تنظیم نو کا متنازع بل پارلیمنٹ سے منظور کرانے کی کوشش کر رہی ہے مگر دوسری طرف اپنے دہرے کردار کو ادا کرتے ہوئے پبلک سیکٹر میں ایک نئی ایئرلائن قائم...

حکومت کے دہرے کردار کی ایک اور مثال، نئی ائیر لائن بنانے کے عمل کا آغاز کردیا گیا!

جہازوں کی کھڑکیاں چوکور کیوں نہیں ہوتیں؟ وجود - جمعرات 11 فروری 2016

کیا آپ کے ذہن میں کبھی یہ سوال آیا ہے کہ یہ ہوائی جہازوں کی کھڑکیاں گول کیوں ہوتی ہیں؟ انہیں چوکور یا مستطیل صورت میں کیوں نہیں بنایا جاتا؟ یہ کوئی روایت ہے یا اس کے پیچھے بھی کوئی سائنسی وجہ ہے؟ اس کا جواب بالکل سائنسی نوعیت کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہوا بازی کے ابتدائی دنوں میں جہازوں میں کھڑکیاں چوکور ہی ہوتی تھیں۔ لیکن جیسے جیسے طیارے جدید ہوتے گئے ان میں تبدیلیاں آتی گئیں۔ زیادہ اونچائی پر جانے والے اور زیادہ تیزی سے اڑنے والے جہازوں میں آرام دہ سفر کے لیے بہت ساری ج...

جہازوں کی کھڑکیاں چوکور کیوں نہیں ہوتیں؟

پی آئی اے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان، فضائی آپریشن بحال وجود - بدھ 10 فروری 2016

پی آئی اے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے گزشتہ آٹھ روز سے جاری احتجاج کو اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سہیل بلوچ نے 9 فروری بروز منگل ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پی آئی اے کے ملازمین ملک بھر میں نہ صرف فضائی آپریشن بحال کردیں بلکہ اس میں رکاوٹ ڈالنے والوں پر نظر بھی رکھیں۔ پی آئی اے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اس سے قبل مختلف حکومتی رابطوں میں پی آئی اے کی نجکاری نہ کرنے کے اعلان کے ساتھ اپنے مطالبات کی منظوری تک ہڑتال خت...

پی آئی اے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان، فضائی آپریشن بحال

پی آئی اے بحران: حکومت احتجاجی ملازمین کے مذاکرات تاحال بے نتیجہ وجود - هفته 06 فروری 2016

پی آئی اے ملازمین اور حکومت کے درمیان مذاکرات تاحال بے نتیجہ ہیں ۔ حکومت مذکرات کو نتیجہ خیز بنانے سے پہلے بلامشروط پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن بحال کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جبکہ پاکستان انٹر نیشنل ائیرلائن کے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی بضد ہے کہ جب تک اُن کے مطالبات پر کوئی نتیجہ خیز بات چیت مکمل نہیں ہو جاتی، فلائٹ آپریشن بحال نہیں کیا جائے گا۔ اس دوطرفہ بات چین کے دوران میں ایک نئی پیش رفت پاکستان ائیرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) کی جانب سے ہوئی ہے ، جس نے پی آئی اے ...

پی آئی اے بحران: حکومت احتجاجی ملازمین کے مذاکرات تاحال بے نتیجہ

پی آئی اے ملازمین کی ہلاکتیں : تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا اعلان ، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کاعدالت سے رجوع کا فیصلہ وجود - جمعرات 04 فروری 2016

ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے برگیڈئیر رینک کے افسر کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم بنانے کا اعلان کیا ہے جو کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) ملازمین کے احتجاج میں فائرنگ کے باعث دو افراد کی ہلاکت کی تحقیقات کرے گی اور فائرنگ کے ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔ ڈی جی رینجرز نے یقین دلایا ہے کہ کمیٹی واقعے کا ہر پہلو سے جائزہ لے گی اور اس ضمن میں انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔دوسری طرف چیئرمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی سہیل بلوچ نے آج نجکاری کے خلاف مظاہرین کی ...

پی آئی اے ملازمین کی ہلاکتیں : تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا اعلان ، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کاعدالت سے رجوع کا فیصلہ

پی آئی اے کی پروازیں دوسرے روز بھی معطل ، مظاہرین فضائی اڈوں پر جمع وجود - بدھ 03 فروری 2016

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے خلاف ملازمین کے احتجاج کے باعث پروازیں دوسرے روز بھی معطل ہیں۔ پی آئی اے کی تمام تنظیموں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی طرف سے اداے کی نجکاری کے خلاف جاری احتجاج میں گزشتہ روز تمام فلائٹ آپریشن معطل کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ جو دن کے آغاز میں جزوی طور پر ہی کامیاب ہو سکا تھا ۔ مگر کراچی میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران میں مظاہرین جناح ٹرمینل کراچی کی طرف بڑھنے لگے،جس پر پولیس اور رینجرز کی جانب سے لاٹھی چارج کیا گیا...

پی آئی اے کی پروازیں دوسرے روز بھی معطل ، مظاہرین فضائی اڈوں پر جمع

ادارے میں مزید کام ضمیر کو گوارا نہیں، چیئرمین پی آئی اے عہدے سے مستعفی وجود - بدھ 03 فروری 2016

پاکستان میں اس طرح کی مثالیں کم کم ملتی ہیں ۔ مگر پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن (پی آئی اے) کے چیئرمین ناصر جعفر نے کراچی میں ملازمین کے احتجاج کے دوران دو ملازمین کی ہلاکتوں پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیاہے۔ انہوں نے 2 فروری کونجی ٹی وی دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ میں اس ادارے میں کام کروں۔میں نے وزیراعظم نوازشریف کو اپنا استعفیٰ بھجوادیا ہے۔ لوگوں کی جان سے زیادہ کچھ قیمتی نہیں ہوسکتا۔ اللہ ہلاک ہونے والوں کی مغفرت فرمائے۔مستعفی چیئرمین...

ادارے میں مزید کام ضمیر کو گوارا نہیں، چیئرمین پی آئی اے عہدے سے مستعفی

پی آئی اے کا بھی کراچی جیسا حال الیاس شاکر - جمعه 22 جنوری 2016

کراچی اس بار موسم سرما کے دوران آئینی موشگافیوں اور ہلکی پھلکی جھڑپوں میں ’’نمونیا‘‘ کی طرح مبتلا ہے۔ سندھ کے جاگیرداروں کا کراچی پر قبضہ کرنے کا خواب اب پورا ہوچکا ہے اور کراچی ایک بے بس مرغی کی طرح ان کے پنجہ استبداد میں جکڑا پھڑپھڑارہا ہے۔ اپنی آنکھوں کے سامنے شہری آزادیوں اور جدید معاشرے کو تباہ و برباد ہوتا دیکھ رہا ہے۔۔۔۔۔ اورکوئی کراچی کی اس حالت پرترس کھانے کو تیار نہیں، چاہے وہ ماں جیسی ریاست ہو یا باپ جیسا وفاق یا اسی ’’فیملی‘‘ کا بزرگ صوبہ۔ کراچی ایسا سوتیلا بیٹا ہ...

پی آئی اے کا بھی کراچی جیسا حال

بمباری کے حامی مزید بمبار طیاروں کے حق میں وجود - بدھ 25 نومبر 2015

امریکی فضائیہ کے لیے 100 نئے بمبار جہاز بنانے کے لیے نارتھروپ گرومن کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی ابھی سیاہی خشک نہ ہوئی ہوگی کہ "شوقین" لابی جہازوں کی تعداد کو دوگنا کرنے پر زورلگاتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس ڈرامائی اضافے کی سفارش مچل انسٹیٹیوٹ آف ایرو اسپیس اسٹڈیز کی تحقیق میں سامنے آئی ہے جو ہر گز غیر جانب دار فریق نہیں ہے۔ اس کا الحاق ایئرفورس ایسوسی ایشن (اے ایف اے) سے ہے جو ہر اس چیز پر زیادہ سے زیادہ پیسہ لگانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے، جو اڑتی دکھائی دے۔ فضائیہ کے ریٹائرڈ ا...

بمباری کے حامی مزید بمبار طیاروں  کے حق میں