... loading ...

پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی بیٹی محبوبہ مفتی نے بھارتی ٹی وی چینل “آج تک”کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بی جے پی کے ساتھ مخلوط سرکار کی تشکیل میں ’حریت کا نفرنس‘ کو بھی اعتماد میں لیا گیا تھا۔انہوں نے تسلیم کیا کہ پہلے بندوق سے مقابلہ تھا اوراب پتھروں سے مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ مذاکراتی عمل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ مودی جی کو ضرورت ہے یا نہیں مگر ہمیں پاکستان سے بات کرنے کی ضروت ہے۔انہوں نے کہا بی جے پی کی موجودہ قیادت کے ساتھ حکومت کی تشکیل کوئی آسان کام نہیں تھا اس کیلئے کم سے کم مشترکہ پروگرام تیار کرنے میں دو ماہ لگ گیے اور اس دوران بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی سے متعلق حتمی معا ملہ طے پانے میں حریت کا نفرنس کی رضا مندی بھی حاصل کی گئی۔سید علی گیلانی کی نظر بندی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی مسلسل نظر بندی سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔ پی ڈی پی صدر نے تسلیم کیا کہ بھارت میں جس طرح اظہار رائے کی آزادی ہے کشمیر میں اس طرح کی آزادی میسر نہیں۔انہوں نے کہا کہ جمعہ کی نماز کے بعد شہر میں سنگباری ہوتی ہے اور اسکے بعد مرچی اور ٹیئر گیس کے گولے داغنے پڑتے ہیں اور کبھی کرفیو نافذ کرنا پڑتا ہے جو تکلیف دہ عمل ہے۔
بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی اور اشتراک عمل پر پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی کے بیان کوحریت کا نفرنس کے دونوں دھڑوں نے مسترد کردیا ہے۔بزرگ رہنما سید علی گیلانی نے محبوبہ مفتی سے یہ واضح کرنے کو کہا کہ کون لوگ ہیں جواس کھیل میں شا مل ہیں ،وہ ان کے نام یا ناموں کا اظہار کرے ،ورنہ اس طرح کی با تیں کرکے وہ ایک کنفیوژن پیدا کرنا چا ہتی ہیں جو قابل مذمت ہے۔میرواعظ حریت گروپ کے سربراہ میرواعظ عمر فاروق نے بھی محبوبہ مفتی کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی قیادت میں چلنے والی حریت کا نفر نس نے اوّل روز سے ہی پی ڈی پی اور بے جے پی اتحاد کی ،مخالفت کی ہے۔تاہم سری نگر کی ایک نیوز ایجنسی “کے این ایس” نے میر واعظ حریت کا نفر نس کے اہم رہنما پروفیسر عبد الغنی بٹ سے اس بارے میں رائے دریافت کی تو ان کا کہنا تھا کہ میں اس قضیے میں پڑنا نہیں چا ہتا۔لوگوں کو کہنے دیں جو کچھ کہنا چا ہیں۔پروفیسر غنی کے اس رد عمل نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے ،کیونکہ پروفیسر غنی بٹ کی حکومت سازی کے دوران ہی ،یکم جنوری 2015کے درمیان مفتی کی رہائش گا ہ پر ایک خفیہ ملا قات ہوئی تھی تاہم جب اس کا انکشا ف ہوا توپروفیسر بٹ نے یہ کہتے ہوئے اس ملاقات کو غیر اہم بنا نے کی کوشش کی کہ ،مفتی سعید ان کے کلاس فیلواور دوست رہ چکے ہیں اور اس لئے اس میں کیڑے نکالنے کی ضرورت نہیں ۔2جنوری 2015کے ٹائمز آف انڈیا میں چھپی رپورٹ کے مطا بق جب ان سے پوچھا گیا کہ کس نوعیت کی حکومت تشکیل پائے گی تو ان کابر جستہ جواب تھا۔کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔کل کے دوست آج دشمن اور آج کے دوست ،کل کے دشمن ہوسکتے ہیں۔یعنی عملاً بی جے پی ،پی ڈی پی اتحاد کا انہوں نے اشا رہ دیا تھا۔آج ان کے رد عمل نے بھی کشمیری عوام کے شک میں مزید اضافہ کردیا ہے اور یہ خیال تقویت اختیار کرتا جارہا ہے کہ’’ کچھ تو ہے ،جس کی پردہ داری ہے ۔‘‘محبو بہ مفتی کے اس انکشاف سے نہ صرف میر واعظ حریت بلکہ پاکستان کی کشمیر پالیسی پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں ۔کیو نکہ سرکاری طور پرابھی تک میر واعظ حریت کو ہی اصل حریت کا نفرنس کا درجہ دیا جارہا ہے ۔
فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...
خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے...
سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا پاکستان کے اندر تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، میڈیا نمائندگان سے ملاقات سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے حالیہ بیان کو ان...
ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسی کا حصہ نہیں، شازیہ مری سولرپینل صارفین کیساتھ دھوکا ، وہ کیسے اپنا نقصان پورا کریں گے؟میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی نے نیپرا کے نئے سولر نیٹ میٹرنگ قواعد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئ...
دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے بنوں میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے۔ سجاد خان نے بتایا...
شہری خود پریشان ، شہر بھر میں گوشت فروشوں کی من مانے نرخ وصولی انتظامیہ کی کارروائیاں بے سود، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا شہری خود ساختہ مہنگائی سے پریشان ہیں، دکانوں پر مٹن، بیف اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر دکھائی نہیں ...
جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے شہر کو جرائم سے پاک کرنے کی کوششیں جاری ہیں، دہشتگرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میںزیادہ کارروائیاں کر رہے ہیں،ایڈیشنل آئی جی فرانزک لیب کی سہولت میں وقت لگے گا ، پراجیکٹ کی تکمیل میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے، فتنہ الخوارج اور فتن...
امن ہوگا تو خوشحالی آئیگی، صوبے کے عوام کے حقوق کیلئے ہر شخص کے ساتھ بیٹھوں گا خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے،ہم ڈرنے والے نہیں ،کانووکیشن سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے، صوبے کے عوام کے حقوق کے...
پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت منعقد ہوگا شہباز شریف دورہ جرمنی مکمل کرنے کے بعد وہیں سے واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے وزیراعظم شہباز شریف غزہ پیس بورڈ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ذرائع کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ...
8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...
اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...
دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...