وجود

... loading ...

وجود

نواب ثنا ء اللہ زہری کو وزیراعلیٰ بنانے میں رکاوٹیں کیوں؟

جمعرات 10 دسمبر 2015 نواب ثنا ء اللہ زہری کو وزیراعلیٰ بنانے میں رکاوٹیں کیوں؟

liaqat nawab sana dr abdul

جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ تنظیمی دورے پر6تا 8 دسمبر کو،کوئٹہ آئے ۔میڈیا کے نمائندو ں سے بات چیت کی ،اپنی جماعت کے مختلف اجتماعات میں شریک ہوئے اسی طرح کوئٹہ چیمبر آف کا مرس کے صد ر سے نہ صرف ملاقات ہوئی بلکہ چیمبر آف کامرس ک عہدیداران سے خطاب بھی کیا۔ملک کے منجھے ہوئے اور تجربہ کار سیاستدانوں میں لیاقت بلوچ کا شمارہوتاہے ، اچھے پارلیمنٹیرین رہے ہیں۔ بلوچستان کی سیاست اور معاشرت پر گہر ی نظر رکھتے ہیں۔یہاں کے حالات اور سیاسی نشیب و فراز سے بھی خوب آگاہ ہیں۔جماعت اسلامی کا بلوچستان کے بارے میں موقف واضح اور اصولی ہے ۔جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ مسئلہ اب بھی دستوری اور قانونی ہے اگر اس پر عمل ہوتا ہے تو یقینا روایتی امن اور بھائی چارے کی طرف مراجعت ہو گی۔لیاقت بلوچ نے آپریشن کے بجائے نتیجہ خیز مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے ، اس جانب ترغیب اور مطالبے کا یہ پہلا موقع نہیں بلکہ اس تناظر میں جماعت اسلامی کے صوبائی اور مرکزی نظم کے تحت مختلف اوقات میں کُل جماعتی کانفرنسز اور سیاسی اجتماعات کا انعقادبھی ہوا ہے ۔قاضی حسین احمد (مرحوم )کے دور امارت میں غالباً 2000یا 2001ء میں کوئٹہ کے میلاک ہال میں بلوچستان مسئلے سے متعلق ’’سمینار ‘‘ہوا۔ جس میں ملک اور صوبے کی تمام جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔معروف کالم نویس جاوید چوہدری خصوصی طور پر شریک ہوئے تھے ۔مجھے یاد ہے کہ جاوید چوہدری کے خطاب کے دوران میں پشتون بلوچ قوم پرست رہنما ان کے ایک جملے پر برہم اور مشتعل ہوئے ۔ اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر اُنہیں مزید بات نہ کرنے کا شو ر بلند کیا۔قاضی حسین احمد اور چند دیگر زعماء کی مداخلت او ر اپیل پر یہ حضرات ٹھنڈے ہو گئے۔البتہ جاوید چوہدری کو مختصر تقریر کرنی پڑی۔اس سیمینار کا عنوان ’’بلوچستان کے سلگتے مسائل‘‘ تھا۔ابھی بلوچستان بد امنی کی لپیٹ میں نہیں تھا۔جنرل پرویز مشرف کی آمریت کا طوطی بول رہا تھا۔چونکہ صوبے کے مسائل پر کان نہیں دھرا گیا ،یوں رفتہ رفتہ آگ اور خون کا لا متناہی سلسلہ چل پڑ ا، ان حالات نے ملک اور صوبے کو غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر دیا،برابر نقصان ہو رہا ہے اور قضیہ ہنوز لاینحل ہے ۔در اصل نتیجہ خیز مذاکرات اور دستور پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد بلوچستان کے مسئلے کی کنجی ہے ۔ یعنی اصل مسئلہ صوبائی خود مختاری یا وسائل پر اختیار کا ہے ۔لیاقت بلوچ نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی خدمات کا اعتراف کیااور ان خدمات کے اعتراف میں انہیں مزید اڑھائی سال وزارت اعلیٰ کے منصب پر بٹھانے کی تجویز یا مطالبہ بھی کیا،گویا جماعت اسلامی بھی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے حامیوں کی صف میں کھڑی ہو گئی ہے ۔

جان محمد جمالی کو استعفیٰ دئیے ہوئے مہینے بیت گئے تب سےاسپیکر کا منصب خالی پڑا ہے ۔ڈپٹی اسپیکر سے کام چلایا جا رہا ہے ۔ شاید میاں نواز شریف کے ’’اِذن‘‘ کا یہاں بھی انتظار ہے ۔

سوال یہ ہے کہ نواب ثناء اللہ زہری اگر اگلے اڑھائی سال کیلئے وزیر اعلیٰ بنتے ہیں تو کونسی آفت آن پڑے گی؟وہ کونسی ترقی اور جدت ہے کہ جس سے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان کو ہمکنار کیا۔سب کچھ پہلے کی طرح ہی تو ہے ،وہی نقشہ ہے جو ہم عشروں سے مختلف حکومتوں کے ادوار میں دیکھتے چلے آرہے ہیں۔کہیں نہ کہیں ترقی ضرور ہوئی ہو گی۔ مگر مجھے تو ایک دن کیلئے کوئٹہ کا جناح روڈ صاف و شفاف دکھائی نہ دیا۔کوئٹہ صوبے کا قلب ہے اوراس قلب کو ان اڑھائی سالوں میں مزید امراض لاحق ہو چکے ہیں ۔ڈپٹی کمشنر کو اتنی اجازت بھی گوارا نہیں کی جاتی کہ وہ کم از کم تجاوزات کے خلاف ہی ایکشن لیں۔اگر ڈپٹی کمشنر با اختیار ہو کر مفاد عامہ کیلئے کوئی قدم اُٹھاتے ہیں تو آگے سے حکومت والے اور میئر ، ڈپٹی میئر صاحبان چیخنا چلانا شروع کر دیتے ہیں کہ اُن کا ووٹ بینک متاثر ہو رہا ہے ۔میٹرو پولیٹن کی جائیدادیں عوامی نمائندوں کی صوابدید پر ہیں جسے من پسند طریقہ کار کے مطابق الاٹ کر دیا جاتا ہے ۔پبلک پارکوں میں عمارتیں کھڑی کی جا چکی ہیں ،شہر کی حالت یہ ہو گئی کہ پیدل چلنا محال ہے ۔گویا شہر کوئٹہ کا ہر لحاظ سے ستیاناس کیا جا چکا ہے ۔اگر کوئی کہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے امن قائم کرنے میں نمایاں کام کیا ہے ، توعرض ہے کہ امن کے ضمن میں تبدیلی اور پیش رفت خالصتاً فوج ،ایف سی اور خفیہ اداروں کی مرہون منت ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بعض محکموں کی فعالیت پر بھی فوج کی توجہ مرکوز ہے ۔معلوم نہیں کہ کیوں ’’نواب زہریُ‘‘ کا راستہ روکنے کی سرتوڑ کوششیں کی جا رہی ہیں ۔میاں صاحبان کو ڈرایا جا رہا ہے کہ اگر نواب زہری وزیر اعلیٰ بنتے ہیں تو پتہ نہیں صوبے کا کیا حشر نشر ہو گا۔حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے ،ممکن ہے کہ وہ ان سب سے بہتر ذمہ داریاں نبھائیں۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مری معاہدے میں زعماء اور رہنما معاہدے کی پاسداری کی بات تو کرتے ہیں لیکن اندریں خانہ میاں نواز شریف کو نواب زہری کے خلاف قائل کرنے کے بھی جتن کرتے ہیں۔میاں نواز شریف کو چاہئے تھا کہ اول روز ہی معاہدہ تحریر نہ کرتے ، ڈاکٹر عبدالمالک کا ہی حکم جاری کرتے۔ابہام ، تذبذب اور کشمکش کا ماحول بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ چنانچہ عہد وفا نہ کرنا سیاستدانوں کو زیب نہیں دیتا۔نواب زہری تجربہ کار پارلیمنٹیرین ہیں، اُن میں حکومت چلانے کی صلاحیت بہر طور موجود ہے ۔ مری معاہدے سے رجوع یا روگردانی کو کم از کم میں سیاسی تخریب سے تعبیر کرتاہوں۔معلوم ہوتا ہے کہ اس تخریب کو عمل پذیر کرانے کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے ۔اگر ایسا ہوتا ہے تو نقصان کا بھار بھی مسلم لیگ نواز کو ہی اُٹھانا پڑے گا۔ستم دیکھئے کہ جان محمد جمالی کو استعفیٰ دئیے ہوئے مہینے بیت گئے تب سے اسپیکر کا منصب خالی پڑا ہے ۔ڈپٹی اسپیکر سے کام چلایا جا رہا ہے ۔ شاید میاں نواز شریف کے ’’اِذن‘‘ کا یہاں بھی انتظار ہے ۔لیاقت بلوچ نے ڈاکٹر مالک کے حق میں بجا فرمایا ،پر قول و قرار بھی معنیٰ رکھتا ہے ۔معاہدے میں مسلم لیگ نواز کی مرضی شامل ہے ۔چنانچہ قول اور معاہدے کو نبھانا نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ با وقار لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے ۔


متعلقہ خبریں


مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

مضامین
مولانا کی ''میں'' وجود منگل 10 فروری 2026
مولانا کی ''میں''

سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ وجود منگل 10 فروری 2026
سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ

دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں ! وجود منگل 10 فروری 2026
دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں !

شکسگام ، چین کا حصہ ہے! وجود پیر 09 فروری 2026
شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی وجود پیر 09 فروری 2026
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر