وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نیشنل بینک میں غیر معیاری بھرتیاں:لوٹ مار کا پُرانا دھندہ شروع ہوگیا

پیر 07 دسمبر 2015 نیشنل بینک میں غیر معیاری بھرتیاں:لوٹ مار کا پُرانا دھندہ شروع ہوگیا

NBP_0

نیشنل بینک کی تاریخ رہی ہے کہ اسکے اعلیٰ افسران ہمیشہ نچلی سطح سے ترقی پاتے ہوئے اعلیٰ عہدوں پر فائزہوتے رہے اور بینک سے پُرانی وابستگی (چند خامیوں کے باوجود )کے باعث ادارے کی ترقی کو چار چاند لگاتے رہے۔ اس طرح نیشنل بینک آف پاکستان ملک کا مضبوط ترین مالیاتی ادارہ بن گیا۔ اس کے اثاثے اتنے مضبوط ہوگئے کہ ایک عرصہ سے لوٹ مار کے باوجود یہ ادارہ اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔لیکن گاڑی کتنی ہی مضبوط ہو اگر اس کا چلانے والا اناڑی ہو تو اسے تباہ ہونے سے بچانے کے لئے کسی تخریب کاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نیشنل بینک بدقسمتی سے اب ایسے ہی نااہل اور اناڑیوں کے ہتھے چڑھ چکا ہے ۔ اس کو ٹھکانے لگانے یعنی نجی شعبے کے حوالے کرنے کے لئے کئی عشروں سے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جاتا رہا مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ تاہم اب عالمی و ملکی تناظرمیں حالات بدلتے دکھائی دے رہے ہیں۔کچھ بعید نہیں کہ نیشنل بینک بھی ماضی کا قصہ بن جائے۔ وجود میں یہ انکشاف کیاجاچکا ہے کہ عالمی مالیاتی قوتیں کسی طور کسی ایسے مالیاتی ادارے کو پنپنے نہیں دیں گی جس کی بنیاد کسی مسلمان نے رکھی ہوں۔ماضی میں’’ بی سی سی آئی ‘‘کی مثال تاریخ کاحصہ ہے۔ اس بینک نے جس کا بنانے والا ایک پاکستانی اور سب سے بڑھ کر مسلمان تھا ،عالمی مالیاتی کاروبار میں ہلچل مچاکر اس کے لئے ایک چیلنج بن گیا تھا ۔لہٰذا اسے نشانِ عبرت بنادیا گیا اور اس کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا۔اب نیشنل بینک کی باری ہے۔ اسکی استعداد ، کاروباری وسعت اور حدود میں کافی حد تک رکاوٹیں حائل ہو گئی ہیں۔ کرپشن و لوٹ مار کی بھرمار پہلے ہی عروج پر ہے ۔ اس کے ساتھ اب اسے چلانے والوں کی بھرتیوں کے لئے وہ طریقہ کار استعمال کیا جارہا ہے جس کا مقصد ادارے کو چلانا نہیں بلکہ کسی کو نوازنا ہے۔ درج ذیل تفصیلات ایسی ہی بے ضابطگیوں کے بارے میں ایک وضاحت کرتی ہے۔

نیشنل بینک میں سات عدد سینئر ایگزیکٹو زکی اسامیوں پر بھرتیاں کی جارہی ہیں، کچھ کی جا چکی ہیں۔ جبکہ اس ضرورت کو پہلے سے موجود تجربہ کار اور باصلاحیت ای وی پیز (ایگزیکٹوزوائس پریزیڈنٹ) حضرات کو ترقی دیکر پورا کیا جاسکتا ہے۔مزید برآں یہ بھرتیاں بینک پر اضافی مالی بوجھ کا سبب بھی ہونگیں۔ ان اسامیوں کو پُر کرنے کے لئے ایک ایسا اشتہار دیا گیا جس میں کرائیٹریا، تعلیم، اور تجربہ کے بارے میں تفصیلات طلب ہی نہیں کی گئیں ۔ جبکہ کسی بھی اسامی کے لئے میرٹ کے تقاضے پورے کرنے کے لئے تعلیم اور تجربہ بنیادی ضرورت ہوتی ہیں۔ یہ امر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بھرتیوں کے لئے اقربا پروری کے ساتھ نااہل اور حسبِ منشا افسران کو بھرتی کیا جانا ہے۔ جبکہ بینک میں انتہائی تجربہ کار افسران کی کمی نہیں۔ حیرت انگیز طور پر بھرتی کے لئے کوئی حتمی تاریخ بھی مقرر نہیں کی گئی جو بھرتیوں کے اصول کے منافی ہے۔جو بھرتیاں عمل میں آچکی ہیں ان کی تنخواہوں میں حیرت انگیز طور پر مراتب، تجربہ اور تعلیمی صلاحیتوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا ۔ مثلاً ایک سینئر وائس پریزیڈنٹ عمر عزیز داؤد پوتا کی بنیادی تنخواہ 347,859=/ روپے مقرر کی گئی جبکہ ایک دوسرے سینئر ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ مسٹر اویس اسد خان کی بنیادی تنخواہ 180,232=/روپے مقرر کی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھرتیوں کے لئے واحدکرائیٹریا سفارش اور اقرباء پروری ہے اس میں کسی اہلیت، تعلیم اور تجربہ و صلاحیت کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ یہ اس ادارے کی بدقسمتی ہے کہ یہاں ایسے ایگزیکٹوز بھی دوبارہ بھرتی کرلئے جاتے ہیں جو ماضی میں انتہائی خراب کارکردگی اور کرپشن کے ساتھ کام کرتے رہے اور حالات ناموافق دیکھ کر بینک چھوڑ گئے تھے۔

نیشنل بینک میں سات عدد سینئر ایگزیکٹوز کی نئی بھرتیاں میرٹ کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کرکے کی جانے لگی،بینک کے پرانےافسران کو نظرانداز کرکے سفارشی بھرتیوں کا غیر معیاری سلسلہ شروع کردیا گیا۔

ایسے نااہل افسران کی دوبارہ بھرتیاں شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہیں کہ بینک کو لوٹنے میں یہ اکیلے نہیں اوپر والے بھی ہیں۔ 31 جنوری 2014 ء کو مسٹر معاذ خیرالدین کو بطور سینئر وائس پریزیڈنٹ بھرتی کیا گیا ۔ان کو ڈپٹی جنرل منیجرآپریشنز ڈھاکا بنگلہ دیش کی ذمہ داری سونپی گئی۔ مگر حیرت انگیز طور پر موصوف آج تک بنگلہ دیش ہی نہیں گئے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معاذ خیرالدین نے بینک کو اپنی جاگیر سمجھ لیا ہے۔ اور غالباً یہ بینک کی تاریخ کاپہلا انوکھا واقعہ ہے کہ جب کوئی ملازم، دئیے گئے بینک کے احکامات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے فرائض ادا کئے بغیر اپنی تنخواہ وصول کرکے بینک کو لاکھوں روپے ماہانہ نقصان پہنچارہا ہے۔ مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کیا کوئی بینک ملازم بینک کے قانون سے بالا تر ہو سکتا ہے۔ان بھرتیوں کے باعث نیشنل بینک آف پاکستان جہاں ملک بھر میں ہدف تنقید بن رہا ہے۔ وہیں بینک ملازمین حیران ہیں کہ جب بھی ان کے بچوں کی بھرتیوں کا معاملہ آتا ہے تو بینک انتظامیہ ا نہیں گنجائش نہیں ہے کا عذرلنگ پیش کرتی ہے یا اخراجات کا رونا روتی ہے۔بینک انتظامیہ کا یہی حیران کن رویہ ہے جس کے تحت گولڈن ہینڈ شیک میں نکالے گئے آٹھ ہزار سے زائد ملازمین کو فارغ کرکے اس سے کہیں زیادہ بھرتی کرلئے جاتے ہیں۔کنٹریکٹ پر بھرتیوں کا سلسلہ اندھا دھند جاری رہتا ہے۔ اور کرپشن وبد انتظامی اپنے عروج پر رہتی ہے۔

بنگلہ دیش کی ہی برانچ میں 17 ارب روپے سے ذیادہ کا فراڈ ہوچکا ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ رقم بڑھ کر 20 ارب تک جا پہنچی ہے ۔ طرہ تماشا یہ ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے شروع ہونے والی یہ تحقیقات طویل سے طویل ہوتی جارہی ہے۔ بینک کی پرانی حکمت عملی کے تحت بدعنوانیوں کے اس نوع کے تمام قصوں میں تحقیقات کا ڈول تو ڈال لیا جاتا ہے مگر اس طوالت کے ذریعے آہستہ آہستہ سردخانے کی نذرکردیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کی برانچ میں سترہ سے بیس ارب روپے کا فراڈ بھی اسی طرح اب آہستہ آہستہ سرد خانے میں ڈالا جارہا ہے۔ اسی لئے بینک کے اندرونی معاملات کو سمجھنے والے اسی تحقیقات کو آنکھوں میں دھول جھونکنے سے تعبیر کرتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


وزیر اعظم سے فواد چوہدری کی ملاقات ، وزیر اطلاعات کا اضاقی قلمدان دینے کا فیصلہ وجود - پیر 12 اپریل 2021

وزیر اعظم عمران خان نے اطلاعات و نشریات کا اضافی قلمدان فواد چوہدری کو دینے کا فیصلہ کرلیا ۔ذرائع کے مطابق اتوار کو وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری خصوصی طورپر جہلم سے اسلام آباد پہنچنے اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے فواد چوہدری کو اطلاعات و نشریات کا اضافی قلمدان دینے کا فیصلہ کیا ۔ ذرائع کے مطابق فواد چوہدری کو اضافی ذمہ داریاں ملنے کا نوٹیفکیشن (آج) پیر تک جاری ہونے کا امکان ہے ۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے فواد چوہدری کو وزارتِ...

وزیر اعظم سے فواد چوہدری کی ملاقات ، وزیر اطلاعات کا اضاقی قلمدان دینے کا فیصلہ

فافن نے ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کردی وجود - پیر 12 اپریل 2021

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کردی ہے ۔فافن نے گزشتہ روز این اے 75 ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی انتخاب پر اپنی رپورٹ جاری کردی ہے ۔رپورٹ کے مطابق ڈسکہ انتخاب شفاف رہے ، الیکشن عملے نے توجہ سے انتخابی عمل سرانجام دیا۔رپورٹ کے مطابق ڈسکہ ضمنی انتخاب میں انتخابی خلاف ورزیوں کے واقعات کم رونما ہوئے ، فافن عملے نے الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی۔فافن رپورٹ کے مطابق 193 میں...

فافن نے ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کردی

الیکشن کمیشن نے سینیٹر فیصل واوڈا کو نوٹس جاری کردیا وجود - پیر 12 اپریل 2021

کراچی میں ہونے والے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 249 کے ضمنی انتخاب کے دوران الیکشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے سینیٹر فیصل واوڈا کو نوٹس جاری کردیا۔الیکشن کمیشن کے نوٹس میں کہا گیا کہ اطلاع ہے کہ آپ حلقے میں پی ٹی آئی امیدوار کے جلسے میں شرکت کے لیے آرہے ہیں۔نوٹس میں کہا گیا کہ حلقے میں آپ کی موجودگی انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔خیال رہے کہ کراچی کے حلقہ این اے 249 کی یہ نشست فیصل واوڈا کے استعفے کے بعد ہی خالی ہوئی ہے ، جنھوں نے 2018 کے عام...

الیکشن کمیشن نے سینیٹر فیصل واوڈا کو نوٹس جاری کردیا

پہلا ٹی ٹوئنٹی، پاکستان کیخلاف سلو اوور ریٹ پر جنوبی افریقا پر جرمانہ عائد وجود - پیر 12 اپریل 2021

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے جنوبی افریقا پر پاکستان کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میں سلو اوور ریٹ پر جرمانہ عائد کردیا۔آئی سی سی کے مطابق جنوبی افریقا کی کرکٹ ٹیم پر میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے ۔آئی سی سی کے مطابق جنوبی افریقی کپتان ہینرچ کلاسن نے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے فیصلے کو قبول کرلیا ہے ۔خیال رہے کہ پاکستان نے جنوبی افریقا کو پہلے ٹی ٹوئنٹی میں دلچسپ مقابلے کے بعد 4 وکٹوں سے شکست دی تھی۔

پہلا ٹی ٹوئنٹی، پاکستان کیخلاف سلو اوور ریٹ پر جنوبی افریقا پر جرمانہ عائد

سینیٹ، گیلانی کے حمایت یافتہ گروپ میں 2 نئے سینیٹرز شامل وجود - هفته 10 اپریل 2021

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی کے حمایت یافتہ گروپ میں 2 نئے سینیٹرز باقاعدہ شامل ہوگئے ۔سینیٹ سیکرٹریٹ نے 6 آزاد اراکین پر مشتمل سینیٹرز کے نئے آزاد گروپ کا سرکولر جاری کردیا۔سینیٹر دلاور خان آزاد گروپ کے پارلیمانی لیڈر مقرر کیے گئے ہیں۔فاٹا کے دو آزاد اراکین سینیٹر ہلال الرحمن، سینیٹر ہدایت اللّٰہ آزاد گروپ میں شامل ہوگئے ۔

سینیٹ، گیلانی کے حمایت یافتہ گروپ میں 2 نئے سینیٹرز شامل

کوہاٹ کے پہاڑی علاقے بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16 لاشیں برآمد وجود - هفته 10 اپریل 2021

کوہاٹ کے پہاڑی علاقے بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔پولیس حکام کے مطابق بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16لاشوں کو نکال لیا گیا ہے اس حوالے سے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔یاد رہے کہ جوا کی کے پہاڑی علاقے میں مارچ 2012 میں اجتماعی قبروں سے 50 سے زائد لاشیں ملی تھیں۔

کوہاٹ کے پہاڑی علاقے بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16 لاشیں برآمد

عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتیں 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں وجود - هفته 10 اپریل 2021

اقوام متحدہ کی فوڈ ایجنسی کے مطابق عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتوں میں 10 ماہ سے اضافہ جاری ہے جس نے رواں سال مارچ کے مہینے میں جون 2014 کے بعد سے بلند ترین سطح کو عبور کرلیا ہے جس کی وجہ خوردنی تیل، گوشت اور دودھ کے نرخوں میں اضافہ ہے ۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کا فوڈ پرائز انڈیکس، جو اناج، دالیں، دودھ سے بنی مصنوعات، گوشت اور چینی کی قیمتوں میں ماہانہ تبدیلیوں کی پیمائش کرتا ہے ، کے مطابق ان کی قیمتوں میں گزشتہ ماہ اوسطاً 118.5 پوائنٹس ...

عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتیں 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

اطالوی وزیراعظم کے طیب اردوان کو 'آمر' کہنے پر ترکی کی مذمت وجود - هفته 10 اپریل 2021

ترکی نے اطالوی وزیر اعظم ماریو ڈریغی کی جانب سے ترک صدر رجب طیب اردوان پر یورپی کمیشن کے صدر ارسولا وان ڈیر لیین کی توہین کرنے اور انہیں آمر کہنے کے الزامات عائد کرنے کی مذمت کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق وان ڈیر لیین اور یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے منگل کے روز انقرہ میں ترک صدر سے ملاقات کی تھی۔رپورٹ کے مطابق کمیشن کے سربراہ کو ملاقات میں کرسی نہ مل سکی تھی کیونکہ اس ملاقات کے دوران صرف دو کرسیاں تیار کی گئی تھیں جس پر یورپی کونسل کے صدر اور ترک صدر بیٹھ گئے تھے ۔طیب اردوان ا...

اطالوی وزیراعظم کے طیب اردوان کو 'آمر' کہنے پر ترکی کی مذمت

ملکہ برطانیہ کے شوہر، شہزادہ فلپ 99 برس کی عمر میں انتقال کرگئے وجود - هفته 10 اپریل 2021

ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے شوہر، برطانیہ کی تاریخ میں طویل ترین عرصے تک رائل کونسورٹ کے عہدے پر رہنے والے شہزادہ فلپ 99 برس کی عمر میں انتقال کرگئے ۔شہزادہ فلپ کی موت کا اعلان شاہی خاندان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ٹوئٹ میں کیا گیا۔ٹوئٹ میں کہا گیا کہ انتہائی دکھ کے ساتھ ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ ملکہ برطانیہ کے شوہر، شہزاد فلپ، ڈیوک آف ایڈنبرا نہیں رہے ۔رائل فیملی کی ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ شہزادہ فلپ کی اچانک موت آج (9اپریل کی) صبح کو ونڈسر محل میں ہوئی۔بیان میں کہا گ...

ملکہ برطانیہ کے شوہر، شہزادہ فلپ 99 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل کو ہونے کا امکان وجود - هفته 10 اپریل 2021

سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل بروز منگل کو ہونے کا امکان ہے ۔عرب میڈیا کے مطابق ماہرین فلکیات نے بتایا کہ اس سال سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل بروز منگل کو ہونے کا امکان ہے ۔ماہرین فلکیات کے مطابق اس سال رمضان المبارک میں 30 روزے اور چار جمعے ہوں گے ۔ماہرین کے مطابق رواں برس سعودی عرب میں عید الفطر 13 مئی کو ہونے کی توقع ہے ۔

سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل کو ہونے کا امکان

ماں کے دودھ سے کووڈ 19 کی اینٹی باڈیز بچوں میں منتقل ہوتی ہیں، تحقیق وجود - هفته 10 اپریل 2021

نومولود بچوں کی نگہداشت کرنے والی مائیں کووڈ 19 ویکسین سے حاصل ہونے والی اینٹی باڈیز اپنے دودھ کے ذریعے کئی ماہ تک بچوں میں منتقل کرتی ہیں۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں 5 ماؤں کو شامل کیا گیا تھا جن کو فائزر/بائیو این ٹیک کورونا وائرس استعمال کرائی گئی تھی۔تحقیق میں ان ماؤں کے دودھ کے نمونوں میں ویکسین کی پہلی خوراک سے قبل اینٹی باڈیز کی سطح کو دیکھا گیا اور پھر ویکسین کے بعد 80 دن تک روانہ کی بنیاد پر ...

ماں کے دودھ سے کووڈ 19 کی اینٹی باڈیز بچوں میں منتقل ہوتی ہیں، تحقیق

مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری کے نتائج پر اختلافات برقرار وجود - جمعرات 08 اپریل 2021

مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں قومی مردم شماری کے نتائج پر اتفاق رائے نہ ہوسکا، اختلافات برقرارہیں، پیر کوورچوئل اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ سی سی آئی کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کا فیصلہ کرلیا گیا ۔ طویل مدت سے آئینی تقاضے سے انحراف کیاجا رہا تھا آئین کے تحت سی سی آئی کا مستقل سکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 44 واں اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ وزراء اور حکام شریک ہوئے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں...

مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری کے نتائج پر اختلافات برقرار