وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

عمران فاروق قتل کا مقدمہ ایف آئی اے نے درج کر لیا! مقاصد کیا ہیں؟

هفته 05 دسمبر 2015 عمران فاروق قتل کا مقدمہ ایف آئی اے نے درج کر لیا! مقاصد کیا ہیں؟

imran-farooq

عمران فاروق کے قتل کے تقریباً پانچ برس بعد اور کراچی میں بلدیاتی انتخابات سے صرف ایک روز قبل حکومت پاکستان اور وزارت داخلہ نے بآلاخر ایک مقدمے کا اندراج کر لیا ہے۔ اس مقدمے کی مدعی خود حکومت پاکستان بنی ہے، جبکہ مقدمہ اسلام آباد میں ایف آئی اے کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے نے تاحال مقدمے کے مندرجات یا نقل جاری نہیں کی ۔ تاہم اس کے متعلق یقینی طور پر سامنے آنے والی معلومات کے مطابق مقدمہ قتل ، دہشت گردی اور اعانتِ جرم کی دفعات کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ مقدمے میں یقینی طور پر تین ملزمان محسن علی، معظم علی اور خالد شمیم کو نامزد کیا گیا ہے۔ مگر اس امر کی وضاحت نہیں کی جارہی ہے کہ مقدمے میں مزید کتنے افراد کے نام شامل کئے گیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مقدمے میں متحدہ قومی موومنٹ کے کچھ اہم رہنماؤں کے نام بھی شامل کئے گیے ہیں ، مگر اُن ناموں کو اس مرحلے پر افشا ء کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔

مقدمہ کن حالات میں درج ہوا؟

1۔ عمران فاروق کے قتل کامقدمہ عجیب وغریب حالات اور متضاد قسم کی صورتِ حال میں درج کیا گیا ہے۔عمران فاروق کو پانچ سال قبل 16؍ ستمبر 2010ء کو لندن میں اُن کے گھر کے قریب قتل کر دیا گیا تھا ۔ پاکستان نے اس پورے عرصے میں ملزمان کی گرفتاری سے لے کر اب تک اپنی تمام اُمیدیں برطانوی حکومت سے وابستہ کی تھیں۔ اس حوالے سے پاکستان میں برطانوی قانون ، اسکاٹ لینڈ یارڈ اور برطانوی نظام انصاف کے حوالے سے مبالغہ آمیز داستانیں اور انصاف پرور رومانوی کہانیاں بیان کی جاتی رہیں، مگر پاکستان میں گرفتار ملزمان کی حوالگی کے طریقہ کار اور اس ضمن میں برطانیا کی جانب سے کسی ٹھوس یقین دہانی سے گریز نے پاکستان کو ملزمان کی یکطرفہ حوالگی سے دور رکھا۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے افسران اپنی تمام تحقیقات اور تفتیش کو پاکستان آکر مکمل کر چکے اور اطلاعات کے مطابق برطانیا کے پاس موجود قتل کے تمام ثبوت اور فارنسک شواہد ملزمان سے دورانِ تفتیش موافق نکل آئے، مگر پھر بھی برطانیا نے ملزمان کی حوالگی کے سرکاری اقدامات اُٹھانے سے گریز کیا۔ پاکستان اس دوران میں ملزمان کی حوالگی کے مطالبے کے لئے برطانیا کی جانب سے سرکاری مطالبے کے انتظار میں ہی رہا ، یہاں تک کہ پہلے سے موجود ریمانڈ پر موجو د تین ملزمان محسن علی ، معظم علی اور خالد شمیم کو اواخر ستمبر میں ایک بار پھر ریمانڈ پر رینجرز کے حوالے کیا گیا ۔ مگر اس دوران میں دوماہ مزید گزرنے کے باوجود برطانیا کی طرف سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی۔ یہ بات ابھی تک پردۂ راز میں ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں برطانیا سے اعلیٰ ترین سرکاری اور فوجی رابطوں کے باوجود یہ معاملہ کیوں اٹکا رہا؟ غیر ملکی دوروں سے اجتناب کرنے والے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار اس ضمن میں خود برطانیا جاکر سرکاری سطح پر ’’بات چیت‘‘ بھی کرتے رہے ہیں، مگر اس معاملے میں ایسا کیا ہوا ہے کہ پاکستان کو اپنے خاکے کے برعکس عمران فاروق کامقدمہ قتل پاکستان میں درج کرنا پڑا۔ یہ اس معاملے کا ایک پہلو ہے۔

Chaudhry-Nisar

2۔ مقدمہ درج کرنے کے حالات کا دوسرا پہلو بھی عجیب وغریب ہے۔ تقریباً پانچ سال قبل برطانیا میں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل پر پاکستانی حکام پورے پانچ سال تک لامحدود صبر کرکے خاموش بیٹھے رہے، مگر ایسا کیا ہواکہ پانچ سال تک انتظار کرنے والے حکام اچانک اتنی عجلت میں دکھائی دیئے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کا مقدمہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات سے صرف ایک روز قبل درج کرنے پر مجبور ہوگئے۔ کیا اس کے لئے دوچار دن مزید انتظار نہیں کیا جاسکتا تھا؟

3۔ عمران فاروق قتل کے مقدمے کے اندراج کے حالات میں ایک اور پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ وفاقی اور سندھ حکومت پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ الزام ہے کہ وہ کراچی میں دہشت گردی اور قتل وغارت گری کے خلاف جاری آپریشن میں مسلسل عدم دلچسپی اور سیاسی ارادے میں کمی کی شکار ہیں۔ پھر ایسا کیا ہے کہ ایک طرف وفاقی حکومت کراچی آپریشن کی تو سیاسی سرپرستی سے فاصلے پیدا کررہی ہیں مگر الطاف حسین کے معاملے میں حد سے زیادہ دلچسپی لے کر خود مقدمہ قائم کرنے کی عزیمت دکھا رہی ہے۔ یہ پہلو مزید پراسرار تب زیادہ لگتا ہے کہ یہی مرکزی اور وفاقی حکومت متحدہ کے اسمبلیوں سے استعفوں کے بعد اُنہیں پارلیمنٹ میں سمجھا بجھا کر اور رام کرکے واپس لائی۔ اُن کے لئے کراچی آپریشن میں ازالہ شکایت کمیٹی کے قیام کا اعلان کرکے پارلیمنٹ واپسی کا ایک محفوظ راستہ دیا۔ مگر اُسی حکومت کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اچانک یہ اعلان کیا کہ عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ اب پاکستان میں چلایا جائے گا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ معمولی سے معمولی مسئلے کو بھی متحدہ قومی موومنٹ اپنے ردِعمل کے نشانے پر رکھ لیتی ہے ، مگر الطاف حسین کے خلاف عمران فاروق کے قتل کے مقدمے کو پاکستان میں چلانے کے اعلان پر متحدہ قومی موومنٹ نے مکمل خاموشی اختیار کئے رکھی۔ کیا دور کی کوڑی لانے والے حالیہ دنوں میں ایس جی ایس کوٹیکنا کے مقدمات میں استغاثے کی جانب سے اصل دستاویزات پیش نہ کرکے آصف علی زرداری کو مقدمات سے نجات دلانے کی جو مثال اس ضمن میں پیش کرتے ہیں ، وہ یہاں بھی موثر طور پر متعلق ہے۔ یا پھر یہ ایک بالکل برعکس معاملہ ہے جس کے تحت متحدہ کو مسائل سے نکالنے اور اُس کی قیادت کو مزید مسائل میں جکڑنے سے اُس کلیے پر عمل درآمد کی راہ نکالی جائی جو ’’مائنس ون ‘‘ کی شکل میں مقتدر قوتوں کا دیرینہ منصوبہ بن کر سامنے آتا رہتا ہے۔

مقدمہ چلانے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

ایف آئی اے کی جانب سے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ تو درج کر لیا گیا ہے۔ مگر اس ضمن میں یہ وضاحت ابھی تک نہیں ہو سکی کہ اس مقدمے پر مزید پیش رفت کیسے ہو گی؟ اور اِسے چلانے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ یہ امر واضح نہیں ہے کہ پاکستان نے برطانوی حکام کی جانب سے مایوس ہو کر مقدمہ خود اندراج کرنے کا یکطرفہ فیصلہ کیا یا اس میں برطانوی حکام کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔

لطف کی بات یہ ہے کہ معمولی سے معمولی مسئلے کو بھی متحدہ قومی موومنٹ اپنے ردِعمل کے نشانے پر رکھ لیتی ہے ، مگرالطاف حسین کے خلاف عمران فاروق کے قتل کے مقدمے کو پاکستان میں چلانے کے اعلان پر متحدہ قومی موومنٹ نے مکمل خاموشی اختیار کئے رکھی۔

اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے کے پاس ابھی تک اس ضمن میں کوئی واضح لائحہ عمل نہیں ہے کہ وہ مقدمے کی تفتیش کے سلسلے کو برطانیا میں کس طرح وسعت دیں گے۔کیونکہ قتل بنیادی طور پر لندن میں ہوا ہے او رتمام شواہد اوراکثر گواہیاں بھی لندن میں ہی موجود ہیں۔ اب پاکستان کو اپنے ملک میں مقدمہ چلانے کے لئے کیا برطانیا کی مدد بھی اُسی طرح میسر آسکے گی جس طرح پاکستان نے برطانیا کو مہیا کی تھی۔ ڈی جی ایف آئی اکبر خان ہوتی کے پاس ابھی تو بس کہنے کے لئے اتنا ہی ہے کہ ایف آئی اے زیرحراست افراد سے تفتیش کرے گی اور برطانیا میں موجود ملزمان سے تفتیش کی ضرورت پڑی تو حکومت پاکستان کے ذریعے برطانیا سے مدد طلب کی جائے گی۔

ثبوت وشواہد کا مسئلہ

scotland-yard

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ برطانیا میں ہوا ہے۔ اب اگر مقتول برطانیا میں ہو اور قاتل اورملزمان دوممالک میں ہو تو پھر اس مسئلے سے ثبوت وشواہد کی اکٹھ میں کیسے نمٹا جائے گا،یہ واضح نہیں ۔ڈاکٹر عمران فاروق قتل کی تفتیش میں جو نکات بھی مرتب ہوتے ہیں، تمام کے تمام لندن سے متعلق ہیں۔مثلاً

  • ڈاکٹر عمران فاروق کا قتل لند ن میں ہوا۔
  • اس قتل کے عینی شاہدین سے لے کر متعلقہ جتنے بھی لوگ ہو سکتے ہیں ، سب کے بیانات لندن پولیس نے لئے۔
  • سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج جس میں ملزمان جائے واردات سے فرار ہوتے ہیں، اسکاٹ لینڈ یارڈ کے پاس محفوظ ہے۔
  • آلۂ قتل یعنی وہ اینٹ جو ضربیں لگانے کے لئے استعمال کی گئی، وہ اور اس پر موجود فنگر پرنٹس برطانیا کے پاس محفوظ ہے۔
  • ٹیلی فون کی وہ ریکارڈنگ جو پاکستان میں بھی ملزمان کی گرفتاری کے لئے کارآمد ثابت ہوئی، وہ بھی برطانیا کے پاس محفوظ ہے۔
  • مقدمہ قتل کے حوالے سے تمام فرانزک شواہد برطانیا کے پاس محفوظ ہیں، جن میں خون کے نمونے، فنگر پرنٹس اور جائے واردات سے اکٹھی کی گئی دیگر شہادتیں بھی شامل ہیں۔

اگر برطانیا اس سب کے ہوتے ہوئے پاکستان سے ملزمان کا مطالبہ نہیں کر رہا ،تو پھر اس کا مطلب یہ ہو ا کہ برطانیا ،پاکستان کے لئے اُس کی تفتیش میں کوئی خاص تعاون کرنے کے لئے مشکل سے ہی آمادہ ہوگا۔ اس حوالے سے برطانیا مستقبل میں کیا طرزِ عمل اختیار کرے گا اس کی کوئی ٹھوس یقین دہانی یا پھر کوئی قابل اعتبار اور قابلِ انحصار انداز ا یا تجزیہ کسی بھی سطح پر موجود نہیں ہے۔ کم ازکم ڈی جی ایف آئی اے اور وفاقی وزیر داخلہ کی اب تک سامنے آنے والی کسی بھی گفتگو میں اس کی جھلک نہیں دکھا ئی دیتی۔

مقدمے سے وابستہ قانونی نوعیت کے خدشات

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کا مقدمہ پاکستان میں چلانے کے لئے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ چار کی رہنمائی موجود ہے جس کے تحت کسی بھی پاکستانی شہری کے خلاف قانون کو حرکت میں لانے کے لئے ملکی سرحدوں کی کوئی بندش نہیں ، مگر متوازی طور پر اس مقدمے کے ساتھ ایک پیچیدگی یہ لاحق ہے کہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 13 اورسی آر پی سی (کوڈ آف کرمنل پروسیجر) کی دفعہ 403کسی ایک مقدمے کے لئے استغاثہ کی دُہری کارروائی (پراسیکیوشن) کو روکتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 19؍ دسمبر 1966ء انٹرنیشنل کنونشن آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس کو منظور کیا تھا ۔ جس پر پاکستان نے ایک لمبے وقفے کے بعد ابھی 3؍ نومبر 2004ء کو جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور ِ اقتدار میں نامعلوم وجوہ کی بناء پر دستخط کر دیئے تھے۔ اس کے تحت بھی کسی بھی شہری کو ایک ہی مقدمے میں دو مرتبہ جانچ (ٹرائل) سے نہیں گزارا جاسکتا۔ کوئی سادہ سے سادہ آدمی بھی اندازا لگا سکتا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے مقدمے میں ہونے والی ہر پیش رفت دراصل ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو مرکز و محور بنا کر کی جارہی ہے، تو پھر پاکستان میں اندارجِ مقدمہ سے ایک شہری کے دُہرے استغاثے اور جانچ کے ملکی و غیر ملکی قوانین سے کس طرح عہدہ برآں ہو اجا سکے گا؟ یہ اس معاملے کا سب سے نازک پہلو ہے۔

imran-farooq-altaf-hussain

اس معاملے کا دوسرا پہلو بھی الطاف حسین سے جڑا ہے جنہیں برطانیا اور پاکستان کے متصادم قوانین اور اس کے مختلف نتائج کا فائدہ بھی پہنچ رہا ہے۔ برطانیا کسی بھی طرح الطاف حسین کی پاکستان حوالگی کا پابند نہیں۔ جبکہ الطاف حسین کا برطانوی شہری کے طور پر دُہرے مقدمے میں کارروائی کے لئے برطانیا سے اپنے شہری حقوق کے مطالبے کی بھی گنجائش ہے۔ ایسی صورت میں جب برطانیا میں سزائے موت کا سرے سے کوئی قانون ہی نہیں اور پاکستان میں اس کی سزا ، سزائے موت کی صورت میں بھی نکل سکتی ہے۔ پاکستان اور برطانیا کے درمیان ماضی میں ہونے والی ایک مشترکہ جوڈیشل عدالتی ورکشاپ مجرمان کی حوالگی پر محض سزائے موت کے متصادم قوانین کے باعث دونوں ممالک میں بے نتیجہ ثابت ہوچکی ہے۔ اب کون سی جادوئی چھڑی استعمال کی جاسکے گی؟ جنرل راحیل شریف کے لئے شکریہ راحیل شریف کی مہم پاکستان میں ہے برطانیا میں نہیں۔

اس پورے تناظر میں قانونی ماہرین کی یہ رائے کہ اس مقدمے کا تمام تر فائدہ بآلاخر ملزمان کو پہنچے گا، کوئی غلط رائے معلوم نہیں ہوتی۔مگر اس مقدمے کا سیاسی استعمال یا سیاسی ہدف ضرور کسی وقتی فائدے پر منتج ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں یہ امر پیش نظر رہے کہ مقتدر حلقوں میں ایم کیو ایم کے ساتھ تمام تر چپقلش کا بنیادی اور محوری نکتہ ’’مائنس ون ‘‘ فارمولا ہی ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکاکے ساتھ اکثر معاملات پر مفاہمت ہو چکی ہے، افغان طالبان وجود - بدھ 17 جولائی 2019

طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ شیر عباس ا ستانکزئی نے کہاہے کہ امریکا کے ساتھ اکثر معاملات پر مفاہمت ہو چکی ہے اور صرف دومعاملات باقی ہیں جس پر امید ہے جلد فیصلہ ہو جائیگا۔شیر عباس ا ستانکزئی کے مطابق مذاکرات کے ساتواں دور دوبارہ جلدی شروع ہوگا اور مجھے امیدہے کہ مستقل قریب میں باقی معاملات پر بھی مفاہمت ہو جائیگی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ جن دو معاملات پر ابھی تک اتفاق نہیں ہوا وہ کیا ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ غیر ملکی افواج کا نظام الاوقات طے کر نا اور افغانستان کو مستقبل میں...

امریکاکے ساتھ اکثر معاملات پر مفاہمت ہو چکی ہے، افغان طالبان

جرمن حکومت کا فیس بک کی کرنسی پر تشویش،انسدادپر غور شروع کر دیا وجود - بدھ 17 جولائی 2019

جرمن حکومت اور مرکزی بینک نے فیس بک کی کرنسی لبرا کے متبادل کرنسی کے طور پر استعمال کے انسداد پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ جرمن حکومت کے حوالے سے یہ رپورٹ جرمن اخبار نے جاری کی۔ اخبار کے مطابق وزارت خزانہ نے لبرا ڈیجیٹل کرنسی کے متعارف کرانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ جرمن وزارت خزانہ نے اخباری رپورٹ پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ فیس بک کے سربراہ مارک زوکربرگ نے رواں برس جون میں لبرا کرنسی کو متعارف کرایا تھا۔

جرمن حکومت کا فیس بک کی کرنسی پر تشویش،انسدادپر غور شروع کر دیا

ایران میں ایرانی نژاد فرانسیسی خاتون اسکالر گرفتار،حکومت کی تصدیق وجود - بدھ 17 جولائی 2019

ایرانی حکومت نے ایک ایرانی نژاد فرانسیسی خاتون اسکالر فاریبہ عادل خواہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ تہران حکومت نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے مزید تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت انصاف کے ترجمان نے بتایاکہ عدالتی کارروائی شروع ہونے کے ساتھ ساتھ مزید معلومات عام کی جائیں گی۔ ساٹھ سالہ خاتون اسکالر انتھروپولوجسٹ یا ماہر بشریات ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے ان کی گرفتاری پر تشویش ظاہر کی ہے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے فاریبہ عادل خواہ کی گرفتاری کے ...

ایران میں ایرانی نژاد فرانسیسی خاتون اسکالر گرفتار،حکومت کی تصدیق

آئی ایم ایف کی سربراہ عہدے سے مستعفی، اپنا استعفیٰ جمع کرادیا وجود - بدھ 17 جولائی 2019

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹین لیگارڈ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے بطور منیجنگ ڈائریکٹر استعفیٰ جمع کرادیا۔غیرملکی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کرسٹین لیگارڈ نے بتایا یورپین سینٹرل بینک کی صدارت کے لیے نامزدگی کے ساتھ ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گی۔ان کا کہنا تھا ان کا استعفیٰ 12 ستمبر سے فعال ہوگا۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ کرسٹین لیگارڈ کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی آئی ایم ایف بورڈ ان کے متبادل امیدوار کے بارے میں سوچے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یورپین سینٹر ...

آئی ایم ایف کی سربراہ عہدے سے مستعفی، اپنا استعفیٰ جمع کرادیا

امریکا کی طرف سے سیاسی پناہ پر پابندیاں، اقوام متحدہ کو شدید تحفظات وجود - بدھ 17 جولائی 2019

اقوام متحدہ کی مہاجرین سے متعلق ایجنسی نے امریکا کی طرف سے سیاسی پناہ پر پابندیوں کے اعلان پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یو این ایچ سی آرنے ایک بیان میں کہاکہ اس فیصلے سے خطرات کے شکار افراد مزید غیر محفوظ ہو جائیں گے۔ اس ایجنسی کی طرف سے یہ بیان ٹرمپ انتظامیہ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ میکسیکو سرحد سے آنے والے زیادہ تر افراد کو سیاسی پناہ دینے کا سلسلہ ترک کر دے گی۔ امریکا میں یہ ضابطہ شروع ہوچکا ہے جس کی وجہ س...

امریکا کی طرف سے سیاسی پناہ پر پابندیاں، اقوام متحدہ کو شدید تحفظات

اسپین سے برطانیا جانیوالی خاتون کو قابل اعتراض لباس پر طیارے سے نکال دیا گیا وجود - پیر 01 جولائی 2019

اسپین سے برطانیہ جانے کی خواہشمند ایک خاتون کوقابل اعتراض لباس پہننے پر پرواز سے نکال دیا گیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق31سالہ ہیریٹ اوسبورن اسپین کے شہر مالاگا سے لندن کا سفر کررہی تھیں اور ان کے لباس پر مسافروں کے اعتراضات کے بعد فضائی عملے نے لباس بدلنے کو کہا۔برطانیا کی سب سے بڑی بجٹ ائیرلائن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خاتون نے ایسا لباس پہن رکھا تھا جس سے جسم ظاہر ہورہا تھا اور مسافروں کے اعتراض کے بعد ہیریٹ کو اضافی قمیض پہننے کے لیے دی گئی۔ایزی جیٹ کے ترجمان کے مطابق ہم...

اسپین سے برطانیا جانیوالی خاتون کو قابل اعتراض لباس پر طیارے سے نکال دیا گیا

امن معاہدے کے باوجود افغانستان میں سیکورٹی خطرات رہیں گے،امریکا وجود - پیر 01 جولائی 2019

امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل برائے افغانستان ری کنسٹرکشن (سگار) جان اسپوکو نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان مفاہمتی سمجھوتاہونے کے باوجود افغانستان شدت پسند تنظیموں سے نبرد آزما رہے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سگار کو امریکی کانگریس کی جانب سے 18 سال سے جاری جنگ کی نگرانی اور جنگ زدہ ملک میں امن و استحکام کی بحالی کے حوالے سے سہ ماہی رپورٹس جمع کروانے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔چنانچہ اپنی رپورٹ میں سگار نے بتایا کہ امن سمجھوتے کے ساتھ اور اس کے بغیر بھی ممکنہ طور پر افغان...

امن معاہدے کے باوجود افغانستان میں سیکورٹی خطرات رہیں گے،امریکا

امریکی مندوبین پہلی بار سرکاری سطح پر یہودی آبادکاری کی تقریب میں شریک وجود - پیر 01 جولائی 2019

امریکی حکومت کی طرف سے فلسطین میں یہودی آباد کاری کی خاموش حمایت کے بعد اب اعلانیہ اور کھلے عام حمایت اور مدد کی جانے لگی ہے۔اخباری اطلاعات کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی توسیع پسندی کے لیے سرگرم تنظیم العادکی جانب سے ایک سرنگ کی کھدائی کی افتتاحی تقریب میں اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈ مین اور مشرق وسطی کے لیے امریکا کے امن مندوب جیسن گرین بیلٹ نے بھی شرکت کی۔خیال رہے کہ العادنامی یہودی تنظیم بیت المقدس کو یہودیانے کیلیے سرگرم عمل ہے۔امریکی مندوبین کی فلسطین...

امریکی مندوبین پہلی بار سرکاری سطح پر یہودی آبادکاری کی تقریب میں شریک

ٹرمپ کی ہلاک باپ، بیٹی کی تصویر پر گولف کھیلنے کی ڈرائنگ وائرل وجود - پیر 01 جولائی 2019

گزشتہ ماہ 26 جون کو امریکا اور میکسیکو کے بارڈر پر امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران دریائے ریو گرینڈے میں پانی کی لہروں میں چل بسنے والے ایل سلواڈور کے مہاجر باپ اور بیٹی کی موت کی تصاویر نے دنیا کو جھنجوڑ دیا تھا۔پانی کی لہروں میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے ایل سلواڈور کے 25 سالہ آسکر البرٹو اور ان کی 2 سالہ بیٹی کی پانی میں تیرتی لاش کی تصاویر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں غم کی لہر چھاگئی تھی اور لوگوں نے ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرنا شروع کردی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا ا...

ٹرمپ کی  ہلاک باپ، بیٹی کی تصویر پر گولف کھیلنے کی ڈرائنگ وائرل

افغان دارالحکومت کابل میں دھماکا، 53افراد زخمی، ہلاکتوں کا خطرہ وجود - پیر 01 جولائی 2019

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 53افراد زخمی ہو گئے، دھماکے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر زخمیوں کی اطلاع کے باعث ہلاکتوں کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی سفارت خانے کے اطراف میں واقع گنجان آباد علاقہ طاقتور دھماکے سے گونج اٹھا، جس کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق دھماکا کابل کے علاقے پی ڈی 16 میں کیا گیا، جس میں 2 حملہ آوروں نے...

افغان دارالحکومت کابل میں دھماکا، 53افراد زخمی، ہلاکتوں کا خطرہ

دوسری جنگ عظیم میں فتح کا 75 واں جشن صدر ٹرمپ کو روس آنے کی دعوت وجود - اتوار 30 جون 2019

روس نے امریکی صدر کو دوسری جنگ عظیم میں فتح کے 75 ویں جشن کے موقع پر 09 مئی 2020 کو روس آنے کی دعوت دیدی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کریملن کے مشیر یوری اوشاکوو نے بتایا کہ ہم نے امریکی صدر کو دوسری جنگ عظیم میں فتح کے 75 ویں جشن کے موقع پر 09 مئی 2020 کو روس آنے کی دعوت دی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی تاحال مدت صدارت میں روس کے ساتھ ان کے تعلقات کے بارے میں شہبات حاوی چلے آ رہے ہیں۔رابرٹ ملر کی نگرانی میں ہونے والی تحقیقات ابھی تک کسی ایسی دوٹوک دلیل تک نہیں پہنچی جس سے یہ بات ثابت ہ...

دوسری جنگ عظیم میں فتح کا 75 واں جشن صدر ٹرمپ کو روس آنے کی دعوت

ہمارے انتخابات میں دخل نہ دیجیے گا،ٹرمپ کا پوٹن کے ساتھ مذاق وجود - هفته 29 جون 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے جی ٹوئنٹی سمٹ کی سائیڈ لائنز پر باہمی مذاکرات کرتے ہوئے ان سے پیش آئند امریکی انتخابات میں مداخلت نہ کرنے کا مطالبہ کیاہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کا اظہار تفنن ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب کانگرس 2016 کے امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم چلانے والی ٹیم اور روس کے درمیان جوڑ توڑ کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔کیمروں کے فلیش کی چکا چوند میں صدر ٹرمپ اپنے روسی ہم منصب سے از راہ تفنن یہ کہتے ہوئے مخاطب ہوئے ...

ہمارے انتخابات میں دخل نہ دیجیے گا،ٹرمپ کا پوٹن کے ساتھ مذاق