وجود

... loading ...

وجود

عمران فاروق قتل کا مقدمہ ایف آئی اے نے درج کر لیا! مقاصد کیا ہیں؟

هفته 05 دسمبر 2015 عمران فاروق قتل کا مقدمہ ایف آئی اے نے درج کر لیا! مقاصد کیا ہیں؟

imran-farooq

عمران فاروق کے قتل کے تقریباً پانچ برس بعد اور کراچی میں بلدیاتی انتخابات سے صرف ایک روز قبل حکومت پاکستان اور وزارت داخلہ نے بآلاخر ایک مقدمے کا اندراج کر لیا ہے۔ اس مقدمے کی مدعی خود حکومت پاکستان بنی ہے، جبکہ مقدمہ اسلام آباد میں ایف آئی اے کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے نے تاحال مقدمے کے مندرجات یا نقل جاری نہیں کی ۔ تاہم اس کے متعلق یقینی طور پر سامنے آنے والی معلومات کے مطابق مقدمہ قتل ، دہشت گردی اور اعانتِ جرم کی دفعات کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ مقدمے میں یقینی طور پر تین ملزمان محسن علی، معظم علی اور خالد شمیم کو نامزد کیا گیا ہے۔ مگر اس امر کی وضاحت نہیں کی جارہی ہے کہ مقدمے میں مزید کتنے افراد کے نام شامل کئے گیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مقدمے میں متحدہ قومی موومنٹ کے کچھ اہم رہنماؤں کے نام بھی شامل کئے گیے ہیں ، مگر اُن ناموں کو اس مرحلے پر افشا ء کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔

مقدمہ کن حالات میں درج ہوا؟

1۔ عمران فاروق کے قتل کامقدمہ عجیب وغریب حالات اور متضاد قسم کی صورتِ حال میں درج کیا گیا ہے۔عمران فاروق کو پانچ سال قبل 16؍ ستمبر 2010ء کو لندن میں اُن کے گھر کے قریب قتل کر دیا گیا تھا ۔ پاکستان نے اس پورے عرصے میں ملزمان کی گرفتاری سے لے کر اب تک اپنی تمام اُمیدیں برطانوی حکومت سے وابستہ کی تھیں۔ اس حوالے سے پاکستان میں برطانوی قانون ، اسکاٹ لینڈ یارڈ اور برطانوی نظام انصاف کے حوالے سے مبالغہ آمیز داستانیں اور انصاف پرور رومانوی کہانیاں بیان کی جاتی رہیں، مگر پاکستان میں گرفتار ملزمان کی حوالگی کے طریقہ کار اور اس ضمن میں برطانیا کی جانب سے کسی ٹھوس یقین دہانی سے گریز نے پاکستان کو ملزمان کی یکطرفہ حوالگی سے دور رکھا۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے افسران اپنی تمام تحقیقات اور تفتیش کو پاکستان آکر مکمل کر چکے اور اطلاعات کے مطابق برطانیا کے پاس موجود قتل کے تمام ثبوت اور فارنسک شواہد ملزمان سے دورانِ تفتیش موافق نکل آئے، مگر پھر بھی برطانیا نے ملزمان کی حوالگی کے سرکاری اقدامات اُٹھانے سے گریز کیا۔ پاکستان اس دوران میں ملزمان کی حوالگی کے مطالبے کے لئے برطانیا کی جانب سے سرکاری مطالبے کے انتظار میں ہی رہا ، یہاں تک کہ پہلے سے موجود ریمانڈ پر موجو د تین ملزمان محسن علی ، معظم علی اور خالد شمیم کو اواخر ستمبر میں ایک بار پھر ریمانڈ پر رینجرز کے حوالے کیا گیا ۔ مگر اس دوران میں دوماہ مزید گزرنے کے باوجود برطانیا کی طرف سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی۔ یہ بات ابھی تک پردۂ راز میں ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں برطانیا سے اعلیٰ ترین سرکاری اور فوجی رابطوں کے باوجود یہ معاملہ کیوں اٹکا رہا؟ غیر ملکی دوروں سے اجتناب کرنے والے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار اس ضمن میں خود برطانیا جاکر سرکاری سطح پر ’’بات چیت‘‘ بھی کرتے رہے ہیں، مگر اس معاملے میں ایسا کیا ہوا ہے کہ پاکستان کو اپنے خاکے کے برعکس عمران فاروق کامقدمہ قتل پاکستان میں درج کرنا پڑا۔ یہ اس معاملے کا ایک پہلو ہے۔

Chaudhry-Nisar

2۔ مقدمہ درج کرنے کے حالات کا دوسرا پہلو بھی عجیب وغریب ہے۔ تقریباً پانچ سال قبل برطانیا میں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل پر پاکستانی حکام پورے پانچ سال تک لامحدود صبر کرکے خاموش بیٹھے رہے، مگر ایسا کیا ہواکہ پانچ سال تک انتظار کرنے والے حکام اچانک اتنی عجلت میں دکھائی دیئے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کا مقدمہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات سے صرف ایک روز قبل درج کرنے پر مجبور ہوگئے۔ کیا اس کے لئے دوچار دن مزید انتظار نہیں کیا جاسکتا تھا؟

3۔ عمران فاروق قتل کے مقدمے کے اندراج کے حالات میں ایک اور پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ وفاقی اور سندھ حکومت پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ الزام ہے کہ وہ کراچی میں دہشت گردی اور قتل وغارت گری کے خلاف جاری آپریشن میں مسلسل عدم دلچسپی اور سیاسی ارادے میں کمی کی شکار ہیں۔ پھر ایسا کیا ہے کہ ایک طرف وفاقی حکومت کراچی آپریشن کی تو سیاسی سرپرستی سے فاصلے پیدا کررہی ہیں مگر الطاف حسین کے معاملے میں حد سے زیادہ دلچسپی لے کر خود مقدمہ قائم کرنے کی عزیمت دکھا رہی ہے۔ یہ پہلو مزید پراسرار تب زیادہ لگتا ہے کہ یہی مرکزی اور وفاقی حکومت متحدہ کے اسمبلیوں سے استعفوں کے بعد اُنہیں پارلیمنٹ میں سمجھا بجھا کر اور رام کرکے واپس لائی۔ اُن کے لئے کراچی آپریشن میں ازالہ شکایت کمیٹی کے قیام کا اعلان کرکے پارلیمنٹ واپسی کا ایک محفوظ راستہ دیا۔ مگر اُسی حکومت کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اچانک یہ اعلان کیا کہ عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ اب پاکستان میں چلایا جائے گا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ معمولی سے معمولی مسئلے کو بھی متحدہ قومی موومنٹ اپنے ردِعمل کے نشانے پر رکھ لیتی ہے ، مگر الطاف حسین کے خلاف عمران فاروق کے قتل کے مقدمے کو پاکستان میں چلانے کے اعلان پر متحدہ قومی موومنٹ نے مکمل خاموشی اختیار کئے رکھی۔ کیا دور کی کوڑی لانے والے حالیہ دنوں میں ایس جی ایس کوٹیکنا کے مقدمات میں استغاثے کی جانب سے اصل دستاویزات پیش نہ کرکے آصف علی زرداری کو مقدمات سے نجات دلانے کی جو مثال اس ضمن میں پیش کرتے ہیں ، وہ یہاں بھی موثر طور پر متعلق ہے۔ یا پھر یہ ایک بالکل برعکس معاملہ ہے جس کے تحت متحدہ کو مسائل سے نکالنے اور اُس کی قیادت کو مزید مسائل میں جکڑنے سے اُس کلیے پر عمل درآمد کی راہ نکالی جائی جو ’’مائنس ون ‘‘ کی شکل میں مقتدر قوتوں کا دیرینہ منصوبہ بن کر سامنے آتا رہتا ہے۔

مقدمہ چلانے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

ایف آئی اے کی جانب سے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ تو درج کر لیا گیا ہے۔ مگر اس ضمن میں یہ وضاحت ابھی تک نہیں ہو سکی کہ اس مقدمے پر مزید پیش رفت کیسے ہو گی؟ اور اِسے چلانے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ یہ امر واضح نہیں ہے کہ پاکستان نے برطانوی حکام کی جانب سے مایوس ہو کر مقدمہ خود اندراج کرنے کا یکطرفہ فیصلہ کیا یا اس میں برطانوی حکام کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔

لطف کی بات یہ ہے کہ معمولی سے معمولی مسئلے کو بھی متحدہ قومی موومنٹ اپنے ردِعمل کے نشانے پر رکھ لیتی ہے ، مگرالطاف حسین کے خلاف عمران فاروق کے قتل کے مقدمے کو پاکستان میں چلانے کے اعلان پر متحدہ قومی موومنٹ نے مکمل خاموشی اختیار کئے رکھی۔

اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے کے پاس ابھی تک اس ضمن میں کوئی واضح لائحہ عمل نہیں ہے کہ وہ مقدمے کی تفتیش کے سلسلے کو برطانیا میں کس طرح وسعت دیں گے۔کیونکہ قتل بنیادی طور پر لندن میں ہوا ہے او رتمام شواہد اوراکثر گواہیاں بھی لندن میں ہی موجود ہیں۔ اب پاکستان کو اپنے ملک میں مقدمہ چلانے کے لئے کیا برطانیا کی مدد بھی اُسی طرح میسر آسکے گی جس طرح پاکستان نے برطانیا کو مہیا کی تھی۔ ڈی جی ایف آئی اکبر خان ہوتی کے پاس ابھی تو بس کہنے کے لئے اتنا ہی ہے کہ ایف آئی اے زیرحراست افراد سے تفتیش کرے گی اور برطانیا میں موجود ملزمان سے تفتیش کی ضرورت پڑی تو حکومت پاکستان کے ذریعے برطانیا سے مدد طلب کی جائے گی۔

ثبوت وشواہد کا مسئلہ

scotland-yard

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ برطانیا میں ہوا ہے۔ اب اگر مقتول برطانیا میں ہو اور قاتل اورملزمان دوممالک میں ہو تو پھر اس مسئلے سے ثبوت وشواہد کی اکٹھ میں کیسے نمٹا جائے گا،یہ واضح نہیں ۔ڈاکٹر عمران فاروق قتل کی تفتیش میں جو نکات بھی مرتب ہوتے ہیں، تمام کے تمام لندن سے متعلق ہیں۔مثلاً

  • ڈاکٹر عمران فاروق کا قتل لند ن میں ہوا۔
  • اس قتل کے عینی شاہدین سے لے کر متعلقہ جتنے بھی لوگ ہو سکتے ہیں ، سب کے بیانات لندن پولیس نے لئے۔
  • سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج جس میں ملزمان جائے واردات سے فرار ہوتے ہیں، اسکاٹ لینڈ یارڈ کے پاس محفوظ ہے۔
  • آلۂ قتل یعنی وہ اینٹ جو ضربیں لگانے کے لئے استعمال کی گئی، وہ اور اس پر موجود فنگر پرنٹس برطانیا کے پاس محفوظ ہے۔
  • ٹیلی فون کی وہ ریکارڈنگ جو پاکستان میں بھی ملزمان کی گرفتاری کے لئے کارآمد ثابت ہوئی، وہ بھی برطانیا کے پاس محفوظ ہے۔
  • مقدمہ قتل کے حوالے سے تمام فرانزک شواہد برطانیا کے پاس محفوظ ہیں، جن میں خون کے نمونے، فنگر پرنٹس اور جائے واردات سے اکٹھی کی گئی دیگر شہادتیں بھی شامل ہیں۔

اگر برطانیا اس سب کے ہوتے ہوئے پاکستان سے ملزمان کا مطالبہ نہیں کر رہا ،تو پھر اس کا مطلب یہ ہو ا کہ برطانیا ،پاکستان کے لئے اُس کی تفتیش میں کوئی خاص تعاون کرنے کے لئے مشکل سے ہی آمادہ ہوگا۔ اس حوالے سے برطانیا مستقبل میں کیا طرزِ عمل اختیار کرے گا اس کی کوئی ٹھوس یقین دہانی یا پھر کوئی قابل اعتبار اور قابلِ انحصار انداز ا یا تجزیہ کسی بھی سطح پر موجود نہیں ہے۔ کم ازکم ڈی جی ایف آئی اے اور وفاقی وزیر داخلہ کی اب تک سامنے آنے والی کسی بھی گفتگو میں اس کی جھلک نہیں دکھا ئی دیتی۔

مقدمے سے وابستہ قانونی نوعیت کے خدشات

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کا مقدمہ پاکستان میں چلانے کے لئے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ چار کی رہنمائی موجود ہے جس کے تحت کسی بھی پاکستانی شہری کے خلاف قانون کو حرکت میں لانے کے لئے ملکی سرحدوں کی کوئی بندش نہیں ، مگر متوازی طور پر اس مقدمے کے ساتھ ایک پیچیدگی یہ لاحق ہے کہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 13 اورسی آر پی سی (کوڈ آف کرمنل پروسیجر) کی دفعہ 403کسی ایک مقدمے کے لئے استغاثہ کی دُہری کارروائی (پراسیکیوشن) کو روکتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 19؍ دسمبر 1966ء انٹرنیشنل کنونشن آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس کو منظور کیا تھا ۔ جس پر پاکستان نے ایک لمبے وقفے کے بعد ابھی 3؍ نومبر 2004ء کو جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور ِ اقتدار میں نامعلوم وجوہ کی بناء پر دستخط کر دیئے تھے۔ اس کے تحت بھی کسی بھی شہری کو ایک ہی مقدمے میں دو مرتبہ جانچ (ٹرائل) سے نہیں گزارا جاسکتا۔ کوئی سادہ سے سادہ آدمی بھی اندازا لگا سکتا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے مقدمے میں ہونے والی ہر پیش رفت دراصل ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو مرکز و محور بنا کر کی جارہی ہے، تو پھر پاکستان میں اندارجِ مقدمہ سے ایک شہری کے دُہرے استغاثے اور جانچ کے ملکی و غیر ملکی قوانین سے کس طرح عہدہ برآں ہو اجا سکے گا؟ یہ اس معاملے کا سب سے نازک پہلو ہے۔

imran-farooq-altaf-hussain

اس معاملے کا دوسرا پہلو بھی الطاف حسین سے جڑا ہے جنہیں برطانیا اور پاکستان کے متصادم قوانین اور اس کے مختلف نتائج کا فائدہ بھی پہنچ رہا ہے۔ برطانیا کسی بھی طرح الطاف حسین کی پاکستان حوالگی کا پابند نہیں۔ جبکہ الطاف حسین کا برطانوی شہری کے طور پر دُہرے مقدمے میں کارروائی کے لئے برطانیا سے اپنے شہری حقوق کے مطالبے کی بھی گنجائش ہے۔ ایسی صورت میں جب برطانیا میں سزائے موت کا سرے سے کوئی قانون ہی نہیں اور پاکستان میں اس کی سزا ، سزائے موت کی صورت میں بھی نکل سکتی ہے۔ پاکستان اور برطانیا کے درمیان ماضی میں ہونے والی ایک مشترکہ جوڈیشل عدالتی ورکشاپ مجرمان کی حوالگی پر محض سزائے موت کے متصادم قوانین کے باعث دونوں ممالک میں بے نتیجہ ثابت ہوچکی ہے۔ اب کون سی جادوئی چھڑی استعمال کی جاسکے گی؟ جنرل راحیل شریف کے لئے شکریہ راحیل شریف کی مہم پاکستان میں ہے برطانیا میں نہیں۔

اس پورے تناظر میں قانونی ماہرین کی یہ رائے کہ اس مقدمے کا تمام تر فائدہ بآلاخر ملزمان کو پہنچے گا، کوئی غلط رائے معلوم نہیں ہوتی۔مگر اس مقدمے کا سیاسی استعمال یا سیاسی ہدف ضرور کسی وقتی فائدے پر منتج ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں یہ امر پیش نظر رہے کہ مقتدر حلقوں میں ایم کیو ایم کے ساتھ تمام تر چپقلش کا بنیادی اور محوری نکتہ ’’مائنس ون ‘‘ فارمولا ہی ہے۔


متعلقہ خبریں


قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل وجود - جمعه 12 جون 2026

اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ وجود - جمعه 12 جون 2026

صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری وجود - جمعرات 11 جون 2026

سزائے موت کا فیصلہ کالعدم، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں جس نے ملزمان کو آگ لگاتے دیکھا ہو،وکیل صفائی سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحما...

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

فریقین نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا سلامتی کونسل میں اجلاس سے خطاب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن، علاقائی استحکام ...

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں سروسز عوامی سہولت کیلئے جمعہ کو کھلی رہیں گی ملک بھر میں اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھا دییگئے،ہفتہ اتوار کھلے رہیں گے توانائی بچت مہم کے دور ان کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسح...

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

مضامین
بصارت سے آگے کا سفر وجود جمعه 12 جون 2026
بصارت سے آگے کا سفر

امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات وجود جمعه 12 جون 2026
امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات

ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟ وجود جمعه 12 جون 2026
ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟

آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

منی پور میں جھڑپیں وجود جمعرات 11 جون 2026
منی پور میں جھڑپیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر