وجود

... loading ...

وجود

عمران فاروق قتل کا مقدمہ ایف آئی اے نے درج کر لیا! مقاصد کیا ہیں؟

هفته 05 دسمبر 2015 عمران فاروق قتل کا مقدمہ ایف آئی اے نے درج کر لیا! مقاصد کیا ہیں؟

imran-farooq

عمران فاروق کے قتل کے تقریباً پانچ برس بعد اور کراچی میں بلدیاتی انتخابات سے صرف ایک روز قبل حکومت پاکستان اور وزارت داخلہ نے بآلاخر ایک مقدمے کا اندراج کر لیا ہے۔ اس مقدمے کی مدعی خود حکومت پاکستان بنی ہے، جبکہ مقدمہ اسلام آباد میں ایف آئی اے کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے نے تاحال مقدمے کے مندرجات یا نقل جاری نہیں کی ۔ تاہم اس کے متعلق یقینی طور پر سامنے آنے والی معلومات کے مطابق مقدمہ قتل ، دہشت گردی اور اعانتِ جرم کی دفعات کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ مقدمے میں یقینی طور پر تین ملزمان محسن علی، معظم علی اور خالد شمیم کو نامزد کیا گیا ہے۔ مگر اس امر کی وضاحت نہیں کی جارہی ہے کہ مقدمے میں مزید کتنے افراد کے نام شامل کئے گیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مقدمے میں متحدہ قومی موومنٹ کے کچھ اہم رہنماؤں کے نام بھی شامل کئے گیے ہیں ، مگر اُن ناموں کو اس مرحلے پر افشا ء کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔

مقدمہ کن حالات میں درج ہوا؟

1۔ عمران فاروق کے قتل کامقدمہ عجیب وغریب حالات اور متضاد قسم کی صورتِ حال میں درج کیا گیا ہے۔عمران فاروق کو پانچ سال قبل 16؍ ستمبر 2010ء کو لندن میں اُن کے گھر کے قریب قتل کر دیا گیا تھا ۔ پاکستان نے اس پورے عرصے میں ملزمان کی گرفتاری سے لے کر اب تک اپنی تمام اُمیدیں برطانوی حکومت سے وابستہ کی تھیں۔ اس حوالے سے پاکستان میں برطانوی قانون ، اسکاٹ لینڈ یارڈ اور برطانوی نظام انصاف کے حوالے سے مبالغہ آمیز داستانیں اور انصاف پرور رومانوی کہانیاں بیان کی جاتی رہیں، مگر پاکستان میں گرفتار ملزمان کی حوالگی کے طریقہ کار اور اس ضمن میں برطانیا کی جانب سے کسی ٹھوس یقین دہانی سے گریز نے پاکستان کو ملزمان کی یکطرفہ حوالگی سے دور رکھا۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے افسران اپنی تمام تحقیقات اور تفتیش کو پاکستان آکر مکمل کر چکے اور اطلاعات کے مطابق برطانیا کے پاس موجود قتل کے تمام ثبوت اور فارنسک شواہد ملزمان سے دورانِ تفتیش موافق نکل آئے، مگر پھر بھی برطانیا نے ملزمان کی حوالگی کے سرکاری اقدامات اُٹھانے سے گریز کیا۔ پاکستان اس دوران میں ملزمان کی حوالگی کے مطالبے کے لئے برطانیا کی جانب سے سرکاری مطالبے کے انتظار میں ہی رہا ، یہاں تک کہ پہلے سے موجود ریمانڈ پر موجو د تین ملزمان محسن علی ، معظم علی اور خالد شمیم کو اواخر ستمبر میں ایک بار پھر ریمانڈ پر رینجرز کے حوالے کیا گیا ۔ مگر اس دوران میں دوماہ مزید گزرنے کے باوجود برطانیا کی طرف سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی۔ یہ بات ابھی تک پردۂ راز میں ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں برطانیا سے اعلیٰ ترین سرکاری اور فوجی رابطوں کے باوجود یہ معاملہ کیوں اٹکا رہا؟ غیر ملکی دوروں سے اجتناب کرنے والے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار اس ضمن میں خود برطانیا جاکر سرکاری سطح پر ’’بات چیت‘‘ بھی کرتے رہے ہیں، مگر اس معاملے میں ایسا کیا ہوا ہے کہ پاکستان کو اپنے خاکے کے برعکس عمران فاروق کامقدمہ قتل پاکستان میں درج کرنا پڑا۔ یہ اس معاملے کا ایک پہلو ہے۔

Chaudhry-Nisar

2۔ مقدمہ درج کرنے کے حالات کا دوسرا پہلو بھی عجیب وغریب ہے۔ تقریباً پانچ سال قبل برطانیا میں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل پر پاکستانی حکام پورے پانچ سال تک لامحدود صبر کرکے خاموش بیٹھے رہے، مگر ایسا کیا ہواکہ پانچ سال تک انتظار کرنے والے حکام اچانک اتنی عجلت میں دکھائی دیئے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کا مقدمہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات سے صرف ایک روز قبل درج کرنے پر مجبور ہوگئے۔ کیا اس کے لئے دوچار دن مزید انتظار نہیں کیا جاسکتا تھا؟

3۔ عمران فاروق قتل کے مقدمے کے اندراج کے حالات میں ایک اور پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ وفاقی اور سندھ حکومت پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ الزام ہے کہ وہ کراچی میں دہشت گردی اور قتل وغارت گری کے خلاف جاری آپریشن میں مسلسل عدم دلچسپی اور سیاسی ارادے میں کمی کی شکار ہیں۔ پھر ایسا کیا ہے کہ ایک طرف وفاقی حکومت کراچی آپریشن کی تو سیاسی سرپرستی سے فاصلے پیدا کررہی ہیں مگر الطاف حسین کے معاملے میں حد سے زیادہ دلچسپی لے کر خود مقدمہ قائم کرنے کی عزیمت دکھا رہی ہے۔ یہ پہلو مزید پراسرار تب زیادہ لگتا ہے کہ یہی مرکزی اور وفاقی حکومت متحدہ کے اسمبلیوں سے استعفوں کے بعد اُنہیں پارلیمنٹ میں سمجھا بجھا کر اور رام کرکے واپس لائی۔ اُن کے لئے کراچی آپریشن میں ازالہ شکایت کمیٹی کے قیام کا اعلان کرکے پارلیمنٹ واپسی کا ایک محفوظ راستہ دیا۔ مگر اُسی حکومت کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اچانک یہ اعلان کیا کہ عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ اب پاکستان میں چلایا جائے گا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ معمولی سے معمولی مسئلے کو بھی متحدہ قومی موومنٹ اپنے ردِعمل کے نشانے پر رکھ لیتی ہے ، مگر الطاف حسین کے خلاف عمران فاروق کے قتل کے مقدمے کو پاکستان میں چلانے کے اعلان پر متحدہ قومی موومنٹ نے مکمل خاموشی اختیار کئے رکھی۔ کیا دور کی کوڑی لانے والے حالیہ دنوں میں ایس جی ایس کوٹیکنا کے مقدمات میں استغاثے کی جانب سے اصل دستاویزات پیش نہ کرکے آصف علی زرداری کو مقدمات سے نجات دلانے کی جو مثال اس ضمن میں پیش کرتے ہیں ، وہ یہاں بھی موثر طور پر متعلق ہے۔ یا پھر یہ ایک بالکل برعکس معاملہ ہے جس کے تحت متحدہ کو مسائل سے نکالنے اور اُس کی قیادت کو مزید مسائل میں جکڑنے سے اُس کلیے پر عمل درآمد کی راہ نکالی جائی جو ’’مائنس ون ‘‘ کی شکل میں مقتدر قوتوں کا دیرینہ منصوبہ بن کر سامنے آتا رہتا ہے۔

مقدمہ چلانے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

ایف آئی اے کی جانب سے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ تو درج کر لیا گیا ہے۔ مگر اس ضمن میں یہ وضاحت ابھی تک نہیں ہو سکی کہ اس مقدمے پر مزید پیش رفت کیسے ہو گی؟ اور اِسے چلانے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ یہ امر واضح نہیں ہے کہ پاکستان نے برطانوی حکام کی جانب سے مایوس ہو کر مقدمہ خود اندراج کرنے کا یکطرفہ فیصلہ کیا یا اس میں برطانوی حکام کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔

لطف کی بات یہ ہے کہ معمولی سے معمولی مسئلے کو بھی متحدہ قومی موومنٹ اپنے ردِعمل کے نشانے پر رکھ لیتی ہے ، مگرالطاف حسین کے خلاف عمران فاروق کے قتل کے مقدمے کو پاکستان میں چلانے کے اعلان پر متحدہ قومی موومنٹ نے مکمل خاموشی اختیار کئے رکھی۔

اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے کے پاس ابھی تک اس ضمن میں کوئی واضح لائحہ عمل نہیں ہے کہ وہ مقدمے کی تفتیش کے سلسلے کو برطانیا میں کس طرح وسعت دیں گے۔کیونکہ قتل بنیادی طور پر لندن میں ہوا ہے او رتمام شواہد اوراکثر گواہیاں بھی لندن میں ہی موجود ہیں۔ اب پاکستان کو اپنے ملک میں مقدمہ چلانے کے لئے کیا برطانیا کی مدد بھی اُسی طرح میسر آسکے گی جس طرح پاکستان نے برطانیا کو مہیا کی تھی۔ ڈی جی ایف آئی اکبر خان ہوتی کے پاس ابھی تو بس کہنے کے لئے اتنا ہی ہے کہ ایف آئی اے زیرحراست افراد سے تفتیش کرے گی اور برطانیا میں موجود ملزمان سے تفتیش کی ضرورت پڑی تو حکومت پاکستان کے ذریعے برطانیا سے مدد طلب کی جائے گی۔

ثبوت وشواہد کا مسئلہ

scotland-yard

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ برطانیا میں ہوا ہے۔ اب اگر مقتول برطانیا میں ہو اور قاتل اورملزمان دوممالک میں ہو تو پھر اس مسئلے سے ثبوت وشواہد کی اکٹھ میں کیسے نمٹا جائے گا،یہ واضح نہیں ۔ڈاکٹر عمران فاروق قتل کی تفتیش میں جو نکات بھی مرتب ہوتے ہیں، تمام کے تمام لندن سے متعلق ہیں۔مثلاً

  • ڈاکٹر عمران فاروق کا قتل لند ن میں ہوا۔
  • اس قتل کے عینی شاہدین سے لے کر متعلقہ جتنے بھی لوگ ہو سکتے ہیں ، سب کے بیانات لندن پولیس نے لئے۔
  • سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج جس میں ملزمان جائے واردات سے فرار ہوتے ہیں، اسکاٹ لینڈ یارڈ کے پاس محفوظ ہے۔
  • آلۂ قتل یعنی وہ اینٹ جو ضربیں لگانے کے لئے استعمال کی گئی، وہ اور اس پر موجود فنگر پرنٹس برطانیا کے پاس محفوظ ہے۔
  • ٹیلی فون کی وہ ریکارڈنگ جو پاکستان میں بھی ملزمان کی گرفتاری کے لئے کارآمد ثابت ہوئی، وہ بھی برطانیا کے پاس محفوظ ہے۔
  • مقدمہ قتل کے حوالے سے تمام فرانزک شواہد برطانیا کے پاس محفوظ ہیں، جن میں خون کے نمونے، فنگر پرنٹس اور جائے واردات سے اکٹھی کی گئی دیگر شہادتیں بھی شامل ہیں۔

اگر برطانیا اس سب کے ہوتے ہوئے پاکستان سے ملزمان کا مطالبہ نہیں کر رہا ،تو پھر اس کا مطلب یہ ہو ا کہ برطانیا ،پاکستان کے لئے اُس کی تفتیش میں کوئی خاص تعاون کرنے کے لئے مشکل سے ہی آمادہ ہوگا۔ اس حوالے سے برطانیا مستقبل میں کیا طرزِ عمل اختیار کرے گا اس کی کوئی ٹھوس یقین دہانی یا پھر کوئی قابل اعتبار اور قابلِ انحصار انداز ا یا تجزیہ کسی بھی سطح پر موجود نہیں ہے۔ کم ازکم ڈی جی ایف آئی اے اور وفاقی وزیر داخلہ کی اب تک سامنے آنے والی کسی بھی گفتگو میں اس کی جھلک نہیں دکھا ئی دیتی۔

مقدمے سے وابستہ قانونی نوعیت کے خدشات

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کا مقدمہ پاکستان میں چلانے کے لئے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ چار کی رہنمائی موجود ہے جس کے تحت کسی بھی پاکستانی شہری کے خلاف قانون کو حرکت میں لانے کے لئے ملکی سرحدوں کی کوئی بندش نہیں ، مگر متوازی طور پر اس مقدمے کے ساتھ ایک پیچیدگی یہ لاحق ہے کہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 13 اورسی آر پی سی (کوڈ آف کرمنل پروسیجر) کی دفعہ 403کسی ایک مقدمے کے لئے استغاثہ کی دُہری کارروائی (پراسیکیوشن) کو روکتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 19؍ دسمبر 1966ء انٹرنیشنل کنونشن آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس کو منظور کیا تھا ۔ جس پر پاکستان نے ایک لمبے وقفے کے بعد ابھی 3؍ نومبر 2004ء کو جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور ِ اقتدار میں نامعلوم وجوہ کی بناء پر دستخط کر دیئے تھے۔ اس کے تحت بھی کسی بھی شہری کو ایک ہی مقدمے میں دو مرتبہ جانچ (ٹرائل) سے نہیں گزارا جاسکتا۔ کوئی سادہ سے سادہ آدمی بھی اندازا لگا سکتا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے مقدمے میں ہونے والی ہر پیش رفت دراصل ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو مرکز و محور بنا کر کی جارہی ہے، تو پھر پاکستان میں اندارجِ مقدمہ سے ایک شہری کے دُہرے استغاثے اور جانچ کے ملکی و غیر ملکی قوانین سے کس طرح عہدہ برآں ہو اجا سکے گا؟ یہ اس معاملے کا سب سے نازک پہلو ہے۔

imran-farooq-altaf-hussain

اس معاملے کا دوسرا پہلو بھی الطاف حسین سے جڑا ہے جنہیں برطانیا اور پاکستان کے متصادم قوانین اور اس کے مختلف نتائج کا فائدہ بھی پہنچ رہا ہے۔ برطانیا کسی بھی طرح الطاف حسین کی پاکستان حوالگی کا پابند نہیں۔ جبکہ الطاف حسین کا برطانوی شہری کے طور پر دُہرے مقدمے میں کارروائی کے لئے برطانیا سے اپنے شہری حقوق کے مطالبے کی بھی گنجائش ہے۔ ایسی صورت میں جب برطانیا میں سزائے موت کا سرے سے کوئی قانون ہی نہیں اور پاکستان میں اس کی سزا ، سزائے موت کی صورت میں بھی نکل سکتی ہے۔ پاکستان اور برطانیا کے درمیان ماضی میں ہونے والی ایک مشترکہ جوڈیشل عدالتی ورکشاپ مجرمان کی حوالگی پر محض سزائے موت کے متصادم قوانین کے باعث دونوں ممالک میں بے نتیجہ ثابت ہوچکی ہے۔ اب کون سی جادوئی چھڑی استعمال کی جاسکے گی؟ جنرل راحیل شریف کے لئے شکریہ راحیل شریف کی مہم پاکستان میں ہے برطانیا میں نہیں۔

اس پورے تناظر میں قانونی ماہرین کی یہ رائے کہ اس مقدمے کا تمام تر فائدہ بآلاخر ملزمان کو پہنچے گا، کوئی غلط رائے معلوم نہیں ہوتی۔مگر اس مقدمے کا سیاسی استعمال یا سیاسی ہدف ضرور کسی وقتی فائدے پر منتج ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں یہ امر پیش نظر رہے کہ مقتدر حلقوں میں ایم کیو ایم کے ساتھ تمام تر چپقلش کا بنیادی اور محوری نکتہ ’’مائنس ون ‘‘ فارمولا ہی ہے۔


متعلقہ خبریں


سعودی عرب کا یمنی بندرگاہ پر فضائی حملہ،متحدہ عرب امارات کا فوجی آپریشن بند،فوجی واپس بلانے کا اعلان وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

کارروائی یمن کے علیحدگی پسند گروہ کیلئے اسلحے کی کھیپ پہنچنے پر کی گئی،امارات کی جانب سے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت سعودی عرب کی قومی سلامتی کیلئے براہِ راست خطرہ ہے،سعودی حکام یمن میں انسداد دہشتگردی کیلئے جاری اپنے باقی ماندہ آپریشن فوری طور پر ختم کررہے ہیں، واپسیشراکت دار...

سعودی عرب کا یمنی بندرگاہ پر فضائی حملہ،متحدہ عرب امارات کا فوجی آپریشن بند،فوجی واپس بلانے کا اعلان

ایف بی آر اقدامات ، تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال،دھرنے کی دھمکی وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

پوائنٹ آف سیل کا کالا قانون واپس نہ لیا گیا تو 16 جنوری سے آغاز کرینگے، ملک بھر کے تمام چوراہے اور کشمیر ہائی وے کو بند کردیا جائے گا،وزیراعظم ہماری شکایات دور کریں، صدر آبپارہ چوک سے ایف بی آر دفتر تک احتجاجی ریلی،شرکاء کو پولیس کی بھاری نفری نے روک لیا، کرپشن کے خاتمہ کے ل...

ایف بی آر اقدامات ، تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال،دھرنے کی دھمکی

بااختیار بلدیاتی نظام کیلئے ملک گیر عوامی ریفرنڈم ہوگا،حافظ نعیم وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

ریفرنڈم کے بعد پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کیخلاف صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے پاکستان اپنی فوج حماس اور فلسطینیوں کے مقابل کھڑی نہ کرے، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں پندرہ جنوری کو ملک گ...

بااختیار بلدیاتی نظام کیلئے ملک گیر عوامی ریفرنڈم ہوگا،حافظ نعیم

یوٹیوبر رجب بٹ ، وکلا کی لڑائی ؛ سٹی کورٹ میں ہڑتال وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

مظاہرین کا ایم اے جناح روڈ پر دھرنا ، ایف آئی آر کو فوری واپس لینے کا مطالبہ جب تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں ہوتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا،احتجاجی وکلاء (رپورٹ:افتخار چوہدری)کراچی ایم اے جناح روڈ پر وکلاء کے احتجاج کے باعث شاہراہ کئی گھنٹوں سے بند ۔احتجاج یوٹیوبر رجب بٹ ک...

یوٹیوبر رجب بٹ ، وکلا کی لڑائی ؛ سٹی کورٹ میں ہڑتال

عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں کرینگے،سلمان اکرم راجا وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

محمود اچکزئی کا یہی موقف ہے بانی کیساتھ ملاقاتیں بحال کئے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے مذاکرات کیلئے بھیک کا لفظ غلط لفظ ہے،پی ٹی آئی اور اچکزئی ایجنڈے میں کوئی فرق نہیں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرسکتے تو مذاکرات کی ک...

عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں کرینگے،سلمان اکرم راجا

بی ایل اے بچوں کو ہتھیار بنانے لگا،کمسن بچی کو خود کش بمبار بنانے کی کوشش ناکام وجود - منگل 30 دسمبر 2025

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں،سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے بلوچ بچی بلوچستان سے ہے، اس کی مختلف لوگوں نے ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، رابطہ ...

بی ایل اے بچوں کو ہتھیار بنانے لگا،کمسن بچی کو خود کش بمبار بنانے کی کوشش ناکام

پنجاب حکومت اخلاقی اور ذہنی پستی کا شکار ہے، میرے دورے میں نفرت آمیز رویہ اختیار کیا، سہیل آفریدی کا مریم نواز کواحتجاجی خط وجود - منگل 30 دسمبر 2025

میرے کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی،اسے اسمگلنگ اور منشیات سے جوڑا گیا، یہ سب پنجاب حکومت کی زیر نگرانی ہوا، انتظامی حربے استعمال کرنے کا مقصد تضحیک کرنا تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب حکومت نے کابینہ ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا ،لاہورکے شہریوں کو تکلیف دی گئی، قومی یکجہت...

پنجاب حکومت اخلاقی اور ذہنی پستی کا شکار ہے، میرے دورے میں نفرت آمیز رویہ اختیار کیا، سہیل آفریدی کا مریم نواز کواحتجاجی خط

عمران اور بشریٰ نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا وجود - منگل 30 دسمبر 2025

اسلام آباد ہائیکورٹ نیبانی تحریک انصافعمران خان کی اپیل پر ڈائری نمبر24560 لگا دیا عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر انحصار کیا جو نہیں کیا جا سکتا تھا، دائراپیل میں مؤقف بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا۔تفصیلات...

عمران اور بشریٰ نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا

فیض حمید نے فوجی عدالت کی سزا کیخلاف اپیل دائر کردی وجود - منگل 30 دسمبر 2025

اپیل رجسٹرار کورٹ آف اپیلز، اے جی برانچ، چیف آف آرمی اسٹاف کو جمع کرائی گئی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کیلئے 40 دن کا وقت تھا، وکیل میاں علی اشفاق کی تصدیق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی ...

فیض حمید نے فوجی عدالت کی سزا کیخلاف اپیل دائر کردی

غزہ میں موسم مزید سرد، فلسطینی شدید مشکلات کا شکار،مزید 4 شہید وجود - منگل 30 دسمبر 2025

شیر خوار بچوں اور خواتین کی زندگیاں خطرے میں، بارشوں نے حالات کو مزید خراب کر دیا اسرائیلی فوج کی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں، بارش کا پانی خیموں میں داخل ہوگیا اسرائیلی مظالم کے ساتھ ساتَھ غزہ میں موسم مزید سرد ہونے سے فلسطینی شدید مشکلات کا شکار ہو گئے، ایک طرف صیہوبی بر...

غزہ میں موسم مزید سرد، فلسطینی شدید مشکلات کا شکار،مزید 4 شہید

پی ٹی آئی کی لاہور سے عوامی تحریک شروع ،سہیل آفریدی کا بھرپور استقبال، عمران خان کے حق میں نعرے وجود - اتوار 28 دسمبر 2025

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے شہر کے مختلف علاقوں کے دورے کیے اور جگہ جگہ رک کر عوام سے خطابات کیے، نعرے لگوائے، عوام کی جانب سے گل پاشی ، لاہور ہائیکورٹ بار میںتقریب سے خطاب سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں عمران خان زندہ بادکے نعرے گونج رہے ہیں،خان صاحب کا آخری پیغام سڑکوں پر آئیں ت...

پی ٹی آئی کی لاہور سے عوامی تحریک شروع ،سہیل آفریدی کا بھرپور استقبال، عمران خان کے حق میں نعرے

کراچی کے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار،عوام آگ بگولہ وجود - اتوار 28 دسمبر 2025

جیسے جیسے 2025 اختتام کو پہنچ رہا ہے شہر کا نامکمل انفراسٹرکچر اور تاخیری منصوبے صحت عامہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں کھوکھلے وعدوں کے سائے میں ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بند گٹر، بڑھتی آلودگی نے سانس کی بیماریوں میں اضافہ کردیا ہے جیسے جیسے 2025اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے کراچی کا نامکمل ان...

کراچی کے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار،عوام آگ بگولہ

مضامین
مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے! وجود جمعرات 01 جنوری 2026
مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے!

بھارتی مسلمان غیر محفوظ وجود جمعرات 01 جنوری 2026
بھارتی مسلمان غیر محفوظ

فنا کی کہانی وجود جمعرات 01 جنوری 2026
فنا کی کہانی

آر ایس ایس کی گرفت اور بھارتی جمہوریت وجود بدھ 31 دسمبر 2025
آر ایس ایس کی گرفت اور بھارتی جمہوریت

بانی پی ٹی آئی مائنس ہونے کو تیار؟ وجود بدھ 31 دسمبر 2025
بانی پی ٹی آئی مائنس ہونے کو تیار؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر