... loading ...

عمران فاروق کے قتل کے تقریباً پانچ برس بعد اور کراچی میں بلدیاتی انتخابات سے صرف ایک روز قبل حکومت پاکستان اور وزارت داخلہ نے بآلاخر ایک مقدمے کا اندراج کر لیا ہے۔ اس مقدمے کی مدعی خود حکومت پاکستان بنی ہے، جبکہ مقدمہ اسلام آباد میں ایف آئی اے کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے نے تاحال مقدمے کے مندرجات یا نقل جاری نہیں کی ۔ تاہم اس کے متعلق یقینی طور پر سامنے آنے والی معلومات کے مطابق مقدمہ قتل ، دہشت گردی اور اعانتِ جرم کی دفعات کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ مقدمے میں یقینی طور پر تین ملزمان محسن علی، معظم علی اور خالد شمیم کو نامزد کیا گیا ہے۔ مگر اس امر کی وضاحت نہیں کی جارہی ہے کہ مقدمے میں مزید کتنے افراد کے نام شامل کئے گیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مقدمے میں متحدہ قومی موومنٹ کے کچھ اہم رہنماؤں کے نام بھی شامل کئے گیے ہیں ، مگر اُن ناموں کو اس مرحلے پر افشا ء کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔
1۔ عمران فاروق کے قتل کامقدمہ عجیب وغریب حالات اور متضاد قسم کی صورتِ حال میں درج کیا گیا ہے۔عمران فاروق کو پانچ سال قبل 16؍ ستمبر 2010ء کو لندن میں اُن کے گھر کے قریب قتل کر دیا گیا تھا ۔ پاکستان نے اس پورے عرصے میں ملزمان کی گرفتاری سے لے کر اب تک اپنی تمام اُمیدیں برطانوی حکومت سے وابستہ کی تھیں۔ اس حوالے سے پاکستان میں برطانوی قانون ، اسکاٹ لینڈ یارڈ اور برطانوی نظام انصاف کے حوالے سے مبالغہ آمیز داستانیں اور انصاف پرور رومانوی کہانیاں بیان کی جاتی رہیں، مگر پاکستان میں گرفتار ملزمان کی حوالگی کے طریقہ کار اور اس ضمن میں برطانیا کی جانب سے کسی ٹھوس یقین دہانی سے گریز نے پاکستان کو ملزمان کی یکطرفہ حوالگی سے دور رکھا۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے افسران اپنی تمام تحقیقات اور تفتیش کو پاکستان آکر مکمل کر چکے اور اطلاعات کے مطابق برطانیا کے پاس موجود قتل کے تمام ثبوت اور فارنسک شواہد ملزمان سے دورانِ تفتیش موافق نکل آئے، مگر پھر بھی برطانیا نے ملزمان کی حوالگی کے سرکاری اقدامات اُٹھانے سے گریز کیا۔ پاکستان اس دوران میں ملزمان کی حوالگی کے مطالبے کے لئے برطانیا کی جانب سے سرکاری مطالبے کے انتظار میں ہی رہا ، یہاں تک کہ پہلے سے موجود ریمانڈ پر موجو د تین ملزمان محسن علی ، معظم علی اور خالد شمیم کو اواخر ستمبر میں ایک بار پھر ریمانڈ پر رینجرز کے حوالے کیا گیا ۔ مگر اس دوران میں دوماہ مزید گزرنے کے باوجود برطانیا کی طرف سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی۔ یہ بات ابھی تک پردۂ راز میں ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں برطانیا سے اعلیٰ ترین سرکاری اور فوجی رابطوں کے باوجود یہ معاملہ کیوں اٹکا رہا؟ غیر ملکی دوروں سے اجتناب کرنے والے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار اس ضمن میں خود برطانیا جاکر سرکاری سطح پر ’’بات چیت‘‘ بھی کرتے رہے ہیں، مگر اس معاملے میں ایسا کیا ہوا ہے کہ پاکستان کو اپنے خاکے کے برعکس عمران فاروق کامقدمہ قتل پاکستان میں درج کرنا پڑا۔ یہ اس معاملے کا ایک پہلو ہے۔

2۔ مقدمہ درج کرنے کے حالات کا دوسرا پہلو بھی عجیب وغریب ہے۔ تقریباً پانچ سال قبل برطانیا میں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل پر پاکستانی حکام پورے پانچ سال تک لامحدود صبر کرکے خاموش بیٹھے رہے، مگر ایسا کیا ہواکہ پانچ سال تک انتظار کرنے والے حکام اچانک اتنی عجلت میں دکھائی دیئے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کا مقدمہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات سے صرف ایک روز قبل درج کرنے پر مجبور ہوگئے۔ کیا اس کے لئے دوچار دن مزید انتظار نہیں کیا جاسکتا تھا؟
3۔ عمران فاروق قتل کے مقدمے کے اندراج کے حالات میں ایک اور پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ وفاقی اور سندھ حکومت پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ الزام ہے کہ وہ کراچی میں دہشت گردی اور قتل وغارت گری کے خلاف جاری آپریشن میں مسلسل عدم دلچسپی اور سیاسی ارادے میں کمی کی شکار ہیں۔ پھر ایسا کیا ہے کہ ایک طرف وفاقی حکومت کراچی آپریشن کی تو سیاسی سرپرستی سے فاصلے پیدا کررہی ہیں مگر الطاف حسین کے معاملے میں حد سے زیادہ دلچسپی لے کر خود مقدمہ قائم کرنے کی عزیمت دکھا رہی ہے۔ یہ پہلو مزید پراسرار تب زیادہ لگتا ہے کہ یہی مرکزی اور وفاقی حکومت متحدہ کے اسمبلیوں سے استعفوں کے بعد اُنہیں پارلیمنٹ میں سمجھا بجھا کر اور رام کرکے واپس لائی۔ اُن کے لئے کراچی آپریشن میں ازالہ شکایت کمیٹی کے قیام کا اعلان کرکے پارلیمنٹ واپسی کا ایک محفوظ راستہ دیا۔ مگر اُسی حکومت کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اچانک یہ اعلان کیا کہ عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ اب پاکستان میں چلایا جائے گا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ معمولی سے معمولی مسئلے کو بھی متحدہ قومی موومنٹ اپنے ردِعمل کے نشانے پر رکھ لیتی ہے ، مگر الطاف حسین کے خلاف عمران فاروق کے قتل کے مقدمے کو پاکستان میں چلانے کے اعلان پر متحدہ قومی موومنٹ نے مکمل خاموشی اختیار کئے رکھی۔ کیا دور کی کوڑی لانے والے حالیہ دنوں میں ایس جی ایس کوٹیکنا کے مقدمات میں استغاثے کی جانب سے اصل دستاویزات پیش نہ کرکے آصف علی زرداری کو مقدمات سے نجات دلانے کی جو مثال اس ضمن میں پیش کرتے ہیں ، وہ یہاں بھی موثر طور پر متعلق ہے۔ یا پھر یہ ایک بالکل برعکس معاملہ ہے جس کے تحت متحدہ کو مسائل سے نکالنے اور اُس کی قیادت کو مزید مسائل میں جکڑنے سے اُس کلیے پر عمل درآمد کی راہ نکالی جائی جو ’’مائنس ون ‘‘ کی شکل میں مقتدر قوتوں کا دیرینہ منصوبہ بن کر سامنے آتا رہتا ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ تو درج کر لیا گیا ہے۔ مگر اس ضمن میں یہ وضاحت ابھی تک نہیں ہو سکی کہ اس مقدمے پر مزید پیش رفت کیسے ہو گی؟ اور اِسے چلانے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ یہ امر واضح نہیں ہے کہ پاکستان نے برطانوی حکام کی جانب سے مایوس ہو کر مقدمہ خود اندراج کرنے کا یکطرفہ فیصلہ کیا یا اس میں برطانوی حکام کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے کے پاس ابھی تک اس ضمن میں کوئی واضح لائحہ عمل نہیں ہے کہ وہ مقدمے کی تفتیش کے سلسلے کو برطانیا میں کس طرح وسعت دیں گے۔کیونکہ قتل بنیادی طور پر لندن میں ہوا ہے او رتمام شواہد اوراکثر گواہیاں بھی لندن میں ہی موجود ہیں۔ اب پاکستان کو اپنے ملک میں مقدمہ چلانے کے لئے کیا برطانیا کی مدد بھی اُسی طرح میسر آسکے گی جس طرح پاکستان نے برطانیا کو مہیا کی تھی۔ ڈی جی ایف آئی اکبر خان ہوتی کے پاس ابھی تو بس کہنے کے لئے اتنا ہی ہے کہ ایف آئی اے زیرحراست افراد سے تفتیش کرے گی اور برطانیا میں موجود ملزمان سے تفتیش کی ضرورت پڑی تو حکومت پاکستان کے ذریعے برطانیا سے مدد طلب کی جائے گی۔

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ برطانیا میں ہوا ہے۔ اب اگر مقتول برطانیا میں ہو اور قاتل اورملزمان دوممالک میں ہو تو پھر اس مسئلے سے ثبوت وشواہد کی اکٹھ میں کیسے نمٹا جائے گا،یہ واضح نہیں ۔ڈاکٹر عمران فاروق قتل کی تفتیش میں جو نکات بھی مرتب ہوتے ہیں، تمام کے تمام لندن سے متعلق ہیں۔مثلاً
اگر برطانیا اس سب کے ہوتے ہوئے پاکستان سے ملزمان کا مطالبہ نہیں کر رہا ،تو پھر اس کا مطلب یہ ہو ا کہ برطانیا ،پاکستان کے لئے اُس کی تفتیش میں کوئی خاص تعاون کرنے کے لئے مشکل سے ہی آمادہ ہوگا۔ اس حوالے سے برطانیا مستقبل میں کیا طرزِ عمل اختیار کرے گا اس کی کوئی ٹھوس یقین دہانی یا پھر کوئی قابل اعتبار اور قابلِ انحصار انداز ا یا تجزیہ کسی بھی سطح پر موجود نہیں ہے۔ کم ازکم ڈی جی ایف آئی اے اور وفاقی وزیر داخلہ کی اب تک سامنے آنے والی کسی بھی گفتگو میں اس کی جھلک نہیں دکھا ئی دیتی۔
ڈاکٹر عمران فاروق قتل کا مقدمہ پاکستان میں چلانے کے لئے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ چار کی رہنمائی موجود ہے جس کے تحت کسی بھی پاکستانی شہری کے خلاف قانون کو حرکت میں لانے کے لئے ملکی سرحدوں کی کوئی بندش نہیں ، مگر متوازی طور پر اس مقدمے کے ساتھ ایک پیچیدگی یہ لاحق ہے کہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 13 اورسی آر پی سی (کوڈ آف کرمنل پروسیجر) کی دفعہ 403کسی ایک مقدمے کے لئے استغاثہ کی دُہری کارروائی (پراسیکیوشن) کو روکتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 19؍ دسمبر 1966ء انٹرنیشنل کنونشن آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس کو منظور کیا تھا ۔ جس پر پاکستان نے ایک لمبے وقفے کے بعد ابھی 3؍ نومبر 2004ء کو جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور ِ اقتدار میں نامعلوم وجوہ کی بناء پر دستخط کر دیئے تھے۔ اس کے تحت بھی کسی بھی شہری کو ایک ہی مقدمے میں دو مرتبہ جانچ (ٹرائل) سے نہیں گزارا جاسکتا۔ کوئی سادہ سے سادہ آدمی بھی اندازا لگا سکتا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے مقدمے میں ہونے والی ہر پیش رفت دراصل ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو مرکز و محور بنا کر کی جارہی ہے، تو پھر پاکستان میں اندارجِ مقدمہ سے ایک شہری کے دُہرے استغاثے اور جانچ کے ملکی و غیر ملکی قوانین سے کس طرح عہدہ برآں ہو اجا سکے گا؟ یہ اس معاملے کا سب سے نازک پہلو ہے۔

اس معاملے کا دوسرا پہلو بھی الطاف حسین سے جڑا ہے جنہیں برطانیا اور پاکستان کے متصادم قوانین اور اس کے مختلف نتائج کا فائدہ بھی پہنچ رہا ہے۔ برطانیا کسی بھی طرح الطاف حسین کی پاکستان حوالگی کا پابند نہیں۔ جبکہ الطاف حسین کا برطانوی شہری کے طور پر دُہرے مقدمے میں کارروائی کے لئے برطانیا سے اپنے شہری حقوق کے مطالبے کی بھی گنجائش ہے۔ ایسی صورت میں جب برطانیا میں سزائے موت کا سرے سے کوئی قانون ہی نہیں اور پاکستان میں اس کی سزا ، سزائے موت کی صورت میں بھی نکل سکتی ہے۔ پاکستان اور برطانیا کے درمیان ماضی میں ہونے والی ایک مشترکہ جوڈیشل عدالتی ورکشاپ مجرمان کی حوالگی پر محض سزائے موت کے متصادم قوانین کے باعث دونوں ممالک میں بے نتیجہ ثابت ہوچکی ہے۔ اب کون سی جادوئی چھڑی استعمال کی جاسکے گی؟ جنرل راحیل شریف کے لئے شکریہ راحیل شریف کی مہم پاکستان میں ہے برطانیا میں نہیں۔
اس پورے تناظر میں قانونی ماہرین کی یہ رائے کہ اس مقدمے کا تمام تر فائدہ بآلاخر ملزمان کو پہنچے گا، کوئی غلط رائے معلوم نہیں ہوتی۔مگر اس مقدمے کا سیاسی استعمال یا سیاسی ہدف ضرور کسی وقتی فائدے پر منتج ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں یہ امر پیش نظر رہے کہ مقتدر حلقوں میں ایم کیو ایم کے ساتھ تمام تر چپقلش کا بنیادی اور محوری نکتہ ’’مائنس ون ‘‘ فارمولا ہی ہے۔
یو ایس نیول ڈسٹرائر جہاز پسپائی پر مجبور،امریکی بحری جہاز کو رکنے کی وارننگ دی گئی تھی ہدایات نظر انداز کرنے پر دو میزائل داغے گئے جو ہدف پر جا لگے، پاسدارانِ انقلاب ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور انتباہ کے باوجود اپنی سمت تبدیل نہ ...
بانی سے وکلاء اور اہل خانہ کی فوری ملاقات ممکن بنائی جا سکے،عمران خان کے ذاتی معالج، ماہر ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی موجودگی میں علاج کا مطالبہ، شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے ضمانت کی درخواستوں پر فوری سماعت مقرر کی جائے، عمران اور بشریٰ کی رہائی کا مطالبہ، تنہائی میں قید رکھ...
سرکاری اسکولوں کا بیڑہ غرق کردیا، سولرپربھی ٹیکس لگا دیا گیا،اب نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے باہرنکلنا پڑے گا، خاندانوں کی بنیاد پر نظام چل رہا ہے، حکومت بیوروکریسی چلا رہی ہے، خطاب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد آئی پی پیز،پٹرول مافیا کیخلاف...
مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...
میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...
25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...
نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...
بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...
عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...
قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...
گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...
پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...