... loading ...

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی ایک تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تہران نے 2003ء میں جوہری ہتھیار بنانے کی ایک منظم کوشش کی اور چند سرگرمیاں اوباما کے برسر اقتدار میں آنے کے بعد تک جاری رہیں۔ پارچین کی تنصیبات میں ایران کی خفیہ سرگرمیاں ایجنسی کی موثر تصدیق کی صلاحیتوں کی بیخ کنی کر رہی ہیں، جہاں مبینہ طور پر ایران نے مشتبہ تجربات کیے ہیں۔
مغربی ممالک اور ایران کے درمیان ہونے والا تازہ معاہدہ میں ایسی کوئی شرط شامل نہیں کہ جوہری ہتھیاروں کے لیے اس کے خفیہ اقدامات پر آئی اے ای اے کے خدشات کو دور کیا جائے تو کوئی نرمی ہوگی۔ اس کے بجائے ایک سادہ سی ٹائم لائن تھمائی گئی جس میں اضافی معلومات کا تبادلہ، سوالات، مذاکرات اور بالآخر ایک آئی اے ای اے رپورٹ شامل ہے۔ تو حیرت بھی نہیں کرنی چاہیے کہ تہران کا سرد رویہ کیوں جاری ہے اور ایجنسی کہتی ہے کہ اب تک اپنے تفصیلی اور دستاویزی خدشات کو حل نہیں کرسکی۔
تو ایران معاہدے اور وسیع تر عدم افزودگی کی پالیسی پر رپورٹ کے مضمرات کیا ہیں؟ امریکی فکر گاہوں کے درمیان ایک زبردست جنگ شروع ہو چکی ہے جو کم از کم ایرانیوں کو تو بہت خوش کرے گی تاہم یہ مضمرات بہت زیادہ سنجیدہ ہیں۔
آئی اے ای اے کے کام میں تمام جوہری سرگرمیوں کا مکمل اور درست اظہار اور ایجنسی کی جانب سے اس کی مکمل تصدیق شامل ہے۔ اس میں ان مقامات، دستاویزات، افراد اور آلات تک رسائی بھی شامل ہے۔ ایجنسی کی نئی رپورٹ واضح کرتی ہے کہ تہران کا بیان نہ تو مکمل ہے اور نہ ہی درست، لیکن اس کے باوجود ایران راہداری مل جائے گی اور وہ جوہری معاہدے کی اس بڑی خامی کا فائدہ اٹھائے گا۔
کچھ حلقے یہ ضرور کہہ رہے ہیں کہ اس کی حیثیت نہیں کیونکہ ہم پہلے ہی ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں “پوری معلومات” رکھتے ہیں اور یہ بات جون میں وزیر خارجہ جان کیری نے بھی کہی تھی۔ انہوں نے انٹیلی جنس صلاحیتوں کی طرف بھی اشارہ کیا تھا کہ وہ ایران کی کسی بھی غلط بیانی کو جانچنے کا بہترین طریقہ ہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ تمام مسائل ماضی کا حصہ ہیں جبکہ معاہدہ مستقبل ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی دلیل زیادہ دیر کھڑی نہیں رہ سکتی بلکہ انٹیلی جنس معلومات پر انحصار ہی ناکامی کے لیے کافی ہے۔ عراق میں انٹیلی جنس کی بڑے پیمانے پر سنگین ناکامی کا ایک سبب معائنہ کاروں کی عدم موجودگی تھی۔ موثر بین الاقوامی مانیٹرنگ اور انٹیلی جنس دراصل ساتھ ساتھ ہوں تو زیادہ طاقتور ہیں، جدا ہونے کی صورت میں اتنے کارگر نہیں۔ موثر بین الاقوامی مانیٹرنگ کے لیے ایک بنیادی اعلامیہ ضروری ہے۔ پھر یہ معاملہ مستقبل کا ہے۔ اگر ماضی کی طرح تمام سرگرمیوں کو اچھی طرح نہیں سمجھا گیا اور اکھاڑ کر نہ پھینکا گیا تو نہ ہی امریکا اور نہ ہی ایٹمی توانائی ایجنسی یقیناً کہہ سکیں گے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا کام دوبارہ شروع نہیں کرے گا۔ مثال کے طور پر پارچین میں استعمال ہونے والا دھماکا خانہ (explosive chamber) کہاں ہے؟ اور آج بھی اس کی موجودگی کا مقصد کیا ہے؟ کیا ایسے دیگر دھماکے خانے بھی بنائے گئے اور استعمال کیے گئے؟ جوہری دھماکے کی نمونہ کاری (modeling) کیا ہے؟ اس میں کون شامل تھا اور وہ اب کیا کر رہے ہیں؟
اب ایران معاہدہ مزید آگے بڑھے گا، اس پر عائد پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔ امریکا کی ملی بھگت کی وجہ سے محفوظ راستے کے انتخاب کا بنیادی اصول ٹوٹ جائے گا، کم از عارضی طور پر ہی سہی۔ ایران کے افزودہ گر (proliferators) آخر کیوں معاہدے سے قبل کا وقت یاد نہیں کریں گے؟ جس کے تحت ایران یہ ظاہر کرتا رہا کہ وہ وعدے پورے کر رہا ہے اور باقی دنیا اس پر یقین کرتی رہی؟ آخر تہران اس معاہدے کی تعمیل کو اہمیت کیوں دے؟ اسے سنجیدہ کیوں لے؟
جون میں ہونے والے معاہدے نے ایران کے پروگرام کے مسئلے کو حل نہیں کیا ہے اور اگر بہت ہی اچھی امید رکھی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اسے ٹال دیا ہے۔ آئندہ 10 سے 15 سالوں میں معاہدے کے مرکزی نکات ایک، ایک کرکے اپنا اثر کھو بیٹھیں گے اور ایران مرکز گریز اور کم افزودہ یورینیم کے لامحدود ذخائر محفوظ کرنے میں آزاد ہو جائے گا۔
اب ایران معاہدے پر سیاسی جنگ تمام ہو چکی ہے اور یہ نفاذ کی طرف رواں ہے۔ لیکن امریکا اور اس کے حامیوں کو جلد ہی اس دن کے لیے تیار ہونا چاہیے جب ایک دہائی یا کم و بیش اتنے ہی وقت میں یہ سوال ایک مرتبہ پھر ہمارے سر پر کھڑا ہوگا۔
امریکا کو اپنی جنگ ختم کرنے کیلئے ایران سے ڈیل کرنے کی ضرورت نہیں، اگر وہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو اچھا ہوگا، رجیم چینج امریکاکا مقصد نہیں تھا،ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے2سے 3ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اپنی جنگ ...
امریکی صدر کے بیانات سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، دنیا میں کوئی بھی امریکی سفارت کاری پر اعتماد نہیں کر سکتا، مجتبیٰ خامنہ ای صحت مند ہیں،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا انٹرویو ایران کی جانب سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی کی درخواست کا دعوی مسترد کر دیاگیا۔ترجمان ایرانی وز...
کیا کابینہ کی جانب سے ایسی کسی فورس کی تشکیل کی اجازت دی گئی ہے، وفاقی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو،سماعت کے دوران عدالت کا استفسار سزا یافتہ انسان کیلئے ایسی فورس نہیں بننی چاہیے، سنجیدہ قانونی سوالات اٹھتے ہیں،رہائی فورس کی تشکیل قانون اور آئینی ح...
843 دکان داروں کو فی کس 5 لاکھ، 11 کیسز پر فیصلہ ہونا باقی، وزیراعلیٰ کو بریفنگ پلازہ پر کام جلد شروع کیا جائے،متاثرہ تاجروں کیلئے مالی امداد کیلئے 600 ملین مختص سانحہ گل پلازا میں جاں بحق ہوئے افراد میں سے 61 خاندانوں کو فی کیس ایک کروڑ روپے معاوضہ دیدیا گیا 11 کیسز پر فیصلہ...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی رہائی فورس لانچ ہونے سے پہلے ہی فلاپ ہو گئی پی ٹی آئی نے اپنے ہی وزیر اعلیٰ کے عمران رہائی فورس کے منصوبے کو مسترد کر دیا،ذرائع بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا ملاقات ؟ تحریک انصاف اپنے ہی مطالبات پر تقسیم کا شکار ہوُگئی، وزیر اعلیٰ خیبر ...
زرداری،شہباز ،وزیرداخلہ ودیگر کا دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر فورسز کو خراج تحسین حکومت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پر عزم ہے،صدر،وزیراعظم صدرِ مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہبازشریف،وزیرداخلہ محسن نقوی ودیگر نے خیبرپختونخواہ میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں پر ...
پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگا ہونے کا خدشہ،نئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ، اگلے بجٹ کے ٹیکس ہدف میں 16 سو ارب روپے اضافے کی تجویز،ذرائع ایف بی آر اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح صفر،چھوٹے کاروبار اور تاجروں پر اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانے کی ...
برطانیہ سمیت وہ ممالک جو ایران کیخلاف جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور جیٹ فیول حاصل نہیں کرپارہے آئل امریکا سے خریدیں یا ہمت کرکے آبنائے ہرمز جائیں اور آئل حاصل کرلیں آپ کو اب خود لڑنا سیکھنا ہوگا،ایران کو تباہ کر دیا اور مشکل مرحلہ مکمل ہو چکا ہے،فرانس نے ایران کے قصائی کے حوالے...
جنید اکبر خان کی زیرصدارتخیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ایک اہم تنظیمی اجلاس سہیل آفریدی نے اجلاس کے شرکاء کو صوبے کو درپیش اہم معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت نے تنظیمی استحکام، موجودہ سیاسی صورتحال اور بانی چیٔرمین عمران خان کی رہائی کے لیے جا...
علیمہ کی ہدایت پر فیصل ترکئی، عاقب اللہ کو کابینہ میں شامل کرنے پر اختلافات کی وجہ بنے مختلف نجی محافل میں ان تقرریوں کے حوالے سے پارٹی کے اندر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت میں چند ماہ قبل تک عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل...
صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...
ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...