وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مقبوضہ کشمیر۔۔۔۔۔ ریاستی دہشت گردی کے کئی روپ

جمعه 04 دسمبر 2015 مقبوضہ کشمیر۔۔۔۔۔ ریاستی دہشت گردی کے کئی روپ

kashmir-azadi-freedom

ایک طرف بھارت سرکار نے فوج ،بی ایس ایف اور دیگر نیم فوجی تنظیوں کوافسپا(AFSPA) کے نام پر کشمیریوں کو کچلنے کیلئے کھلی چھوٹ دیدی ہے ،وہیں دوسری طرف ریاستی دہشت گردی کے مختلف طریقے بھی ایجاد کئے گئے ،ان میں منحرف بندوق برداروں کی تنظیمیں قائم کرنا،مسلم اکثریتی علاقوں کے ترقیاتی فنڈز اور سرکاری نوکریوں میں امتیاز برتنا شامل ہے۔بھارتی سراغ رساں ایجنسی را نے 1994 میں شمالی کشمیر میں’’ کوکہ پرے ‘‘کی قیادت میں اخوان المسلمین سے وابستہ یوسف پرے (المعروف کوکہ پرے المعروف جمشید شیرازی) کی قیادت میں منحرف بندوق برداروں کا ایک گروپ تشکیل دیا ، جس کا نام اخوان المسلمون رکھا گیا۔اسی طرح جنوبی کشمیر میں ’’نبہ آزاد‘‘ نامی منحرف بندوق بردار کی قیادت میں ایسا ہی ایک گروہ مسلم مجاہدین کے نام سے منظم کیا گیا ،چونکہ ان گروہوں سے وابستہ افراد کا تعلق مجاہدین تنظیموں سے ہی تھا ،اس لئے یہ ہر ایک تحریکی ہمدرد اور کارکن سے واقف تھے ۔گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مترادف ،ان لوگوں نے ایسا طوفان بدتمیزی مچایا کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔فوج کی چھتر چھایا میں ان لوگوں کے ہاتھوں نہ صرف مجاہدین شہید ہوتے رہے بلکہ عام کشمیری بھی ان کے ظلم و ستم سے محفوظ نہ رہ سکے۔بھارتی فوج کا کام انہوں نے آسان بنا دیا ،اب فوج اور بی ایس ایف کے بجائے ہر الزام منحرف بندوق برداروں کے کھاتے میں پڑنے لگا۔ان سرکار نواز بندوق برداروں کی کارروائیاں نوے کی دہائی کے اختتام تک جاری رہیں۔

نوے کی دہائی کے وسط میں ان کا سکہ ریاست میں ہر جانب سے چل رہا تھا۔ قانون ، حکومت، ایوان اْن کے اشاروں پر کام کرتے تھے، سرکاری و غیر سرکاری تمام شعبہ جات میں اِن منحرف لوگوں کا اس حد تک عمل دخل تھا کہ عام انسان خوف اور دہشت کے مارے کہیں سے بھی انصاف کی امید نہیں کرتا تھا۔اِن منحرف بندوق برداروں کی نہ صرف فوج اور نیم فوجی ایجنسیاں اْن کی تمام غیراخلاقی، غیر انسانی و غیر قانونی کارروائیوں کی پشت پناہی کرر ہی تھیں،بلکہ حکومتِ وقت مہربان تھی اور اْنہیں وہ سب کرنے کی کھلی اجازت ہوتی تھی جس کی اجازت جنگل کا قانون بھی نہیں دے سکتا ہے۔ درجنوں ادیب ،دانشور،سیاسی کارکن اِن سرکاری بندوق برداروں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔کپواڑہ سے کشتواڑ تک ہزاروں بیگناہوں کا قتل عام کیا گیا، اغوا کاری کر کے تاوان وصول کرنا عام بات بن چکی تھی، ملّت کی کتنی ہی ایسی بدنصیب بیٹیاں ہیں جو جرائم کے اِن کالے بھیڑیوں کے ہتھے چڑھ گئی ہیں، کم ہی ایسے ذی عزت لوگ ہوں گے جو اْن کی تذلیل سے بچے ہوں گے، دیہات سے ہزاروں خاندانوں کی ہجرت کا بنیادی سبب یہی سرکاری بندوق بردار رہے ہیں۔ان گھر کے بھیدیوں کے ہاتھوں اپنے ہی لوگوں کے خلاف تاریخ نے اتنا ظلم و ستم اپنے اوراق میں سمیٹ لیا ہے کہ قیامت تک اِس قوم کی آنے والی نسلیں اْنہیں بد دعائیں ہی دیں گی۔

کریسنٹ آن لائن کے مطابق 1989ء سے 2009 تک 100000 کشمیری جاں بحق ہوئے ہیں ،جن میں 92,906لوگ عام شہروں ،گلیوں ،کوچوں اور گھروں کے اندر شہید ہوئے ہیں ۔شہید ہونیوالوں میں خواتین کی تعداد 2278ہے۔

ریاست جموں و کشمیر کے طول وعرض میں سب سے زیادہ جماعت اسلامی سے وابستہ لوگ اِن کے ظلم و ستم کا شکار ہو ئے ہیں، اس تنظیم کے850 سے زائد ارکان و رہنماؤں کو انہی بندوق برداروں نے موت کے گھاٹ اْتار دیا، کپواڑہ ضلع میں1995ء کی ایک ہی رات میں30 سے زائد جماعت سے وابستہ یا اس تنظیم سے ہمدردی رکھنے والوں کو مختلف مقامات پر ابدی نیند سْلا دیا گیا۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اِنRenegades نے بھارتی فورسز کی سرپرستی میں ایسے سیاہ کارنامے انجام دئیے جس کا احسان ان کے آقاؤں کی کئی پشتوں پر رہے گا۔

ترقیاتی فنڈز میں امتیاز

2001 ء کی مردم شماری کے مطابق صوبہ کشمیر کی آبادی 5467970 ،جموں صوبے کی آبادی 4430191اور صوبہ لداخ کی آبادی 236539ہے۔لیکن2008ء کے وزیراعظم کے خصوصی پیکیج 29000کروڑ روپے میں سے صوبہ کشمیر کیلئے 6447کروڑ(22%)،صوبہ جموں کیلئے12530کروڑ(43%) اور صوبہ لداخ کیلئے 2804کروڑ(9.67%)فراہم کئے گئے۔باقی رقم اسٹیٹ لیول سیکٹرز کو فراہم کی گئی۔حالانکہ آبادی کے تناسب سے کشمیر صوبے کا حصہ (54%)بنتا ہے۔جموں اور لداخ کا بالترتیب 43.7%اور2.3% حصہ بنتا ہے۔اسی طرح 5000کروڑصنعتی پیکیج کی رقم جو ریاست کو فراہم کی گئی کا صرف 10%حصہ صوبہ کشمیر میں خرچ کیا گیا۔اس طرح مسلم آبادی کو نظر انداز کرکے ان میں معاشی بدحالی کو فروغ دے کر انہیں پائی پائی کا محتاج بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پرائم منسٹرز پیکیج (امتیازی برتاؤ) جدول(1)

سال 2001ء لداخ جموں ڈویژن کشمیر ڈویژن
کل آبادی 236539 4430191 5467970
ترقیاتی فنڈ 2804 کروڑ (9.67 فیصد) 12530 کروڑ (43 فیصد) 6447 کروڑ (22 فیصد

مرکزی اور ریاستی انتظامی محکموں میں بھی ایسا ہی حال ہے۔2005ء میں سچر کمیٹی کے سامنے جو رپورٹ ریاستی سرکار نے پیش کی ،اس کے مطابق انڈین ایڈ منسٹریٹو سروسز میں ریاستی افسران کی تعداد کل 94ہے،جن میں سے کشمیرڈویژن سے صرف 24افسران ہیں۔ باقی سب کا تعلق جموں ڈویژن سے ہے۔اسی طرح کشمیر ایڈ منسٹریٹو سروسز میں 2001ء سے 2008ء تک 478تھی جن میں صرف 106کا تعلق کشمیرڈویژن سے ہے اور 360کا تعلق جموں ڈویژن سے ہے۔یہ بات صرف KASافسران تک محدود نہیں بلکہ 2008ء میں سروسز سلیکشن بورڈ نے 429 ا کاونٹساسسٹنٹ اسامیوں کی بھرتی کی جن میں وادی سے صرف 95 ا کاونٹس اسسٹنٹ لئے گئے ،جبکہ جموں ڈویژن سے 334امیدواروں کا انتخاب کیا گیا۔ اورجن میں مسلم طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

ملازمتوں میں امتیاز ۔۔۔۔۔(جدول2)

سال 2008ء آئی اے ایس افسران کے اے ایس افسران
2001ء سے 2008ء
اکاؤنٹس اسسٹنٹ
2008ء (تقرریاں
کل تعداد 94 478 429
کشمیر ڈویژن 24 106 95
جموں ڈویژن 70 360 334

اس طرح کے امتیاز سے کشمیریوں کی محرومیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح بھارت نہ صرف فوجی طاقت سے ان کو زیر نگین رکھنا چاہتا ہے بلکہ معاشی لحاظ سے بھی انہیں کنگال کرکے ،در در کی بھیک مانگنے کے بھیانک عزائم رکھتا ہے تاکہ وہ دماغ سے سوچنے کے بجائے پیٹ سے سوچنے کا طریقہ اختیار کریں ۔

ریاستی دہشت گردی اعداد شمار کے آئینے میں

بین الاقوامی اور قومی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی فورسز نے تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کیلئے طاقت کا بھر پور استعمال کیا ،اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔کرسچین سائنس مانیٹر کے مطابق ،پچھلے بیس برسوں میں60000سے 100000لاکھ بچے یتیم ہوئے ہیں۔کریسنٹ آن لائن کے مطابق 1989ء سے 2009 تک 100000 کشمیری جاں بحق ہوئے ہیں ،جن میں 92,906لوگ عام شہروں ،گلیوں ،کوچوں اور گھروں کے اندر شہید ہوئے ہیں ۔شہید ہونیوالوں میں خواتین کی تعداد 2278ہے۔

1989ء سے جولائی 2009ء تک (جدول 3)

کل شہدا 100000
زیر حراست شہادتیں 6559
خواتین کی بے حرمتی 9885
یتیم بچے 107262
بیوہ عورتیں 23000
شہری گرفتار 11633

معروف نیوز ایجنسی ،کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کے اعداد شمار کے مطابق جنوری 1989ء سے 31,اکتوبر 2015ء تک 94,273 کشمیری شہید ہوئے ہیں ،جن میں 7,038لوگ زیر حراست شہید کئے گئے ہیں ۔

جنوری 1989سے 31,اکتوبر 2015ء تک(جدول4) کشمیر میڈیا سنٹر

کل شہادتیں 94,273
زیر حراست شہادتیں 7,038
خواتین کی بے حرمتی 10,159
یتیم بچے 107,545
بیوہ عورتیں 22,806
شہری گرفتار 131,212
مکانات و تعمیرات خاکستر 106,050

لا پتہ لوگوں کے ورثاء کی تنظیم اے پی ڈی پی (Association of Parents of Disappeared Persons )کی ایک رپورٹ کے مطابق 1989ء سے اگست 2015تک10000لوگ بھارتی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوکر لا پتہ کردئے گئے ہیں ۔ اے پی ڈی پی ( Association Of Parents Of Disappeared Persons)ان والدین کی تنظیم ہے جن کے بچے ،بھائی یا قریب ترین رشتہ دار ،بھارتی فورسز کے ذریعے گرفتاری کے بعد لاپتہ ہوئے۔جبکہ سری نگر ہائی کورٹ بار ایسو ایشن کے اعداد وشمار کے مطابق 3لاکھ کشمیریوں کو انٹروگیشن سنٹروں اور بھارتی جیلوں میں شدید تعزیب کا نشانہ بنایا گیا۔

انٹرنیشنل پیپلز ٹربیونل آن ہیومن رائٹس اینڈ جسٹس تنظیم کے مطابق کشمیر کے صِرف تین اضلاع میں2373 بے نام قبریں موجود ہیں جن میں سے ایک سو چون قبروں میں ایک سے زائد لاشیں دفنائی گئی ہیں ۔یہ انکشا ف پر وفیسر اونگنا چٹر جی نے تنظیم کے دیگر اراکین پرویز امروز، گوتم نولکھا، ظہیرالدین، مِہیر ڈیسائی اور خرم پرویز کے ہمراہ 9 دسمبر 2009 کو ایک پریس کانفرنس میں اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کیا ۔اس رپورٹ کو اونگنا چٹرجی ، پرویز امروز، گوتم نولکھا، ظہیرالدین، مِہیرڈیسائی اور خرم پرویز نے مشترکہ طور تحریرکیا ہے۔ رپورٹ کے ابتدائیہ میں لکھا گیاہے: کشمیر میں بھارتی فوج اور نیم فوجی عملہ فرضی جھڑپوں، حراستی تشدد اور خفیہ قتل کی کاروائیوں میں ملوث رہے ہیں جس کے نتیجہ میں آٹھ ہزار لوگ لاپتہ ہوگئے ہیں اور ستّر ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

جموں کشمیر ہیومن رائٹس کمیشن کے سربراہ بشیر احمد یتو نے 2011اگست میں اپنی رپورٹ حکومت جموں وکشمیر؂ پیش کی جس کے مطابق شمالی کشمیر کے علاقوں کپواڑہ، ہندواڑہ اور بانڈی پورہ کے 35 مقامات پر 2156 افراد کی نہ صرف گمنام بلکہ اجتماعی قبروں کا سراغ ملا ہے۔ ان مقامات پر اٹھارہ گڑھا نما قبروں میں ایک سے زیادہ افراد کے دفن ہونے کا پتا چلا ہے، گویا کہ ان گڑھوں میں اجتماعی طور پر کئی افراد دفن کیے گئے ہیں ۔معروف کشمیری خاتون قلمکار سوزینہ مشتاق اس ساری جدوجہد کا خلاصہ اپنی ایک تحریر”Happy Indepenence Day” میں یوں بیان کرتی ہیں کہ ” تحریک آزادی کشمیر کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔جدجہد آزادی میں اتار چڑھاؤ آسکتے ہیں لیکن یہ تحریک منزل تک پہنچ کر ہی دم لے گی۔جب ہم نے آپ کی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف احتجاج کیا،جب ہم نے آپ کے جابرانہ اور استبدادی اقتدار اعلیٰ کے خلاف آواز اٹھائی ،جب ہم نے ظلم سہنے سے انکار کیا،جب ہم نے اپنی آزادی کا مطالبہ کیا،تو آپ کی فوج نے بڑی سفاکی سے ہمارا خون بہایا۔ کشمیر کے چپے چپے میں آپ نے ظلم و زیادتی کی انتہا کردی۔حد یہ کہ بچوں تک کو بھی اس سفاکیت کا شکار بننا پڑا۔جب آپ کی سرزمین کے لوگوں نے برطانوی راج کے خلاف آواز بلند کی ،آپ نے انہیں آزادی کے مجاہد قرار دیا۔انہیں اپنا ہیرو تسلیم کیا۔لیکن جب ہم نے اپنی سرزمین میں وہی آواز بلند کی تو آپ نے نئی بولی بولنی شروع کردی۔آپ نے ہمارے شہیدوں کو غدار،ہمارے مجاہدین کو انتہا پسند اور بنیاد پرست،اورہماری تحریک کو خبط و جنوں کے دورے سے تشبیہ دے کر،پاگل پن قرار دیا۔لیکن آپ ناکام ہوگئے۔آپ ہماراعزم و ہمت توڑنے میں با لکل ناکام رہے۔ پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر ظالمانہ اور کالے قوانین کے ذریعے ہماری آرزوں اور تمناوں کو دبانے میں قطعی ناکام رہے۔دفعہ144کے نفاذاور بل کھاتی ہوئی خار دارتاریں ہمارے ظاہری وجود کو حرکت کرنے سے شاید روک سکیں ،لیکن ہمارے خیالات و احساسات کو کوئی رکاوٹ روک نہیں سکتی۔ دنیا کی کوئی طاقت ہمارے احساسات اور خیالات ہم سے چھین نہیں سکتی۔آپ بہت ہی بری طرح ناکام ہوگئے۔بات جہاں درمیان میں رکی تھی ،وہ بعد میں بھی پھر کہی جاسکتی ہے۔ ہم دوبارہ کسی بھی وقت اس موضوع کو وہیں سے پھر شروع کرسکتے ہیں ،جہاں ہم نے اسے وقفہ دیا تھا۔دو سو سال کی غلامی کے بعد آپ نے آزادی حاصل کی۔۔۔ہم بھی اپنی آزادی حاصل کرلیں گے۔کہا جاتا ہے نا۔۔امید تو رکھنی چاہیے اور خواب کبھی مرتے نہیں۔۔ ہم خواب بھی دیکھتے رہیں گے اور امید کا دامن بھی نہیں چھوڑیں گے”

حقیقت حال بھی یہی ہے کہ کشمیر غلامی کی آگ میں جھلس رہا ہے ۔اور جب تک یہ جنت ارضی اس آگ میں جلتی رہے گی کشمیری قوم کا سفر بھی جاری رہے گا ۔سعادت کا سفر ،شہادت کا سفر ختم نہیں ہو گا۔سو کشمیریوں کا سفر آج بھی جاری ہے اور تب تک جاری رہے گا جب تک کہ کشمیریوں کو آزادی سے رہنے ،جینے اور سر اٹھاکے چلنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔


متعلقہ خبریں


ہانگ کانگ ،حکومت مخالف مظاہرے ، پولیس سے جھڑپیں وجود - اتوار 17 نومبر 2019

ہانگ کانگ میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آ گئی، مظاہرین اور پولیس جھڑپوں کے دوران متعد افراد زخمی ہو گئے ۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جمہوریت کے حامی صبح ہی سڑکوں پر آ گئے اورحکومت مخالف مظاہرہ کیا، سکیورٹی اہلکاروں نے آنسو گیس کے شیل پھینکے تو مظاہرین نے بھی پٹرول بم سے پولیس کو ضرب لگائی، نوجوانوں نے آنسو گیس سے بچنے کے لیے ہیلمٹ اور ماسک پہن رکھے تھے ، انہوں اپنے دفاع کے لیے چھتریاں بھی اٹھا رکھی تھیں جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین پٹ...

ہانگ کانگ ،حکومت مخالف مظاہرے ، پولیس سے جھڑپیں

اسرائیلی بمباری سے غزہ میں نصف ملین ڈالر کا نقصان وجود - اتوار 17 نومبر 2019

اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جارحیت کے نتیجے میں نصف ملین ڈالر کا معاشی خسارے کا سامنا کرنا پڑا ۔فلسطینی وزارت محنت وافرادی قوت کے سیکرٹری ناجی سرحان نے بتایا کہ گذشتہ تین روز تک جاری رہنے والی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں فلسطینی مکانات اور عمارتوں کے ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ نصف ملین ڈالر لگایا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی کی طرف سے غزہ کی پٹی میں مزاحمتی مراکز کے علاوہ زرعی املاک، پالتو مویشیوں کے فارموں، بحری مقاصد میں استعمال ہونے والی عمارتو...

اسرائیلی بمباری سے غزہ میں نصف ملین ڈالر کا نقصان

امریکا کا جاپان سے فوجی اڈوں کیلئے مزید ادائیگی کا مطالبہ وجود - اتوار 17 نومبر 2019

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جاپان سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں امریکی فوجی اڈوں کے اخراجات کا پہلے سے زیادہ حصہ برداشت کرے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جولائی میں اس وقت کے امریکی سلامتی مشیر جان بولٹن نے اپنے دورہ جاپان کے دوران جاپانی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ موجودہ سالانہ اخراجات کا تقریبا 4 گنا ادا کیا کرے ۔اس کا مطلب موجودہ 2 ارب ڈالر سالانہ کی بجائے 8 ارب ڈالر سالانہ ادائیگی ہے ۔فوجی اڈوں کے اخراجات میں جاپان کے حصے کے معاملے پر دونوں ممالک میں دوبارہ مذاکرات...

امریکا کا جاپان سے فوجی اڈوں کیلئے مزید ادائیگی کا مطالبہ

پندرہ برسوں میں تین کروڑ سے زائد افراد خط غربت سے نکل گئے وجود - هفته 16 نومبر 2019

پاکستان میں 2000ء سے 2015ء تک غربت میں واضح کمی ہوئی اور ملک میں 4 کروڑ 14 لاکھ افراد میں سے 3 کروڑ 38 لاکھ افراد خط غربت سے نکل گئے۔2000ء سے 2015ء کے دوران غربت کو کم کرنے میں جن15 ممالک نے انقلابی اقدامات کیے ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔غربت کی شرح میں سالانہ کمی کے اقدامات کے حوالے سے دنیا کے114ممالک میں پاکستان 14ویں نمبر پر آگیا۔ 2001ء میں پاکستان کی 28.6 فیصد فیصد آبادی انتہائی غربت زدہ زندگی گزارتی تھی، جس میں سالانہ 1.8 فیصد کمی ہوئی اور یوں 4 کروڑ 14 لاکھ افراد میں ...

پندرہ برسوں میں تین کروڑ سے زائد افراد خط غربت سے نکل گئے

ہالینڈ کا نوسالہ بچہ لارینٹ سائمنس دْنیا کا کم عمر ترین گریجویٹ بن جائیگا وجود - هفته 16 نومبر 2019

ایمسٹرڈم سے تعلق رکھنے والا 9 سالہ لارینٹ سائمنس رواں سال دسمبر میں ایندھوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرکے دْنیا کا کم عْمر ترین گریجویٹ بن جائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈم سے تعلق رکھنے والا لارینٹ سائمنس ایک باصلاحیت بچہ ہے جوصرف 9 سال کی عْمر میں الیکٹریکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرکے دْنیا کا کم عْمر ترین گریجویٹ بننے کے لیے تیار ہے۔

ہالینڈ کا نوسالہ بچہ لارینٹ سائمنس دْنیا کا کم عمر ترین گریجویٹ بن جائیگا

آسٹریلین ہوائی کمپنی کی انیس گھنٹے کی طویل پرواز کا کامیاب تجربہ وجود - هفته 16 نومبر 2019

آسٹریلیا کی ہوائی کمپنی قنطاس نے لندن سے ساڑھے انیس گھنٹے کی نان اسٹاپ پرواز کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ پرواز لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ سے جمعرات کی صبح روانہ ہوئی اور بغیر کہیں اترے سڈنی کے ہوائی اڈے پر جمعے کی دوپہر پہنچی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس پرواز کے لیے بوئنگ 787-9 کو استعمال کیا گیا۔ اس پرواز نے ساڑھے انیس گھنٹے میں سترہ ہزار آٹھ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ قنطاس اگلے برسوں میں لندن اور نیویارک کے لیے بغیر کسی اسٹاپ کے پروازیں شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہ...

آسٹریلین ہوائی کمپنی کی انیس گھنٹے کی طویل پرواز کا کامیاب تجربہ

اسرائیلی سفارت کارکی آمد پرہارورڈ یونیورسٹی کے طلباء کا احتجاج وجود - هفته 16 نومبر 2019

امریکی ریاست ماسا چیوسٹس میں قائم ہارورڈ یونیورسٹی کے کالج برائے حقوق کے طلباء نے نیویارک میں تعینات اسرائیلی قونصل جنرل کی تقریر کے لیے آمد پرطلباء نے احتجاج کیا اور بہ طور احتجاج انہوں نے صہیونی سفارت کار کا بائیکاٹ کیا۔غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی سفارت کار ڈانی ڈایان کو فلسطین میں یہودی بستیوں کے حوالے سے اسرائیلی حکمت عملی پر تقریر کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔سماجی کارکنوں اور طلباء نے اسرائیلی سفارت کار کے بائیکاٹ اوراس کے بعد احتجاجی مظاہرے کی تصاویر اور ویڈی...

اسرائیلی سفارت کارکی آمد پرہارورڈ یونیورسٹی کے طلباء کا احتجاج

بھارت میں بچھو والی درگاہ کا معجزہ،زائرین کاتانتابندھ گیا وجود - هفته 16 نومبر 2019

بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک ایسی درگاہ موجود ہے جہاں بچھو پائے جاتے ہیںلیکن یہ بچھو کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر امروہہ میں واقع درگاہ پوری ریاست اتر پردیش اور اترکھنڈ میںبچھو والی درگاہ کے نام سے مشہور ہے، اس درگاہ پر ہر مذہب کے لوگ اپنی مرادیں لے کر آتے ہیں اور دعائیں اور منتیں مانگتے ہیں، اس درگاہ پر زائرین کا تانتا لگا رہتا ہے۔ایک ر پورٹ کے مطابق اس درگاہ کی خاص بات یہ ہے کے درگاہ پر رہنے والے بچھو انسانوں کو نہیں کاٹتے...

بھارت میں بچھو والی درگاہ کا معجزہ،زائرین کاتانتابندھ گیا

چین 2020ء میں مریخ پر پہنچ جائے گا وجود - هفته 16 نومبر 2019

چین نے 2020ء میں مریخ پر لینڈ کرنے کا اعلان کر دیا اور بتایا ہے کہ اس سلسلے میں تجربہ بھی کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق چین کے نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ چین 2020ء میں مریخ پر مشن بھیجنے والا ہے جس کے سلسلے میں صوبے ہیبائی میں مریخ پر پہلا غیر انسانی مشن بھیجنے کے تجربے میں اہم کامیابی ملی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مریخ پر پہنچنے کے لیے مشن کو 7 ماہ کا عرصہ درکار ہو گا، جب کہ صرف 7 منٹ میں مریخ پر لینڈنگ عمل میں آ جائے گی۔سربرا...

چین 2020ء میں مریخ پر پہنچ جائے گا

امریکا میں خاتون وکیل سے حلف لیتے ہوئے جج کا انوکھا قدم،ویڈیووائرل وجود - هفته 16 نومبر 2019

سوشل میڈیا پر ایک خاتون وکیل کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں حلف لینے والے جج نے خاتون کا بچہ گود میں اٹھایا ہوا ہے۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر موجود اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکا کی ٹینیسی کورٹ آف اپیل کے جج رچرڈز ڈنکنز نے ٹینیسی بار کی وکیل جولیانا لامر ٹینیسی سے حلف لیتے ہوئے انہی کے ایک سالہ بیٹے کو بھی گود میں لیا ہوا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو جولیا لامر کے لاء اسکول کی ایک ساتھی سارہ مارٹن نے آن لائن شیئر کی جس کے بعد اب اس کا دنیا بھر میں چرچا ہ...

امریکا میں خاتون وکیل سے حلف لیتے ہوئے جج کا انوکھا قدم،ویڈیووائرل

مقبوضہ کشمیر،سیاحوں کی آمد میں 88فیصد کمی وجود - جمعرات 14 نومبر 2019

کشمیر میں غیر اعلانیہ ہڑتال اور غیر یقینی صورتحال کے سبب ہر برس کشمیر آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے ۔شہرہ آفاق سیاحتی مقامات پہلگام، گلمرگ، اور سونہ مرگ میں سال کے آخر میں غیر ملکی سیاحوں کا تانتا بندھارہتا تھا لیکن آج یہ مقامات سنسان ہیں۔محکمہ سیاحت کی جانب سے موصولہ اعداد و شمار کے مطابق 2018کے مقابلے میں رواں برس سیاحوں کی آمد میں 88.41 فیصد کمی نوٹ کی گئی ہے ۔محکمہ سیاحت کے ایک اعلی افسررشید احمد کے مطابق مواصلاتی نظام پر پابندیوں اور غیر یق...

مقبوضہ کشمیر،سیاحوں کی آمد میں 88فیصد کمی

فلسطینی مزیدصدمے سہنے کے لیے تیار رہے،اسرائیلی وزیراعظم کی دھمکی وجود - جمعرات 14 نومبر 2019

انتہا پسند اسرائیلی وزیر بنیامین نیتن یاہو نے غزہ سے تعلق رکھنے والی فلسطینی مزاحمتی تنظیم جہادِ اسلامی کو خبردار کیا ہے کہ وہ راکٹ حملے روک دے ،ورنہ وہ مزید صدموں کو سہنے کے لیے تیار رہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ انھیں (جہادِ اسلامی کو) حملے روکنے یا صدمے سہنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔انھوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کسی رحم کے بغیر ان حملوں کا جواب دے گا۔

فلسطینی مزیدصدمے سہنے کے لیے تیار رہے،اسرائیلی وزیراعظم کی دھمکی