وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مقبوضہ کشمیر۔۔۔۔۔ ریاستی دہشت گردی کے کئی روپ

جمعه 04 دسمبر 2015 مقبوضہ کشمیر۔۔۔۔۔ ریاستی دہشت گردی کے کئی روپ

kashmir-azadi-freedom

ایک طرف بھارت سرکار نے فوج ،بی ایس ایف اور دیگر نیم فوجی تنظیوں کوافسپا(AFSPA) کے نام پر کشمیریوں کو کچلنے کیلئے کھلی چھوٹ دیدی ہے ،وہیں دوسری طرف ریاستی دہشت گردی کے مختلف طریقے بھی ایجاد کئے گئے ،ان میں منحرف بندوق برداروں کی تنظیمیں قائم کرنا،مسلم اکثریتی علاقوں کے ترقیاتی فنڈز اور سرکاری نوکریوں میں امتیاز برتنا شامل ہے۔بھارتی سراغ رساں ایجنسی را نے 1994 میں شمالی کشمیر میں’’ کوکہ پرے ‘‘کی قیادت میں اخوان المسلمین سے وابستہ یوسف پرے (المعروف کوکہ پرے المعروف جمشید شیرازی) کی قیادت میں منحرف بندوق برداروں کا ایک گروپ تشکیل دیا ، جس کا نام اخوان المسلمون رکھا گیا۔اسی طرح جنوبی کشمیر میں ’’نبہ آزاد‘‘ نامی منحرف بندوق بردار کی قیادت میں ایسا ہی ایک گروہ مسلم مجاہدین کے نام سے منظم کیا گیا ،چونکہ ان گروہوں سے وابستہ افراد کا تعلق مجاہدین تنظیموں سے ہی تھا ،اس لئے یہ ہر ایک تحریکی ہمدرد اور کارکن سے واقف تھے ۔گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مترادف ،ان لوگوں نے ایسا طوفان بدتمیزی مچایا کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔فوج کی چھتر چھایا میں ان لوگوں کے ہاتھوں نہ صرف مجاہدین شہید ہوتے رہے بلکہ عام کشمیری بھی ان کے ظلم و ستم سے محفوظ نہ رہ سکے۔بھارتی فوج کا کام انہوں نے آسان بنا دیا ،اب فوج اور بی ایس ایف کے بجائے ہر الزام منحرف بندوق برداروں کے کھاتے میں پڑنے لگا۔ان سرکار نواز بندوق برداروں کی کارروائیاں نوے کی دہائی کے اختتام تک جاری رہیں۔

نوے کی دہائی کے وسط میں ان کا سکہ ریاست میں ہر جانب سے چل رہا تھا۔ قانون ، حکومت، ایوان اْن کے اشاروں پر کام کرتے تھے، سرکاری و غیر سرکاری تمام شعبہ جات میں اِن منحرف لوگوں کا اس حد تک عمل دخل تھا کہ عام انسان خوف اور دہشت کے مارے کہیں سے بھی انصاف کی امید نہیں کرتا تھا۔اِن منحرف بندوق برداروں کی نہ صرف فوج اور نیم فوجی ایجنسیاں اْن کی تمام غیراخلاقی، غیر انسانی و غیر قانونی کارروائیوں کی پشت پناہی کرر ہی تھیں،بلکہ حکومتِ وقت مہربان تھی اور اْنہیں وہ سب کرنے کی کھلی اجازت ہوتی تھی جس کی اجازت جنگل کا قانون بھی نہیں دے سکتا ہے۔ درجنوں ادیب ،دانشور،سیاسی کارکن اِن سرکاری بندوق برداروں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔کپواڑہ سے کشتواڑ تک ہزاروں بیگناہوں کا قتل عام کیا گیا، اغوا کاری کر کے تاوان وصول کرنا عام بات بن چکی تھی، ملّت کی کتنی ہی ایسی بدنصیب بیٹیاں ہیں جو جرائم کے اِن کالے بھیڑیوں کے ہتھے چڑھ گئی ہیں، کم ہی ایسے ذی عزت لوگ ہوں گے جو اْن کی تذلیل سے بچے ہوں گے، دیہات سے ہزاروں خاندانوں کی ہجرت کا بنیادی سبب یہی سرکاری بندوق بردار رہے ہیں۔ان گھر کے بھیدیوں کے ہاتھوں اپنے ہی لوگوں کے خلاف تاریخ نے اتنا ظلم و ستم اپنے اوراق میں سمیٹ لیا ہے کہ قیامت تک اِس قوم کی آنے والی نسلیں اْنہیں بد دعائیں ہی دیں گی۔

کریسنٹ آن لائن کے مطابق 1989ء سے 2009 تک 100000 کشمیری جاں بحق ہوئے ہیں ،جن میں 92,906لوگ عام شہروں ،گلیوں ،کوچوں اور گھروں کے اندر شہید ہوئے ہیں ۔شہید ہونیوالوں میں خواتین کی تعداد 2278ہے۔

ریاست جموں و کشمیر کے طول وعرض میں سب سے زیادہ جماعت اسلامی سے وابستہ لوگ اِن کے ظلم و ستم کا شکار ہو ئے ہیں، اس تنظیم کے850 سے زائد ارکان و رہنماؤں کو انہی بندوق برداروں نے موت کے گھاٹ اْتار دیا، کپواڑہ ضلع میں1995ء کی ایک ہی رات میں30 سے زائد جماعت سے وابستہ یا اس تنظیم سے ہمدردی رکھنے والوں کو مختلف مقامات پر ابدی نیند سْلا دیا گیا۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اِنRenegades نے بھارتی فورسز کی سرپرستی میں ایسے سیاہ کارنامے انجام دئیے جس کا احسان ان کے آقاؤں کی کئی پشتوں پر رہے گا۔

ترقیاتی فنڈز میں امتیاز

2001 ء کی مردم شماری کے مطابق صوبہ کشمیر کی آبادی 5467970 ،جموں صوبے کی آبادی 4430191اور صوبہ لداخ کی آبادی 236539ہے۔لیکن2008ء کے وزیراعظم کے خصوصی پیکیج 29000کروڑ روپے میں سے صوبہ کشمیر کیلئے 6447کروڑ(22%)،صوبہ جموں کیلئے12530کروڑ(43%) اور صوبہ لداخ کیلئے 2804کروڑ(9.67%)فراہم کئے گئے۔باقی رقم اسٹیٹ لیول سیکٹرز کو فراہم کی گئی۔حالانکہ آبادی کے تناسب سے کشمیر صوبے کا حصہ (54%)بنتا ہے۔جموں اور لداخ کا بالترتیب 43.7%اور2.3% حصہ بنتا ہے۔اسی طرح 5000کروڑصنعتی پیکیج کی رقم جو ریاست کو فراہم کی گئی کا صرف 10%حصہ صوبہ کشمیر میں خرچ کیا گیا۔اس طرح مسلم آبادی کو نظر انداز کرکے ان میں معاشی بدحالی کو فروغ دے کر انہیں پائی پائی کا محتاج بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پرائم منسٹرز پیکیج (امتیازی برتاؤ) جدول(1)

سال 2001ء لداخ جموں ڈویژن کشمیر ڈویژن
کل آبادی 236539 4430191 5467970
ترقیاتی فنڈ 2804 کروڑ (9.67 فیصد) 12530 کروڑ (43 فیصد) 6447 کروڑ (22 فیصد

مرکزی اور ریاستی انتظامی محکموں میں بھی ایسا ہی حال ہے۔2005ء میں سچر کمیٹی کے سامنے جو رپورٹ ریاستی سرکار نے پیش کی ،اس کے مطابق انڈین ایڈ منسٹریٹو سروسز میں ریاستی افسران کی تعداد کل 94ہے،جن میں سے کشمیرڈویژن سے صرف 24افسران ہیں۔ باقی سب کا تعلق جموں ڈویژن سے ہے۔اسی طرح کشمیر ایڈ منسٹریٹو سروسز میں 2001ء سے 2008ء تک 478تھی جن میں صرف 106کا تعلق کشمیرڈویژن سے ہے اور 360کا تعلق جموں ڈویژن سے ہے۔یہ بات صرف KASافسران تک محدود نہیں بلکہ 2008ء میں سروسز سلیکشن بورڈ نے 429 ا کاونٹساسسٹنٹ اسامیوں کی بھرتی کی جن میں وادی سے صرف 95 ا کاونٹس اسسٹنٹ لئے گئے ،جبکہ جموں ڈویژن سے 334امیدواروں کا انتخاب کیا گیا۔ اورجن میں مسلم طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

ملازمتوں میں امتیاز ۔۔۔۔۔(جدول2)

سال 2008ء آئی اے ایس افسران کے اے ایس افسران
2001ء سے 2008ء
اکاؤنٹس اسسٹنٹ
2008ء (تقرریاں
کل تعداد 94 478 429
کشمیر ڈویژن 24 106 95
جموں ڈویژن 70 360 334

اس طرح کے امتیاز سے کشمیریوں کی محرومیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح بھارت نہ صرف فوجی طاقت سے ان کو زیر نگین رکھنا چاہتا ہے بلکہ معاشی لحاظ سے بھی انہیں کنگال کرکے ،در در کی بھیک مانگنے کے بھیانک عزائم رکھتا ہے تاکہ وہ دماغ سے سوچنے کے بجائے پیٹ سے سوچنے کا طریقہ اختیار کریں ۔

ریاستی دہشت گردی اعداد شمار کے آئینے میں

بین الاقوامی اور قومی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی فورسز نے تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کیلئے طاقت کا بھر پور استعمال کیا ،اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔کرسچین سائنس مانیٹر کے مطابق ،پچھلے بیس برسوں میں60000سے 100000لاکھ بچے یتیم ہوئے ہیں۔کریسنٹ آن لائن کے مطابق 1989ء سے 2009 تک 100000 کشمیری جاں بحق ہوئے ہیں ،جن میں 92,906لوگ عام شہروں ،گلیوں ،کوچوں اور گھروں کے اندر شہید ہوئے ہیں ۔شہید ہونیوالوں میں خواتین کی تعداد 2278ہے۔

1989ء سے جولائی 2009ء تک (جدول 3)

کل شہدا 100000
زیر حراست شہادتیں 6559
خواتین کی بے حرمتی 9885
یتیم بچے 107262
بیوہ عورتیں 23000
شہری گرفتار 11633

معروف نیوز ایجنسی ،کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کے اعداد شمار کے مطابق جنوری 1989ء سے 31,اکتوبر 2015ء تک 94,273 کشمیری شہید ہوئے ہیں ،جن میں 7,038لوگ زیر حراست شہید کئے گئے ہیں ۔

جنوری 1989سے 31,اکتوبر 2015ء تک(جدول4) کشمیر میڈیا سنٹر

کل شہادتیں 94,273
زیر حراست شہادتیں 7,038
خواتین کی بے حرمتی 10,159
یتیم بچے 107,545
بیوہ عورتیں 22,806
شہری گرفتار 131,212
مکانات و تعمیرات خاکستر 106,050

لا پتہ لوگوں کے ورثاء کی تنظیم اے پی ڈی پی (Association of Parents of Disappeared Persons )کی ایک رپورٹ کے مطابق 1989ء سے اگست 2015تک10000لوگ بھارتی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوکر لا پتہ کردئے گئے ہیں ۔ اے پی ڈی پی ( Association Of Parents Of Disappeared Persons)ان والدین کی تنظیم ہے جن کے بچے ،بھائی یا قریب ترین رشتہ دار ،بھارتی فورسز کے ذریعے گرفتاری کے بعد لاپتہ ہوئے۔جبکہ سری نگر ہائی کورٹ بار ایسو ایشن کے اعداد وشمار کے مطابق 3لاکھ کشمیریوں کو انٹروگیشن سنٹروں اور بھارتی جیلوں میں شدید تعزیب کا نشانہ بنایا گیا۔

انٹرنیشنل پیپلز ٹربیونل آن ہیومن رائٹس اینڈ جسٹس تنظیم کے مطابق کشمیر کے صِرف تین اضلاع میں2373 بے نام قبریں موجود ہیں جن میں سے ایک سو چون قبروں میں ایک سے زائد لاشیں دفنائی گئی ہیں ۔یہ انکشا ف پر وفیسر اونگنا چٹر جی نے تنظیم کے دیگر اراکین پرویز امروز، گوتم نولکھا، ظہیرالدین، مِہیر ڈیسائی اور خرم پرویز کے ہمراہ 9 دسمبر 2009 کو ایک پریس کانفرنس میں اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کیا ۔اس رپورٹ کو اونگنا چٹرجی ، پرویز امروز، گوتم نولکھا، ظہیرالدین، مِہیرڈیسائی اور خرم پرویز نے مشترکہ طور تحریرکیا ہے۔ رپورٹ کے ابتدائیہ میں لکھا گیاہے: کشمیر میں بھارتی فوج اور نیم فوجی عملہ فرضی جھڑپوں، حراستی تشدد اور خفیہ قتل کی کاروائیوں میں ملوث رہے ہیں جس کے نتیجہ میں آٹھ ہزار لوگ لاپتہ ہوگئے ہیں اور ستّر ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

جموں کشمیر ہیومن رائٹس کمیشن کے سربراہ بشیر احمد یتو نے 2011اگست میں اپنی رپورٹ حکومت جموں وکشمیر؂ پیش کی جس کے مطابق شمالی کشمیر کے علاقوں کپواڑہ، ہندواڑہ اور بانڈی پورہ کے 35 مقامات پر 2156 افراد کی نہ صرف گمنام بلکہ اجتماعی قبروں کا سراغ ملا ہے۔ ان مقامات پر اٹھارہ گڑھا نما قبروں میں ایک سے زیادہ افراد کے دفن ہونے کا پتا چلا ہے، گویا کہ ان گڑھوں میں اجتماعی طور پر کئی افراد دفن کیے گئے ہیں ۔معروف کشمیری خاتون قلمکار سوزینہ مشتاق اس ساری جدوجہد کا خلاصہ اپنی ایک تحریر”Happy Indepenence Day” میں یوں بیان کرتی ہیں کہ ” تحریک آزادی کشمیر کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔جدجہد آزادی میں اتار چڑھاؤ آسکتے ہیں لیکن یہ تحریک منزل تک پہنچ کر ہی دم لے گی۔جب ہم نے آپ کی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف احتجاج کیا،جب ہم نے آپ کے جابرانہ اور استبدادی اقتدار اعلیٰ کے خلاف آواز اٹھائی ،جب ہم نے ظلم سہنے سے انکار کیا،جب ہم نے اپنی آزادی کا مطالبہ کیا،تو آپ کی فوج نے بڑی سفاکی سے ہمارا خون بہایا۔ کشمیر کے چپے چپے میں آپ نے ظلم و زیادتی کی انتہا کردی۔حد یہ کہ بچوں تک کو بھی اس سفاکیت کا شکار بننا پڑا۔جب آپ کی سرزمین کے لوگوں نے برطانوی راج کے خلاف آواز بلند کی ،آپ نے انہیں آزادی کے مجاہد قرار دیا۔انہیں اپنا ہیرو تسلیم کیا۔لیکن جب ہم نے اپنی سرزمین میں وہی آواز بلند کی تو آپ نے نئی بولی بولنی شروع کردی۔آپ نے ہمارے شہیدوں کو غدار،ہمارے مجاہدین کو انتہا پسند اور بنیاد پرست،اورہماری تحریک کو خبط و جنوں کے دورے سے تشبیہ دے کر،پاگل پن قرار دیا۔لیکن آپ ناکام ہوگئے۔آپ ہماراعزم و ہمت توڑنے میں با لکل ناکام رہے۔ پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر ظالمانہ اور کالے قوانین کے ذریعے ہماری آرزوں اور تمناوں کو دبانے میں قطعی ناکام رہے۔دفعہ144کے نفاذاور بل کھاتی ہوئی خار دارتاریں ہمارے ظاہری وجود کو حرکت کرنے سے شاید روک سکیں ،لیکن ہمارے خیالات و احساسات کو کوئی رکاوٹ روک نہیں سکتی۔ دنیا کی کوئی طاقت ہمارے احساسات اور خیالات ہم سے چھین نہیں سکتی۔آپ بہت ہی بری طرح ناکام ہوگئے۔بات جہاں درمیان میں رکی تھی ،وہ بعد میں بھی پھر کہی جاسکتی ہے۔ ہم دوبارہ کسی بھی وقت اس موضوع کو وہیں سے پھر شروع کرسکتے ہیں ،جہاں ہم نے اسے وقفہ دیا تھا۔دو سو سال کی غلامی کے بعد آپ نے آزادی حاصل کی۔۔۔ہم بھی اپنی آزادی حاصل کرلیں گے۔کہا جاتا ہے نا۔۔امید تو رکھنی چاہیے اور خواب کبھی مرتے نہیں۔۔ ہم خواب بھی دیکھتے رہیں گے اور امید کا دامن بھی نہیں چھوڑیں گے”

حقیقت حال بھی یہی ہے کہ کشمیر غلامی کی آگ میں جھلس رہا ہے ۔اور جب تک یہ جنت ارضی اس آگ میں جلتی رہے گی کشمیری قوم کا سفر بھی جاری رہے گا ۔سعادت کا سفر ،شہادت کا سفر ختم نہیں ہو گا۔سو کشمیریوں کا سفر آج بھی جاری ہے اور تب تک جاری رہے گا جب تک کہ کشمیریوں کو آزادی سے رہنے ،جینے اور سر اٹھاکے چلنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔


متعلقہ خبریں


شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام پر ترک حملے کے بعد امریکا نے ایکشن لیتے ہوئے ترکی پر پابندیاں عائد کردیں جب کہ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ ترکی کی معیشت کو برباد کرنے کیلئے مکمل تیار ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی جانب سے ترکی کی وزارت دفاع اور توانائی پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ ترکی کے دو وزرا اور تین سینئر عہدیداروں پر بھی پابندی لگادی گئی ۔میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ترکی پر عائد کی گئی پابندیاں بہت سخت ہیں جو اس کی معیشت پر بہت زیادہ اثر...

شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

برطانوی ملکہ الزبتھ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا، جنوری 2021 سے یورپی شہریوں کو برطانیہ کا ویزہ درکار ہو گا۔برطانوی ملکہ الزبتھ نے برطانوی پارلیمان سے خطاب کے دوران وزیراعظم بورس جانسن کی طرف سے تیار کیے گئے امیگریشن کے اس قانونی مسودے کو متعارف کرایا ہے جو یورپین یونین سے برطانیہ کی حتمی علیحدگی کے بعد نافذ ہو گا۔اس بل کے تحت یورپی ممالک کے شہریوں کیلئے آزادانہ طور پر برطانیہ آنے جانے کی سہولت جنوری 2021 سے ختم کر دی جائے گی اور ان پر برطانیہ آنے کیلئے ویزے اور دیگر...

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورٹ وورتھ میں میں سفید فام پولیس اہلکار نے ایک سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ فورٹ وورتھ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق گذشتہ روز پولیس آفیسر ایرن ڈین نے علاقہ میں معمول کے گشت کے دوران 28سالہ خاتون کو مشکوک سمجھتے ہوئے اس وقت کھڑکی کے باہر سے فائر کرکے ہلاک کر دیا جب وہ اپنے بھتیجے کے ہمراہ ویڈیو گیم کھیل رہی تھی ، مقا می پولیس نے گھر کے باہر نصب سی سی ٹی وی کیمرہ کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے دو پولیس افسروںکی جانب سے سرچ لائٹ کے ساتھ گھر کی کھڑ...

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام میں کردوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے ترکی کی جانب سے ان کے خلاف جاری کارروائی کو روکنے کے لیے اپنی فوج کو شمالی سرحد پر بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے شام کی غیر مستحکم صورتحال اور وہاں سے اپنی باقی تمام فوج کو نکالنے کے بعد سامنے آیا ہے۔اس سے قبل شام کے سرکاری میڈیا نے بتایا تھا کہ فوج کو شمال میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ترکی کی جانب سے کردوں کے خلاف کی جانے والی اس کارروائی کا مقصد کرد افواج کو اس سرحدی علاقے سے نکالنا ہے۔ برطانیہ میں قائم سیرین آبزرو...

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ

تْرکی کا شام میں اہم تزویراتی شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے سیرین آبزر ویٹری فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام کے شہر راس العین میں ترکی کے فضائی حملے میں شہریوں اور صحافیوں سمیت نو افراد ہلاک ہو گئے۔آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبد الرحمن نے بتایا کہ یہ حملہ شمالی شام کے علاقے القاشملی سے راس العین میں یکجہتی کے لیے آنے والے ایک گروپ پر کیا گیا۔شام میں کردوں کی نمایندہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز'ایس ڈی ایف' کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ترکی کے جنگی طیاروں نے "سویلین قافلے" پر حمل...

تْرکی کا شام میں اہم تزویراتی شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ

اویغور مسلمان‘ چین میں لاپتہ جغرافیہ کے پروفیسر کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

2017 تک تاشپولات طیپ ایک جانے پہچانے معلم اور سنکیانگ یونیورسٹی کے سربراہ تھے، ان کے دنیا بھر میں رابطے تھے جبکہ انھوں نے فرانس کی مشہور پیرس یونیورسٹی سے اعزازی ڈگری بھی حاصل کر رکھی تھی۔لیکن اسی برس وہ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے لاپتہ ہو گئے اور اس حوالے سے چینی حکام مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ان کے دوستوں کا خیال ہے کہ پروفیسر طیپ کو علیحدگی کی تحریک چلانے کا ملزم قرار دیا گیا، ان پر خفیہ انداز میں مقدمہ چلا اور بعدازاں اس جرم کی پاداش میں انھیں سزائے موت دے دی گئی۔پروف...

اویغور مسلمان‘ چین میں لاپتہ جغرافیہ کے پروفیسر کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا

ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید بھاری ووٹوں سے تیونس کے نئے صدر منتخب وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

تیونس میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے میں قانون کے ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید نے اپنے حریف نبیل القروی کو واضح اکثریت سے شکست دے دی ہے اور وہ ملک کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔قبل ازیں تیونس کے موزیق ایف ریڈیو نے پولنگ کمپنی امرود کے ایگزٹ پول کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ صدارتی امیدوار قیس سعید نے 72.53 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ایک اور فرم سگما کنسلٹنگ کے ایگزٹ پول کے مطابق آزاد امیدوار قیس سعید نے اپنے حریف کے مقابلے میں بھاری ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے اور ...

ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید بھاری ووٹوں سے تیونس کے نئے صدر منتخب

کیلی فورنیا میں جانوروں کی پوستین سے بنی چیزوں پر پابندی وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

کیلیفورنیا امریکہ کی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں جانوروں کی پوستین یعنی بال والی کھال سے بنی چیزوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اس امریکی ریاست کے شہری اب سنہ 2023 سے کھال سے بنے کپڑے، جوتے اور ہینڈ بیگز کی خرید و فروخت نہیں کر سکیں گے۔جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔ وہ گذشتہ کچھ عرصے سے اس پابندی کا مطالبہ کر رہے تھے۔اخبار سان فرانسیسکو کرانیکل کے مطابق یہ قانون چمڑے اور گائے کی کھالوں پر لاگو نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے ہرن، بھیڑ اور بکرے کی کھالوں کی خرید...

کیلی فورنیا میں جانوروں کی پوستین سے بنی چیزوں پر پابندی

پنجاب بھر میں غیرت کے نام پر 8 سال میں 2400 سے زائد افراد قتل ہوئے وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

پنجاب میں غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، 2011 سے 2018 کے دوران صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 2 ہزار 424 افراد غیرت کی بھینٹ چڑھے۔پنجاب پولیس کی جانب سے مرتب شدہ اعداد و شمار کے مطابق فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیگ سنگھ اور چنیوٹ کے علاقوں پر مشتمل فیصل آباد ریجن غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں میں سر فہرست رہا جہاں گزشتہ آٹھ سال کے دوران 527 افراد کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ سرگودھا ریجن میں سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور بھکر کے علاقے شامل ہیں، 338 مقدمات کے س...

پنجاب بھر میں غیرت کے نام پر 8 سال میں 2400 سے زائد افراد قتل ہوئے

حدیقہ کیانی نے اپنی طلاق کی وجہ بتادی وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

خوش شکل اور خوش لباس حدیقہ کیانی کا شمار پاکستان میں پاپ موسیقی کی گنی چنی کامیاب گلوکارائوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے ہم عصر مرد گلوکاروں کو فن کے میدان میں بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ حدیقہ کیانی نے ایک انٹرویو میں اپنی نجی زندگی سے متعلق بھی اہم انکشافات کیے۔روایتی آلات موسیقی اور جدید میوزک کے دلآویز امتزاج سے گلوکارہ حدیقہ کیانی 1995ء سے 2017ء تک مسحور کن آواز اور مدھر دھنوں سجے اپنے البمز ’راز، روشنی، رنگ، رف کٹ، آسمان اور وجد‘ سے اپنے مداحوں کے دلوں پر راج کر رہی ہیں۔نفسیا...

حدیقہ کیانی نے اپنی طلاق کی وجہ بتادی

آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے ،خالد مقبول صدیقی وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے کہاہے آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے،اگر سندھ میں معاملات ٹھیک نہ ہوئے تو یہ آخری آپشن ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے نجی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جمہوری اقدار میں ہر ایک کو احتجاج کا حق ہے،اس وقت حکومت دنیا بھر میں کشمیریوں کے حقوق اور آزادی کا مقدمہ لڑ رہی ہے،ان تمام معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کو دھرنا نہیں دینا چاہیئے،مولاناکواپنے ف...

آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے ،خالد مقبول صدیقی

فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،وکیل وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،موکل نے کسی معززجج کیخلاف تعصب یاذاتی عناد کاالزام نہیں لگایا، فل کورٹ اورالگ ہونے والے ججز پرکوئی اعتراض نہیں، اعلی عدلیہ کے ججز پر دبائو ڈالنا اس کیس کی جان ہے، لندن کا پہلا فلیٹ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے 2004 میں لیا، پہلا فلیٹ خریدنے کے پانچ سال بعد جسٹس قاضی فائز عیسی جج بنے، دوسرا اور تیسرا فلیٹ 2013 میں ج...

فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،وکیل

مضامین
تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔
َِ(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔<BR> َِ(علی عمران جونیئر)

خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود پیر 30 ستمبر 2019
خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

اشتہار