وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مقبوضہ کشمیر۔۔۔۔۔ ریاستی دہشت گردی کے کئی روپ

جمعه 04 دسمبر 2015 مقبوضہ کشمیر۔۔۔۔۔ ریاستی دہشت گردی کے کئی روپ

kashmir-azadi-freedom

ایک طرف بھارت سرکار نے فوج ،بی ایس ایف اور دیگر نیم فوجی تنظیوں کوافسپا(AFSPA) کے نام پر کشمیریوں کو کچلنے کیلئے کھلی چھوٹ دیدی ہے ،وہیں دوسری طرف ریاستی دہشت گردی کے مختلف طریقے بھی ایجاد کئے گئے ،ان میں منحرف بندوق برداروں کی تنظیمیں قائم کرنا،مسلم اکثریتی علاقوں کے ترقیاتی فنڈز اور سرکاری نوکریوں میں امتیاز برتنا شامل ہے۔بھارتی سراغ رساں ایجنسی را نے 1994 میں شمالی کشمیر میں’’ کوکہ پرے ‘‘کی قیادت میں اخوان المسلمین سے وابستہ یوسف پرے (المعروف کوکہ پرے المعروف جمشید شیرازی) کی قیادت میں منحرف بندوق برداروں کا ایک گروپ تشکیل دیا ، جس کا نام اخوان المسلمون رکھا گیا۔اسی طرح جنوبی کشمیر میں ’’نبہ آزاد‘‘ نامی منحرف بندوق بردار کی قیادت میں ایسا ہی ایک گروہ مسلم مجاہدین کے نام سے منظم کیا گیا ،چونکہ ان گروہوں سے وابستہ افراد کا تعلق مجاہدین تنظیموں سے ہی تھا ،اس لئے یہ ہر ایک تحریکی ہمدرد اور کارکن سے واقف تھے ۔گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مترادف ،ان لوگوں نے ایسا طوفان بدتمیزی مچایا کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔فوج کی چھتر چھایا میں ان لوگوں کے ہاتھوں نہ صرف مجاہدین شہید ہوتے رہے بلکہ عام کشمیری بھی ان کے ظلم و ستم سے محفوظ نہ رہ سکے۔بھارتی فوج کا کام انہوں نے آسان بنا دیا ،اب فوج اور بی ایس ایف کے بجائے ہر الزام منحرف بندوق برداروں کے کھاتے میں پڑنے لگا۔ان سرکار نواز بندوق برداروں کی کارروائیاں نوے کی دہائی کے اختتام تک جاری رہیں۔

نوے کی دہائی کے وسط میں ان کا سکہ ریاست میں ہر جانب سے چل رہا تھا۔ قانون ، حکومت، ایوان اْن کے اشاروں پر کام کرتے تھے، سرکاری و غیر سرکاری تمام شعبہ جات میں اِن منحرف لوگوں کا اس حد تک عمل دخل تھا کہ عام انسان خوف اور دہشت کے مارے کہیں سے بھی انصاف کی امید نہیں کرتا تھا۔اِن منحرف بندوق برداروں کی نہ صرف فوج اور نیم فوجی ایجنسیاں اْن کی تمام غیراخلاقی، غیر انسانی و غیر قانونی کارروائیوں کی پشت پناہی کرر ہی تھیں،بلکہ حکومتِ وقت مہربان تھی اور اْنہیں وہ سب کرنے کی کھلی اجازت ہوتی تھی جس کی اجازت جنگل کا قانون بھی نہیں دے سکتا ہے۔ درجنوں ادیب ،دانشور،سیاسی کارکن اِن سرکاری بندوق برداروں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔کپواڑہ سے کشتواڑ تک ہزاروں بیگناہوں کا قتل عام کیا گیا، اغوا کاری کر کے تاوان وصول کرنا عام بات بن چکی تھی، ملّت کی کتنی ہی ایسی بدنصیب بیٹیاں ہیں جو جرائم کے اِن کالے بھیڑیوں کے ہتھے چڑھ گئی ہیں، کم ہی ایسے ذی عزت لوگ ہوں گے جو اْن کی تذلیل سے بچے ہوں گے، دیہات سے ہزاروں خاندانوں کی ہجرت کا بنیادی سبب یہی سرکاری بندوق بردار رہے ہیں۔ان گھر کے بھیدیوں کے ہاتھوں اپنے ہی لوگوں کے خلاف تاریخ نے اتنا ظلم و ستم اپنے اوراق میں سمیٹ لیا ہے کہ قیامت تک اِس قوم کی آنے والی نسلیں اْنہیں بد دعائیں ہی دیں گی۔

کریسنٹ آن لائن کے مطابق 1989ء سے 2009 تک 100000 کشمیری جاں بحق ہوئے ہیں ،جن میں 92,906لوگ عام شہروں ،گلیوں ،کوچوں اور گھروں کے اندر شہید ہوئے ہیں ۔شہید ہونیوالوں میں خواتین کی تعداد 2278ہے۔

ریاست جموں و کشمیر کے طول وعرض میں سب سے زیادہ جماعت اسلامی سے وابستہ لوگ اِن کے ظلم و ستم کا شکار ہو ئے ہیں، اس تنظیم کے850 سے زائد ارکان و رہنماؤں کو انہی بندوق برداروں نے موت کے گھاٹ اْتار دیا، کپواڑہ ضلع میں1995ء کی ایک ہی رات میں30 سے زائد جماعت سے وابستہ یا اس تنظیم سے ہمدردی رکھنے والوں کو مختلف مقامات پر ابدی نیند سْلا دیا گیا۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اِنRenegades نے بھارتی فورسز کی سرپرستی میں ایسے سیاہ کارنامے انجام دئیے جس کا احسان ان کے آقاؤں کی کئی پشتوں پر رہے گا۔

ترقیاتی فنڈز میں امتیاز

2001 ء کی مردم شماری کے مطابق صوبہ کشمیر کی آبادی 5467970 ،جموں صوبے کی آبادی 4430191اور صوبہ لداخ کی آبادی 236539ہے۔لیکن2008ء کے وزیراعظم کے خصوصی پیکیج 29000کروڑ روپے میں سے صوبہ کشمیر کیلئے 6447کروڑ(22%)،صوبہ جموں کیلئے12530کروڑ(43%) اور صوبہ لداخ کیلئے 2804کروڑ(9.67%)فراہم کئے گئے۔باقی رقم اسٹیٹ لیول سیکٹرز کو فراہم کی گئی۔حالانکہ آبادی کے تناسب سے کشمیر صوبے کا حصہ (54%)بنتا ہے۔جموں اور لداخ کا بالترتیب 43.7%اور2.3% حصہ بنتا ہے۔اسی طرح 5000کروڑصنعتی پیکیج کی رقم جو ریاست کو فراہم کی گئی کا صرف 10%حصہ صوبہ کشمیر میں خرچ کیا گیا۔اس طرح مسلم آبادی کو نظر انداز کرکے ان میں معاشی بدحالی کو فروغ دے کر انہیں پائی پائی کا محتاج بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پرائم منسٹرز پیکیج (امتیازی برتاؤ) جدول(1)

سال 2001ء لداخ جموں ڈویژن کشمیر ڈویژن
کل آبادی 236539 4430191 5467970
ترقیاتی فنڈ 2804 کروڑ (9.67 فیصد) 12530 کروڑ (43 فیصد) 6447 کروڑ (22 فیصد

مرکزی اور ریاستی انتظامی محکموں میں بھی ایسا ہی حال ہے۔2005ء میں سچر کمیٹی کے سامنے جو رپورٹ ریاستی سرکار نے پیش کی ،اس کے مطابق انڈین ایڈ منسٹریٹو سروسز میں ریاستی افسران کی تعداد کل 94ہے،جن میں سے کشمیرڈویژن سے صرف 24افسران ہیں۔ باقی سب کا تعلق جموں ڈویژن سے ہے۔اسی طرح کشمیر ایڈ منسٹریٹو سروسز میں 2001ء سے 2008ء تک 478تھی جن میں صرف 106کا تعلق کشمیرڈویژن سے ہے اور 360کا تعلق جموں ڈویژن سے ہے۔یہ بات صرف KASافسران تک محدود نہیں بلکہ 2008ء میں سروسز سلیکشن بورڈ نے 429 ا کاونٹساسسٹنٹ اسامیوں کی بھرتی کی جن میں وادی سے صرف 95 ا کاونٹس اسسٹنٹ لئے گئے ،جبکہ جموں ڈویژن سے 334امیدواروں کا انتخاب کیا گیا۔ اورجن میں مسلم طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

ملازمتوں میں امتیاز ۔۔۔۔۔(جدول2)

سال 2008ء آئی اے ایس افسران کے اے ایس افسران
2001ء سے 2008ء
اکاؤنٹس اسسٹنٹ
2008ء (تقرریاں
کل تعداد 94 478 429
کشمیر ڈویژن 24 106 95
جموں ڈویژن 70 360 334

اس طرح کے امتیاز سے کشمیریوں کی محرومیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح بھارت نہ صرف فوجی طاقت سے ان کو زیر نگین رکھنا چاہتا ہے بلکہ معاشی لحاظ سے بھی انہیں کنگال کرکے ،در در کی بھیک مانگنے کے بھیانک عزائم رکھتا ہے تاکہ وہ دماغ سے سوچنے کے بجائے پیٹ سے سوچنے کا طریقہ اختیار کریں ۔

ریاستی دہشت گردی اعداد شمار کے آئینے میں

بین الاقوامی اور قومی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی فورسز نے تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کیلئے طاقت کا بھر پور استعمال کیا ،اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔کرسچین سائنس مانیٹر کے مطابق ،پچھلے بیس برسوں میں60000سے 100000لاکھ بچے یتیم ہوئے ہیں۔کریسنٹ آن لائن کے مطابق 1989ء سے 2009 تک 100000 کشمیری جاں بحق ہوئے ہیں ،جن میں 92,906لوگ عام شہروں ،گلیوں ،کوچوں اور گھروں کے اندر شہید ہوئے ہیں ۔شہید ہونیوالوں میں خواتین کی تعداد 2278ہے۔

1989ء سے جولائی 2009ء تک (جدول 3)

کل شہدا 100000
زیر حراست شہادتیں 6559
خواتین کی بے حرمتی 9885
یتیم بچے 107262
بیوہ عورتیں 23000
شہری گرفتار 11633

معروف نیوز ایجنسی ،کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کے اعداد شمار کے مطابق جنوری 1989ء سے 31,اکتوبر 2015ء تک 94,273 کشمیری شہید ہوئے ہیں ،جن میں 7,038لوگ زیر حراست شہید کئے گئے ہیں ۔

جنوری 1989سے 31,اکتوبر 2015ء تک(جدول4) کشمیر میڈیا سنٹر

کل شہادتیں 94,273
زیر حراست شہادتیں 7,038
خواتین کی بے حرمتی 10,159
یتیم بچے 107,545
بیوہ عورتیں 22,806
شہری گرفتار 131,212
مکانات و تعمیرات خاکستر 106,050

لا پتہ لوگوں کے ورثاء کی تنظیم اے پی ڈی پی (Association of Parents of Disappeared Persons )کی ایک رپورٹ کے مطابق 1989ء سے اگست 2015تک10000لوگ بھارتی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوکر لا پتہ کردئے گئے ہیں ۔ اے پی ڈی پی ( Association Of Parents Of Disappeared Persons)ان والدین کی تنظیم ہے جن کے بچے ،بھائی یا قریب ترین رشتہ دار ،بھارتی فورسز کے ذریعے گرفتاری کے بعد لاپتہ ہوئے۔جبکہ سری نگر ہائی کورٹ بار ایسو ایشن کے اعداد وشمار کے مطابق 3لاکھ کشمیریوں کو انٹروگیشن سنٹروں اور بھارتی جیلوں میں شدید تعزیب کا نشانہ بنایا گیا۔

انٹرنیشنل پیپلز ٹربیونل آن ہیومن رائٹس اینڈ جسٹس تنظیم کے مطابق کشمیر کے صِرف تین اضلاع میں2373 بے نام قبریں موجود ہیں جن میں سے ایک سو چون قبروں میں ایک سے زائد لاشیں دفنائی گئی ہیں ۔یہ انکشا ف پر وفیسر اونگنا چٹر جی نے تنظیم کے دیگر اراکین پرویز امروز، گوتم نولکھا، ظہیرالدین، مِہیر ڈیسائی اور خرم پرویز کے ہمراہ 9 دسمبر 2009 کو ایک پریس کانفرنس میں اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کیا ۔اس رپورٹ کو اونگنا چٹرجی ، پرویز امروز، گوتم نولکھا، ظہیرالدین، مِہیرڈیسائی اور خرم پرویز نے مشترکہ طور تحریرکیا ہے۔ رپورٹ کے ابتدائیہ میں لکھا گیاہے: کشمیر میں بھارتی فوج اور نیم فوجی عملہ فرضی جھڑپوں، حراستی تشدد اور خفیہ قتل کی کاروائیوں میں ملوث رہے ہیں جس کے نتیجہ میں آٹھ ہزار لوگ لاپتہ ہوگئے ہیں اور ستّر ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

جموں کشمیر ہیومن رائٹس کمیشن کے سربراہ بشیر احمد یتو نے 2011اگست میں اپنی رپورٹ حکومت جموں وکشمیر؂ پیش کی جس کے مطابق شمالی کشمیر کے علاقوں کپواڑہ، ہندواڑہ اور بانڈی پورہ کے 35 مقامات پر 2156 افراد کی نہ صرف گمنام بلکہ اجتماعی قبروں کا سراغ ملا ہے۔ ان مقامات پر اٹھارہ گڑھا نما قبروں میں ایک سے زیادہ افراد کے دفن ہونے کا پتا چلا ہے، گویا کہ ان گڑھوں میں اجتماعی طور پر کئی افراد دفن کیے گئے ہیں ۔معروف کشمیری خاتون قلمکار سوزینہ مشتاق اس ساری جدوجہد کا خلاصہ اپنی ایک تحریر”Happy Indepenence Day” میں یوں بیان کرتی ہیں کہ ” تحریک آزادی کشمیر کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔جدجہد آزادی میں اتار چڑھاؤ آسکتے ہیں لیکن یہ تحریک منزل تک پہنچ کر ہی دم لے گی۔جب ہم نے آپ کی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف احتجاج کیا،جب ہم نے آپ کے جابرانہ اور استبدادی اقتدار اعلیٰ کے خلاف آواز اٹھائی ،جب ہم نے ظلم سہنے سے انکار کیا،جب ہم نے اپنی آزادی کا مطالبہ کیا،تو آپ کی فوج نے بڑی سفاکی سے ہمارا خون بہایا۔ کشمیر کے چپے چپے میں آپ نے ظلم و زیادتی کی انتہا کردی۔حد یہ کہ بچوں تک کو بھی اس سفاکیت کا شکار بننا پڑا۔جب آپ کی سرزمین کے لوگوں نے برطانوی راج کے خلاف آواز بلند کی ،آپ نے انہیں آزادی کے مجاہد قرار دیا۔انہیں اپنا ہیرو تسلیم کیا۔لیکن جب ہم نے اپنی سرزمین میں وہی آواز بلند کی تو آپ نے نئی بولی بولنی شروع کردی۔آپ نے ہمارے شہیدوں کو غدار،ہمارے مجاہدین کو انتہا پسند اور بنیاد پرست،اورہماری تحریک کو خبط و جنوں کے دورے سے تشبیہ دے کر،پاگل پن قرار دیا۔لیکن آپ ناکام ہوگئے۔آپ ہماراعزم و ہمت توڑنے میں با لکل ناکام رہے۔ پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر ظالمانہ اور کالے قوانین کے ذریعے ہماری آرزوں اور تمناوں کو دبانے میں قطعی ناکام رہے۔دفعہ144کے نفاذاور بل کھاتی ہوئی خار دارتاریں ہمارے ظاہری وجود کو حرکت کرنے سے شاید روک سکیں ،لیکن ہمارے خیالات و احساسات کو کوئی رکاوٹ روک نہیں سکتی۔ دنیا کی کوئی طاقت ہمارے احساسات اور خیالات ہم سے چھین نہیں سکتی۔آپ بہت ہی بری طرح ناکام ہوگئے۔بات جہاں درمیان میں رکی تھی ،وہ بعد میں بھی پھر کہی جاسکتی ہے۔ ہم دوبارہ کسی بھی وقت اس موضوع کو وہیں سے پھر شروع کرسکتے ہیں ،جہاں ہم نے اسے وقفہ دیا تھا۔دو سو سال کی غلامی کے بعد آپ نے آزادی حاصل کی۔۔۔ہم بھی اپنی آزادی حاصل کرلیں گے۔کہا جاتا ہے نا۔۔امید تو رکھنی چاہیے اور خواب کبھی مرتے نہیں۔۔ ہم خواب بھی دیکھتے رہیں گے اور امید کا دامن بھی نہیں چھوڑیں گے”

حقیقت حال بھی یہی ہے کہ کشمیر غلامی کی آگ میں جھلس رہا ہے ۔اور جب تک یہ جنت ارضی اس آگ میں جلتی رہے گی کشمیری قوم کا سفر بھی جاری رہے گا ۔سعادت کا سفر ،شہادت کا سفر ختم نہیں ہو گا۔سو کشمیریوں کا سفر آج بھی جاری ہے اور تب تک جاری رہے گا جب تک کہ کشمیریوں کو آزادی سے رہنے ،جینے اور سر اٹھاکے چلنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔


متعلقہ خبریں


امریکا، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 فوجی ہلاک وجود - جمعه 06 دسمبر 2019

امریکاکی ریاست منی سوٹا میں بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گرنے سے 3 فوجی ہلاک ہوگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ٹیسٹ فلائٹ کے دوران حادثے سے قبل ہیلی کاپٹر کا ائیر کنٹرول سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔حکام کا کہنا تھا کہ واقعہ مقامی وقت دوپہر دو بجے پیش آیا اور ہیلی کاپٹر میں سوار تمام تین فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کا ملبہ کھلے میدان میں گرا اور اس کو تلاش کرنے میں دو گھنٹے کا وقت لگا۔متعلقہ حکام نے حادثے کی وجہ اور ہلاک ہونے والوں کے نام نہیں بتائے تاہم واقعہ کی تحقیقات...

امریکا، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 فوجی ہلاک

بھارت، لیڈی ڈاکٹر سے زیادتی کرنے والے ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک وجود - جمعه 06 دسمبر 2019

بھارت میں لیڈی ڈاکٹر کو اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کرنے والے چاروں ملزمان پولیس مقابلے میں مارے گئے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے شہر حیدر آباد میں لیڈی ڈاکٹر سے اجتماعی زیادتی اور قتل میں ملوث چاروں ملزمان اپنے انجام کو پہنچ گئے ۔ پولیس ملزمان کو لاش ملنے کی جگہ پر تفتیش کے لیے لے کر گئی جہاں انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی جس پر چاروں ملزمان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔لیڈی ڈاکٹر کو اٹھائیس نومبر کو 4 افراد نے ویرانے میں لے جا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا او...

بھارت، لیڈی ڈاکٹر سے زیادتی کرنے والے ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک

ہواوے کو امریکی آلات اوراپیس کے استعمال سے روک دیا گیا وجود - جمعرات 05 دسمبر 2019

ہواوے کو اپنے فلیگ شپ فون میٹ 30 میں گوگل اینڈرائیڈ سسٹم، گوگل سروسز اور ایپس کے استعمال سے روک دیا گیا ہے جس کی وجہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے چینی کمپنی کو بلیک لسٹ کیا جانا ہے (اب وہ اینڈرائیڈ کا اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم استعمال کررہی ہے)، مگر ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ صرف سافٹ وئیر تک ہی محدود نہیں۔درحقیقت میٹ 30 سیریز کے فونز میں کسی بھی قسم کے امریکی ساختہ پرزہ جات کا استعمال نہیں ہوا۔یہ بات امریکی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں بتائی ،رپورٹ میں یو بی ایس اور جاپانی ٹیکنالو...

ہواوے کو امریکی آلات اوراپیس کے استعمال سے روک دیا گیا

چین کی ایغوروں کے خلاف زیادتی،امریکی کانگریس میں بل منظور وجود - جمعرات 05 دسمبر 2019

امریکا کے ایوانِ نمائندگان نے چین میں ایغور مسلمانوں کی نظر بندی، جبری سلوک اور ہراسانی کے خلاف ایک قانون کا مسودہ منظور کر لیا ہے۔اویغور ہیومن رائٹس پالیسی ایکٹ 2019 نامی اس مسودہ قانون کے حق میں 407 جبکہ مخالفت میں صرف ایک ووٹ ڈالا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق منظور کیے جانے والے اس بل میں چینی حکومت کے ارکان اور خاص طور پر چین کے خودمختار صوبے سنکیانگ میں کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری چین چوانگؤ پر ہدف بنا کر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا گیا ۔اس مسودہ قانون کو اب امریکی سینیٹ اور...

چین کی ایغوروں کے خلاف زیادتی،امریکی کانگریس میں بل منظور

ناسا نے چاند پر بھارتی لینڈر کا ملبہ تلاش کر لیا،تصاویر بھی جاری وجود - جمعرات 05 دسمبر 2019

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے چاند پر ناکام ہو جانے والے بھارتی مشن چندرریان میں استعمال کی گئی چاند گاڑی کا ملبہ ڈھونڈ لیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق بھارتی مشن میں استعمال ہونے والے لینڈر کا نام وکرم تھا۔ وکرم نامی گاڑی چاند پر اترنے سے کچھ ہی دیر قبل تباہ ہو گئی تھی۔ناسا نے بھارتی لینڈر کے ملبے کی تصاویر جاری کر دیں۔ یہ ملبہ کئی کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ بھارتی خلائی ادارہ اپنی چاند گاڑی کو ایک ایسے علاقے میں اتارنے کی کوشش میں تھا جو ابھی تک دریافت نہیں ہوا ہے۔

ناسا نے چاند پر بھارتی لینڈر کا ملبہ تلاش کر لیا،تصاویر بھی جاری

ٹک ٹاک پر صارفین کا ڈیٹا جمع کرکے چین بھیجنے کا الزام وجود - جمعرات 05 دسمبر 2019

چینی کمپنی بائیٹ ڈانس کی زیرملکیت ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ صارفین کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرکے چین بھیج رہی ہے۔یہ الزام امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کی فیڈرل کورٹ میں دائر مقدمے میں عائد کیا گیا ۔میڈیارپورٹس کے مطابق مقدمے میں چینی کمپنی پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ وہ صارفین کے مواد جیسے ڈرافٹ ویڈیوز کو بھی اپنے پاس محفوظ کرلیتی ہے جبکہ اس کی پرائیویسی پالیسیاں مبہم ہیں۔درخواست کے مطابق مبہم پرائیویسی پالیسیوں کے نتیجے میں یہ خدشہ ابھرتا ہے کہ ٹک ٹاک کو امری...

ٹک ٹاک پر صارفین کا ڈیٹا جمع کرکے چین بھیجنے کا الزام

مارک زکربرگ کا فیس بک میں سیاسی اشتہارات کی پالیسی کا دفاع وجود - جمعرات 05 دسمبر 2019

فیس بک کو سیاستدانوں کی جانب سے اشتہارات کی پالیسی کے حوالے سے مسلسل تنقید کا سامنا رہا ہے مگر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے سیاسی اشتہارات پر پابندی نہ لگانے کا کہا ہے۔ایک امریکی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں مارک زکربرگ نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ سیاستدانوں کے بیانات پر لوگوں کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ میں جمہوریت پر یقین رکھتا ہوں، یہ بہت ضروری ہے کہ لوگ خود دیکھیں کہ سیاستدان کیا کہہ رہے ہیں، تاکہ وہ اپ...

مارک زکربرگ کا فیس بک میں سیاسی اشتہارات کی پالیسی کا دفاع

محمد مسلسل تیسرے سال برطانیا میں بچوں کا مقبول ترین نام قرار وجود - جمعرات 05 دسمبر 2019

محمد نام کو برطانیا میں لڑکوں کا سب سے مقبول ترین نام قرار دے دیا گیا اور یہ اعزاز اس نے مسلسل تیسرے سال حاصل کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بے بی سینٹر نامی ویب سائٹ کی ناموں کے حوالے سے جاری کی گئی سالانہ رپورٹ مں یہ بات بتائی گئی۔برطانیہ میں بچوں کے سو مقبول ترین ناموں کی فہرست میں عربی زبان کے ناموں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔محمد نام 2017 سے مقبول ترین اور سرفہرست پوزیشن پر ہے جبکہ 2014 اور 2015 میں بھی یہ سرفہرست رہا تھا۔اسی طرح احمد، علی اور ابر...

محمد مسلسل تیسرے سال برطانیا میں بچوں کا مقبول ترین نام قرار

قدیم روم میں بسایا گیا سینکڑوں برس قدیم عیاشی کا اڈہ سمندر بْرد وجود - جمعرات 05 دسمبر 2019

دیم روم میں بسایا گیا سینکڑوں برس قدیم عیاشی کا اڈہ سمندر بْردکردیاگیا،میڈیارپورٹس کے مطابق یہ اٹلی میں نیپلس سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ساحلی قصبہ تھا جہاں شعرا اپنے تخیل اور فوجی جرنیل اور اْمرا اپنی خواہشات کو حقیقت کا روپ دیتے تھے۔ رومی فلسفی، خطیب، قانون دان اور مدبر سیسرو نے اپنی تقاریر یہیں لکھیں، جبکہ شاعر وِرجِل اور فطرت پرست پلینی یہاں کے جوانی بخش حماموں سے کچھ ہی فاصلے پر رہتے تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک محقق جان سماؤٹ نے کہاکہ سازشوں کی کئی داستانیں...

قدیم روم میں بسایا گیا سینکڑوں برس قدیم عیاشی کا اڈہ سمندر بْرد

ہواوے کا امریکا میں قائم ریسرچ سینٹر کینیڈا منتقل کرنے کا اعلان وجود - جمعرات 05 دسمبر 2019

چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے نے امریکا میں قائم اپنا ریسرچ سینٹر کینیڈا منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق رواں برس جون میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سانتا کلارا کے نواح میں واقع سیلیکون ویلی میں واقع ریسرچ سینٹر میں چھ سو افراد کی ملازمتیں ختم کر دی گئی تھیں۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ کینیڈا میں ریسرچ سینٹر کس مقام پر بنایا جائے گا۔ چینی کمپنی نے یہ فیصلہ امریکی پابندیوں کے تناظر میں کیا ہے۔ اس چینی کمپنی کے امریکا کے علاوہ جرمنی، بھارت، سویڈن اور ترکی میں ب...

ہواوے کا امریکا میں قائم ریسرچ سینٹر کینیڈا منتقل کرنے کا اعلان

افغانستان،فائرنگ سے جاپانی این جی او کے سربراہ زخمی، 5 افراد ہلاک وجود - بدھ 04 دسمبر 2019

افغانستان کے صوبے ننگر ہار کے دارالحکومت جلال آباد کے قریب مسلح افراد کے حملے کے نتیجے میں جاپانی این جی او کے سربراہ شدید زخمی ہوگئے جبکہ ان کے محافظ، ڈرائیور اور ایک مسافر سمیت 5 ہلاک ہو گئے ۔افغان حکام کے مطابق واقعے میں مسلح افراد نے صبح سویرے جاپانی این جی او کے سربراہ ڈاکٹر ڈاکٹر ٹیٹسو ناکا مورا کی کار کو اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا جب وہ جلال آباد جا رہے تھے ۔ صوبائی گورنر کے ترجمان کے مطابق ڈاکٹر ناکامورا کی حالت تشویش ناک ہے ، جنہیں ہسپتا ل میں طبی امداد دی جا رہی ہ...

افغانستان،فائرنگ سے جاپانی این جی او کے سربراہ زخمی، 5 افراد ہلاک

ٹرمپ کیخلاف یوکرائن پر دبائو ڈالنے کا الزام، ہائوس انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹ جاری وجود - بدھ 04 دسمبر 2019

امریکی صدر کے مواخذے کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات کی رپورٹ امریکی ایوانِ نمائندگان کی ہاس انٹیلی جنس کمیٹی نے جاری کر دی۔ ڈیموکریٹس ارکان نے کہا کہ شواہد موجود ہیں کہ صدر ٹرمپ نے اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے یوکرائن پر دبائو ڈالا جبکہ وائٹ ہائوس نے کہا ہے مواخذے کے لیے کمیٹی ایک بھی ثبوت پیش نہیں کرسکی ۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کی ہائوس انٹیلی جنس کمیٹی نے رپورٹ جاری کر دی، صدر ٹرمپ پر طاقت کے بے جااستعمال کا الزام تھا، رپورٹ کا تعلق معاملے کی چھان بین اور سفارشات سے ہے ۔و...

ٹرمپ کیخلاف یوکرائن پر دبائو ڈالنے کا الزام، ہائوس انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹ جاری