وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مقبوضہ کشمیر۔۔۔۔۔ ریاستی دہشت گردی کے کئی روپ

جمعه 04 دسمبر 2015 مقبوضہ کشمیر۔۔۔۔۔ ریاستی دہشت گردی کے کئی روپ

kashmir-azadi-freedom

ایک طرف بھارت سرکار نے فوج ،بی ایس ایف اور دیگر نیم فوجی تنظیوں کوافسپا(AFSPA) کے نام پر کشمیریوں کو کچلنے کیلئے کھلی چھوٹ دیدی ہے ،وہیں دوسری طرف ریاستی دہشت گردی کے مختلف طریقے بھی ایجاد کئے گئے ،ان میں منحرف بندوق برداروں کی تنظیمیں قائم کرنا،مسلم اکثریتی علاقوں کے ترقیاتی فنڈز اور سرکاری نوکریوں میں امتیاز برتنا شامل ہے۔بھارتی سراغ رساں ایجنسی را نے 1994 میں شمالی کشمیر میں’’ کوکہ پرے ‘‘کی قیادت میں اخوان المسلمین سے وابستہ یوسف پرے (المعروف کوکہ پرے المعروف جمشید شیرازی) کی قیادت میں منحرف بندوق برداروں کا ایک گروپ تشکیل دیا ، جس کا نام اخوان المسلمون رکھا گیا۔اسی طرح جنوبی کشمیر میں ’’نبہ آزاد‘‘ نامی منحرف بندوق بردار کی قیادت میں ایسا ہی ایک گروہ مسلم مجاہدین کے نام سے منظم کیا گیا ،چونکہ ان گروہوں سے وابستہ افراد کا تعلق مجاہدین تنظیموں سے ہی تھا ،اس لئے یہ ہر ایک تحریکی ہمدرد اور کارکن سے واقف تھے ۔گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مترادف ،ان لوگوں نے ایسا طوفان بدتمیزی مچایا کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔فوج کی چھتر چھایا میں ان لوگوں کے ہاتھوں نہ صرف مجاہدین شہید ہوتے رہے بلکہ عام کشمیری بھی ان کے ظلم و ستم سے محفوظ نہ رہ سکے۔بھارتی فوج کا کام انہوں نے آسان بنا دیا ،اب فوج اور بی ایس ایف کے بجائے ہر الزام منحرف بندوق برداروں کے کھاتے میں پڑنے لگا۔ان سرکار نواز بندوق برداروں کی کارروائیاں نوے کی دہائی کے اختتام تک جاری رہیں۔

نوے کی دہائی کے وسط میں ان کا سکہ ریاست میں ہر جانب سے چل رہا تھا۔ قانون ، حکومت، ایوان اْن کے اشاروں پر کام کرتے تھے، سرکاری و غیر سرکاری تمام شعبہ جات میں اِن منحرف لوگوں کا اس حد تک عمل دخل تھا کہ عام انسان خوف اور دہشت کے مارے کہیں سے بھی انصاف کی امید نہیں کرتا تھا۔اِن منحرف بندوق برداروں کی نہ صرف فوج اور نیم فوجی ایجنسیاں اْن کی تمام غیراخلاقی، غیر انسانی و غیر قانونی کارروائیوں کی پشت پناہی کرر ہی تھیں،بلکہ حکومتِ وقت مہربان تھی اور اْنہیں وہ سب کرنے کی کھلی اجازت ہوتی تھی جس کی اجازت جنگل کا قانون بھی نہیں دے سکتا ہے۔ درجنوں ادیب ،دانشور،سیاسی کارکن اِن سرکاری بندوق برداروں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔کپواڑہ سے کشتواڑ تک ہزاروں بیگناہوں کا قتل عام کیا گیا، اغوا کاری کر کے تاوان وصول کرنا عام بات بن چکی تھی، ملّت کی کتنی ہی ایسی بدنصیب بیٹیاں ہیں جو جرائم کے اِن کالے بھیڑیوں کے ہتھے چڑھ گئی ہیں، کم ہی ایسے ذی عزت لوگ ہوں گے جو اْن کی تذلیل سے بچے ہوں گے، دیہات سے ہزاروں خاندانوں کی ہجرت کا بنیادی سبب یہی سرکاری بندوق بردار رہے ہیں۔ان گھر کے بھیدیوں کے ہاتھوں اپنے ہی لوگوں کے خلاف تاریخ نے اتنا ظلم و ستم اپنے اوراق میں سمیٹ لیا ہے کہ قیامت تک اِس قوم کی آنے والی نسلیں اْنہیں بد دعائیں ہی دیں گی۔

کریسنٹ آن لائن کے مطابق 1989ء سے 2009 تک 100000 کشمیری جاں بحق ہوئے ہیں ،جن میں 92,906لوگ عام شہروں ،گلیوں ،کوچوں اور گھروں کے اندر شہید ہوئے ہیں ۔شہید ہونیوالوں میں خواتین کی تعداد 2278ہے۔

ریاست جموں و کشمیر کے طول وعرض میں سب سے زیادہ جماعت اسلامی سے وابستہ لوگ اِن کے ظلم و ستم کا شکار ہو ئے ہیں، اس تنظیم کے850 سے زائد ارکان و رہنماؤں کو انہی بندوق برداروں نے موت کے گھاٹ اْتار دیا، کپواڑہ ضلع میں1995ء کی ایک ہی رات میں30 سے زائد جماعت سے وابستہ یا اس تنظیم سے ہمدردی رکھنے والوں کو مختلف مقامات پر ابدی نیند سْلا دیا گیا۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اِنRenegades نے بھارتی فورسز کی سرپرستی میں ایسے سیاہ کارنامے انجام دئیے جس کا احسان ان کے آقاؤں کی کئی پشتوں پر رہے گا۔

ترقیاتی فنڈز میں امتیاز

2001 ء کی مردم شماری کے مطابق صوبہ کشمیر کی آبادی 5467970 ،جموں صوبے کی آبادی 4430191اور صوبہ لداخ کی آبادی 236539ہے۔لیکن2008ء کے وزیراعظم کے خصوصی پیکیج 29000کروڑ روپے میں سے صوبہ کشمیر کیلئے 6447کروڑ(22%)،صوبہ جموں کیلئے12530کروڑ(43%) اور صوبہ لداخ کیلئے 2804کروڑ(9.67%)فراہم کئے گئے۔باقی رقم اسٹیٹ لیول سیکٹرز کو فراہم کی گئی۔حالانکہ آبادی کے تناسب سے کشمیر صوبے کا حصہ (54%)بنتا ہے۔جموں اور لداخ کا بالترتیب 43.7%اور2.3% حصہ بنتا ہے۔اسی طرح 5000کروڑصنعتی پیکیج کی رقم جو ریاست کو فراہم کی گئی کا صرف 10%حصہ صوبہ کشمیر میں خرچ کیا گیا۔اس طرح مسلم آبادی کو نظر انداز کرکے ان میں معاشی بدحالی کو فروغ دے کر انہیں پائی پائی کا محتاج بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پرائم منسٹرز پیکیج (امتیازی برتاؤ) جدول(1)

سال 2001ء لداخ جموں ڈویژن کشمیر ڈویژن
کل آبادی 236539 4430191 5467970
ترقیاتی فنڈ 2804 کروڑ (9.67 فیصد) 12530 کروڑ (43 فیصد) 6447 کروڑ (22 فیصد

مرکزی اور ریاستی انتظامی محکموں میں بھی ایسا ہی حال ہے۔2005ء میں سچر کمیٹی کے سامنے جو رپورٹ ریاستی سرکار نے پیش کی ،اس کے مطابق انڈین ایڈ منسٹریٹو سروسز میں ریاستی افسران کی تعداد کل 94ہے،جن میں سے کشمیرڈویژن سے صرف 24افسران ہیں۔ باقی سب کا تعلق جموں ڈویژن سے ہے۔اسی طرح کشمیر ایڈ منسٹریٹو سروسز میں 2001ء سے 2008ء تک 478تھی جن میں صرف 106کا تعلق کشمیرڈویژن سے ہے اور 360کا تعلق جموں ڈویژن سے ہے۔یہ بات صرف KASافسران تک محدود نہیں بلکہ 2008ء میں سروسز سلیکشن بورڈ نے 429 ا کاونٹساسسٹنٹ اسامیوں کی بھرتی کی جن میں وادی سے صرف 95 ا کاونٹس اسسٹنٹ لئے گئے ،جبکہ جموں ڈویژن سے 334امیدواروں کا انتخاب کیا گیا۔ اورجن میں مسلم طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

ملازمتوں میں امتیاز ۔۔۔۔۔(جدول2)

سال 2008ء آئی اے ایس افسران کے اے ایس افسران
2001ء سے 2008ء
اکاؤنٹس اسسٹنٹ
2008ء (تقرریاں
کل تعداد 94 478 429
کشمیر ڈویژن 24 106 95
جموں ڈویژن 70 360 334

اس طرح کے امتیاز سے کشمیریوں کی محرومیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح بھارت نہ صرف فوجی طاقت سے ان کو زیر نگین رکھنا چاہتا ہے بلکہ معاشی لحاظ سے بھی انہیں کنگال کرکے ،در در کی بھیک مانگنے کے بھیانک عزائم رکھتا ہے تاکہ وہ دماغ سے سوچنے کے بجائے پیٹ سے سوچنے کا طریقہ اختیار کریں ۔

ریاستی دہشت گردی اعداد شمار کے آئینے میں

بین الاقوامی اور قومی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی فورسز نے تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کیلئے طاقت کا بھر پور استعمال کیا ،اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔کرسچین سائنس مانیٹر کے مطابق ،پچھلے بیس برسوں میں60000سے 100000لاکھ بچے یتیم ہوئے ہیں۔کریسنٹ آن لائن کے مطابق 1989ء سے 2009 تک 100000 کشمیری جاں بحق ہوئے ہیں ،جن میں 92,906لوگ عام شہروں ،گلیوں ،کوچوں اور گھروں کے اندر شہید ہوئے ہیں ۔شہید ہونیوالوں میں خواتین کی تعداد 2278ہے۔

1989ء سے جولائی 2009ء تک (جدول 3)

کل شہدا 100000
زیر حراست شہادتیں 6559
خواتین کی بے حرمتی 9885
یتیم بچے 107262
بیوہ عورتیں 23000
شہری گرفتار 11633

معروف نیوز ایجنسی ،کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کے اعداد شمار کے مطابق جنوری 1989ء سے 31,اکتوبر 2015ء تک 94,273 کشمیری شہید ہوئے ہیں ،جن میں 7,038لوگ زیر حراست شہید کئے گئے ہیں ۔

جنوری 1989سے 31,اکتوبر 2015ء تک(جدول4) کشمیر میڈیا سنٹر

کل شہادتیں 94,273
زیر حراست شہادتیں 7,038
خواتین کی بے حرمتی 10,159
یتیم بچے 107,545
بیوہ عورتیں 22,806
شہری گرفتار 131,212
مکانات و تعمیرات خاکستر 106,050

لا پتہ لوگوں کے ورثاء کی تنظیم اے پی ڈی پی (Association of Parents of Disappeared Persons )کی ایک رپورٹ کے مطابق 1989ء سے اگست 2015تک10000لوگ بھارتی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوکر لا پتہ کردئے گئے ہیں ۔ اے پی ڈی پی ( Association Of Parents Of Disappeared Persons)ان والدین کی تنظیم ہے جن کے بچے ،بھائی یا قریب ترین رشتہ دار ،بھارتی فورسز کے ذریعے گرفتاری کے بعد لاپتہ ہوئے۔جبکہ سری نگر ہائی کورٹ بار ایسو ایشن کے اعداد وشمار کے مطابق 3لاکھ کشمیریوں کو انٹروگیشن سنٹروں اور بھارتی جیلوں میں شدید تعزیب کا نشانہ بنایا گیا۔

انٹرنیشنل پیپلز ٹربیونل آن ہیومن رائٹس اینڈ جسٹس تنظیم کے مطابق کشمیر کے صِرف تین اضلاع میں2373 بے نام قبریں موجود ہیں جن میں سے ایک سو چون قبروں میں ایک سے زائد لاشیں دفنائی گئی ہیں ۔یہ انکشا ف پر وفیسر اونگنا چٹر جی نے تنظیم کے دیگر اراکین پرویز امروز، گوتم نولکھا، ظہیرالدین، مِہیر ڈیسائی اور خرم پرویز کے ہمراہ 9 دسمبر 2009 کو ایک پریس کانفرنس میں اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کیا ۔اس رپورٹ کو اونگنا چٹرجی ، پرویز امروز، گوتم نولکھا، ظہیرالدین، مِہیرڈیسائی اور خرم پرویز نے مشترکہ طور تحریرکیا ہے۔ رپورٹ کے ابتدائیہ میں لکھا گیاہے: کشمیر میں بھارتی فوج اور نیم فوجی عملہ فرضی جھڑپوں، حراستی تشدد اور خفیہ قتل کی کاروائیوں میں ملوث رہے ہیں جس کے نتیجہ میں آٹھ ہزار لوگ لاپتہ ہوگئے ہیں اور ستّر ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

جموں کشمیر ہیومن رائٹس کمیشن کے سربراہ بشیر احمد یتو نے 2011اگست میں اپنی رپورٹ حکومت جموں وکشمیر؂ پیش کی جس کے مطابق شمالی کشمیر کے علاقوں کپواڑہ، ہندواڑہ اور بانڈی پورہ کے 35 مقامات پر 2156 افراد کی نہ صرف گمنام بلکہ اجتماعی قبروں کا سراغ ملا ہے۔ ان مقامات پر اٹھارہ گڑھا نما قبروں میں ایک سے زیادہ افراد کے دفن ہونے کا پتا چلا ہے، گویا کہ ان گڑھوں میں اجتماعی طور پر کئی افراد دفن کیے گئے ہیں ۔معروف کشمیری خاتون قلمکار سوزینہ مشتاق اس ساری جدوجہد کا خلاصہ اپنی ایک تحریر”Happy Indepenence Day” میں یوں بیان کرتی ہیں کہ ” تحریک آزادی کشمیر کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔جدجہد آزادی میں اتار چڑھاؤ آسکتے ہیں لیکن یہ تحریک منزل تک پہنچ کر ہی دم لے گی۔جب ہم نے آپ کی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف احتجاج کیا،جب ہم نے آپ کے جابرانہ اور استبدادی اقتدار اعلیٰ کے خلاف آواز اٹھائی ،جب ہم نے ظلم سہنے سے انکار کیا،جب ہم نے اپنی آزادی کا مطالبہ کیا،تو آپ کی فوج نے بڑی سفاکی سے ہمارا خون بہایا۔ کشمیر کے چپے چپے میں آپ نے ظلم و زیادتی کی انتہا کردی۔حد یہ کہ بچوں تک کو بھی اس سفاکیت کا شکار بننا پڑا۔جب آپ کی سرزمین کے لوگوں نے برطانوی راج کے خلاف آواز بلند کی ،آپ نے انہیں آزادی کے مجاہد قرار دیا۔انہیں اپنا ہیرو تسلیم کیا۔لیکن جب ہم نے اپنی سرزمین میں وہی آواز بلند کی تو آپ نے نئی بولی بولنی شروع کردی۔آپ نے ہمارے شہیدوں کو غدار،ہمارے مجاہدین کو انتہا پسند اور بنیاد پرست،اورہماری تحریک کو خبط و جنوں کے دورے سے تشبیہ دے کر،پاگل پن قرار دیا۔لیکن آپ ناکام ہوگئے۔آپ ہماراعزم و ہمت توڑنے میں با لکل ناکام رہے۔ پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر ظالمانہ اور کالے قوانین کے ذریعے ہماری آرزوں اور تمناوں کو دبانے میں قطعی ناکام رہے۔دفعہ144کے نفاذاور بل کھاتی ہوئی خار دارتاریں ہمارے ظاہری وجود کو حرکت کرنے سے شاید روک سکیں ،لیکن ہمارے خیالات و احساسات کو کوئی رکاوٹ روک نہیں سکتی۔ دنیا کی کوئی طاقت ہمارے احساسات اور خیالات ہم سے چھین نہیں سکتی۔آپ بہت ہی بری طرح ناکام ہوگئے۔بات جہاں درمیان میں رکی تھی ،وہ بعد میں بھی پھر کہی جاسکتی ہے۔ ہم دوبارہ کسی بھی وقت اس موضوع کو وہیں سے پھر شروع کرسکتے ہیں ،جہاں ہم نے اسے وقفہ دیا تھا۔دو سو سال کی غلامی کے بعد آپ نے آزادی حاصل کی۔۔۔ہم بھی اپنی آزادی حاصل کرلیں گے۔کہا جاتا ہے نا۔۔امید تو رکھنی چاہیے اور خواب کبھی مرتے نہیں۔۔ ہم خواب بھی دیکھتے رہیں گے اور امید کا دامن بھی نہیں چھوڑیں گے”

حقیقت حال بھی یہی ہے کہ کشمیر غلامی کی آگ میں جھلس رہا ہے ۔اور جب تک یہ جنت ارضی اس آگ میں جلتی رہے گی کشمیری قوم کا سفر بھی جاری رہے گا ۔سعادت کا سفر ،شہادت کا سفر ختم نہیں ہو گا۔سو کشمیریوں کا سفر آج بھی جاری ہے اور تب تک جاری رہے گا جب تک کہ کشمیریوں کو آزادی سے رہنے ،جینے اور سر اٹھاکے چلنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔


متعلقہ خبریں


امریکاکے ساتھ اکثر معاملات پر مفاہمت ہو چکی ہے، افغان طالبان وجود - بدھ 17 جولائی 2019

طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ شیر عباس ا ستانکزئی نے کہاہے کہ امریکا کے ساتھ اکثر معاملات پر مفاہمت ہو چکی ہے اور صرف دومعاملات باقی ہیں جس پر امید ہے جلد فیصلہ ہو جائیگا۔شیر عباس ا ستانکزئی کے مطابق مذاکرات کے ساتواں دور دوبارہ جلدی شروع ہوگا اور مجھے امیدہے کہ مستقل قریب میں باقی معاملات پر بھی مفاہمت ہو جائیگی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ جن دو معاملات پر ابھی تک اتفاق نہیں ہوا وہ کیا ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ غیر ملکی افواج کا نظام الاوقات طے کر نا اور افغانستان کو مستقبل میں...

امریکاکے ساتھ اکثر معاملات پر مفاہمت ہو چکی ہے، افغان طالبان

جرمن حکومت کا فیس بک کی کرنسی پر تشویش،انسدادپر غور شروع کر دیا وجود - بدھ 17 جولائی 2019

جرمن حکومت اور مرکزی بینک نے فیس بک کی کرنسی لبرا کے متبادل کرنسی کے طور پر استعمال کے انسداد پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ جرمن حکومت کے حوالے سے یہ رپورٹ جرمن اخبار نے جاری کی۔ اخبار کے مطابق وزارت خزانہ نے لبرا ڈیجیٹل کرنسی کے متعارف کرانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ جرمن وزارت خزانہ نے اخباری رپورٹ پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ فیس بک کے سربراہ مارک زوکربرگ نے رواں برس جون میں لبرا کرنسی کو متعارف کرایا تھا۔

جرمن حکومت کا فیس بک کی کرنسی پر تشویش،انسدادپر غور شروع کر دیا

ایران میں ایرانی نژاد فرانسیسی خاتون اسکالر گرفتار،حکومت کی تصدیق وجود - بدھ 17 جولائی 2019

ایرانی حکومت نے ایک ایرانی نژاد فرانسیسی خاتون اسکالر فاریبہ عادل خواہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ تہران حکومت نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے مزید تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت انصاف کے ترجمان نے بتایاکہ عدالتی کارروائی شروع ہونے کے ساتھ ساتھ مزید معلومات عام کی جائیں گی۔ ساٹھ سالہ خاتون اسکالر انتھروپولوجسٹ یا ماہر بشریات ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے ان کی گرفتاری پر تشویش ظاہر کی ہے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے فاریبہ عادل خواہ کی گرفتاری کے ...

ایران میں ایرانی نژاد فرانسیسی خاتون اسکالر گرفتار،حکومت کی تصدیق

آئی ایم ایف کی سربراہ عہدے سے مستعفی، اپنا استعفیٰ جمع کرادیا وجود - بدھ 17 جولائی 2019

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹین لیگارڈ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے بطور منیجنگ ڈائریکٹر استعفیٰ جمع کرادیا۔غیرملکی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کرسٹین لیگارڈ نے بتایا یورپین سینٹرل بینک کی صدارت کے لیے نامزدگی کے ساتھ ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گی۔ان کا کہنا تھا ان کا استعفیٰ 12 ستمبر سے فعال ہوگا۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ کرسٹین لیگارڈ کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی آئی ایم ایف بورڈ ان کے متبادل امیدوار کے بارے میں سوچے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یورپین سینٹر ...

آئی ایم ایف کی سربراہ عہدے سے مستعفی، اپنا استعفیٰ جمع کرادیا

امریکا کی طرف سے سیاسی پناہ پر پابندیاں، اقوام متحدہ کو شدید تحفظات وجود - بدھ 17 جولائی 2019

اقوام متحدہ کی مہاجرین سے متعلق ایجنسی نے امریکا کی طرف سے سیاسی پناہ پر پابندیوں کے اعلان پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یو این ایچ سی آرنے ایک بیان میں کہاکہ اس فیصلے سے خطرات کے شکار افراد مزید غیر محفوظ ہو جائیں گے۔ اس ایجنسی کی طرف سے یہ بیان ٹرمپ انتظامیہ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ میکسیکو سرحد سے آنے والے زیادہ تر افراد کو سیاسی پناہ دینے کا سلسلہ ترک کر دے گی۔ امریکا میں یہ ضابطہ شروع ہوچکا ہے جس کی وجہ س...

امریکا کی طرف سے سیاسی پناہ پر پابندیاں، اقوام متحدہ کو شدید تحفظات

اسپین سے برطانیا جانیوالی خاتون کو قابل اعتراض لباس پر طیارے سے نکال دیا گیا وجود - پیر 01 جولائی 2019

اسپین سے برطانیہ جانے کی خواہشمند ایک خاتون کوقابل اعتراض لباس پہننے پر پرواز سے نکال دیا گیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق31سالہ ہیریٹ اوسبورن اسپین کے شہر مالاگا سے لندن کا سفر کررہی تھیں اور ان کے لباس پر مسافروں کے اعتراضات کے بعد فضائی عملے نے لباس بدلنے کو کہا۔برطانیا کی سب سے بڑی بجٹ ائیرلائن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خاتون نے ایسا لباس پہن رکھا تھا جس سے جسم ظاہر ہورہا تھا اور مسافروں کے اعتراض کے بعد ہیریٹ کو اضافی قمیض پہننے کے لیے دی گئی۔ایزی جیٹ کے ترجمان کے مطابق ہم...

اسپین سے برطانیا جانیوالی خاتون کو قابل اعتراض لباس پر طیارے سے نکال دیا گیا

امن معاہدے کے باوجود افغانستان میں سیکورٹی خطرات رہیں گے،امریکا وجود - پیر 01 جولائی 2019

امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل برائے افغانستان ری کنسٹرکشن (سگار) جان اسپوکو نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان مفاہمتی سمجھوتاہونے کے باوجود افغانستان شدت پسند تنظیموں سے نبرد آزما رہے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سگار کو امریکی کانگریس کی جانب سے 18 سال سے جاری جنگ کی نگرانی اور جنگ زدہ ملک میں امن و استحکام کی بحالی کے حوالے سے سہ ماہی رپورٹس جمع کروانے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔چنانچہ اپنی رپورٹ میں سگار نے بتایا کہ امن سمجھوتے کے ساتھ اور اس کے بغیر بھی ممکنہ طور پر افغان...

امن معاہدے کے باوجود افغانستان میں سیکورٹی خطرات رہیں گے،امریکا

امریکی مندوبین پہلی بار سرکاری سطح پر یہودی آبادکاری کی تقریب میں شریک وجود - پیر 01 جولائی 2019

امریکی حکومت کی طرف سے فلسطین میں یہودی آباد کاری کی خاموش حمایت کے بعد اب اعلانیہ اور کھلے عام حمایت اور مدد کی جانے لگی ہے۔اخباری اطلاعات کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی توسیع پسندی کے لیے سرگرم تنظیم العادکی جانب سے ایک سرنگ کی کھدائی کی افتتاحی تقریب میں اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈ مین اور مشرق وسطی کے لیے امریکا کے امن مندوب جیسن گرین بیلٹ نے بھی شرکت کی۔خیال رہے کہ العادنامی یہودی تنظیم بیت المقدس کو یہودیانے کیلیے سرگرم عمل ہے۔امریکی مندوبین کی فلسطین...

امریکی مندوبین پہلی بار سرکاری سطح پر یہودی آبادکاری کی تقریب میں شریک

ٹرمپ کی ہلاک باپ، بیٹی کی تصویر پر گولف کھیلنے کی ڈرائنگ وائرل وجود - پیر 01 جولائی 2019

گزشتہ ماہ 26 جون کو امریکا اور میکسیکو کے بارڈر پر امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران دریائے ریو گرینڈے میں پانی کی لہروں میں چل بسنے والے ایل سلواڈور کے مہاجر باپ اور بیٹی کی موت کی تصاویر نے دنیا کو جھنجوڑ دیا تھا۔پانی کی لہروں میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے ایل سلواڈور کے 25 سالہ آسکر البرٹو اور ان کی 2 سالہ بیٹی کی پانی میں تیرتی لاش کی تصاویر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں غم کی لہر چھاگئی تھی اور لوگوں نے ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرنا شروع کردی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا ا...

ٹرمپ کی  ہلاک باپ، بیٹی کی تصویر پر گولف کھیلنے کی ڈرائنگ وائرل

افغان دارالحکومت کابل میں دھماکا، 53افراد زخمی، ہلاکتوں کا خطرہ وجود - پیر 01 جولائی 2019

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 53افراد زخمی ہو گئے، دھماکے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر زخمیوں کی اطلاع کے باعث ہلاکتوں کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی سفارت خانے کے اطراف میں واقع گنجان آباد علاقہ طاقتور دھماکے سے گونج اٹھا، جس کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق دھماکا کابل کے علاقے پی ڈی 16 میں کیا گیا، جس میں 2 حملہ آوروں نے...

افغان دارالحکومت کابل میں دھماکا، 53افراد زخمی، ہلاکتوں کا خطرہ

دوسری جنگ عظیم میں فتح کا 75 واں جشن صدر ٹرمپ کو روس آنے کی دعوت وجود - اتوار 30 جون 2019

روس نے امریکی صدر کو دوسری جنگ عظیم میں فتح کے 75 ویں جشن کے موقع پر 09 مئی 2020 کو روس آنے کی دعوت دیدی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کریملن کے مشیر یوری اوشاکوو نے بتایا کہ ہم نے امریکی صدر کو دوسری جنگ عظیم میں فتح کے 75 ویں جشن کے موقع پر 09 مئی 2020 کو روس آنے کی دعوت دی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی تاحال مدت صدارت میں روس کے ساتھ ان کے تعلقات کے بارے میں شہبات حاوی چلے آ رہے ہیں۔رابرٹ ملر کی نگرانی میں ہونے والی تحقیقات ابھی تک کسی ایسی دوٹوک دلیل تک نہیں پہنچی جس سے یہ بات ثابت ہ...

دوسری جنگ عظیم میں فتح کا 75 واں جشن صدر ٹرمپ کو روس آنے کی دعوت

ہمارے انتخابات میں دخل نہ دیجیے گا،ٹرمپ کا پوٹن کے ساتھ مذاق وجود - هفته 29 جون 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے جی ٹوئنٹی سمٹ کی سائیڈ لائنز پر باہمی مذاکرات کرتے ہوئے ان سے پیش آئند امریکی انتخابات میں مداخلت نہ کرنے کا مطالبہ کیاہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کا اظہار تفنن ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب کانگرس 2016 کے امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم چلانے والی ٹیم اور روس کے درمیان جوڑ توڑ کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔کیمروں کے فلیش کی چکا چوند میں صدر ٹرمپ اپنے روسی ہم منصب سے از راہ تفنن یہ کہتے ہوئے مخاطب ہوئے ...

ہمارے انتخابات میں دخل نہ دیجیے گا،ٹرمپ کا پوٹن کے ساتھ مذاق