وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مقبوضہ کشمیر۔۔۔۔۔ ریاستی دہشت گردی کے کئی روپ

جمعه 04 دسمبر 2015 مقبوضہ کشمیر۔۔۔۔۔ ریاستی دہشت گردی کے کئی روپ

kashmir-azadi-freedom

ایک طرف بھارت سرکار نے فوج ،بی ایس ایف اور دیگر نیم فوجی تنظیوں کوافسپا(AFSPA) کے نام پر کشمیریوں کو کچلنے کیلئے کھلی چھوٹ دیدی ہے ،وہیں دوسری طرف ریاستی دہشت گردی کے مختلف طریقے بھی ایجاد کئے گئے ،ان میں منحرف بندوق برداروں کی تنظیمیں قائم کرنا،مسلم اکثریتی علاقوں کے ترقیاتی فنڈز اور سرکاری نوکریوں میں امتیاز برتنا شامل ہے۔بھارتی سراغ رساں ایجنسی را نے 1994 میں شمالی کشمیر میں’’ کوکہ پرے ‘‘کی قیادت میں اخوان المسلمین سے وابستہ یوسف پرے (المعروف کوکہ پرے المعروف جمشید شیرازی) کی قیادت میں منحرف بندوق برداروں کا ایک گروپ تشکیل دیا ، جس کا نام اخوان المسلمون رکھا گیا۔اسی طرح جنوبی کشمیر میں ’’نبہ آزاد‘‘ نامی منحرف بندوق بردار کی قیادت میں ایسا ہی ایک گروہ مسلم مجاہدین کے نام سے منظم کیا گیا ،چونکہ ان گروہوں سے وابستہ افراد کا تعلق مجاہدین تنظیموں سے ہی تھا ،اس لئے یہ ہر ایک تحریکی ہمدرد اور کارکن سے واقف تھے ۔گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مترادف ،ان لوگوں نے ایسا طوفان بدتمیزی مچایا کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔فوج کی چھتر چھایا میں ان لوگوں کے ہاتھوں نہ صرف مجاہدین شہید ہوتے رہے بلکہ عام کشمیری بھی ان کے ظلم و ستم سے محفوظ نہ رہ سکے۔بھارتی فوج کا کام انہوں نے آسان بنا دیا ،اب فوج اور بی ایس ایف کے بجائے ہر الزام منحرف بندوق برداروں کے کھاتے میں پڑنے لگا۔ان سرکار نواز بندوق برداروں کی کارروائیاں نوے کی دہائی کے اختتام تک جاری رہیں۔

نوے کی دہائی کے وسط میں ان کا سکہ ریاست میں ہر جانب سے چل رہا تھا۔ قانون ، حکومت، ایوان اْن کے اشاروں پر کام کرتے تھے، سرکاری و غیر سرکاری تمام شعبہ جات میں اِن منحرف لوگوں کا اس حد تک عمل دخل تھا کہ عام انسان خوف اور دہشت کے مارے کہیں سے بھی انصاف کی امید نہیں کرتا تھا۔اِن منحرف بندوق برداروں کی نہ صرف فوج اور نیم فوجی ایجنسیاں اْن کی تمام غیراخلاقی، غیر انسانی و غیر قانونی کارروائیوں کی پشت پناہی کرر ہی تھیں،بلکہ حکومتِ وقت مہربان تھی اور اْنہیں وہ سب کرنے کی کھلی اجازت ہوتی تھی جس کی اجازت جنگل کا قانون بھی نہیں دے سکتا ہے۔ درجنوں ادیب ،دانشور،سیاسی کارکن اِن سرکاری بندوق برداروں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔کپواڑہ سے کشتواڑ تک ہزاروں بیگناہوں کا قتل عام کیا گیا، اغوا کاری کر کے تاوان وصول کرنا عام بات بن چکی تھی، ملّت کی کتنی ہی ایسی بدنصیب بیٹیاں ہیں جو جرائم کے اِن کالے بھیڑیوں کے ہتھے چڑھ گئی ہیں، کم ہی ایسے ذی عزت لوگ ہوں گے جو اْن کی تذلیل سے بچے ہوں گے، دیہات سے ہزاروں خاندانوں کی ہجرت کا بنیادی سبب یہی سرکاری بندوق بردار رہے ہیں۔ان گھر کے بھیدیوں کے ہاتھوں اپنے ہی لوگوں کے خلاف تاریخ نے اتنا ظلم و ستم اپنے اوراق میں سمیٹ لیا ہے کہ قیامت تک اِس قوم کی آنے والی نسلیں اْنہیں بد دعائیں ہی دیں گی۔

کریسنٹ آن لائن کے مطابق 1989ء سے 2009 تک 100000 کشمیری جاں بحق ہوئے ہیں ،جن میں 92,906لوگ عام شہروں ،گلیوں ،کوچوں اور گھروں کے اندر شہید ہوئے ہیں ۔شہید ہونیوالوں میں خواتین کی تعداد 2278ہے۔

ریاست جموں و کشمیر کے طول وعرض میں سب سے زیادہ جماعت اسلامی سے وابستہ لوگ اِن کے ظلم و ستم کا شکار ہو ئے ہیں، اس تنظیم کے850 سے زائد ارکان و رہنماؤں کو انہی بندوق برداروں نے موت کے گھاٹ اْتار دیا، کپواڑہ ضلع میں1995ء کی ایک ہی رات میں30 سے زائد جماعت سے وابستہ یا اس تنظیم سے ہمدردی رکھنے والوں کو مختلف مقامات پر ابدی نیند سْلا دیا گیا۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اِنRenegades نے بھارتی فورسز کی سرپرستی میں ایسے سیاہ کارنامے انجام دئیے جس کا احسان ان کے آقاؤں کی کئی پشتوں پر رہے گا۔

ترقیاتی فنڈز میں امتیاز

2001 ء کی مردم شماری کے مطابق صوبہ کشمیر کی آبادی 5467970 ،جموں صوبے کی آبادی 4430191اور صوبہ لداخ کی آبادی 236539ہے۔لیکن2008ء کے وزیراعظم کے خصوصی پیکیج 29000کروڑ روپے میں سے صوبہ کشمیر کیلئے 6447کروڑ(22%)،صوبہ جموں کیلئے12530کروڑ(43%) اور صوبہ لداخ کیلئے 2804کروڑ(9.67%)فراہم کئے گئے۔باقی رقم اسٹیٹ لیول سیکٹرز کو فراہم کی گئی۔حالانکہ آبادی کے تناسب سے کشمیر صوبے کا حصہ (54%)بنتا ہے۔جموں اور لداخ کا بالترتیب 43.7%اور2.3% حصہ بنتا ہے۔اسی طرح 5000کروڑصنعتی پیکیج کی رقم جو ریاست کو فراہم کی گئی کا صرف 10%حصہ صوبہ کشمیر میں خرچ کیا گیا۔اس طرح مسلم آبادی کو نظر انداز کرکے ان میں معاشی بدحالی کو فروغ دے کر انہیں پائی پائی کا محتاج بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پرائم منسٹرز پیکیج (امتیازی برتاؤ) جدول(1)

سال 2001ء لداخ جموں ڈویژن کشمیر ڈویژن
کل آبادی 236539 4430191 5467970
ترقیاتی فنڈ 2804 کروڑ (9.67 فیصد) 12530 کروڑ (43 فیصد) 6447 کروڑ (22 فیصد

مرکزی اور ریاستی انتظامی محکموں میں بھی ایسا ہی حال ہے۔2005ء میں سچر کمیٹی کے سامنے جو رپورٹ ریاستی سرکار نے پیش کی ،اس کے مطابق انڈین ایڈ منسٹریٹو سروسز میں ریاستی افسران کی تعداد کل 94ہے،جن میں سے کشمیرڈویژن سے صرف 24افسران ہیں۔ باقی سب کا تعلق جموں ڈویژن سے ہے۔اسی طرح کشمیر ایڈ منسٹریٹو سروسز میں 2001ء سے 2008ء تک 478تھی جن میں صرف 106کا تعلق کشمیرڈویژن سے ہے اور 360کا تعلق جموں ڈویژن سے ہے۔یہ بات صرف KASافسران تک محدود نہیں بلکہ 2008ء میں سروسز سلیکشن بورڈ نے 429 ا کاونٹساسسٹنٹ اسامیوں کی بھرتی کی جن میں وادی سے صرف 95 ا کاونٹس اسسٹنٹ لئے گئے ،جبکہ جموں ڈویژن سے 334امیدواروں کا انتخاب کیا گیا۔ اورجن میں مسلم طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

ملازمتوں میں امتیاز ۔۔۔۔۔(جدول2)

سال 2008ء آئی اے ایس افسران کے اے ایس افسران
2001ء سے 2008ء
اکاؤنٹس اسسٹنٹ
2008ء (تقرریاں
کل تعداد 94 478 429
کشمیر ڈویژن 24 106 95
جموں ڈویژن 70 360 334

اس طرح کے امتیاز سے کشمیریوں کی محرومیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح بھارت نہ صرف فوجی طاقت سے ان کو زیر نگین رکھنا چاہتا ہے بلکہ معاشی لحاظ سے بھی انہیں کنگال کرکے ،در در کی بھیک مانگنے کے بھیانک عزائم رکھتا ہے تاکہ وہ دماغ سے سوچنے کے بجائے پیٹ سے سوچنے کا طریقہ اختیار کریں ۔

ریاستی دہشت گردی اعداد شمار کے آئینے میں

بین الاقوامی اور قومی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی فورسز نے تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کیلئے طاقت کا بھر پور استعمال کیا ،اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔کرسچین سائنس مانیٹر کے مطابق ،پچھلے بیس برسوں میں60000سے 100000لاکھ بچے یتیم ہوئے ہیں۔کریسنٹ آن لائن کے مطابق 1989ء سے 2009 تک 100000 کشمیری جاں بحق ہوئے ہیں ،جن میں 92,906لوگ عام شہروں ،گلیوں ،کوچوں اور گھروں کے اندر شہید ہوئے ہیں ۔شہید ہونیوالوں میں خواتین کی تعداد 2278ہے۔

1989ء سے جولائی 2009ء تک (جدول 3)

کل شہدا 100000
زیر حراست شہادتیں 6559
خواتین کی بے حرمتی 9885
یتیم بچے 107262
بیوہ عورتیں 23000
شہری گرفتار 11633

معروف نیوز ایجنسی ،کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کے اعداد شمار کے مطابق جنوری 1989ء سے 31,اکتوبر 2015ء تک 94,273 کشمیری شہید ہوئے ہیں ،جن میں 7,038لوگ زیر حراست شہید کئے گئے ہیں ۔

جنوری 1989سے 31,اکتوبر 2015ء تک(جدول4) کشمیر میڈیا سنٹر

کل شہادتیں 94,273
زیر حراست شہادتیں 7,038
خواتین کی بے حرمتی 10,159
یتیم بچے 107,545
بیوہ عورتیں 22,806
شہری گرفتار 131,212
مکانات و تعمیرات خاکستر 106,050

لا پتہ لوگوں کے ورثاء کی تنظیم اے پی ڈی پی (Association of Parents of Disappeared Persons )کی ایک رپورٹ کے مطابق 1989ء سے اگست 2015تک10000لوگ بھارتی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوکر لا پتہ کردئے گئے ہیں ۔ اے پی ڈی پی ( Association Of Parents Of Disappeared Persons)ان والدین کی تنظیم ہے جن کے بچے ،بھائی یا قریب ترین رشتہ دار ،بھارتی فورسز کے ذریعے گرفتاری کے بعد لاپتہ ہوئے۔جبکہ سری نگر ہائی کورٹ بار ایسو ایشن کے اعداد وشمار کے مطابق 3لاکھ کشمیریوں کو انٹروگیشن سنٹروں اور بھارتی جیلوں میں شدید تعزیب کا نشانہ بنایا گیا۔

انٹرنیشنل پیپلز ٹربیونل آن ہیومن رائٹس اینڈ جسٹس تنظیم کے مطابق کشمیر کے صِرف تین اضلاع میں2373 بے نام قبریں موجود ہیں جن میں سے ایک سو چون قبروں میں ایک سے زائد لاشیں دفنائی گئی ہیں ۔یہ انکشا ف پر وفیسر اونگنا چٹر جی نے تنظیم کے دیگر اراکین پرویز امروز، گوتم نولکھا، ظہیرالدین، مِہیر ڈیسائی اور خرم پرویز کے ہمراہ 9 دسمبر 2009 کو ایک پریس کانفرنس میں اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کیا ۔اس رپورٹ کو اونگنا چٹرجی ، پرویز امروز، گوتم نولکھا، ظہیرالدین، مِہیرڈیسائی اور خرم پرویز نے مشترکہ طور تحریرکیا ہے۔ رپورٹ کے ابتدائیہ میں لکھا گیاہے: کشمیر میں بھارتی فوج اور نیم فوجی عملہ فرضی جھڑپوں، حراستی تشدد اور خفیہ قتل کی کاروائیوں میں ملوث رہے ہیں جس کے نتیجہ میں آٹھ ہزار لوگ لاپتہ ہوگئے ہیں اور ستّر ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

جموں کشمیر ہیومن رائٹس کمیشن کے سربراہ بشیر احمد یتو نے 2011اگست میں اپنی رپورٹ حکومت جموں وکشمیر؂ پیش کی جس کے مطابق شمالی کشمیر کے علاقوں کپواڑہ، ہندواڑہ اور بانڈی پورہ کے 35 مقامات پر 2156 افراد کی نہ صرف گمنام بلکہ اجتماعی قبروں کا سراغ ملا ہے۔ ان مقامات پر اٹھارہ گڑھا نما قبروں میں ایک سے زیادہ افراد کے دفن ہونے کا پتا چلا ہے، گویا کہ ان گڑھوں میں اجتماعی طور پر کئی افراد دفن کیے گئے ہیں ۔معروف کشمیری خاتون قلمکار سوزینہ مشتاق اس ساری جدوجہد کا خلاصہ اپنی ایک تحریر”Happy Indepenence Day” میں یوں بیان کرتی ہیں کہ ” تحریک آزادی کشمیر کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔جدجہد آزادی میں اتار چڑھاؤ آسکتے ہیں لیکن یہ تحریک منزل تک پہنچ کر ہی دم لے گی۔جب ہم نے آپ کی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف احتجاج کیا،جب ہم نے آپ کے جابرانہ اور استبدادی اقتدار اعلیٰ کے خلاف آواز اٹھائی ،جب ہم نے ظلم سہنے سے انکار کیا،جب ہم نے اپنی آزادی کا مطالبہ کیا،تو آپ کی فوج نے بڑی سفاکی سے ہمارا خون بہایا۔ کشمیر کے چپے چپے میں آپ نے ظلم و زیادتی کی انتہا کردی۔حد یہ کہ بچوں تک کو بھی اس سفاکیت کا شکار بننا پڑا۔جب آپ کی سرزمین کے لوگوں نے برطانوی راج کے خلاف آواز بلند کی ،آپ نے انہیں آزادی کے مجاہد قرار دیا۔انہیں اپنا ہیرو تسلیم کیا۔لیکن جب ہم نے اپنی سرزمین میں وہی آواز بلند کی تو آپ نے نئی بولی بولنی شروع کردی۔آپ نے ہمارے شہیدوں کو غدار،ہمارے مجاہدین کو انتہا پسند اور بنیاد پرست،اورہماری تحریک کو خبط و جنوں کے دورے سے تشبیہ دے کر،پاگل پن قرار دیا۔لیکن آپ ناکام ہوگئے۔آپ ہماراعزم و ہمت توڑنے میں با لکل ناکام رہے۔ پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر ظالمانہ اور کالے قوانین کے ذریعے ہماری آرزوں اور تمناوں کو دبانے میں قطعی ناکام رہے۔دفعہ144کے نفاذاور بل کھاتی ہوئی خار دارتاریں ہمارے ظاہری وجود کو حرکت کرنے سے شاید روک سکیں ،لیکن ہمارے خیالات و احساسات کو کوئی رکاوٹ روک نہیں سکتی۔ دنیا کی کوئی طاقت ہمارے احساسات اور خیالات ہم سے چھین نہیں سکتی۔آپ بہت ہی بری طرح ناکام ہوگئے۔بات جہاں درمیان میں رکی تھی ،وہ بعد میں بھی پھر کہی جاسکتی ہے۔ ہم دوبارہ کسی بھی وقت اس موضوع کو وہیں سے پھر شروع کرسکتے ہیں ،جہاں ہم نے اسے وقفہ دیا تھا۔دو سو سال کی غلامی کے بعد آپ نے آزادی حاصل کی۔۔۔ہم بھی اپنی آزادی حاصل کرلیں گے۔کہا جاتا ہے نا۔۔امید تو رکھنی چاہیے اور خواب کبھی مرتے نہیں۔۔ ہم خواب بھی دیکھتے رہیں گے اور امید کا دامن بھی نہیں چھوڑیں گے”

حقیقت حال بھی یہی ہے کہ کشمیر غلامی کی آگ میں جھلس رہا ہے ۔اور جب تک یہ جنت ارضی اس آگ میں جلتی رہے گی کشمیری قوم کا سفر بھی جاری رہے گا ۔سعادت کا سفر ،شہادت کا سفر ختم نہیں ہو گا۔سو کشمیریوں کا سفر آج بھی جاری ہے اور تب تک جاری رہے گا جب تک کہ کشمیریوں کو آزادی سے رہنے ،جینے اور سر اٹھاکے چلنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔


متعلقہ خبریں


کورونا وائرس پھیپھڑوں کی بجائے براہ راست دماغ پر حملہ کرسکتا ہے ، تحقیق وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ نتھنوں سے جسم میں داخل ہونے پر پھیپھڑوں کی بجائے براہ راست دماغ پر برق رفتار حملہ کرتی ہے ، جس کے نتیجے میں شدت سنگین ہوتی ہے ، چاہے پھیپھڑوں سے وائرس کلیئر ہی کیوں نہ ہوجائے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات امریکا میں چوہوں پر ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دریافت کی گئی۔جارجیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کا کہنا تھا کہ نتائج کا اطلاق انسانوں میں سامنے آنے والی علامات اور بیماری کی شدت کو سمجھنے کے لیے بھی ہوسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ...

کورونا وائرس پھیپھڑوں کی بجائے براہ راست دماغ پر حملہ کرسکتا ہے ، تحقیق

ٹرمپ کی متنازع پالیسیاں ختم کرنے کے متعدد حکم نامے جاری وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

امریکی صدر جو بائیڈن نے 78 سال کی عمر میں امریکا کے 46 ویں صدر کی حیثیت سے منصب سنبھالتے ہی کئی صدارتی حکم ناموں پر دستخط کردیئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاوس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ وہ پریس کی آزادی کی دل کی گہرائیوں سے قدرکرتی ہیں،امریکیوں کو سچ اور حقائق سے آگاہ رکھنا ہمارا مقصد ہے ۔جین ساکی کے مطابق صدر بائیڈن نے پہلا حکم کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے جاری کیا ہے ، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کی متازع پالیسیوں کو ختم کرنے کے لیے متعدد حکم ...

ٹرمپ کی متنازع پالیسیاں ختم کرنے کے متعدد حکم نامے جاری

امریکا میں خواجہ سرا محکمہ صحت میں معاون سیکرٹری کے عہدے کے لیے نامزد وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن نے خواجہ سرا ڈاکٹر ریچل لیون کو محکمہ صحت میں معاون سیکرٹری کے عہدے کے لیے نامزد کردیا ہے ۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جوبائیڈن نے صدر کے عہدے کا حلف 20 جنوری کو اٹھانا ہے تاہم وہ مختلف شعبوں میں اپنی ٹیم کی تشکیل میں مصروف ہیں اور اس سلسلے میں امریکی تاریخ میں پہلی بار ایک خواجہ سرا کو محمکہ صحت میں اہم ذمہ داری دی جارہی ہے ۔ڈاکٹر ریچل لیون ایک اعلانیہ خواجہ سرا ہیں اور اس وقت پنسلوینیا میں سیکرٹری برائے صحت ہیں۔ نومنتخب صدر جوبائیڈن نے ان کی...

امریکا میں خواجہ سرا محکمہ صحت میں معاون سیکرٹری کے عہدے کے لیے نامزد

ٹرمپ کا پیٹریاٹ پارٹی کے نام سے نئی جماعت بنانے پر غور وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

امریکی اخبار نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ ایک نئی سیاسی جماعت بنانے پر غور کر رہے ہیں جس کا مجوزہ نام پیٹریاٹ پارٹی ہے ۔امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے قریبی حلقوں نے بتایاکہ کے مطابق حالیہ دنوں میں انہوں نے اپنے ساتھیوں سے اس بارے میں تفصیلی مشورے کیے ۔مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی نئی سیاسی جماعت بننے سے ریپبلکن پارٹی کا ووٹ تقسیم ہو سکتا ہے ۔ اس لیے قوی امکان ہے کہ ریپبلکن پارٹی ایسے کسی نقصان سے خود کو بچانے کے لیے ٹرمپ کی زبردست مخالفت پر اتر آئے ۔

ٹرمپ کا پیٹریاٹ پارٹی کے نام سے نئی جماعت بنانے پر غور

جوبائیڈن نے پہلے ہی روز امریکی سرجن جنرل ایڈمز سے استعفی طلب کرلیا وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

امریکی صدر جوبائیڈن نے دفتر سنبھالتے ہی امریکی سرجن جنرل جیروم ایڈمز سے استعفی طلب کرلیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے حلف اٹھاتے ہی جہاں مسلمانوں پر سفری پابندی ختم کرنے سمیت 15 صدارتی حکم ناموں پر دستخط کیئے وہیں صحت کے شعبہ سے وابستہ امریکی سرجن جنرل جیروم ایڈمز سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ بھی کردیا۔گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے سرجن جنرل جیروم ایڈمز نے کہا کہ بائیڈن حکومت کی جانب سے مجھے عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہے ، میرے لیے قوم کی خدم...

جوبائیڈن نے پہلے ہی روز امریکی سرجن جنرل ایڈمز سے استعفی طلب کرلیا

چین کی مائیک پومپیو سمیت ٹرمپ انتظامیہ کے 28 عہدیداروں پر پابندیاں وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

چین نے سابق امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو سمیت ٹرمپ انتظامیہ کے 28 اہم عہدیداروں پر پابندیاں عائد کردیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت میں اہم عہدوں پر فائز رہنے والے 28 افراد پر پابندیاں اس لیے عائد کی گئی ہیں وہ کہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہے تھے ۔ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے جن افراد پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں انہوں نے چین کے مفادات کے خلاف منصوبہ بندی کی اور م...

چین کی مائیک پومپیو سمیت ٹرمپ انتظامیہ کے 28 عہدیداروں پر پابندیاں

بھارت کی پاکستان مخالف ایک اورپروپیگنڈہ مہم کی حقیقت سامنے آگئی وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

بھارت کی پاکستان مخالف پروپیگنڈہ مہم کی حقیقت دنیا کے سامنے آگئی اورایک بار پھربھارت کا اصل چہرہ ہرجگہ بے نقاب ہو گیا۔ یورپی یونین ڈس انفولیب میں ذکرکیے گئے تھنک ٹینکس، این جی اوزایک ایک کرکے پاش پاش ہونے لگے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق سائوتھ ایشیا ڈیموکریٹک فورم یا سیڈف بھی ہندوستان کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا آلہ کارتھا۔ ڈس انفو لیب کی رپورٹ آتے ہی اس تھنک ٹینک کے تمام کردارراہ فراراختیارکرنے لگے اورنام نہاد جعلی تھنک ٹینک کے تمام بورڈ ممبرز نے استعفی دے دیا۔واضح رہے کہ بھارتی...

بھارت کی پاکستان مخالف ایک اورپروپیگنڈہ مہم کی حقیقت سامنے آگئی

امریکی کانگریس میں 10سال بعد ڈیموکریٹس کا غلبہ وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

امریکا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جوبائیڈن کے صدر منتخب ہونے کے ساتھ ساتھ کانگریس میں بھی ڈیموکریٹس کو غلبہ حاصل ہوگیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق گذشتہ روز امریکا کی دو ریاستوں جارجیا اور کیلیفورنیا سے مزید دو ارکان نے نائب صدر کمالا ہیرس کے سامنے سینٹ کی رکنیت کاحلف اٹھایا جس کے بعد سینٹ میں ڈیموکریٹس کو دس سال کے بعد پہلی بار اکثریت حاصل ہوئی ۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیٹ کے ڈیموکریٹک اکثریت کے رہنما چک شمر نے امریکا میں جمہوری اقدار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہماری ...

امریکی کانگریس میں 10سال بعد ڈیموکریٹس کا غلبہ

پی سی بی،احسان مانی کے ابتدائی 6 ماہ کے اخراجات کی تفصیل جاری وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) احسان مانی کے ابتدائی 6 ماہ کے اخراجات کی تفصیل پی سی بی ویب سائٹ پر جاری کردی گئی ہے ۔دستاویزات کے مطابق احسان مانی نے چھ ماہ میں 57 لاکھ 6 ہزار 171 روپے خرچ کیے ، اوسط ایک ماہ میں 9 لاکھ 51 ہزار روپے خرچ کیے ۔ احسان مانی نے رہائش کی مد میں 22 لاکھ 2 ہزار روپے سے زائد خرچ کیے ، گاڑی اور ڈرائیور کی مد میں 5 لاکھ 29 ہزار روپے سے زائد خرچ ہوئے ۔دستاویزات کے مطابق علاج کے لیے احسان مانی نے 81 ہزار 8 سو روپے خرچ کیے ، غیرملکی دوروں پر 11 لاکھ ...

پی سی بی،احسان مانی کے ابتدائی 6 ماہ کے اخراجات کی تفصیل جاری

ڈینیئل پرل قتل، ملزمان کی رہائی کیخلاف درخواست، سیکریٹری داخلہ3فروری کو طلب وجود - بدھ 20 جنوری 2021

سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس میں بری ملزمان کو رہا نہ کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ اور دیگر حکام کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیاہے ۔بدھ کو عدالتِ عالیہ نے سیکریٹری داخلہ اور جیل حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی ضمنی درخواست کی سماعت کی، جس کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے ستمبر میں حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک ملزمان کو رہا نہ کیا جائے ۔سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ اگر معاملہ سپریم کورٹ م...

ڈینیئل پرل قتل، ملزمان کی رہائی کیخلاف درخواست، سیکریٹری داخلہ3فروری کو طلب

واٹس ایپ چھوڑکر ترک ایپ بپ کی جانب رغبت میں اضاف وجود - بدھ 20 جنوری 2021

ہ عوام واٹس ایپ کو ترک کر کے ترکی کے سماجی پلیٹ فارم بپ کی طرف راغب ہو رہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں بھی اس ایپ کی ڈائون لوڈنگ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔رپورٹ کے مطابق لوگ ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق اندیشوں کے باعث فوری پیغام رسانی کی اپیلی کیشن واٹس ایپ کو ترک کر کے ترکی کے سماجی رابطہ پلیٹ فارم بِپ کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔عوام کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ سے زیادہ بہتر ویڈیو کال، ایک ہزار افراد تک کے چیٹنگ گروپ اور مختلف چینلوں کی رکنیت کی اجازت دینے جیسی خصوصیات کی وجہ سے ہم بِپ کو تر...

واٹس ایپ چھوڑکر ترک ایپ بپ کی جانب رغبت میں اضاف

ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے ،ڈونلڈ ٹرمپ کا الوداعی خطاب وجود - بدھ 20 جنوری 2021

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکیوں سے اپنا الوداعی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے ۔ فخر ہے کہ میں دہائیوں میں وہ پہلا صدر ہوں جس نے کوئی نئی جنگیں شروع نہیں کیں۔اب ملک کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہماری قومی عظمت سے اعتماد کے ضیاع کا ہے ،غیرملکی خبررساں ادراے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکیوں سے بحیثیت امریکی صدر اپنا الوداعی خطاب بذریعہ یوٹیوب کیا ۔انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ فخر ہے کہ میں دہائیوں میں وہ پہلا صدر ہوں جس نے کوئی نئی جنگیں شروع نہیں...

ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے ،ڈونلڈ ٹرمپ کا الوداعی خطاب