وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مقبوضہ کشمیر۔۔۔۔۔ ریاستی دہشت گردی کے کئی روپ

جمعه 04 دسمبر 2015 مقبوضہ کشمیر۔۔۔۔۔ ریاستی دہشت گردی کے کئی روپ

kashmir-azadi-freedom

ایک طرف بھارت سرکار نے فوج ،بی ایس ایف اور دیگر نیم فوجی تنظیوں کوافسپا(AFSPA) کے نام پر کشمیریوں کو کچلنے کیلئے کھلی چھوٹ دیدی ہے ،وہیں دوسری طرف ریاستی دہشت گردی کے مختلف طریقے بھی ایجاد کئے گئے ،ان میں منحرف بندوق برداروں کی تنظیمیں قائم کرنا،مسلم اکثریتی علاقوں کے ترقیاتی فنڈز اور سرکاری نوکریوں میں امتیاز برتنا شامل ہے۔بھارتی سراغ رساں ایجنسی را نے 1994 میں شمالی کشمیر میں’’ کوکہ پرے ‘‘کی قیادت میں اخوان المسلمین سے وابستہ یوسف پرے (المعروف کوکہ پرے المعروف جمشید شیرازی) کی قیادت میں منحرف بندوق برداروں کا ایک گروپ تشکیل دیا ، جس کا نام اخوان المسلمون رکھا گیا۔اسی طرح جنوبی کشمیر میں ’’نبہ آزاد‘‘ نامی منحرف بندوق بردار کی قیادت میں ایسا ہی ایک گروہ مسلم مجاہدین کے نام سے منظم کیا گیا ،چونکہ ان گروہوں سے وابستہ افراد کا تعلق مجاہدین تنظیموں سے ہی تھا ،اس لئے یہ ہر ایک تحریکی ہمدرد اور کارکن سے واقف تھے ۔گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مترادف ،ان لوگوں نے ایسا طوفان بدتمیزی مچایا کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔فوج کی چھتر چھایا میں ان لوگوں کے ہاتھوں نہ صرف مجاہدین شہید ہوتے رہے بلکہ عام کشمیری بھی ان کے ظلم و ستم سے محفوظ نہ رہ سکے۔بھارتی فوج کا کام انہوں نے آسان بنا دیا ،اب فوج اور بی ایس ایف کے بجائے ہر الزام منحرف بندوق برداروں کے کھاتے میں پڑنے لگا۔ان سرکار نواز بندوق برداروں کی کارروائیاں نوے کی دہائی کے اختتام تک جاری رہیں۔

نوے کی دہائی کے وسط میں ان کا سکہ ریاست میں ہر جانب سے چل رہا تھا۔ قانون ، حکومت، ایوان اْن کے اشاروں پر کام کرتے تھے، سرکاری و غیر سرکاری تمام شعبہ جات میں اِن منحرف لوگوں کا اس حد تک عمل دخل تھا کہ عام انسان خوف اور دہشت کے مارے کہیں سے بھی انصاف کی امید نہیں کرتا تھا۔اِن منحرف بندوق برداروں کی نہ صرف فوج اور نیم فوجی ایجنسیاں اْن کی تمام غیراخلاقی، غیر انسانی و غیر قانونی کارروائیوں کی پشت پناہی کرر ہی تھیں،بلکہ حکومتِ وقت مہربان تھی اور اْنہیں وہ سب کرنے کی کھلی اجازت ہوتی تھی جس کی اجازت جنگل کا قانون بھی نہیں دے سکتا ہے۔ درجنوں ادیب ،دانشور،سیاسی کارکن اِن سرکاری بندوق برداروں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔کپواڑہ سے کشتواڑ تک ہزاروں بیگناہوں کا قتل عام کیا گیا، اغوا کاری کر کے تاوان وصول کرنا عام بات بن چکی تھی، ملّت کی کتنی ہی ایسی بدنصیب بیٹیاں ہیں جو جرائم کے اِن کالے بھیڑیوں کے ہتھے چڑھ گئی ہیں، کم ہی ایسے ذی عزت لوگ ہوں گے جو اْن کی تذلیل سے بچے ہوں گے، دیہات سے ہزاروں خاندانوں کی ہجرت کا بنیادی سبب یہی سرکاری بندوق بردار رہے ہیں۔ان گھر کے بھیدیوں کے ہاتھوں اپنے ہی لوگوں کے خلاف تاریخ نے اتنا ظلم و ستم اپنے اوراق میں سمیٹ لیا ہے کہ قیامت تک اِس قوم کی آنے والی نسلیں اْنہیں بد دعائیں ہی دیں گی۔

کریسنٹ آن لائن کے مطابق 1989ء سے 2009 تک 100000 کشمیری جاں بحق ہوئے ہیں ،جن میں 92,906لوگ عام شہروں ،گلیوں ،کوچوں اور گھروں کے اندر شہید ہوئے ہیں ۔شہید ہونیوالوں میں خواتین کی تعداد 2278ہے۔

ریاست جموں و کشمیر کے طول وعرض میں سب سے زیادہ جماعت اسلامی سے وابستہ لوگ اِن کے ظلم و ستم کا شکار ہو ئے ہیں، اس تنظیم کے850 سے زائد ارکان و رہنماؤں کو انہی بندوق برداروں نے موت کے گھاٹ اْتار دیا، کپواڑہ ضلع میں1995ء کی ایک ہی رات میں30 سے زائد جماعت سے وابستہ یا اس تنظیم سے ہمدردی رکھنے والوں کو مختلف مقامات پر ابدی نیند سْلا دیا گیا۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اِنRenegades نے بھارتی فورسز کی سرپرستی میں ایسے سیاہ کارنامے انجام دئیے جس کا احسان ان کے آقاؤں کی کئی پشتوں پر رہے گا۔

ترقیاتی فنڈز میں امتیاز

2001 ء کی مردم شماری کے مطابق صوبہ کشمیر کی آبادی 5467970 ،جموں صوبے کی آبادی 4430191اور صوبہ لداخ کی آبادی 236539ہے۔لیکن2008ء کے وزیراعظم کے خصوصی پیکیج 29000کروڑ روپے میں سے صوبہ کشمیر کیلئے 6447کروڑ(22%)،صوبہ جموں کیلئے12530کروڑ(43%) اور صوبہ لداخ کیلئے 2804کروڑ(9.67%)فراہم کئے گئے۔باقی رقم اسٹیٹ لیول سیکٹرز کو فراہم کی گئی۔حالانکہ آبادی کے تناسب سے کشمیر صوبے کا حصہ (54%)بنتا ہے۔جموں اور لداخ کا بالترتیب 43.7%اور2.3% حصہ بنتا ہے۔اسی طرح 5000کروڑصنعتی پیکیج کی رقم جو ریاست کو فراہم کی گئی کا صرف 10%حصہ صوبہ کشمیر میں خرچ کیا گیا۔اس طرح مسلم آبادی کو نظر انداز کرکے ان میں معاشی بدحالی کو فروغ دے کر انہیں پائی پائی کا محتاج بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پرائم منسٹرز پیکیج (امتیازی برتاؤ) جدول(1)

سال 2001ء لداخ جموں ڈویژن کشمیر ڈویژن
کل آبادی 236539 4430191 5467970
ترقیاتی فنڈ 2804 کروڑ (9.67 فیصد) 12530 کروڑ (43 فیصد) 6447 کروڑ (22 فیصد

مرکزی اور ریاستی انتظامی محکموں میں بھی ایسا ہی حال ہے۔2005ء میں سچر کمیٹی کے سامنے جو رپورٹ ریاستی سرکار نے پیش کی ،اس کے مطابق انڈین ایڈ منسٹریٹو سروسز میں ریاستی افسران کی تعداد کل 94ہے،جن میں سے کشمیرڈویژن سے صرف 24افسران ہیں۔ باقی سب کا تعلق جموں ڈویژن سے ہے۔اسی طرح کشمیر ایڈ منسٹریٹو سروسز میں 2001ء سے 2008ء تک 478تھی جن میں صرف 106کا تعلق کشمیرڈویژن سے ہے اور 360کا تعلق جموں ڈویژن سے ہے۔یہ بات صرف KASافسران تک محدود نہیں بلکہ 2008ء میں سروسز سلیکشن بورڈ نے 429 ا کاونٹساسسٹنٹ اسامیوں کی بھرتی کی جن میں وادی سے صرف 95 ا کاونٹس اسسٹنٹ لئے گئے ،جبکہ جموں ڈویژن سے 334امیدواروں کا انتخاب کیا گیا۔ اورجن میں مسلم طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

ملازمتوں میں امتیاز ۔۔۔۔۔(جدول2)

سال 2008ء آئی اے ایس افسران کے اے ایس افسران
2001ء سے 2008ء
اکاؤنٹس اسسٹنٹ
2008ء (تقرریاں
کل تعداد 94 478 429
کشمیر ڈویژن 24 106 95
جموں ڈویژن 70 360 334

اس طرح کے امتیاز سے کشمیریوں کی محرومیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح بھارت نہ صرف فوجی طاقت سے ان کو زیر نگین رکھنا چاہتا ہے بلکہ معاشی لحاظ سے بھی انہیں کنگال کرکے ،در در کی بھیک مانگنے کے بھیانک عزائم رکھتا ہے تاکہ وہ دماغ سے سوچنے کے بجائے پیٹ سے سوچنے کا طریقہ اختیار کریں ۔

ریاستی دہشت گردی اعداد شمار کے آئینے میں

بین الاقوامی اور قومی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی فورسز نے تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کیلئے طاقت کا بھر پور استعمال کیا ،اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔کرسچین سائنس مانیٹر کے مطابق ،پچھلے بیس برسوں میں60000سے 100000لاکھ بچے یتیم ہوئے ہیں۔کریسنٹ آن لائن کے مطابق 1989ء سے 2009 تک 100000 کشمیری جاں بحق ہوئے ہیں ،جن میں 92,906لوگ عام شہروں ،گلیوں ،کوچوں اور گھروں کے اندر شہید ہوئے ہیں ۔شہید ہونیوالوں میں خواتین کی تعداد 2278ہے۔

1989ء سے جولائی 2009ء تک (جدول 3)

کل شہدا 100000
زیر حراست شہادتیں 6559
خواتین کی بے حرمتی 9885
یتیم بچے 107262
بیوہ عورتیں 23000
شہری گرفتار 11633

معروف نیوز ایجنسی ،کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کے اعداد شمار کے مطابق جنوری 1989ء سے 31,اکتوبر 2015ء تک 94,273 کشمیری شہید ہوئے ہیں ،جن میں 7,038لوگ زیر حراست شہید کئے گئے ہیں ۔

جنوری 1989سے 31,اکتوبر 2015ء تک(جدول4) کشمیر میڈیا سنٹر

کل شہادتیں 94,273
زیر حراست شہادتیں 7,038
خواتین کی بے حرمتی 10,159
یتیم بچے 107,545
بیوہ عورتیں 22,806
شہری گرفتار 131,212
مکانات و تعمیرات خاکستر 106,050

لا پتہ لوگوں کے ورثاء کی تنظیم اے پی ڈی پی (Association of Parents of Disappeared Persons )کی ایک رپورٹ کے مطابق 1989ء سے اگست 2015تک10000لوگ بھارتی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوکر لا پتہ کردئے گئے ہیں ۔ اے پی ڈی پی ( Association Of Parents Of Disappeared Persons)ان والدین کی تنظیم ہے جن کے بچے ،بھائی یا قریب ترین رشتہ دار ،بھارتی فورسز کے ذریعے گرفتاری کے بعد لاپتہ ہوئے۔جبکہ سری نگر ہائی کورٹ بار ایسو ایشن کے اعداد وشمار کے مطابق 3لاکھ کشمیریوں کو انٹروگیشن سنٹروں اور بھارتی جیلوں میں شدید تعزیب کا نشانہ بنایا گیا۔

انٹرنیشنل پیپلز ٹربیونل آن ہیومن رائٹس اینڈ جسٹس تنظیم کے مطابق کشمیر کے صِرف تین اضلاع میں2373 بے نام قبریں موجود ہیں جن میں سے ایک سو چون قبروں میں ایک سے زائد لاشیں دفنائی گئی ہیں ۔یہ انکشا ف پر وفیسر اونگنا چٹر جی نے تنظیم کے دیگر اراکین پرویز امروز، گوتم نولکھا، ظہیرالدین، مِہیر ڈیسائی اور خرم پرویز کے ہمراہ 9 دسمبر 2009 کو ایک پریس کانفرنس میں اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کیا ۔اس رپورٹ کو اونگنا چٹرجی ، پرویز امروز، گوتم نولکھا، ظہیرالدین، مِہیرڈیسائی اور خرم پرویز نے مشترکہ طور تحریرکیا ہے۔ رپورٹ کے ابتدائیہ میں لکھا گیاہے: کشمیر میں بھارتی فوج اور نیم فوجی عملہ فرضی جھڑپوں، حراستی تشدد اور خفیہ قتل کی کاروائیوں میں ملوث رہے ہیں جس کے نتیجہ میں آٹھ ہزار لوگ لاپتہ ہوگئے ہیں اور ستّر ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

جموں کشمیر ہیومن رائٹس کمیشن کے سربراہ بشیر احمد یتو نے 2011اگست میں اپنی رپورٹ حکومت جموں وکشمیر؂ پیش کی جس کے مطابق شمالی کشمیر کے علاقوں کپواڑہ، ہندواڑہ اور بانڈی پورہ کے 35 مقامات پر 2156 افراد کی نہ صرف گمنام بلکہ اجتماعی قبروں کا سراغ ملا ہے۔ ان مقامات پر اٹھارہ گڑھا نما قبروں میں ایک سے زیادہ افراد کے دفن ہونے کا پتا چلا ہے، گویا کہ ان گڑھوں میں اجتماعی طور پر کئی افراد دفن کیے گئے ہیں ۔معروف کشمیری خاتون قلمکار سوزینہ مشتاق اس ساری جدوجہد کا خلاصہ اپنی ایک تحریر”Happy Indepenence Day” میں یوں بیان کرتی ہیں کہ ” تحریک آزادی کشمیر کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔جدجہد آزادی میں اتار چڑھاؤ آسکتے ہیں لیکن یہ تحریک منزل تک پہنچ کر ہی دم لے گی۔جب ہم نے آپ کی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف احتجاج کیا،جب ہم نے آپ کے جابرانہ اور استبدادی اقتدار اعلیٰ کے خلاف آواز اٹھائی ،جب ہم نے ظلم سہنے سے انکار کیا،جب ہم نے اپنی آزادی کا مطالبہ کیا،تو آپ کی فوج نے بڑی سفاکی سے ہمارا خون بہایا۔ کشمیر کے چپے چپے میں آپ نے ظلم و زیادتی کی انتہا کردی۔حد یہ کہ بچوں تک کو بھی اس سفاکیت کا شکار بننا پڑا۔جب آپ کی سرزمین کے لوگوں نے برطانوی راج کے خلاف آواز بلند کی ،آپ نے انہیں آزادی کے مجاہد قرار دیا۔انہیں اپنا ہیرو تسلیم کیا۔لیکن جب ہم نے اپنی سرزمین میں وہی آواز بلند کی تو آپ نے نئی بولی بولنی شروع کردی۔آپ نے ہمارے شہیدوں کو غدار،ہمارے مجاہدین کو انتہا پسند اور بنیاد پرست،اورہماری تحریک کو خبط و جنوں کے دورے سے تشبیہ دے کر،پاگل پن قرار دیا۔لیکن آپ ناکام ہوگئے۔آپ ہماراعزم و ہمت توڑنے میں با لکل ناکام رہے۔ پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر ظالمانہ اور کالے قوانین کے ذریعے ہماری آرزوں اور تمناوں کو دبانے میں قطعی ناکام رہے۔دفعہ144کے نفاذاور بل کھاتی ہوئی خار دارتاریں ہمارے ظاہری وجود کو حرکت کرنے سے شاید روک سکیں ،لیکن ہمارے خیالات و احساسات کو کوئی رکاوٹ روک نہیں سکتی۔ دنیا کی کوئی طاقت ہمارے احساسات اور خیالات ہم سے چھین نہیں سکتی۔آپ بہت ہی بری طرح ناکام ہوگئے۔بات جہاں درمیان میں رکی تھی ،وہ بعد میں بھی پھر کہی جاسکتی ہے۔ ہم دوبارہ کسی بھی وقت اس موضوع کو وہیں سے پھر شروع کرسکتے ہیں ،جہاں ہم نے اسے وقفہ دیا تھا۔دو سو سال کی غلامی کے بعد آپ نے آزادی حاصل کی۔۔۔ہم بھی اپنی آزادی حاصل کرلیں گے۔کہا جاتا ہے نا۔۔امید تو رکھنی چاہیے اور خواب کبھی مرتے نہیں۔۔ ہم خواب بھی دیکھتے رہیں گے اور امید کا دامن بھی نہیں چھوڑیں گے”

حقیقت حال بھی یہی ہے کہ کشمیر غلامی کی آگ میں جھلس رہا ہے ۔اور جب تک یہ جنت ارضی اس آگ میں جلتی رہے گی کشمیری قوم کا سفر بھی جاری رہے گا ۔سعادت کا سفر ،شہادت کا سفر ختم نہیں ہو گا۔سو کشمیریوں کا سفر آج بھی جاری ہے اور تب تک جاری رہے گا جب تک کہ کشمیریوں کو آزادی سے رہنے ،جینے اور سر اٹھاکے چلنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر انتخابات ، معرکہ کون مارے گا، فیصلہ آج ہوگا وجود - اتوار 25 جولائی 2021

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے دسویں پارلیمانی عام انتخابات آج (اتوار کو) ہونگے 45 براہ راست انتخابی نشستوں کیلئے 32 لاکھ 20 ہزار سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے ، تحریک انصاف، نون لیگ اور پیپلزپارٹی میں تگڑا مقابلہ متوقع ہے ۔الیکشن کمیشن آف آزاد کشمیر کی جانب سے انتِظامات مکمل پاک فوج، رینجرز، ایف سی، پی سی، اور پولیس کے 44 ہزار جوان الیکشن ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں گے 250 سول و عسکری افیسران کو مجسٹریٹ درجہ کے اختیارات سونپ دئیے گئے ہیں آزادکشمیر کے 33 انتخابی حل...

آزاد کشمیر انتخابات ، معرکہ کون مارے گا، فیصلہ آج ہوگا

پاکستان اورچین کا داسوواقعہ کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کاعزم وجود - اتوار 25 جولائی 2021

پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ نے داسو واقعہ کے ذمہ دار عناصر کو مل کر بے نقاب کرنے اور کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔ پاک چین وزرائے خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان ا سٹریٹیجک شراکت داری کو پرعزم انداز میں آگے بڑھانے اور اسے نئی بلندیوں تک پہنچانے کیلئے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے پر اتفاق کیا ہے ۔ چین کے صوبے سیچوان کے دارالحکومت چینگڈو میں پاکستان اور چین کے مابین وفود کی سطح پر مذاکرات کا انعقاد ہوا۔پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی جبکہ ...

پاکستان اورچین کا داسوواقعہ کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کاعزم

نواز شریف کی پاکستان مخالف لوگوں سے ملاقات انتہائی افسوسناک ہے ،فواد چودھری وجود - اتوار 25 جولائی 2021

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کیخلاف غیر مناسب زبان استعمال کرنے والے افغان مشیر حمد اللہ محب کی لندن میں نواز شریف نے ملاقات سے پہلے پارٹی سے اجازت لی۔ ملاقات کا ایجنڈا کیا تھا ملاقات کی آڈیو ریکارڈنگ عوام کے سامنے لائی جائے ۔ اسلام آباد میں معاون خصوصی شہزاد اکبر کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ افغان عہدیدار حمد اللہ محب اور امراللہ صالح کا ذاتی طورپر افغانستان کی سرزمین سے کوئی اتلی تعلق نہیں ہے ان کے خاندان بیرون ملک مقیم ہیں ۔ مئی کے...

نواز شریف کی پاکستان مخالف لوگوں سے ملاقات انتہائی افسوسناک ہے ،فواد چودھری

ویکسی نیشن کے بغیر فضائی سفر پر پابندی وجود - اتوار 25 جولائی 2021

این سی او سی کی ہدایت پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اندرون ملک فضائی سفر کیلئے نیا ہدایت نامہ جاری کے دیا جس کے مطابق اٹھارہ سال سے زائد عمر کے افراد ویکسی نیشن کے بغیر اندرون ملک سفر نہیں کرسکیں گے ۔ سی اے اے کے مطابق پابندی کا اطلاق یکم اگست سے اندرون ملک پروازوں پر ہوگا، بیرون ملک سفر کرنے والے پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے ، ایسے مریض پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے جنہیں ویکسی نیشن کے ری ایکشن کی وجہ سے ڈاکٹرز سے منع کیا ہو۔ سی اے اے کے مطابق غیرملکی شہری بھی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے ...

ویکسی نیشن کے بغیر فضائی سفر پر پابندی

نواز شریف سے ملنے والے محب نے پاکستان کو ہیرا منڈی سے تشبیہ دی تھی، اسد عمر وجود - اتوار 25 جولائی 2021

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات اسدعمر نے کہا ہے کہ تمام سروے بتا رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کشمیر میں مقبول ترین لیڈر ہیں اور تحریک انصاف مقبول ترین جماعت ہے ۔اپنے ٹویٹ میں انہوںنے کہاکہ کہا کہ جس محنت اور جس دلیری سے علی امین گنڈاپور نے الیکشن مہم کو چلایا ہے ، انشااللہ تحریک انصاف آزاد کشمیر کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئے گی ۔ایک اور ٹوئٹ میں اسدعمر نے کہا کہ نواز شریف نے حمداللہ محب سے ملاقات کی اور باہمی خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا، ی...

نواز شریف سے ملنے والے محب نے پاکستان کو ہیرا منڈی سے تشبیہ دی تھی، اسد عمر

25جولائی 2018کے عام انتخابات کے تین سال مکمل ہوگئے وجود - اتوار 25 جولائی 2021

25جولائی 2018کے عام انتخابات کے تین سال مکمل ہوگئے ۔تفصیلات کے مطابق 25جولائی 2018کے انتخابات کو تین سال مکمل ہوگئے ، بلوچستان میں ان انتخابات میںقومی اسمبلی کے 16 اور صوبائی اسمبلی کے 50 حلقوں پر 1ہزار 1سو 39امیدواروں نے حصہ لیا تھا جس کے نتیجے میں بلوچستان عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام، پاکستان تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، بی این پی( عوامی) ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، پشتونخواء ملی عوامی پارٹی ، جمہوری وطن پارٹی کے 50ارکان صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے...

25جولائی 2018کے عام انتخابات کے تین سال مکمل ہوگئے

بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود - اتوار 25 جولائی 2021

بابری مسجد کی شہادت کے بعدنادم ہوکر مسلمان ہونے والے محمد عامر کی بھارتی شہر حیدر آباد میںپر اسرار موت واقع ہوئی ہے ۔ سابق کارسیو ک اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)کے سابق کارکن محمد عامر( بلبیر سنگھ) کی نعش حافظ بابا نگر کے علاقے میں ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی ہے ۔مقامی پولیس کے مطابق محلہ داروں نے پولیس کو آگاہ کیا جس کے بعد گھر سے ان کی لاش ملی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی موت کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور اب تک موت کی وجہ سامنے نہیں آسکی ہے ۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مط...

بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں شدید بارشیں، مختلف حادثات میں 136 ہلاک وجود - اتوار 25 جولائی 2021

بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر میں گزشتہ اڑھتالیس گھنٹوں کے دوران موسلادھاربارش کے باعث مختلف واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 136 ہو گئی ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مہاراشٹرا کے ریاستی ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ شدید بارش لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی پانی نے ساحلی ضلع رائے آباد اور مغربی ضلع ستارا سمیت متعدد نشیبی علاقوں کو متاثر کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ 3900 سے زیادہ افراد کو متاثرہ علاقوں سے نکال کر امدادی کیمپوں میں پہنچا دیا گیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ضلع رائے آباد میں ابھی بھی م...

بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں شدید بارشیں، مختلف حادثات میں 136 ہلاک

امریکی صدر ، افغان صدر کے درمیان رابطہ ، اشرف غنی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی وجود - اتوار 25 جولائی 2021

امریکی صدر جو بائیڈن نے طالبان کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں اور دباؤ کے پیش نظر افغان صدر اشرف غنی کو امریکی افواج کے انخلا کے بعد بھی مکمل سفارتی اور انسانی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی اپنے افغان ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی جس میں طالبان کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے حملوں، پرتشدد واقعات سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ طالبان کی موجودہ جارحانہ کارروائیاں اس تنازع کے پر امن حل کے لی...

امریکی صدر ، افغان صدر کے درمیان رابطہ ، اشرف غنی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی

جی 20 وزرا ماحولیاتی اہداف پر اتفاق رائے میں ناکام ہوگئے وجود - اتوار 25 جولائی 2021

اٹلی کے وزیر ماحولیاتی تبدیلی روبرٹو سِنگولانی نے کہا ہے کہ جی 20 گروپ کے امیر ممالک کے توانائی اور ماحولیات کے وزرا حتمی مذاکرات میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق تحریری وعدے پر اتفاق رائے کے قیام میں ناکام ہوگئے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق جی 20 اجلاس کو نومبر میں 100 دن کے بعد گلاسگو میں ہونے والی اقوام متحدہ کی ماحولیاتی گفتگو (کوپ 26) سے قبل فیصلہ کن اقدام کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔کسی ایک نکتے پر اتفاق رائے میں ناکامی سے اسکاٹ لینڈ میں معنی خیز معاہدے کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچ...

جی 20 وزرا ماحولیاتی اہداف پر اتفاق رائے میں ناکام ہوگئے

افغانستان کے 34 میں سے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو نافذ وجود - اتوار 25 جولائی 2021

افغان حکومت نے پرتشدد حالات اور طالبان کی سرگرمیوں پر قابو پانیکے لیے ملک کے 34 میں سے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو نافذ کردیا۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہیکہ تشدد میں کمی اور طالبان کی سرگرمیاں روکنیکے لیے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو نافذ کردیا گیا ہے ۔مقامی وقت کے مطابق کرفیو رات 10 بجے سے لیکر صبح بجے تک رہے گا، اس دوران غیر ضروری طور پر باہر نکلنے پر پابندی ہوگی۔افغان وزارت داخلہ کے مطابق کابل،ننگرہار اور پنج شیر صوبے رات کیکرفیو سے مستثنیٰ ہوں گے ۔...

افغانستان کے 34 میں سے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو نافذ

وزیر اعظم عمران خان کا کشمیری عوام کو دو ریفرنڈم کرانے کا عندیہ وجود - هفته 24 جولائی 2021

وزیر اعظم عمران خان نے آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانے سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دو ریفرنڈم کرانے کا عندیہ دیا ہے کہ پہلے ریفرنڈم میں کشمیری عوام پاکستان یا بھارت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کریں گے ، ہماری حکومت میں ہونے والے دوسرے ریفرنڈم میں وہ پاکستان کے ساتھ الحاق یا آزاد ریاست کے طور پر رہنے کا فیصلہ کریں گے ،مسلم لیگ (ن) نے آج تک کوئی چیز ایمانداری سے نہیں کی ،آزاد کشمیر میں(ن )لیگ کی حکومت ہے ، عملہ ان کا ہے ، الیکشن کمیشن پسند کا ہے اور ہم پر دھاندلی کے الزام...

وزیر اعظم عمران خان کا کشمیری عوام کو دو ریفرنڈم کرانے کا عندیہ

مضامین
کون کہتاہے وجود اتوار 25 جولائی 2021
کون کہتاہے

اپنا دھیان رکھنا وجود اتوار 25 جولائی 2021
اپنا دھیان رکھنا

محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!! وجود هفته 24 جولائی 2021
محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!!

اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں وجود هفته 24 جولائی 2021
اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے وجود بدھ 21 جولائی 2021
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مساوات، قربانی اور انعام وجود بدھ 21 جولائی 2021
مساوات، قربانی اور انعام

’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

’’ بک رہا‘‘ عید ۔۔ وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ بک رہا‘‘ عید ۔۔

افغانستان میں نئی جنگ ! وجود منگل 20 جولائی 2021
افغانستان میں نئی جنگ !

امن کادرس وجود منگل 20 جولائی 2021
امن کادرس

تیسری عالمگیر جنگ 2034 امریکا میں بیسٹ سیلز ناول وجود منگل 20 جولائی 2021
تیسری عالمگیر جنگ 2034 امریکا میں بیسٹ سیلز ناول

خلافت ِ عثمانیہ کی بنیاد وجود پیر 19 جولائی 2021
خلافت ِ عثمانیہ کی بنیاد

اشتہار

افغانستان
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے وجود هفته 24 جولائی 2021
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل وجود بدھ 21 جولائی 2021
افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل

وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا وجود هفته 17 جولائی 2021
وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا

پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام وجود هفته 17 جولائی 2021
پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام

طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا وجود پیر 12 جولائی 2021
طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا

اشتہار

بھارت
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود اتوار 25 جولائی 2021
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی وجود هفته 24 جولائی 2021
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی

بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں وجود بدھ 21 جولائی 2021
بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں

افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا وجود پیر 12 جولائی 2021
افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا

نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ وجود پیر 12 جولائی 2021
نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ
ادبیات
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود جمعرات 17 جنوری 2019
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود پیر 10 دسمبر 2018
14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود جمعرات 08 نومبر 2018
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے
شخصیات
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے وجود جمعه 08 جنوری 2021
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے

ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر وجود پیر 23 مارچ 2020
ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود منگل 01 جنوری 2019
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود بدھ 26 دسمبر 2018
سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود پیر 14 مئی 2018
ماضی کی رہنما خواتین