وجود

... loading ...

وجود

بھارت نواز سابق وزیر اعلیٰ کے بیان پر بھارت بھی برس پڑا۔۔۔!

منگل 01 دسمبر 2015 بھارت نواز سابق وزیر اعلیٰ کے بیان پر بھارت بھی برس پڑا۔۔۔!

yasin-gilani-abdullah

کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنایا جائے۔بھارت کی پوری فوج بھی جموں کشمیر میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی سے عوام کو نہیں بچاسکتی، مذاکرات مسئلہ کشمیر کا واحد حل ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعہ کو ایک تقریب کے اختتام پر صحا فیوں کے ساتھ گفتگو کے دوران کشمیر کے دونوں حصوں کی حیثیت کے بارے میں بیان دیکر سرینگر سے نئی دلی تک ہلچل مچادی۔اس بیان کو لیکرانہیں جہاں بی جے پی، بھارتی میڈیا اور دیگر بھارت نوازسیاسی پارٹیوں کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا ،وہیں مقبوضہ کشمیر کے مزاحمتی خیمے کی طرف سے بھی انہیں تند و تیز بیانات کا سامنا کرنا پڑا ۔سنیچر 28نومبرکو سیول سوسائٹی کی جانب سے ہندوپاک کے درمیان امن و مفاہمت کے امکانات تلاش کرنے کے موضوع پر منعقدہ مباحثہ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی ساری فوج بھی کشمیر میں عسکریت پسندی کا دفاع نہیں کرسکتی۔جب ان سے آر پار کشمیر کے حوالے سے ان کے بیان میں بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے یہ بات دہرائی’’اْس پار کا کشمیر پاکستان اور اِس پارکا کشمیر بھارت کا حصہ رہے گا، میں نے کوئی نئی بات نہیں کی ہے اور میں اپنے بیان پر قائم ہوں‘‘۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ’’کشمیر حل کیلئے واحد بچا راستہ مذاکرات کا انعقاد ہے‘‘۔ان کا مزید کہناتھا کہ نہ ہمارے پاس کشمیر کا وہ حصہ حاصل کرنے کی طاقت ہے اور نہ ہی پاکستان کے پاس کشمیر کا یہ حصہ حاصل کرنے کی طاقت ہے۔ہم نیوکلیائی طاقت ہیں اور وہ بھی ایٹمی طاقت ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’فوج ہمارا کس حد تک دفاع کرسکتی ہے۔اگر بھارت کی ساری فوج ہمارے بچاؤ کیلئے آئے ،وہ ہمیں عسکریت پسندوں سے نہیں بچا سکتے ،لہٰذا واحد بچا راستہ مذاکرات ہیں اور اسی راستے سے اس مسئلہ کو حل کیاجاسکتا ہے‘‘۔انہوں نے میڈیا کو بات کا بتنگڑا بنانے پر ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حصہ پاکستان اور یہ حصہ بھارت کے ساتھ ہی رہنے سے متعلق ان کا موقف حتمی نہیں ہوسکتا اور وہ ایسا کوئی بھی حل قبول کرینگے جو بھارت ،پاکستان اور جموں وکشمیر کے عوام کی اکثریت کو قبول ہو۔ڈاکٹر فاروق کا کہناتھا’’میں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ حتمی حل ہے۔اگر آپ کے پاس اس سے بہتر کوئی حل ہے جو ہندوپاک اور ریاستی عوام کی غالب اکثریت کو قابلِ قبول ہوگا،تو وہ ہمیں بھی قابل قبول ہوگا‘‘۔انہوں نے کسی حل تک پہنچنے کیلئے مذاکرات کی بحالی پر زور دیا۔بی جے پی اور کانگریس نے فاروق عبداللہ کے بیان کو فوری طور پر یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اّْس پار کشمیر پاکستان کا نہیں بلکہ بھارت کا حصہ ہے اور اس پر پاکستانی جبری طور قابض ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر پاکستان کا ناجائز قبضہ ہے۔اور بھارتی فوج کے بارے میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا یہ بیان انکی سمجھ سے باہر ہے۔ ان ریمارکس پر اسے معافی مانگنی چاہئے۔

فاروق عبد اللہ ہندو دیش کے حکمرانوں کو خوش کرنے کیلئے مندروں میں جاکر بھجن بھی گا تے ہیں اور ماتھے پر لال ٹیکا بھی سجا تے ہیں

بھارتی میڈیا میں فاروق عبد اللہ کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہوا ہے اور اکثرتجزیہ نگار اور تبصرہ نگار فاروق عبد اللہ کو اس بیان کی بنیاد پر غداری کا مرتکب قرار دے رہے ہیں ۔واضح رہے کہ ڈاکٹر فاروق بھارت نواز تنظیم نیشنل کا نفر نس کے سربراہ مرحوم شیخ محمد عبد اللہ کے بیٹے ہیں اور 8ستمبر 1982سے 18اکتوبر2002تک تین بار اوران کے فرزند عمر عبد اللہ5جنوری2009سے جنوری 2015تک یاست کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں ۔ان کی بیٹی سارہ عبد اللہ کی شادی راجیش پائلیٹ کے بیٹے سچن پائلیٹ سے ہوئی ہے۔فاروق عبد اللہ ہندو دیش کے حکمرانوں کو خوش کرنے کیلئے مندروں میں جاکر بھجن بھی گا تے ہیں اور ماتھے پر لال ٹیکا بھی سجا تے ہیں۔

مزاحمتی تنظیموں نے نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے بیان کو لغو اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ریاست کی تقسیم قبول نہیں کی جائے گی اور حق خود ارادیت تک کشمیر حل طلب رہے گا۔حریت سربراہ سید علی گیلانی نے نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ کے آرپار کشمیر سے متعلق دئے گئے تازہ بیان کو بے معنیٰ اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی فرد واحد کو یہ مینڈیٹ اور اختیار حاصل نہیں کہ وہ جموں وکشمیر کے 15ملین سے زائد لوگوں کے مستقبل کے بارے میں کوئی ایسی تجویز پیش کرے، جو ان کی مرضی اور آرزوؤں کے منافی ہو۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم کو اپنے وطن کی یہ تقسیم منظور ہوتی تو نہ 22سال تک رائے شماری کے مطالبے کو لیکر وہ تحریک چلاتے، نہ ہمارے سرفروش قلم اور کتاب کے بجائے ہاتھوں میں بندوق اٹھاتے اور نہ لاکھوں انسان اپنی عزیز جانوں کی قربانی ہی پیش کرتے۔ان کا کہناتھا’’ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فاروق عبداللہ اس عمر میں جرأت کا مظاہرہ کرتے اور اس تاریخی غلطی کیلئے قوم سے معافی مانگتے، جو اس کی پارٹی نے 75ء میں رائے شماری کی تحریک کو دفن کرکے کی ہے۔لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا کہ جس شخص نے بھارتی فوج اور فورسز کی جانب سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم تک کا دفاع کیا ہو اور کشمیریوں کے انسانی حقوق تک کے معاملے میں اقوام عالم کے سامنے بھارت کی وکالت کی ہو، اْس سے ایسے ہی بیانات کی توقع رکھی جانی چاہیے۔ یاسین ملک نے کہا کہ 1974ء میں میر پور آزاد کشمیر میں محمد مقبول بٹ کے ہمراہ آزادی کے جلوسوں میں شرکت سے لیکرمقبول بٹ کو تختہ دار پر چڑھانے کیلئے بلیک وارنٹ پر دستخط تک اور پھر رواں تحریک مزاحمت کے دورا ن ایس ٹی ایف کے قیام سے لیکر آج کے دن تک‘ نیشنل کانفرنس اور خاص طور پر فاروق عبداللہ کی تاریخ انتہا ئی قبیح رہی ہے۔ فریڈم پارٹی سربراہ شبیر احمد شاہ نے فاروق عبداللہ کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر ایک وحدت ہے اور اس ریاست سے متعلق تنازع کا حل بندر بانٹ نہیں۔ شاہ نے فاروق عبداللہ کے بیان کو حقائق سے بعید قرار دیتے ہوئے کہا جموں کشمیر کی ریاست کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہی ۔البتہ تقسیم ہند کے موقع پربھارت نے غلامی سے گلوخلاصی کے ساتھ ہی اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لئے ریاست میں فوجیں داخل کرکے اپنا ناجائزقبضہ جمالیا۔انہوں نے واضح کیا کہ فاروق عبداللہ ہر چڑھتے سورج کے ساتھ بیان داغ کر ایک خلفشار پیدا کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح آج تک پیش کی گئی قربانیوں پر پانی پھیرنے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں۔بھاجپا اور کانگریس اور مزاحمتی تنظیموں کے رد عمل سے فاروق عبد اللہ کی پوزیشن با لکل دھوبی کے اس کتے جیسے ہوئی ہے جو نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔


متعلقہ خبریں


ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان وجود - پیر 02 مارچ 2026

سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی وجود - پیر 02 مارچ 2026

مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم وجود - پیر 02 مارچ 2026

پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ وجود - پیر 02 مارچ 2026

خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے وجود - اتوار 01 مارچ 2026

  ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا وجود - اتوار 01 مارچ 2026

ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب) وجود - اتوار 01 مارچ 2026

فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب)

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم وجود - اتوار 01 مارچ 2026

خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت وجود - هفته 28 فروری 2026

افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

مضامین
ہمارے بچے مت مارو !! وجود پیر 02 مارچ 2026
ہمارے بچے مت مارو !!

طاقت کی خواہش ذہنی بیماری ہے! وجود پیر 02 مارچ 2026
طاقت کی خواہش ذہنی بیماری ہے!

ایران پر امریکہ و اسرائیلی حملہ وجود پیر 02 مارچ 2026
ایران پر امریکہ و اسرائیلی حملہ

بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں وجود هفته 28 فروری 2026
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں

گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر