... loading ...

کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنایا جائے۔بھارت کی پوری فوج بھی جموں کشمیر میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی سے عوام کو نہیں بچاسکتی، مذاکرات مسئلہ کشمیر کا واحد حل ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعہ کو ایک تقریب کے اختتام پر صحا فیوں کے ساتھ گفتگو کے دوران کشمیر کے دونوں حصوں کی حیثیت کے بارے میں بیان دیکر سرینگر سے نئی دلی تک ہلچل مچادی۔اس بیان کو لیکرانہیں جہاں بی جے پی، بھارتی میڈیا اور دیگر بھارت نوازسیاسی پارٹیوں کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا ،وہیں مقبوضہ کشمیر کے مزاحمتی خیمے کی طرف سے بھی انہیں تند و تیز بیانات کا سامنا کرنا پڑا ۔سنیچر 28نومبرکو سیول سوسائٹی کی جانب سے ہندوپاک کے درمیان امن و مفاہمت کے امکانات تلاش کرنے کے موضوع پر منعقدہ مباحثہ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی ساری فوج بھی کشمیر میں عسکریت پسندی کا دفاع نہیں کرسکتی۔جب ان سے آر پار کشمیر کے حوالے سے ان کے بیان میں بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے یہ بات دہرائی’’اْس پار کا کشمیر پاکستان اور اِس پارکا کشمیر بھارت کا حصہ رہے گا، میں نے کوئی نئی بات نہیں کی ہے اور میں اپنے بیان پر قائم ہوں‘‘۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ’’کشمیر حل کیلئے واحد بچا راستہ مذاکرات کا انعقاد ہے‘‘۔ان کا مزید کہناتھا کہ نہ ہمارے پاس کشمیر کا وہ حصہ حاصل کرنے کی طاقت ہے اور نہ ہی پاکستان کے پاس کشمیر کا یہ حصہ حاصل کرنے کی طاقت ہے۔ہم نیوکلیائی طاقت ہیں اور وہ بھی ایٹمی طاقت ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’فوج ہمارا کس حد تک دفاع کرسکتی ہے۔اگر بھارت کی ساری فوج ہمارے بچاؤ کیلئے آئے ،وہ ہمیں عسکریت پسندوں سے نہیں بچا سکتے ،لہٰذا واحد بچا راستہ مذاکرات ہیں اور اسی راستے سے اس مسئلہ کو حل کیاجاسکتا ہے‘‘۔انہوں نے میڈیا کو بات کا بتنگڑا بنانے پر ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حصہ پاکستان اور یہ حصہ بھارت کے ساتھ ہی رہنے سے متعلق ان کا موقف حتمی نہیں ہوسکتا اور وہ ایسا کوئی بھی حل قبول کرینگے جو بھارت ،پاکستان اور جموں وکشمیر کے عوام کی اکثریت کو قبول ہو۔ڈاکٹر فاروق کا کہناتھا’’میں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ حتمی حل ہے۔اگر آپ کے پاس اس سے بہتر کوئی حل ہے جو ہندوپاک اور ریاستی عوام کی غالب اکثریت کو قابلِ قبول ہوگا،تو وہ ہمیں بھی قابل قبول ہوگا‘‘۔انہوں نے کسی حل تک پہنچنے کیلئے مذاکرات کی بحالی پر زور دیا۔بی جے پی اور کانگریس نے فاروق عبداللہ کے بیان کو فوری طور پر یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اّْس پار کشمیر پاکستان کا نہیں بلکہ بھارت کا حصہ ہے اور اس پر پاکستانی جبری طور قابض ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر پاکستان کا ناجائز قبضہ ہے۔اور بھارتی فوج کے بارے میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا یہ بیان انکی سمجھ سے باہر ہے۔ ان ریمارکس پر اسے معافی مانگنی چاہئے۔
بھارتی میڈیا میں فاروق عبد اللہ کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہوا ہے اور اکثرتجزیہ نگار اور تبصرہ نگار فاروق عبد اللہ کو اس بیان کی بنیاد پر غداری کا مرتکب قرار دے رہے ہیں ۔واضح رہے کہ ڈاکٹر فاروق بھارت نواز تنظیم نیشنل کا نفر نس کے سربراہ مرحوم شیخ محمد عبد اللہ کے بیٹے ہیں اور 8ستمبر 1982سے 18اکتوبر2002تک تین بار اوران کے فرزند عمر عبد اللہ5جنوری2009سے جنوری 2015تک یاست کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں ۔ان کی بیٹی سارہ عبد اللہ کی شادی راجیش پائلیٹ کے بیٹے سچن پائلیٹ سے ہوئی ہے۔فاروق عبد اللہ ہندو دیش کے حکمرانوں کو خوش کرنے کیلئے مندروں میں جاکر بھجن بھی گا تے ہیں اور ماتھے پر لال ٹیکا بھی سجا تے ہیں۔
مزاحمتی تنظیموں نے نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے بیان کو لغو اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ریاست کی تقسیم قبول نہیں کی جائے گی اور حق خود ارادیت تک کشمیر حل طلب رہے گا۔حریت سربراہ سید علی گیلانی نے نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ کے آرپار کشمیر سے متعلق دئے گئے تازہ بیان کو بے معنیٰ اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی فرد واحد کو یہ مینڈیٹ اور اختیار حاصل نہیں کہ وہ جموں وکشمیر کے 15ملین سے زائد لوگوں کے مستقبل کے بارے میں کوئی ایسی تجویز پیش کرے، جو ان کی مرضی اور آرزوؤں کے منافی ہو۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم کو اپنے وطن کی یہ تقسیم منظور ہوتی تو نہ 22سال تک رائے شماری کے مطالبے کو لیکر وہ تحریک چلاتے، نہ ہمارے سرفروش قلم اور کتاب کے بجائے ہاتھوں میں بندوق اٹھاتے اور نہ لاکھوں انسان اپنی عزیز جانوں کی قربانی ہی پیش کرتے۔ان کا کہناتھا’’ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فاروق عبداللہ اس عمر میں جرأت کا مظاہرہ کرتے اور اس تاریخی غلطی کیلئے قوم سے معافی مانگتے، جو اس کی پارٹی نے 75ء میں رائے شماری کی تحریک کو دفن کرکے کی ہے۔لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا کہ جس شخص نے بھارتی فوج اور فورسز کی جانب سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم تک کا دفاع کیا ہو اور کشمیریوں کے انسانی حقوق تک کے معاملے میں اقوام عالم کے سامنے بھارت کی وکالت کی ہو، اْس سے ایسے ہی بیانات کی توقع رکھی جانی چاہیے۔ یاسین ملک نے کہا کہ 1974ء میں میر پور آزاد کشمیر میں محمد مقبول بٹ کے ہمراہ آزادی کے جلوسوں میں شرکت سے لیکرمقبول بٹ کو تختہ دار پر چڑھانے کیلئے بلیک وارنٹ پر دستخط تک اور پھر رواں تحریک مزاحمت کے دورا ن ایس ٹی ایف کے قیام سے لیکر آج کے دن تک‘ نیشنل کانفرنس اور خاص طور پر فاروق عبداللہ کی تاریخ انتہا ئی قبیح رہی ہے۔ فریڈم پارٹی سربراہ شبیر احمد شاہ نے فاروق عبداللہ کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر ایک وحدت ہے اور اس ریاست سے متعلق تنازع کا حل بندر بانٹ نہیں۔ شاہ نے فاروق عبداللہ کے بیان کو حقائق سے بعید قرار دیتے ہوئے کہا جموں کشمیر کی ریاست کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہی ۔البتہ تقسیم ہند کے موقع پربھارت نے غلامی سے گلوخلاصی کے ساتھ ہی اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لئے ریاست میں فوجیں داخل کرکے اپنا ناجائزقبضہ جمالیا۔انہوں نے واضح کیا کہ فاروق عبداللہ ہر چڑھتے سورج کے ساتھ بیان داغ کر ایک خلفشار پیدا کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح آج تک پیش کی گئی قربانیوں پر پانی پھیرنے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں۔بھاجپا اور کانگریس اور مزاحمتی تنظیموں کے رد عمل سے فاروق عبد اللہ کی پوزیشن با لکل دھوبی کے اس کتے جیسے ہوئی ہے جو نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔
دھماکا اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد بند کی گئی تنصیبات کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا،دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی اس کا اثر مرکزی دوحا تک محسوس کیا گیا، وزیر توانائیقطر ہمارے 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن کا تعلق بھارت، پاکستان سے ہے، 66 افراد زخمی ہوئے ،راس...
کلائمٹ سپورٹ لیوی میں 50فیصد اضافہ ،عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی قیمتوں کا ریلیف عوام کو منتقل کرنے میں پٹرولیم لیوی بڑی رکاوٹ بن گئی،مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ایران امریکا جنگ بندی کے بعدپیٹرول 299روپے 58پیسے فی لیٹرمقرر،نئے بجٹ میں لیوی کا ہدف بڑھا کر پیٹرولیم قیمتوںکی مد می...
وفاقی حکومت نے یوم عاشور کے موقع پر 2 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا سرکاری ملازمین 4 چھٹیوں سے مستفید ہوں گے، باضابطہ نوٹیفکیشن جاری وفاقی حکومت نے یوم عاشور کے موقع پر 2 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہ...
اسپیکر باقر قالیباف اور ایران کی قیادت خطے میں امن کیلئے مخلص ہے، شہبازشریف پاک امریکا تعلقات وقت کیساتھ مزید مضبوط اور گہرے ہوئے،صحافیوں سے گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن پسند شخصیت ہیں، اسپیکر باقر قالیباف اور ایران کی قیادت خطے میں امن کیل...
حکومت نے مذاکرات کی بات کی لیکن بات چیت شروع نہیں ہوئی،سابق اسپیکر قومی اسمبلی ہم جمہوریت، آزاد الیکشن کمیشن، لیول پلیئنگ فیلڈ چاہتے ہیں،پی ٹی آئی رہنماکی میڈیا سے گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کی بات کی لیکن بات چیت شروع نہیں ہوئی۔...
سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...
انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...
تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...
قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...
تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...
ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...
شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...