وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

بھارت نواز سابق وزیر اعلیٰ کے بیان پر بھارت بھی برس پڑا۔۔۔!

منگل 01 دسمبر 2015 بھارت نواز سابق وزیر اعلیٰ کے بیان پر بھارت بھی برس پڑا۔۔۔!

yasin-gilani-abdullah

کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنایا جائے۔بھارت کی پوری فوج بھی جموں کشمیر میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی سے عوام کو نہیں بچاسکتی، مذاکرات مسئلہ کشمیر کا واحد حل ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعہ کو ایک تقریب کے اختتام پر صحا فیوں کے ساتھ گفتگو کے دوران کشمیر کے دونوں حصوں کی حیثیت کے بارے میں بیان دیکر سرینگر سے نئی دلی تک ہلچل مچادی۔اس بیان کو لیکرانہیں جہاں بی جے پی، بھارتی میڈیا اور دیگر بھارت نوازسیاسی پارٹیوں کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا ،وہیں مقبوضہ کشمیر کے مزاحمتی خیمے کی طرف سے بھی انہیں تند و تیز بیانات کا سامنا کرنا پڑا ۔سنیچر 28نومبرکو سیول سوسائٹی کی جانب سے ہندوپاک کے درمیان امن و مفاہمت کے امکانات تلاش کرنے کے موضوع پر منعقدہ مباحثہ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی ساری فوج بھی کشمیر میں عسکریت پسندی کا دفاع نہیں کرسکتی۔جب ان سے آر پار کشمیر کے حوالے سے ان کے بیان میں بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے یہ بات دہرائی’’اْس پار کا کشمیر پاکستان اور اِس پارکا کشمیر بھارت کا حصہ رہے گا، میں نے کوئی نئی بات نہیں کی ہے اور میں اپنے بیان پر قائم ہوں‘‘۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ’’کشمیر حل کیلئے واحد بچا راستہ مذاکرات کا انعقاد ہے‘‘۔ان کا مزید کہناتھا کہ نہ ہمارے پاس کشمیر کا وہ حصہ حاصل کرنے کی طاقت ہے اور نہ ہی پاکستان کے پاس کشمیر کا یہ حصہ حاصل کرنے کی طاقت ہے۔ہم نیوکلیائی طاقت ہیں اور وہ بھی ایٹمی طاقت ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’فوج ہمارا کس حد تک دفاع کرسکتی ہے۔اگر بھارت کی ساری فوج ہمارے بچاؤ کیلئے آئے ،وہ ہمیں عسکریت پسندوں سے نہیں بچا سکتے ،لہٰذا واحد بچا راستہ مذاکرات ہیں اور اسی راستے سے اس مسئلہ کو حل کیاجاسکتا ہے‘‘۔انہوں نے میڈیا کو بات کا بتنگڑا بنانے پر ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حصہ پاکستان اور یہ حصہ بھارت کے ساتھ ہی رہنے سے متعلق ان کا موقف حتمی نہیں ہوسکتا اور وہ ایسا کوئی بھی حل قبول کرینگے جو بھارت ،پاکستان اور جموں وکشمیر کے عوام کی اکثریت کو قبول ہو۔ڈاکٹر فاروق کا کہناتھا’’میں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ حتمی حل ہے۔اگر آپ کے پاس اس سے بہتر کوئی حل ہے جو ہندوپاک اور ریاستی عوام کی غالب اکثریت کو قابلِ قبول ہوگا،تو وہ ہمیں بھی قابل قبول ہوگا‘‘۔انہوں نے کسی حل تک پہنچنے کیلئے مذاکرات کی بحالی پر زور دیا۔بی جے پی اور کانگریس نے فاروق عبداللہ کے بیان کو فوری طور پر یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اّْس پار کشمیر پاکستان کا نہیں بلکہ بھارت کا حصہ ہے اور اس پر پاکستانی جبری طور قابض ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر پاکستان کا ناجائز قبضہ ہے۔اور بھارتی فوج کے بارے میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا یہ بیان انکی سمجھ سے باہر ہے۔ ان ریمارکس پر اسے معافی مانگنی چاہئے۔

فاروق عبد اللہ ہندو دیش کے حکمرانوں کو خوش کرنے کیلئے مندروں میں جاکر بھجن بھی گا تے ہیں اور ماتھے پر لال ٹیکا بھی سجا تے ہیں

بھارتی میڈیا میں فاروق عبد اللہ کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہوا ہے اور اکثرتجزیہ نگار اور تبصرہ نگار فاروق عبد اللہ کو اس بیان کی بنیاد پر غداری کا مرتکب قرار دے رہے ہیں ۔واضح رہے کہ ڈاکٹر فاروق بھارت نواز تنظیم نیشنل کا نفر نس کے سربراہ مرحوم شیخ محمد عبد اللہ کے بیٹے ہیں اور 8ستمبر 1982سے 18اکتوبر2002تک تین بار اوران کے فرزند عمر عبد اللہ5جنوری2009سے جنوری 2015تک یاست کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں ۔ان کی بیٹی سارہ عبد اللہ کی شادی راجیش پائلیٹ کے بیٹے سچن پائلیٹ سے ہوئی ہے۔فاروق عبد اللہ ہندو دیش کے حکمرانوں کو خوش کرنے کیلئے مندروں میں جاکر بھجن بھی گا تے ہیں اور ماتھے پر لال ٹیکا بھی سجا تے ہیں۔

مزاحمتی تنظیموں نے نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے بیان کو لغو اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ریاست کی تقسیم قبول نہیں کی جائے گی اور حق خود ارادیت تک کشمیر حل طلب رہے گا۔حریت سربراہ سید علی گیلانی نے نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ کے آرپار کشمیر سے متعلق دئے گئے تازہ بیان کو بے معنیٰ اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی فرد واحد کو یہ مینڈیٹ اور اختیار حاصل نہیں کہ وہ جموں وکشمیر کے 15ملین سے زائد لوگوں کے مستقبل کے بارے میں کوئی ایسی تجویز پیش کرے، جو ان کی مرضی اور آرزوؤں کے منافی ہو۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم کو اپنے وطن کی یہ تقسیم منظور ہوتی تو نہ 22سال تک رائے شماری کے مطالبے کو لیکر وہ تحریک چلاتے، نہ ہمارے سرفروش قلم اور کتاب کے بجائے ہاتھوں میں بندوق اٹھاتے اور نہ لاکھوں انسان اپنی عزیز جانوں کی قربانی ہی پیش کرتے۔ان کا کہناتھا’’ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فاروق عبداللہ اس عمر میں جرأت کا مظاہرہ کرتے اور اس تاریخی غلطی کیلئے قوم سے معافی مانگتے، جو اس کی پارٹی نے 75ء میں رائے شماری کی تحریک کو دفن کرکے کی ہے۔لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا کہ جس شخص نے بھارتی فوج اور فورسز کی جانب سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم تک کا دفاع کیا ہو اور کشمیریوں کے انسانی حقوق تک کے معاملے میں اقوام عالم کے سامنے بھارت کی وکالت کی ہو، اْس سے ایسے ہی بیانات کی توقع رکھی جانی چاہیے۔ یاسین ملک نے کہا کہ 1974ء میں میر پور آزاد کشمیر میں محمد مقبول بٹ کے ہمراہ آزادی کے جلوسوں میں شرکت سے لیکرمقبول بٹ کو تختہ دار پر چڑھانے کیلئے بلیک وارنٹ پر دستخط تک اور پھر رواں تحریک مزاحمت کے دورا ن ایس ٹی ایف کے قیام سے لیکر آج کے دن تک‘ نیشنل کانفرنس اور خاص طور پر فاروق عبداللہ کی تاریخ انتہا ئی قبیح رہی ہے۔ فریڈم پارٹی سربراہ شبیر احمد شاہ نے فاروق عبداللہ کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر ایک وحدت ہے اور اس ریاست سے متعلق تنازع کا حل بندر بانٹ نہیں۔ شاہ نے فاروق عبداللہ کے بیان کو حقائق سے بعید قرار دیتے ہوئے کہا جموں کشمیر کی ریاست کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہی ۔البتہ تقسیم ہند کے موقع پربھارت نے غلامی سے گلوخلاصی کے ساتھ ہی اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لئے ریاست میں فوجیں داخل کرکے اپنا ناجائزقبضہ جمالیا۔انہوں نے واضح کیا کہ فاروق عبداللہ ہر چڑھتے سورج کے ساتھ بیان داغ کر ایک خلفشار پیدا کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح آج تک پیش کی گئی قربانیوں پر پانی پھیرنے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں۔بھاجپا اور کانگریس اور مزاحمتی تنظیموں کے رد عمل سے فاروق عبد اللہ کی پوزیشن با لکل دھوبی کے اس کتے جیسے ہوئی ہے جو نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔


متعلقہ خبریں


ہانگ کانگ ،حکومت مخالف مظاہرے ، پولیس سے جھڑپیں وجود - اتوار 17 نومبر 2019

ہانگ کانگ میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آ گئی، مظاہرین اور پولیس جھڑپوں کے دوران متعد افراد زخمی ہو گئے ۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جمہوریت کے حامی صبح ہی سڑکوں پر آ گئے اورحکومت مخالف مظاہرہ کیا، سکیورٹی اہلکاروں نے آنسو گیس کے شیل پھینکے تو مظاہرین نے بھی پٹرول بم سے پولیس کو ضرب لگائی، نوجوانوں نے آنسو گیس سے بچنے کے لیے ہیلمٹ اور ماسک پہن رکھے تھے ، انہوں اپنے دفاع کے لیے چھتریاں بھی اٹھا رکھی تھیں جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین پٹ...

ہانگ کانگ ،حکومت مخالف مظاہرے ، پولیس سے جھڑپیں

اسرائیلی بمباری سے غزہ میں نصف ملین ڈالر کا نقصان وجود - اتوار 17 نومبر 2019

اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جارحیت کے نتیجے میں نصف ملین ڈالر کا معاشی خسارے کا سامنا کرنا پڑا ۔فلسطینی وزارت محنت وافرادی قوت کے سیکرٹری ناجی سرحان نے بتایا کہ گذشتہ تین روز تک جاری رہنے والی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں فلسطینی مکانات اور عمارتوں کے ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ نصف ملین ڈالر لگایا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی کی طرف سے غزہ کی پٹی میں مزاحمتی مراکز کے علاوہ زرعی املاک، پالتو مویشیوں کے فارموں، بحری مقاصد میں استعمال ہونے والی عمارتو...

اسرائیلی بمباری سے غزہ میں نصف ملین ڈالر کا نقصان

امریکا کا جاپان سے فوجی اڈوں کیلئے مزید ادائیگی کا مطالبہ وجود - اتوار 17 نومبر 2019

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جاپان سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں امریکی فوجی اڈوں کے اخراجات کا پہلے سے زیادہ حصہ برداشت کرے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جولائی میں اس وقت کے امریکی سلامتی مشیر جان بولٹن نے اپنے دورہ جاپان کے دوران جاپانی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ موجودہ سالانہ اخراجات کا تقریبا 4 گنا ادا کیا کرے ۔اس کا مطلب موجودہ 2 ارب ڈالر سالانہ کی بجائے 8 ارب ڈالر سالانہ ادائیگی ہے ۔فوجی اڈوں کے اخراجات میں جاپان کے حصے کے معاملے پر دونوں ممالک میں دوبارہ مذاکرات...

امریکا کا جاپان سے فوجی اڈوں کیلئے مزید ادائیگی کا مطالبہ

پندرہ برسوں میں تین کروڑ سے زائد افراد خط غربت سے نکل گئے وجود - هفته 16 نومبر 2019

پاکستان میں 2000ء سے 2015ء تک غربت میں واضح کمی ہوئی اور ملک میں 4 کروڑ 14 لاکھ افراد میں سے 3 کروڑ 38 لاکھ افراد خط غربت سے نکل گئے۔2000ء سے 2015ء کے دوران غربت کو کم کرنے میں جن15 ممالک نے انقلابی اقدامات کیے ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔غربت کی شرح میں سالانہ کمی کے اقدامات کے حوالے سے دنیا کے114ممالک میں پاکستان 14ویں نمبر پر آگیا۔ 2001ء میں پاکستان کی 28.6 فیصد فیصد آبادی انتہائی غربت زدہ زندگی گزارتی تھی، جس میں سالانہ 1.8 فیصد کمی ہوئی اور یوں 4 کروڑ 14 لاکھ افراد میں ...

پندرہ برسوں میں تین کروڑ سے زائد افراد خط غربت سے نکل گئے

ہالینڈ کا نوسالہ بچہ لارینٹ سائمنس دْنیا کا کم عمر ترین گریجویٹ بن جائیگا وجود - هفته 16 نومبر 2019

ایمسٹرڈم سے تعلق رکھنے والا 9 سالہ لارینٹ سائمنس رواں سال دسمبر میں ایندھوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرکے دْنیا کا کم عْمر ترین گریجویٹ بن جائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈم سے تعلق رکھنے والا لارینٹ سائمنس ایک باصلاحیت بچہ ہے جوصرف 9 سال کی عْمر میں الیکٹریکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرکے دْنیا کا کم عْمر ترین گریجویٹ بننے کے لیے تیار ہے۔

ہالینڈ کا نوسالہ بچہ لارینٹ سائمنس دْنیا کا کم عمر ترین گریجویٹ بن جائیگا

آسٹریلین ہوائی کمپنی کی انیس گھنٹے کی طویل پرواز کا کامیاب تجربہ وجود - هفته 16 نومبر 2019

آسٹریلیا کی ہوائی کمپنی قنطاس نے لندن سے ساڑھے انیس گھنٹے کی نان اسٹاپ پرواز کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ پرواز لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ سے جمعرات کی صبح روانہ ہوئی اور بغیر کہیں اترے سڈنی کے ہوائی اڈے پر جمعے کی دوپہر پہنچی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس پرواز کے لیے بوئنگ 787-9 کو استعمال کیا گیا۔ اس پرواز نے ساڑھے انیس گھنٹے میں سترہ ہزار آٹھ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ قنطاس اگلے برسوں میں لندن اور نیویارک کے لیے بغیر کسی اسٹاپ کے پروازیں شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہ...

آسٹریلین ہوائی کمپنی کی انیس گھنٹے کی طویل پرواز کا کامیاب تجربہ

اسرائیلی سفارت کارکی آمد پرہارورڈ یونیورسٹی کے طلباء کا احتجاج وجود - هفته 16 نومبر 2019

امریکی ریاست ماسا چیوسٹس میں قائم ہارورڈ یونیورسٹی کے کالج برائے حقوق کے طلباء نے نیویارک میں تعینات اسرائیلی قونصل جنرل کی تقریر کے لیے آمد پرطلباء نے احتجاج کیا اور بہ طور احتجاج انہوں نے صہیونی سفارت کار کا بائیکاٹ کیا۔غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی سفارت کار ڈانی ڈایان کو فلسطین میں یہودی بستیوں کے حوالے سے اسرائیلی حکمت عملی پر تقریر کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔سماجی کارکنوں اور طلباء نے اسرائیلی سفارت کار کے بائیکاٹ اوراس کے بعد احتجاجی مظاہرے کی تصاویر اور ویڈی...

اسرائیلی سفارت کارکی آمد پرہارورڈ یونیورسٹی کے طلباء کا احتجاج

بھارت میں بچھو والی درگاہ کا معجزہ،زائرین کاتانتابندھ گیا وجود - هفته 16 نومبر 2019

بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک ایسی درگاہ موجود ہے جہاں بچھو پائے جاتے ہیںلیکن یہ بچھو کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر امروہہ میں واقع درگاہ پوری ریاست اتر پردیش اور اترکھنڈ میںبچھو والی درگاہ کے نام سے مشہور ہے، اس درگاہ پر ہر مذہب کے لوگ اپنی مرادیں لے کر آتے ہیں اور دعائیں اور منتیں مانگتے ہیں، اس درگاہ پر زائرین کا تانتا لگا رہتا ہے۔ایک ر پورٹ کے مطابق اس درگاہ کی خاص بات یہ ہے کے درگاہ پر رہنے والے بچھو انسانوں کو نہیں کاٹتے...

بھارت میں بچھو والی درگاہ کا معجزہ،زائرین کاتانتابندھ گیا

چین 2020ء میں مریخ پر پہنچ جائے گا وجود - هفته 16 نومبر 2019

چین نے 2020ء میں مریخ پر لینڈ کرنے کا اعلان کر دیا اور بتایا ہے کہ اس سلسلے میں تجربہ بھی کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق چین کے نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ چین 2020ء میں مریخ پر مشن بھیجنے والا ہے جس کے سلسلے میں صوبے ہیبائی میں مریخ پر پہلا غیر انسانی مشن بھیجنے کے تجربے میں اہم کامیابی ملی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مریخ پر پہنچنے کے لیے مشن کو 7 ماہ کا عرصہ درکار ہو گا، جب کہ صرف 7 منٹ میں مریخ پر لینڈنگ عمل میں آ جائے گی۔سربرا...

چین 2020ء میں مریخ پر پہنچ جائے گا

امریکا میں خاتون وکیل سے حلف لیتے ہوئے جج کا انوکھا قدم،ویڈیووائرل وجود - هفته 16 نومبر 2019

سوشل میڈیا پر ایک خاتون وکیل کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں حلف لینے والے جج نے خاتون کا بچہ گود میں اٹھایا ہوا ہے۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر موجود اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکا کی ٹینیسی کورٹ آف اپیل کے جج رچرڈز ڈنکنز نے ٹینیسی بار کی وکیل جولیانا لامر ٹینیسی سے حلف لیتے ہوئے انہی کے ایک سالہ بیٹے کو بھی گود میں لیا ہوا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو جولیا لامر کے لاء اسکول کی ایک ساتھی سارہ مارٹن نے آن لائن شیئر کی جس کے بعد اب اس کا دنیا بھر میں چرچا ہ...

امریکا میں خاتون وکیل سے حلف لیتے ہوئے جج کا انوکھا قدم،ویڈیووائرل

مقبوضہ کشمیر،سیاحوں کی آمد میں 88فیصد کمی وجود - جمعرات 14 نومبر 2019

کشمیر میں غیر اعلانیہ ہڑتال اور غیر یقینی صورتحال کے سبب ہر برس کشمیر آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے ۔شہرہ آفاق سیاحتی مقامات پہلگام، گلمرگ، اور سونہ مرگ میں سال کے آخر میں غیر ملکی سیاحوں کا تانتا بندھارہتا تھا لیکن آج یہ مقامات سنسان ہیں۔محکمہ سیاحت کی جانب سے موصولہ اعداد و شمار کے مطابق 2018کے مقابلے میں رواں برس سیاحوں کی آمد میں 88.41 فیصد کمی نوٹ کی گئی ہے ۔محکمہ سیاحت کے ایک اعلی افسررشید احمد کے مطابق مواصلاتی نظام پر پابندیوں اور غیر یق...

مقبوضہ کشمیر،سیاحوں کی آمد میں 88فیصد کمی

فلسطینی مزیدصدمے سہنے کے لیے تیار رہے،اسرائیلی وزیراعظم کی دھمکی وجود - جمعرات 14 نومبر 2019

انتہا پسند اسرائیلی وزیر بنیامین نیتن یاہو نے غزہ سے تعلق رکھنے والی فلسطینی مزاحمتی تنظیم جہادِ اسلامی کو خبردار کیا ہے کہ وہ راکٹ حملے روک دے ،ورنہ وہ مزید صدموں کو سہنے کے لیے تیار رہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ انھیں (جہادِ اسلامی کو) حملے روکنے یا صدمے سہنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔انھوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کسی رحم کے بغیر ان حملوں کا جواب دے گا۔

فلسطینی مزیدصدمے سہنے کے لیے تیار رہے،اسرائیلی وزیراعظم کی دھمکی