وجود

... loading ...

وجود

بھارت نواز سابق وزیر اعلیٰ کے بیان پر بھارت بھی برس پڑا۔۔۔!

منگل 01 دسمبر 2015 بھارت نواز سابق وزیر اعلیٰ کے بیان پر بھارت بھی برس پڑا۔۔۔!

yasin-gilani-abdullah

کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنایا جائے۔بھارت کی پوری فوج بھی جموں کشمیر میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی سے عوام کو نہیں بچاسکتی، مذاکرات مسئلہ کشمیر کا واحد حل ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعہ کو ایک تقریب کے اختتام پر صحا فیوں کے ساتھ گفتگو کے دوران کشمیر کے دونوں حصوں کی حیثیت کے بارے میں بیان دیکر سرینگر سے نئی دلی تک ہلچل مچادی۔اس بیان کو لیکرانہیں جہاں بی جے پی، بھارتی میڈیا اور دیگر بھارت نوازسیاسی پارٹیوں کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا ،وہیں مقبوضہ کشمیر کے مزاحمتی خیمے کی طرف سے بھی انہیں تند و تیز بیانات کا سامنا کرنا پڑا ۔سنیچر 28نومبرکو سیول سوسائٹی کی جانب سے ہندوپاک کے درمیان امن و مفاہمت کے امکانات تلاش کرنے کے موضوع پر منعقدہ مباحثہ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی ساری فوج بھی کشمیر میں عسکریت پسندی کا دفاع نہیں کرسکتی۔جب ان سے آر پار کشمیر کے حوالے سے ان کے بیان میں بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے یہ بات دہرائی’’اْس پار کا کشمیر پاکستان اور اِس پارکا کشمیر بھارت کا حصہ رہے گا، میں نے کوئی نئی بات نہیں کی ہے اور میں اپنے بیان پر قائم ہوں‘‘۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ’’کشمیر حل کیلئے واحد بچا راستہ مذاکرات کا انعقاد ہے‘‘۔ان کا مزید کہناتھا کہ نہ ہمارے پاس کشمیر کا وہ حصہ حاصل کرنے کی طاقت ہے اور نہ ہی پاکستان کے پاس کشمیر کا یہ حصہ حاصل کرنے کی طاقت ہے۔ہم نیوکلیائی طاقت ہیں اور وہ بھی ایٹمی طاقت ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’فوج ہمارا کس حد تک دفاع کرسکتی ہے۔اگر بھارت کی ساری فوج ہمارے بچاؤ کیلئے آئے ،وہ ہمیں عسکریت پسندوں سے نہیں بچا سکتے ،لہٰذا واحد بچا راستہ مذاکرات ہیں اور اسی راستے سے اس مسئلہ کو حل کیاجاسکتا ہے‘‘۔انہوں نے میڈیا کو بات کا بتنگڑا بنانے پر ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حصہ پاکستان اور یہ حصہ بھارت کے ساتھ ہی رہنے سے متعلق ان کا موقف حتمی نہیں ہوسکتا اور وہ ایسا کوئی بھی حل قبول کرینگے جو بھارت ،پاکستان اور جموں وکشمیر کے عوام کی اکثریت کو قبول ہو۔ڈاکٹر فاروق کا کہناتھا’’میں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ حتمی حل ہے۔اگر آپ کے پاس اس سے بہتر کوئی حل ہے جو ہندوپاک اور ریاستی عوام کی غالب اکثریت کو قابلِ قبول ہوگا،تو وہ ہمیں بھی قابل قبول ہوگا‘‘۔انہوں نے کسی حل تک پہنچنے کیلئے مذاکرات کی بحالی پر زور دیا۔بی جے پی اور کانگریس نے فاروق عبداللہ کے بیان کو فوری طور پر یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اّْس پار کشمیر پاکستان کا نہیں بلکہ بھارت کا حصہ ہے اور اس پر پاکستانی جبری طور قابض ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر پاکستان کا ناجائز قبضہ ہے۔اور بھارتی فوج کے بارے میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا یہ بیان انکی سمجھ سے باہر ہے۔ ان ریمارکس پر اسے معافی مانگنی چاہئے۔

فاروق عبد اللہ ہندو دیش کے حکمرانوں کو خوش کرنے کیلئے مندروں میں جاکر بھجن بھی گا تے ہیں اور ماتھے پر لال ٹیکا بھی سجا تے ہیں

بھارتی میڈیا میں فاروق عبد اللہ کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہوا ہے اور اکثرتجزیہ نگار اور تبصرہ نگار فاروق عبد اللہ کو اس بیان کی بنیاد پر غداری کا مرتکب قرار دے رہے ہیں ۔واضح رہے کہ ڈاکٹر فاروق بھارت نواز تنظیم نیشنل کا نفر نس کے سربراہ مرحوم شیخ محمد عبد اللہ کے بیٹے ہیں اور 8ستمبر 1982سے 18اکتوبر2002تک تین بار اوران کے فرزند عمر عبد اللہ5جنوری2009سے جنوری 2015تک یاست کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں ۔ان کی بیٹی سارہ عبد اللہ کی شادی راجیش پائلیٹ کے بیٹے سچن پائلیٹ سے ہوئی ہے۔فاروق عبد اللہ ہندو دیش کے حکمرانوں کو خوش کرنے کیلئے مندروں میں جاکر بھجن بھی گا تے ہیں اور ماتھے پر لال ٹیکا بھی سجا تے ہیں۔

مزاحمتی تنظیموں نے نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے بیان کو لغو اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ریاست کی تقسیم قبول نہیں کی جائے گی اور حق خود ارادیت تک کشمیر حل طلب رہے گا۔حریت سربراہ سید علی گیلانی نے نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ کے آرپار کشمیر سے متعلق دئے گئے تازہ بیان کو بے معنیٰ اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی فرد واحد کو یہ مینڈیٹ اور اختیار حاصل نہیں کہ وہ جموں وکشمیر کے 15ملین سے زائد لوگوں کے مستقبل کے بارے میں کوئی ایسی تجویز پیش کرے، جو ان کی مرضی اور آرزوؤں کے منافی ہو۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم کو اپنے وطن کی یہ تقسیم منظور ہوتی تو نہ 22سال تک رائے شماری کے مطالبے کو لیکر وہ تحریک چلاتے، نہ ہمارے سرفروش قلم اور کتاب کے بجائے ہاتھوں میں بندوق اٹھاتے اور نہ لاکھوں انسان اپنی عزیز جانوں کی قربانی ہی پیش کرتے۔ان کا کہناتھا’’ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فاروق عبداللہ اس عمر میں جرأت کا مظاہرہ کرتے اور اس تاریخی غلطی کیلئے قوم سے معافی مانگتے، جو اس کی پارٹی نے 75ء میں رائے شماری کی تحریک کو دفن کرکے کی ہے۔لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا کہ جس شخص نے بھارتی فوج اور فورسز کی جانب سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم تک کا دفاع کیا ہو اور کشمیریوں کے انسانی حقوق تک کے معاملے میں اقوام عالم کے سامنے بھارت کی وکالت کی ہو، اْس سے ایسے ہی بیانات کی توقع رکھی جانی چاہیے۔ یاسین ملک نے کہا کہ 1974ء میں میر پور آزاد کشمیر میں محمد مقبول بٹ کے ہمراہ آزادی کے جلوسوں میں شرکت سے لیکرمقبول بٹ کو تختہ دار پر چڑھانے کیلئے بلیک وارنٹ پر دستخط تک اور پھر رواں تحریک مزاحمت کے دورا ن ایس ٹی ایف کے قیام سے لیکر آج کے دن تک‘ نیشنل کانفرنس اور خاص طور پر فاروق عبداللہ کی تاریخ انتہا ئی قبیح رہی ہے۔ فریڈم پارٹی سربراہ شبیر احمد شاہ نے فاروق عبداللہ کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر ایک وحدت ہے اور اس ریاست سے متعلق تنازع کا حل بندر بانٹ نہیں۔ شاہ نے فاروق عبداللہ کے بیان کو حقائق سے بعید قرار دیتے ہوئے کہا جموں کشمیر کی ریاست کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہی ۔البتہ تقسیم ہند کے موقع پربھارت نے غلامی سے گلوخلاصی کے ساتھ ہی اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لئے ریاست میں فوجیں داخل کرکے اپنا ناجائزقبضہ جمالیا۔انہوں نے واضح کیا کہ فاروق عبداللہ ہر چڑھتے سورج کے ساتھ بیان داغ کر ایک خلفشار پیدا کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح آج تک پیش کی گئی قربانیوں پر پانی پھیرنے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں۔بھاجپا اور کانگریس اور مزاحمتی تنظیموں کے رد عمل سے فاروق عبد اللہ کی پوزیشن با لکل دھوبی کے اس کتے جیسے ہوئی ہے جو نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر