وجود

... loading ...

وجود

ریحام خان کا’’ نیو‘‘ ٹی وی کا نیا سفر: پڑاؤ یا منزل

پیر 30 نومبر 2015 ریحام خان کا’’ نیو‘‘ ٹی وی کا نیا سفر: پڑاؤ یا منزل

reham-khan

عمران خان سے طلاق کے بعد ریحام کی زندگی ایک بار پھر نیے مباحث کے ساتھ موضوع بحث بننے جارہی ہے۔ عمران خان نے طے شدہ طریقہ کار کے بر خلاف اور قبل ازوقت ریحام کو بنی گالہ سے لندن روانہ ہوتے ہی جب بذریعہ ای میل طلاق بھیجی تو یہ ریحام خان کے لئے ایک دھچکا تھا ۔ جس کے بعد تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی یہ ایک مستقل کوشش رہی ہے کہ عوام کے ذہنوں سے ریحام کے ساتھ شادی اور طلاق کی یادوں کے محو ہونے تک ریحام کو کسی بھی طرح پاکستان سے دور رکھا جائے۔ تاکہ اُنہیں ریحام کے تبصروں کا کوئی سیاسی نقصان نہ اُٹھا نا پڑے۔ مگر ریحام بولنے اور چپ رہنے دونوں کی ’’سیاسی اور صحافتی قدروقیمت ‘‘ سے پوری طرح آگاہ ہے۔

ریحام خان اکتوبر کے اختتام پر پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے سے قبل لندن میں ایک میڈیا کانفرنس میں شرکت کے لئے گئی تھی ، اور جب سے اب تک وہ لندن میں ہی موجود ہے۔ یہ وہی میڈیا کانفرنس ہے ،جسے عارف نظامی نے اپنے ٹیلی ویژن پروگرام میں ’’نام نہاد میڈیا کانفرنس ‘‘سے تعبیرکیا تھا اور جس کا کوئی ابلاغی ہدف یا ایجنڈا اُس کے اختتام تک واضح نہیں ہوسکا تھا، یہ بھی نہیں کہ یہ کانفرنس لندن میں کیوں ہو رہی تھی؟

جیو اور دنیا ٹیلی ویژن کی انتظامیہ کا اصل مسئلہ ریحام خان کی طرف سے بھاری مشاہرے کی طلبی نہیں تھا، بلکہ دونوں طرف جو پہلو زیادہ مدنظر رکھا گیا وہ یہ تھا کہ ریحام خان کی اُن کے ادارے میں شمولیت کو عمران خان کس نظر سے دیکھیں گے؟

ریحام نے لندن میں رہ کر ہی پاکستان میں اپنے لئے ذرائع ابلاغ کے ساتھ ایک کامیاب ’’سودا پٹانے‘‘ کی کوششیں کی۔ وجود ڈاٹ کام کو ان کی اس سرگرمیوں سے آگاہ ایک ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ ریحام اصلا ً یہ ڈیل جیو اور دنیا ٹیلی ویژن میں سے کسی ایک کے ساتھ کرنے کی خواہش مند تھیں۔ مگر دنیا ٹیلی ویژن کے ساتھ رقم اور جیو کے ساتھ کسی ’’داخلی‘‘ اختلاف کے باعث یہ معاملات عارضی طور پر رُک گیے۔ جس پر ریحام نے یہ ضروری سمجھا کہ وہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کی صحافتی دنیا کے ساتھ مربوط رہ کر اپنی قوت برقرار رکھے۔ وجود ڈاٹ کام کے ذرائع کے مطابق جیو کے مالکان ریحام سے معاملات طے کرنا چاہتے تھے، مگر اُنہیں خود ٹیلی ویژن کے بعض مضبوط افراد کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ اطلاعات کے مطابق اُن میں جیو کے ساتھ پہلے دن سے اب تک وابستہ رہنے والے واحد’’ اینکر ‘‘کی مخالفت بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ یہ وہی اینکر ہے جو عمران خان کے دھرنے کے دوران میں جیو کی مخالفت کرنے پر عمران خان کو بمشکل آمادہ کرنے میں کامیاب ہوئے تھے کہ وہ جیو کے حوالے سے اپنی تلخیوں کو کم کرے۔ بعدازاں یہ کام دیگر ذرائع سے بھی انجام دیا جاتا رہا۔ دھرنے کے فوراً بعد شادی اور پھر شادی کے فوراً بعد جب ابھی عمران خان جیو کے حوالے سے گرجنا برسنا گاہے بہ گاہے جاری رکھے ہوئے تھے، تو ریحام نے جیو کا دورہ کرکے جیو کے ایک اور اینکر سلیم صافی کو انٹرویو دیا تھا۔ اس انٹرویو کے بعد ریحام کو ایک بیش قیمت ہار بھی پیش کیا گیا تھا ، جس کے بارے میں ابھی تک یہ وضاحت نہیں ہو سکی کہ یہ ہار میر شکیل الرحمان کی طرف سے ریحام خان کو پیش کیا گیا تھا یا پھر یہ خود سلیم صافی کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔ بعض ذرائع کو یہ اصرار ہے کہ یہی ہار عمران خان اور ریحام خان کے درمیان تلخی کی پہلی وجہ بنا تھا۔ عمران خان نے تب ریحام خان کو یہ کہا تھا کہ جیو کے ساتھ اُن کی شدید مخالفت کے باوجود وہ وہاں کیوں گئی تھی؟ اور پھر جب وہ انٹرویو دے ہی آئی ہے تو اُسے تحفتاً ہار لینے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ ریحام خان نے عمران خان کے اعتراضات کو تب سنا ان سنا کر دیا تھا۔ بعدازاں خود عمران خان نے رفتہ رفتہ جیو کے ساتھ اپنے معاملات کو نرم اور بہتر بنالیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ان تعلقات کو بہتر بنانے میں جس اہم ترین جیو کے فرد نے کردار ادا کیا تھا ،وہ ریحام خان کی جیو میں شمولیت سے خوش نہیں تھا۔ جیو کے مالکان کو اس پر پریشانی تھی۔

دوسری طرف دنیا ٹیلی ویژن کی بھی خریداری لسٹ میں ریحام خان کا’’ آئٹم ‘‘شامل ہو گیا تھا۔ جو عمران خان کے ساتھ شادی کے عرصے میں بھی ریحام خان سے کچھ الٹے سیدھے کالم لکھواتا رہا ہے۔ اور جسے ہر چمکتی ہوئی چیز میں کچھ عرصے کے لیے خاصی دلچسپی ہوتی ہے۔ ریحام خان سے دنیا ٹیلی ویژن کے جو ذرائع رابطے میں تھے، وہ اس دفعہ وہ ذرائع نہیں تھے، جو اس سے قبل ریحام خان سے رابطے کے حوالے سے مددگار رہے تھے۔ اس کھیل میں ریحام خان کی طرف سے لندن میں میڈیا کانفرنس کے میزبانوں میں شامل مبین رشید کا نام سامنے آرہا ہے جو مسلسل دنیا ٹیلی ویژن کے بعض ایسے افراد سے رابطے کی کوشش کرتا رہا ہے، جواُن سمیت ریحام خان کی دنیا ٹیلی ویژن میں آمد کو یقینی بنانے کے لیے کارآمد ہوسکتے تھے۔ مگر یہ رابطے زیادہ کارگر ثابت نہ ہوسکے۔ دنیا ٹیلی ویژن کے بجٹ اور ریحام خان کی اُمید میں کافی فاصلہ تھا۔ مگر جاننے والے ایک اور کہانی بھی سناتے ہیں کہ جیو اور دنیا ٹیلی ویژن کی انتظامیہ کا اصل مسئلہ ریحام خان کی طرف سے بھاری مشاہرے کی طلبی نہیں تھا، بلکہ دونوں طرف جو پہلو زیادہ مدنظر رکھا گیا وہ یہ تھا کہ ریحام خان کی اُن کے ادارے میں شمولیت کو عمران خان کس نظر سے دیکھیں گے؟دونوں طرف کی انتظامیہ نے اس امر پر بھی غور کیا کہ ریحام خان عمران خان پر زیادہ سے زیادہ کیا اور کتنی گفتگو کرسکتی ہے؟ پھر یہ گفتگو عوام کی توجہ کب تک حاصل کرتی رہے گی؟ ظاہر ہے کہ یہ ایک محدود عرصے کے لیے ہی باعثِ کشش ہو سکتا ہے، مستقل بنیادوں پر نہیں۔ چنانچہ اپنی تمام تر کشش اور ظاہری چکاچوندی کے باوجود یہ پیشہ ورانہ غوروفکر میں بھی کوئی قابلِ عمل اور دیرپا سودا دکھائی نہیں دیتا۔مگر لندن سے اب بھی ریحام خان کی طرف سے بعض ذرائع بشمول مبین رشید کچھ ٹیلی ویژن کے ذمہ داران تک رابطے بڑھانے کی کوششوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ مبین رشید ہی کے توسط سے ریحام خان کے معاملات ’’نیو‘‘ ٹی وی کی انتظامیہ سے طے ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق نیو ٹی وی کے مالک چوہدری عبدالرحمان میڈیا کانفرنس کے فوراً اختتام پر اچانک لندن پہنچے اور اُنہوں نے ریحام خان سے اُن کی پسندیدہ ہوٹل میں ’’ملاقات ‘‘ کی۔ چوہدری عبدالرحمان کی ملاقات کے بعد نیو ٹی وی کی انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا کہ ریحام خان اب نیو ٹی وی سے مستقل وابستہ ہو رہی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں اُن کاایک طویل انٹرویو کیا گیا ہے جو نیو پر تین دن تین اقساط کی صورت میں مسلسل پیش کیا جائے گا۔اس انٹرویو کے میزبان اس سودے کے محرک مبین رشید ہی ہیں۔ کہا یہ جارہا ہے کہ اسی انٹرویو کے دوران میں ہی ریحام کے پروگرام ’’لائیو وڈ ریحام‘‘ کا پرومو بھی مشتہر کیا جائے گا۔ تاہم اس ضمن میں ابھی بھی ایک مستقل بے یقینی کی کیفیت مسلسل چھائی ہوئی ہے جس کا سبب ریحام کی طرف سے ٹیلی ویژن انڈسٹری کے بڑی اسکرینوں سے مسلسل رابطے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ریحام کی توقعات کا اونٹ قدرے اونچے کوہان والا ہے اور ’’نیو‘‘ کا دروازہ اس کے مقابلے میں خاصا چھوٹا ہے۔ جبکہ اس کی انتظامیہ کا معاملہ تو اس سے بھی زیادہ چھوٹا دکھائی دیتا ہے۔اطلاعات کے مطابق ریحام کو نیو ٹی وی کو دیئے گیے وقت کے مطابق ۳۰؍ ومبر کو اسلام آباد پہنچنا تھا، مگر اب اچانک نشست نہ ملنے کا بہانا بنا کر ریحام خان نے اپنے واپسی کو دو دسمبر تک موقوف کردیا ہے۔ وجود ڈاٹ کام کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس دوران میں ریحام خان کی بعض اہم سیاسی وصحافتی ملاقاتیں متوقع ہیں جس کے نتیجے میں وہ ایک بار پھر کچھ قلابازیاں کھا سکتی ہیں۔ ٹیلی ویژن صنعت کا ہر باخبر شخص اصرار کر رہا ہے کہ ریحام اپنے اگلے سفر کے ایک عارضی پڑاؤ کے لیے ’’نیو‘‘ رُکی ہے۔ وہ کسی بھی وقت ایک نئی پرواز بھر سکتی ہے۔


متعلقہ خبریں


ملعون سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے ملزم ہادی مطر کی ایران سے تعلق کی تردید وجود - جمعرات 18 اگست 2022

شاتمِ رسول سلمان رشدی پر نیویارک میں حملہ کرنے والے ملزم ہادی مطر نے ایران سے تعلق کی تردید کردی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہادی مطر کا کہنا ہے کہ ملعون سلمان رشدی کے ناول کے کچھ صفحات پڑھے ہیں، اس نے اسلام اور اس کے عقائد پرحملہ کیا۔ اس سے قبل امریکا میں ملعون سلمان رشدی ...

ملعون سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے ملزم ہادی مطر کی ایران سے تعلق کی تردید

اسلام آباد پولیس نے بدمعاشی سے شہباز گِل کو اسلام آباد منتقل کیا، وزیر داخلہ پنجاب وجود - جمعرات 18 اگست 2022

وزیر داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر نے کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے بدمعاشی کرتے ہوئے رینجرز کی زیر نگرانی شہباز گل کو اسلام آباد شفٹ کیا۔ ہاشم ڈوگر نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ شہباز گِل کی جان کو شدید خطرہ ہے، معزز اعلی عدالتوں سے انسانی حقوق کی خاطر مداخلت کی اپیل ہے۔ وزیر داخلہ پنج...

اسلام آباد پولیس نے بدمعاشی سے شہباز گِل کو اسلام آباد منتقل کیا، وزیر داخلہ پنجاب

ایف بی آر: کرپشن ، فرائض میں غفلت برتنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ وجود - جمعرات 18 اگست 2022

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کرپشن اور فرائض سے غفلت برتنے پر ملازمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ ایف بی آر کے کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ملازمین سے متعلق تحقیقات 60 دنوں میں مکمل کی جائیں گی، فیلڈ آفس کے سربراہ تحقیقاتی ٹیم کو کیس سے متعلق ریکارڈ فراہم کرنے ...

ایف بی آر: کرپشن ، فرائض میں غفلت برتنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

پاکستانی روپیہ پھر گراوٹ کا شکار، انٹر بینک میں ڈالر 216 کا ہوگیا وجود - جمعرات 18 اگست 2022

ملک بھر میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہونے لگا ہے۔ پاکستانی روپیہ رواں کاروباری ہفتے سے شروع سے ہی مسلسل گراوٹ کا شکار ہے جبکہ امریکی ڈالر کی قدر میں بہتری کا سلسلہ ہے۔ جمعرات کو پھر انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں ایک روپیہ 12 پیسے اضافہ ہوا ہ...

پاکستانی روپیہ پھر گراوٹ کا شکار، انٹر بینک میں ڈالر 216 کا ہوگیا

پی ٹی آئی رہنما شہباز گل اسلام آباد بنی گالہ چوک سے گرفتار وجود - منگل 09 اگست 2022

پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو عاشور کے روز اسلام آباد سے گرفتار کرلیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اُنہیں اسلام آباد بنی گالہ چوک سے گرفتار کیا گیا۔ شہباز گل کے خلاف تھانہ بنی گالہ میں بغاوت پر اُکسانے کا مقدمہ بھی درج کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہباز گل کی گرفتاری کے دوران ڈ...

پی ٹی آئی رہنما شہباز گل اسلام آباد بنی گالہ چوک سے گرفتار

مائنس عمران خان کی پیشکش لانے والے کون تھے نہیں بتا سکتا، اسد عمر وجود - منگل 09 اگست 2022

پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ مائنس عمران خان کی پیشکش لانے والے کون تھے نہیں بتا سکتا۔ ایک انٹرویو میں تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد عمر نے کہا کہ مائنس عمران خان کی پیشکش لانے والے کون تھے نہیں بتا سکتا، لیکن ایک بات واضح کرتا ہو...

مائنس عمران خان کی پیشکش لانے والے کون تھے نہیں بتا سکتا، اسد عمر

یوم عاشورآج مذہبی عقیدت و احترام سے منایا جائیگا وجود - منگل 09 اگست 2022

سیکیورٹی کے سخت انتظامات،موبائل سروس بند،ڈبل سواری پرپابندی کراچی سمیت ملک بھر میں ذوالجناح اور تعزیے کے جلوس برآمد ،روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے دس محرم کو اختتام پذیر ہونگے جلوسوں کے اختتام پر شام غریباں برپا کی جائیں گی، پولیس کے ساتھ پاک فوج ، رینجرز اور ایف سی کے دستے بھی ...

یوم عاشورآج مذہبی عقیدت و احترام سے منایا جائیگا

فوج میں اعلیٰ عہدوں پرتبادلے ، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کور کمانڈر بہاولپورتعینات وجود - منگل 09 اگست 2022

ملٹری سیکریٹری پاکستان آرمی لیفٹیننٹ جنرل سردار حسن اظہر حیات کور کمانڈر پشاور تعینات ،بہاولپور کے موجودہ کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل خالد ضیا کو ملٹری سیکرٹری پاکستان آرمی تعینات کردیاگیا لیفٹیننٹ جنرل سردار حسن اظہر حیات مغربی سرحد کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور وہ جی او سی میران شا...

فوج میں اعلیٰ عہدوں پرتبادلے ، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کور کمانڈر بہاولپورتعینات

اے پی ایس حملے کا ماسٹرمائنڈ عمرخالد خراسانی بم دھماکے میں ہلاک وجود - منگل 09 اگست 2022

افغانستان کے صوبے پکتیکا میں ہونے الے دھماکے میں ٹی ٹی پی ترجمان عمرخالد خراسانی کے دو ساتھی مفتی حسن اورحافظ دولت بھی ہلاک ہوئے عمرخالد خراسانی کا شمار ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں میں کیا جاتا تھا عمرخالد خراسانی نے کابل میں پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات میں حصہ بھی لیا تھا،ان کی زن...

اے پی ایس حملے کا ماسٹرمائنڈ عمرخالد خراسانی بم دھماکے میں ہلاک

اسری یونیورسٹی کے چانسلر کی گرفتاری، مزید انکشافات وجود - منگل 09 اگست 2022

یف آئی آر ایک اعلیٰ پولیس افسر کی ہدایات پر کاٹی گئی، حمید اللہ قاضی کی گرفتاری سے قبل اسری ولیج میں ولی اللہ قاضی کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مارا گیا ڈاکٹر حمید اللہ قاضی کی ہٹڑی تھانے پر ہتھکڑیاں لگی فوٹو نکال کر سوشل میڈیا پر وائرل ،تعلیمی و عوامی حلقوں میں پولیس کی کارروائی پر ش...

اسری یونیورسٹی کے چانسلر کی گرفتاری، مزید انکشافات

ایم این اے فنڈسے بنائی گئی سڑکیں بارش میں بہہ گئیں وجود - منگل 09 اگست 2022

ملک میں سیاسی بساط بچھانے والوں کوکراچی کی کوئی فکرنہیں حافظ نعیم الرحمن اب کراچی والوں کو بھی سمجھنا چاہیئے کہ اب ہمیں ایسے لوگوںکے پیچھے نہیں جانا چاہیئے جو 35 سال سے کراچی کا استحصال کررہے ہیں قوم اور ذات کے نام پر تقسیم کرنے والوں کو مسترد کردیں،28 اگست کو ترازو پر مہر لگا...

ایم این اے فنڈسے بنائی گئی سڑکیں بارش میں بہہ گئیں

ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیت کرتاریخ رقم کردی وجود - منگل 09 اگست 2022

ارشدندیم 90 میٹر کی تھرو کرنیوالے جنوبی ایشیا کے پہلے ایتھلیٹ بن گئے ،انھوں نے پانچویں باری میں 90.18 میٹر کی ریکارڈ تھرو کی ارشد ندیم سب سے بڑی تھرو کرنے والے جنوبی ایشیا کے پہلے اوردوسرے ایشین بن گئے ہیں،صدر،وزیراعظم ،آرمی چیف سمیت اہم شخصیات کی مبارکباد بر منگھم (فارن ڈیسک)...

ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیت کرتاریخ رقم کردی

مضامین
بلوچستان، مزید بارشیں، تباہ کاریاں، خراب حکمرانی وجود جمعه 19 اگست 2022
بلوچستان، مزید بارشیں، تباہ کاریاں، خراب حکمرانی

ڈیپ فیک وجود جمعه 19 اگست 2022
ڈیپ فیک

ملعون سلمان رشدی ، ایک غازی کے نشانے پر وجود جمعرات 18 اگست 2022
ملعون سلمان رشدی ، ایک غازی کے نشانے پر

سور۔یلا۔۔ وجود بدھ 17 اگست 2022
سور۔یلا۔۔

سوشل میڈیا ایک بہت بڑا دھوکاہے وجود بدھ 17 اگست 2022
سوشل میڈیا ایک بہت بڑا دھوکاہے

میثاقِ معیشت کی تجویز وجود بدھ 17 اگست 2022
میثاقِ معیشت کی تجویز

اشتہار

تہذیبی جنگ
ملعون سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے ملزم ہادی مطر کی ایران سے تعلق کی تردید وجود جمعرات 18 اگست 2022
ملعون سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے ملزم ہادی مطر کی ایران سے تعلق کی تردید

یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ وجود جمعرات 16 جون 2022
یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ

گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا وجود منگل 14 جون 2022
گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج

بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر وجود منگل 07 جون 2022
بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر

اشتہار

بھارت
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت وجود اتوار 19 جون 2022
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت

سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری وجود جمعرات 09 جون 2022
سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج
افغانستان
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان وجود بدھ 25 مئی 2022
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان

خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان وجود پیر 23 مئی 2022
خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان

سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا وجود پیر 23 مئی 2022
سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا

بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت وجود بدھ 18 مئی 2022
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود جمعه 10 جون 2022
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے وجود جمعرات 09 جون 2022
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے

چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل وجود منگل 24 مئی 2022
چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل

گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام وجود اتوار 22 مئی 2022
گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام