... loading ...

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے انتخابات میں سابقہ کونسل کے اراکین پر حالیہ انتخابات میں پابندی کے باوجود ڈاکٹر عاصم حسین کے قریبی ساتھی اور سابقہ کونسل کے متنازع صدر ڈاکٹر سعود حمید نے اپنے امیدوار بھی نہ صرف میدان میں اتاردیے بلکہ حالیہ انتخابات میں کلیدی کردار ادا کرنے والی ڈاکٹر وں کی نمائندہ تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) کو بھی قبل از انتخاب مشکلات سے دوچار کردیا۔ جبکہ سندھ کی چار نشستوں میں سے نجی میڈیکل کالج کی نشست پر ڈاکٹر عاصم حسین کی حراست کے باوجود ان کے حامی گروپ کے امیدوار ڈاکٹر عبداﷲ المتقی کے باآسانی منتخب ہونے کا روشن امکان ہے۔ جن کا تعلق جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج سے ہے۔ جس کے مالک ڈاکٹر طارق سہیل ہیں جو شروع سے ہی ڈاکٹر عاصم حسین کے ان دوستوں میں سے ہیں جنہوں نے ملک کے نجی میڈیکل کالجوں ،یونیورسٹیز کو بے جا رعایتیں دلوانے اورمن مانیوں کے لئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل پر مکمل قبضے کے لئے ڈاکٹر عاصم حسین کی ہمیشہ بھرپور حمایت کی ہے۔
سندھ کی ڈینٹل نشست پر ڈاکٹر مسعود حمید کے قریبی دوست اور فاطمہ جناح ڈینٹل کالج کے مالک ڈاکٹر باقر عسکری کے امیدوار ڈاکٹر عنایت اﷲ کے کاغذات نامزدگی ان کے مدمقابل امیدوار ڈاکٹر محمد فیروز جہانگیر کے اعتراضات کے بعد مسترد ہوچکے ہیں اوریوں اس نشست پر بلامقابلہ ڈاکٹر محمد فیروز جہانگیر کے منتخب ہونے کا امکان ہے ۔ اگرچہ تاحال ڈاکٹر محمد فیروز جہانگیر کی (جو پاکستان ڈینٹل ایسوسی ایشن میں مختلف عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں) پی ایم ڈی سی کے حوالے سے وابستگی اور جھکاؤ کے بارے میں کچھ واضح نہیں تاہم ڈاکٹر مسعود حمید سے وہ رابطے میں بتائے جاتے ہیں ڈینٹل نشست پر سندھ سے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن یہ دعویٰ تو کرسکتی ہے کہ ان کے حریف ڈاکٹر باقر عسکری کا امیدوار انتخاب کے پہلے مرحلے میں ہی آؤٹ ہوگیا لیکن وہ ڈاکٹر محمد فیروز جہانگیر کے بارے میں فی الحال کسی قسم کے اظہار سے گریزاں ہے یوں پی ایم ڈی سی کے انتخاب میں جہاں دو نشستوں پر انتخاب ہونے جارہے ہیں ان دونوں نشستوں پر ون ٹو ون کا نٹے کا مقابلہ ہے جس میں سے سرکاری میڈیکل یونیورسٹی کی نشست پر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزکے گائنی ڈیپارٹمنٹ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نصرت شاہ کمال ہیں، جو وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی صاحبزادی ہیں۔ ان کے مدمقابل لیاقت یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز جامشورو کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق شیخ ہیں۔ جو براہ راست مذکورہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نوشاد احمد شیخ کے زیر اثر ہی نہیں بلکہ ان کی ایما پر ہی پی ایم ڈی سی کے انتخاب میں بحیثیت امیدوار سامنے آئے ہیں۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر نوشاد احمد شیخ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی ٹیم کے بارہویں کھلاڑی ہیں اور ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر کی تقرری کے حوالے سے گورنر سندھ اور وزیر اعلیٰ سندھ آمنے سامنے ہیں اور یہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے جس کی آئندہ سماعت یکم دسمبر کو ہوگی ۔جبکہ ڈاکٹر عبدالرزاق شیخ پہلے ہی ڈاکٹر نصرت شاہ کے حق میں دستبردار ہونے سے انکار کرچکے ہیں۔انہیں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر نصرت شاہ قومی بنیاد پر ہونے والے اس انتخاب میں واحد خاتون امیدوار ہیں لہٰذا وہ ان کے حق میں دستبردار ہوجائیں ۔
باخبر ذرائع کے مطابق خود اُنہوں نے گورنر سندھ کی ٹیم کا حصہ ہونے کے باعث الٹا ڈاکٹر نصرت شاہ کو اپنے حق میں دستبرداری کا پیغام دے دیا ہے۔ لہٰذا اس نشست پر یہ مقابلہ بالواسطہ طور پر وزیراعلیٰ سندھ اور گورنر سندھ کے مابین ہونے جارہا ہے۔ اس حوالے سے اگر انتخابی حلقے کا جائزہ لیا جائے تو پیپلز میڈیکل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نواب شاہ کے وائس چانسلر پروفیسر اعظم یوسفانی، شہید بینظیر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اصغر چنہ ،پی ایم ڈی سی کی سابقہ کونسل میں ڈاکٹر عاصم حسین کے قریبی معاون و مددگار رہے ہیں۔ جبکہ خود ڈاکٹر نصرت شاہ کا تعلق جس سرکاری جامعہ سے ہے وہاں ایک بار پھر گورنر سندھ نے قانون کو بالائے طاق رکھ کر ڈاکٹر سعود حمید کو ڈاؤ یونیورسٹی کا قائم مقام وائس چانسلر بنا رکھا ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی میں ڈاکٹر مسعود حمید کے خلاف سوچنا بھی جرم ہے۔ ایسے بے شمار لوگوں کو ماضی میں ڈاؤ یونیورسٹی سے فارغ کیاجاچکا ہے جو ڈاکٹر مسعود کی من مانی کارروائیوں میں رکاوٹ بن سکتے تھے۔ خوف اور دہشت کے اس ماحول میں ڈاکٹر نصرت شاہ اپنی یونیورسٹی سے کتنے ووٹ حاصل کرسکیں گی اس کا اندازہ آپ خود کرسکتے ہیں۔ جبکہ پروفیسر ڈاکٹر نوشاد احمد شیخ ڈاؤ یونیورسٹی سے کس طرح ڈاکٹر نصرت شاہ کے حق میں ووٹ کا استعمال ہونے دیں گے یہ معاملہ بھی اتنا آسان نہیں ہے اس کے علاوہ اس نشست پر دومزید امیدوار بھی ہیں جن میں ڈاکٹر ناصرعلی خان کا تعلق کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج عباسی شہید اسپتال سے ہے جبکہ نجی محمد میڈیکل کالج میرپورخاص کے ڈاکٹر شمس العارفین کو بھی سرکاری میڈیکل کالج کی نشست پر الیکشن کمیشن نے امیدوار ظاہر کیا ہے۔ ان دوامیدواروں کے بارے میں طبی حلقوں کی کوئی حتمی رائے نہیں سامنے آئی ہے۔
تاہم سب سے زیادہ حیران کن صورت حال یہ ہے کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن جو متنازع میڈیکل کونسل کے سامنے ایک مضبوط حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اس نے مذکورہ انتخاب میں جنرل نشست پر اپنے مضبوط امیدوار ڈاکٹر مرزا علی اظہر کو دستبردار کروا کے ڈاکٹر عاصم کے قریبی ساتھی ڈاکٹر جمال الدین شیخ کو اپنا امیدوار ڈکلیئر کردیا ہے جو محکمہ صحت سندھ کے ریٹائرڈ ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمت میں سنگین نوعیت کی بدعنوانیوں کی شناخت رکھتے ہیں۔ بلکہ سابق وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے گریڈ18سے گریڈ19کے ڈاکٹر وں کی ترقی کے مبینہ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر جمال الدین شیخ کونہ صرف ڈپٹی سیکریٹری صحت کے عہدے سے ہٹادیا تھا بلکہ صحت کے صوبائی سیکریٹریٹ میں ان کے داخلے پربھی پابندی عائد کردی تھی اور محکمہ صحت کے ڈاکٹر ز ترقی کے مبینہ اسکینڈل کے خلاف سندھ ہائی کورٹ چلے گئے تھے پھرڈاکٹر عاصم حسین کے ساتھ گرفتار ہونے والے سندھ گورنمنٹ قطراسپتال اورنگی کے ڈاکٹر یوسف ستار میمن کے ڈاکٹر جمال الدین شیخ کا نام سہولت کاروں میں بھی آتاہے۔ کیونکہ رینجرز کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈاکٹر جمال قطر اسپتال اورنگی میں گھوسٹ ملازمین کی سرپرستی کیا کرتے تھے جن میں خود ڈاکٹر جمال شیخ کی اہلیہ اور ڈاکٹر یوسف ستار بھی شامل تھے۔
طبی حلقوں میں پی ایم اے کے اس فیصلے کو بہت تعجب اور حیرت سے دیکھا جارہا ہے کہ پی ایم اے نے کرپشن کی شہرت کے حامل نووارد ڈاکٹر جمال شیخ کو پی ایم اے کے مرکزی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر مرزا علی اظہر جیسے سینئر ترین ممبر و عہدیدار پرکیوں ترجیح دی ہے۔ پھر یہی نہیں پی ایم اے کراچی چیپٹر کے حالیہ انتخاب میں ڈاکٹر جمال شیخ کو بحیثیت پی ایم اے کراچی کے سینئر نائب صدر اول کی حیثیت سے بھی منتخب کیاگیا ہے ۔طبی حلقوں کے مطابق پی ایم اے کے فیصلہ سازوں نے شاید ڈاکٹر ثمرینہ اورپروفیسر عمرفاروق کے کردار سے تاحال کوئی سبق نہیں سیکھا ہے اور ڈاکٹر جمال شیخ کی صورت میں جی ایم اے کی سطح پر ایک بار پھر آستین میں سانپ پالنے کے خطرناک شوق کو دوبارہ دہرایا ہے تودوسری جانب پی ایم ڈی سی کے انتخاب کے حوالے سے ڈاکٹر مرزا علی اظہر جیسی قد آور شخصیت کو انتخاب سے دستبردار کرواکر اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑا مار لیا ہے۔ بہ الفاظ دیگر اپنا رول ازخود ڈاکٹر مسعود حمید کو طشتری میں رکھ کرپیش کردیا ہے جبکہ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ ڈاکٹر جمال شیخ جس گروپ سے تعلق کے دعویدار ہیں اس کا گروپ کی اکثریت میں بھی وہ انتہائی متنازع اور ناپسندیدہ شخصیت کی شناخت رکھتے ہیں۔ اب تک کی فضا کے مطابق ڈاکٹر جمال شیخ کا مقابلہ ڈاکٹر عطاء الرحمن سے ہوگا۔ جو جمال شیخ کے مقابلے میں نہ صرف صاف ستھرے کردار کے حامل ہیں بلکہ پروفیشنل اعتبار سے وہ ڈاؤ یونیورسٹی سے آرتھوپیڈک پروفیسر کی حیثیت سے ریٹائرہوئے ہیں اورفضایہ بتارہی ہے کہ پی ایم اے کے خاموش ووٹ بھی جمال شیخ کے مقابلے میں ڈاکٹر عطاء الرحمن کے حق میں ڈالے جائیں گے جبکہ پی ایم اے ڈاکٹر جمال شیخ کے لئے کھل کر انتخابی مہم بھی نہیں چلاسکے گی۔جبکہ پنجاب میں جنرل نشست پر پی ایم اے کے منتخب صدر ڈاکٹر اشرف نظامی کا مقابلہ ینگ ڈاکٹر ز ایسوسی ایشن کے امیدوار سے ہے جواتنا آسان نہیں ہے۔ واضح رہے کہ پی ایم ڈی سی کے انتخابات بھی 5دسمبر کوہوں گے۔
پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...
متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...
جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...
پنجاب بیدار ہوگیا، بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی عوامی ریفرنڈم کیلئے ہزاروں کیمپ قائم، مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر...
اسکریپ ڈیلرعمیر ناصر رند کو گرفتار کرلیا،پولیس اہلکارون کی پشت پناہی میں چلنے کا انکشاف ملزم کے قبضے سے 150کلو گرام چوری شدہ کاپر کیبل اور گاڑی برآمد ہوئی ہے، پولیس حکام بن قاسم پولیس نے ایک کارروائی کے دوران اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئ...
2025کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50مسلمان جان سے گئے امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ،عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی...
قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...
ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...
ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...
فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...
ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...
موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...