وجود

... loading ...

وجود

بمباری کے حامی مزید بمبار طیاروں کے حق میں

بدھ 25 نومبر 2015 بمباری کے حامی مزید بمبار طیاروں  کے حق میں

B-2-Spirit

امریکی فضائیہ کے لیے 100 نئے بمبار جہاز بنانے کے لیے نارتھروپ گرومن کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی ابھی سیاہی خشک نہ ہوئی ہوگی کہ “شوقین” لابی جہازوں کی تعداد کو دوگنا کرنے پر زورلگاتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس ڈرامائی اضافے کی سفارش مچل انسٹیٹیوٹ آف ایرو اسپیس اسٹڈیز کی تحقیق میں سامنے آئی ہے جو ہر گز غیر جانب دار فریق نہیں ہے۔ اس کا الحاق ایئرفورس ایسوسی ایشن (اے ایف اے) سے ہے جو ہر اس چیز پر زیادہ سے زیادہ پیسہ لگانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے، جو اڑتی دکھائی دے۔

فضائیہ کے ریٹائرڈ اہلکاروں کو رکنیت دینے والی ایسوسی ایشن دراصل سابق فوجیوں کی انجمن سے کچھ بڑھ کر ہی ہے۔ اے ایف اے کا کام اپنے اراکین کی پیش کردہ سالانہ فیس کے علاوہ 600 سے زیادہ اداروں کی فراخدلانہ رکنیت فیس پر چلتا ہے۔ اس میں نارتھروپ گرومن، لاک ہیڈ مارٹن اور بوئنگ شامل ہیں۔ یعنی وہی ادارے جو نئے بمبار طیارے کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے مقابل تھے۔ اگر ہم اے ایف اے کی ویب سائٹ دیکھیں تو یہ گورنمنٹ ریلیشنز اسٹاف کے بارے میں بتاتی ہے جو اہم معاملات پر اپنے رکن اداروں کی حمایت و وکالت کرتی ہے جیسا کہ فضائیہ میں دوبارہ سرمایہ بندی اور جوہری مشن کو مضبوط تر بنانا۔ ایسوسی ایشن کا سالانہ اجلاس آدھی ملاقات اور آدھا اسلحہ میلہ ہوتا ہے جس میں فضائیات کے شعبے سے وابستہ ٹھیکیدار اپنی نمائشیں کرتے ہیں۔

بلاشبہ یہ تمام سرگرمیاں مکمل طور پر قانونی ہوتی ہیں۔ واشنگٹن میں کاروبار کرنے کے یہ عام حربے ہیں جہاں سیاسی و مالی فائدے کے لیے لابنگ کرنا ایک ابھرتی ہوئی صنعت ہے۔ لیکن قارئین- اورٹیکس دینے والوں-کو مچل انسٹیٹیوٹ کی بمبار کے حق میں آنے والی رپورٹوں کو مقاصد اور ان کارپوریٹ تعلقات کو سمجھنا چاہیے۔

نئے بمبار طیاروں کا منصوبہ بیک وقت انتہائی غیر ضروری اور موجودہ حالات کے لحاظ سے بہت مہنگا ہے

بلاشبہ یہ فریق بیک وقت صحیح بھی ہو سکتے ہیں لیکن کم از کم نئے بمبار کے معاملے میں تویہ بات ٹھیک نہیں۔ یہ بیک وقت انتہائی غیر ضروری اور موجودہ حالات کے لحاظ سے بہت مہنگا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت تجویز کردہ 100 بمبار پر کم از کم ایک ارب ڈالرز فی عدد کے اخراجات آئیں گے اور اس پر افراط زر کا بھی اضافہ ہوگا۔ اور ہاں، اس میں پنٹاگون کے نام نہاد “بلیک بجٹ” سے ہونے والی خفیہ فنڈنگ تو شامل ہی نہیں اور نہ ہی اخراجات میں اضافے کا پتہ ہے جو فضائیہ کے ایسے تمام منصوبوں میں ہو جاتا ہے اور گزشتہ تین دہائیوں سے ہو رہا ہے۔

اس وقت نئے بمبار طیارے پر آنے والے بھاری اخراجات کو دیکھیں تو مجوزہ 100 کے بجائے 200 کی تیاری پر زور دینے کی کوئی تک ہی نہیں بنتی۔ خاص طور پر اگر فضائیہ کے ایجنڈے پر موجود دیگر منصوبو ں کو بھی دیکھا جائے۔ اگلی تین دہائیوں میں امریکی فضائیہ 2400 ایف-35 لڑاکا طیارے خریدنا چاہتی ہے، جو تاریخ کا سب سے مہنگا ہتھیار ہے۔

B-52-B-2

اپنے حالیہ پالیسی بیان میں اے ایف اے تجویز کرتا ہے کہ نئے بمبار اور لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ فضائیہ کو اپنے “تیل بردار، تربیتی، لڑاکا، تلاش و امداد، جاسوس، نگرانی اور مخبر پلیٹ فارموں میں بھی دوبارہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ عقل میں آنے والا کوئی ایک بھی ایسا پہلو نہیں ہے جس کے تحت فضائیہ اگلی دہائی،یا اس کے بعد بھی، یہ تمام طیارے خرید سکے۔ اسے کچھ نہ کچھ چھوڑنا پڑے گا۔

بجٹ کو دیکھا جائے توبڑے پیمانے پر نئے طیاروں کو خریدنے سے روکنے والا ایک بڑا منصوبہ وہ بھی ہے جس کے تحت اگلی تین دہائیوں میں امریکا پورے نیوکلیئر بیڑے کو جدید بنانا چاہتا ہے۔ ایک ٹریلین ڈالرز کے اس منصوبے میں صرف بمبار نہیں بلکہ بیلسٹک میزائل آبدوزویں، زمین سے داغے جانے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل اور نئے جوہری کروز میزائل شامل ہیں۔

ایئر فورس ایسوسی ایشن ہر اس چیز پر زیادہ سے زیادہ پیسہ لگانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے، جو اڑتی دکھائی دے

رپورٹ نے امریکا کی حفاظت پر کوئی سودے بازی کیے بغیر فضائیہ کے بجٹ پر دباؤ کم کرنے کا ایک دانشمندانہ طریقہ تجویز کیا ہے جس کے تحت امریکا کو 25 ارب ڈالرز کے نئے کروز میزائل منصوبے کو روک دینا چاہیے اور بمبار پروگرام کو بھی کچھ دھیما کرنا چاہیے۔ سابق وزیر دفاع ولیم پیری نے بھی نئے کروز میزائل بنانے کی مخالفت کی ہے۔

اس وقت امریکا کے پاس ہزاروں نیوکلیئر وارہیڈز ہیں، حالانکہ سینکڑوں سے بھی کام چل سکتا ہے کیونکہ وہ بھی دنیا کے کسی بھی ملک کو امریکا پر حملہ آور ہونے سے روکنے کے لیے کافی ہیں۔ آئندہ چند سالوں میں ایک مرتبہ اس حقیقت کا ادراک ہوجانے اور اسے پالیسی میں شامل کرنے کے بعد بالکل واضح ہو جائے گا کہ کسی بھی ٹریلین ڈالرز کے منصوبے کی کتنی ضرورت ہے۔

موجودہ بمبار طیارے آئندہ دہائیوں تک موثر انداز میں اور بحفاظت اپنے کام کر سکتے ہیں، تو روایتی کاموں کے لیے نیا بمبار خریدنے کی جلدی کیوں ہے؟

اب جبکہ بجٹ کا منظرنامہ اور امریکا کی ضروریات دونوں بمباروں کے حق میں نہیں ہیں تو یہ توقع مت رکھیے گا کہ فضائیات کے شعبے کے یہ ٹھیکیدار اور اے ایف اے میں ان کے حامی خاموش بیٹھے رہیں گے اور اپنے سامنے یہ سب کچھ ہوتا دیکھیں گے۔ نارتھروپ گرومن پہلے ہی نئے بمبار کے لیے ایک وسیع اشتہاری مہم کا آغاز کر چکا ہے، جسے بی -3 کہا جا رہا ہے۔ اب یہ ادارہ ہر سال زیادہ سے زیادہ سرمائے کے حصول کے لیے امریکی کانگریس کا رخ کرے گا۔
چند رکاوٹیں ایسی ضرورت ہے جو نارتھروپ گرومن کی مہم کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ایک اسے نہ صرف لاک ہیڈ مارٹن اوربوئنگ سے درپیش چیلنج کو روکنا ہوگا۔ اگر دونوں حریف نارتھروپ سے بمبار معاہدہ نہ چھین سکے تو وہ اپنے پروگراموں کے لیے حکومت پر دباؤ ضرور ڈالیں گے جیسا کہ ٹینکر اور ایف-35 منصوبے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ رقم لازمی بمبار میں سے کٹے گی۔ تو اب فوجی صنعتی کمپلیکس میں لابنگ کرنے والی طاقتوں ادارہ جاتی کشاکش دیکھیں گی اور پنٹاگون میں حد سے زیادہ اخراجات پر مسلسل تشویش بھی بمبار کے حامیوں کو چيلنج سے دوچار کرے گی۔

اگر حقیقی حفاظتی ضروریات اور بجٹ واجبات کو دیکھا جائے تو یہ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا فضائیہ 100 طیارے بھی خریدے گی۔ کانگریس اور انتظامیہ کے پاس موقع ہے کہ وہ درست ترین قدم اٹھائیں۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر