... loading ...

امریکی فضائیہ کے لیے 100 نئے بمبار جہاز بنانے کے لیے نارتھروپ گرومن کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی ابھی سیاہی خشک نہ ہوئی ہوگی کہ “شوقین” لابی جہازوں کی تعداد کو دوگنا کرنے پر زورلگاتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس ڈرامائی اضافے کی سفارش مچل انسٹیٹیوٹ آف ایرو اسپیس اسٹڈیز کی تحقیق میں سامنے آئی ہے جو ہر گز غیر جانب دار فریق نہیں ہے۔ اس کا الحاق ایئرفورس ایسوسی ایشن (اے ایف اے) سے ہے جو ہر اس چیز پر زیادہ سے زیادہ پیسہ لگانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے، جو اڑتی دکھائی دے۔
فضائیہ کے ریٹائرڈ اہلکاروں کو رکنیت دینے والی ایسوسی ایشن دراصل سابق فوجیوں کی انجمن سے کچھ بڑھ کر ہی ہے۔ اے ایف اے کا کام اپنے اراکین کی پیش کردہ سالانہ فیس کے علاوہ 600 سے زیادہ اداروں کی فراخدلانہ رکنیت فیس پر چلتا ہے۔ اس میں نارتھروپ گرومن، لاک ہیڈ مارٹن اور بوئنگ شامل ہیں۔ یعنی وہی ادارے جو نئے بمبار طیارے کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے مقابل تھے۔ اگر ہم اے ایف اے کی ویب سائٹ دیکھیں تو یہ گورنمنٹ ریلیشنز اسٹاف کے بارے میں بتاتی ہے جو اہم معاملات پر اپنے رکن اداروں کی حمایت و وکالت کرتی ہے جیسا کہ فضائیہ میں دوبارہ سرمایہ بندی اور جوہری مشن کو مضبوط تر بنانا۔ ایسوسی ایشن کا سالانہ اجلاس آدھی ملاقات اور آدھا اسلحہ میلہ ہوتا ہے جس میں فضائیات کے شعبے سے وابستہ ٹھیکیدار اپنی نمائشیں کرتے ہیں۔
بلاشبہ یہ تمام سرگرمیاں مکمل طور پر قانونی ہوتی ہیں۔ واشنگٹن میں کاروبار کرنے کے یہ عام حربے ہیں جہاں سیاسی و مالی فائدے کے لیے لابنگ کرنا ایک ابھرتی ہوئی صنعت ہے۔ لیکن قارئین- اورٹیکس دینے والوں-کو مچل انسٹیٹیوٹ کی بمبار کے حق میں آنے والی رپورٹوں کو مقاصد اور ان کارپوریٹ تعلقات کو سمجھنا چاہیے۔
بلاشبہ یہ فریق بیک وقت صحیح بھی ہو سکتے ہیں لیکن کم از کم نئے بمبار کے معاملے میں تویہ بات ٹھیک نہیں۔ یہ بیک وقت انتہائی غیر ضروری اور موجودہ حالات کے لحاظ سے بہت مہنگا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت تجویز کردہ 100 بمبار پر کم از کم ایک ارب ڈالرز فی عدد کے اخراجات آئیں گے اور اس پر افراط زر کا بھی اضافہ ہوگا۔ اور ہاں، اس میں پنٹاگون کے نام نہاد “بلیک بجٹ” سے ہونے والی خفیہ فنڈنگ تو شامل ہی نہیں اور نہ ہی اخراجات میں اضافے کا پتہ ہے جو فضائیہ کے ایسے تمام منصوبوں میں ہو جاتا ہے اور گزشتہ تین دہائیوں سے ہو رہا ہے۔
اس وقت نئے بمبار طیارے پر آنے والے بھاری اخراجات کو دیکھیں تو مجوزہ 100 کے بجائے 200 کی تیاری پر زور دینے کی کوئی تک ہی نہیں بنتی۔ خاص طور پر اگر فضائیہ کے ایجنڈے پر موجود دیگر منصوبو ں کو بھی دیکھا جائے۔ اگلی تین دہائیوں میں امریکی فضائیہ 2400 ایف-35 لڑاکا طیارے خریدنا چاہتی ہے، جو تاریخ کا سب سے مہنگا ہتھیار ہے۔

اپنے حالیہ پالیسی بیان میں اے ایف اے تجویز کرتا ہے کہ نئے بمبار اور لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ فضائیہ کو اپنے “تیل بردار، تربیتی، لڑاکا، تلاش و امداد، جاسوس، نگرانی اور مخبر پلیٹ فارموں میں بھی دوبارہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ عقل میں آنے والا کوئی ایک بھی ایسا پہلو نہیں ہے جس کے تحت فضائیہ اگلی دہائی،یا اس کے بعد بھی، یہ تمام طیارے خرید سکے۔ اسے کچھ نہ کچھ چھوڑنا پڑے گا۔
بجٹ کو دیکھا جائے توبڑے پیمانے پر نئے طیاروں کو خریدنے سے روکنے والا ایک بڑا منصوبہ وہ بھی ہے جس کے تحت اگلی تین دہائیوں میں امریکا پورے نیوکلیئر بیڑے کو جدید بنانا چاہتا ہے۔ ایک ٹریلین ڈالرز کے اس منصوبے میں صرف بمبار نہیں بلکہ بیلسٹک میزائل آبدوزویں، زمین سے داغے جانے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل اور نئے جوہری کروز میزائل شامل ہیں۔
رپورٹ نے امریکا کی حفاظت پر کوئی سودے بازی کیے بغیر فضائیہ کے بجٹ پر دباؤ کم کرنے کا ایک دانشمندانہ طریقہ تجویز کیا ہے جس کے تحت امریکا کو 25 ارب ڈالرز کے نئے کروز میزائل منصوبے کو روک دینا چاہیے اور بمبار پروگرام کو بھی کچھ دھیما کرنا چاہیے۔ سابق وزیر دفاع ولیم پیری نے بھی نئے کروز میزائل بنانے کی مخالفت کی ہے۔
اس وقت امریکا کے پاس ہزاروں نیوکلیئر وارہیڈز ہیں، حالانکہ سینکڑوں سے بھی کام چل سکتا ہے کیونکہ وہ بھی دنیا کے کسی بھی ملک کو امریکا پر حملہ آور ہونے سے روکنے کے لیے کافی ہیں۔ آئندہ چند سالوں میں ایک مرتبہ اس حقیقت کا ادراک ہوجانے اور اسے پالیسی میں شامل کرنے کے بعد بالکل واضح ہو جائے گا کہ کسی بھی ٹریلین ڈالرز کے منصوبے کی کتنی ضرورت ہے۔
موجودہ بمبار طیارے آئندہ دہائیوں تک موثر انداز میں اور بحفاظت اپنے کام کر سکتے ہیں، تو روایتی کاموں کے لیے نیا بمبار خریدنے کی جلدی کیوں ہے؟
اب جبکہ بجٹ کا منظرنامہ اور امریکا کی ضروریات دونوں بمباروں کے حق میں نہیں ہیں تو یہ توقع مت رکھیے گا کہ فضائیات کے شعبے کے یہ ٹھیکیدار اور اے ایف اے میں ان کے حامی خاموش بیٹھے رہیں گے اور اپنے سامنے یہ سب کچھ ہوتا دیکھیں گے۔ نارتھروپ گرومن پہلے ہی نئے بمبار کے لیے ایک وسیع اشتہاری مہم کا آغاز کر چکا ہے، جسے بی -3 کہا جا رہا ہے۔ اب یہ ادارہ ہر سال زیادہ سے زیادہ سرمائے کے حصول کے لیے امریکی کانگریس کا رخ کرے گا۔
چند رکاوٹیں ایسی ضرورت ہے جو نارتھروپ گرومن کی مہم کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ایک اسے نہ صرف لاک ہیڈ مارٹن اوربوئنگ سے درپیش چیلنج کو روکنا ہوگا۔ اگر دونوں حریف نارتھروپ سے بمبار معاہدہ نہ چھین سکے تو وہ اپنے پروگراموں کے لیے حکومت پر دباؤ ضرور ڈالیں گے جیسا کہ ٹینکر اور ایف-35 منصوبے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ رقم لازمی بمبار میں سے کٹے گی۔ تو اب فوجی صنعتی کمپلیکس میں لابنگ کرنے والی طاقتوں ادارہ جاتی کشاکش دیکھیں گی اور پنٹاگون میں حد سے زیادہ اخراجات پر مسلسل تشویش بھی بمبار کے حامیوں کو چيلنج سے دوچار کرے گی۔
اگر حقیقی حفاظتی ضروریات اور بجٹ واجبات کو دیکھا جائے تو یہ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا فضائیہ 100 طیارے بھی خریدے گی۔ کانگریس اور انتظامیہ کے پاس موقع ہے کہ وہ درست ترین قدم اٹھائیں۔
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...