وجود

... loading ...

وجود

بمباری کے حامی مزید بمبار طیاروں کے حق میں

بدھ 25 نومبر 2015 بمباری کے حامی مزید بمبار طیاروں  کے حق میں

B-2-Spirit

امریکی فضائیہ کے لیے 100 نئے بمبار جہاز بنانے کے لیے نارتھروپ گرومن کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی ابھی سیاہی خشک نہ ہوئی ہوگی کہ “شوقین” لابی جہازوں کی تعداد کو دوگنا کرنے پر زورلگاتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس ڈرامائی اضافے کی سفارش مچل انسٹیٹیوٹ آف ایرو اسپیس اسٹڈیز کی تحقیق میں سامنے آئی ہے جو ہر گز غیر جانب دار فریق نہیں ہے۔ اس کا الحاق ایئرفورس ایسوسی ایشن (اے ایف اے) سے ہے جو ہر اس چیز پر زیادہ سے زیادہ پیسہ لگانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے، جو اڑتی دکھائی دے۔

فضائیہ کے ریٹائرڈ اہلکاروں کو رکنیت دینے والی ایسوسی ایشن دراصل سابق فوجیوں کی انجمن سے کچھ بڑھ کر ہی ہے۔ اے ایف اے کا کام اپنے اراکین کی پیش کردہ سالانہ فیس کے علاوہ 600 سے زیادہ اداروں کی فراخدلانہ رکنیت فیس پر چلتا ہے۔ اس میں نارتھروپ گرومن، لاک ہیڈ مارٹن اور بوئنگ شامل ہیں۔ یعنی وہی ادارے جو نئے بمبار طیارے کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے مقابل تھے۔ اگر ہم اے ایف اے کی ویب سائٹ دیکھیں تو یہ گورنمنٹ ریلیشنز اسٹاف کے بارے میں بتاتی ہے جو اہم معاملات پر اپنے رکن اداروں کی حمایت و وکالت کرتی ہے جیسا کہ فضائیہ میں دوبارہ سرمایہ بندی اور جوہری مشن کو مضبوط تر بنانا۔ ایسوسی ایشن کا سالانہ اجلاس آدھی ملاقات اور آدھا اسلحہ میلہ ہوتا ہے جس میں فضائیات کے شعبے سے وابستہ ٹھیکیدار اپنی نمائشیں کرتے ہیں۔

بلاشبہ یہ تمام سرگرمیاں مکمل طور پر قانونی ہوتی ہیں۔ واشنگٹن میں کاروبار کرنے کے یہ عام حربے ہیں جہاں سیاسی و مالی فائدے کے لیے لابنگ کرنا ایک ابھرتی ہوئی صنعت ہے۔ لیکن قارئین- اورٹیکس دینے والوں-کو مچل انسٹیٹیوٹ کی بمبار کے حق میں آنے والی رپورٹوں کو مقاصد اور ان کارپوریٹ تعلقات کو سمجھنا چاہیے۔

نئے بمبار طیاروں کا منصوبہ بیک وقت انتہائی غیر ضروری اور موجودہ حالات کے لحاظ سے بہت مہنگا ہے

بلاشبہ یہ فریق بیک وقت صحیح بھی ہو سکتے ہیں لیکن کم از کم نئے بمبار کے معاملے میں تویہ بات ٹھیک نہیں۔ یہ بیک وقت انتہائی غیر ضروری اور موجودہ حالات کے لحاظ سے بہت مہنگا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت تجویز کردہ 100 بمبار پر کم از کم ایک ارب ڈالرز فی عدد کے اخراجات آئیں گے اور اس پر افراط زر کا بھی اضافہ ہوگا۔ اور ہاں، اس میں پنٹاگون کے نام نہاد “بلیک بجٹ” سے ہونے والی خفیہ فنڈنگ تو شامل ہی نہیں اور نہ ہی اخراجات میں اضافے کا پتہ ہے جو فضائیہ کے ایسے تمام منصوبوں میں ہو جاتا ہے اور گزشتہ تین دہائیوں سے ہو رہا ہے۔

اس وقت نئے بمبار طیارے پر آنے والے بھاری اخراجات کو دیکھیں تو مجوزہ 100 کے بجائے 200 کی تیاری پر زور دینے کی کوئی تک ہی نہیں بنتی۔ خاص طور پر اگر فضائیہ کے ایجنڈے پر موجود دیگر منصوبو ں کو بھی دیکھا جائے۔ اگلی تین دہائیوں میں امریکی فضائیہ 2400 ایف-35 لڑاکا طیارے خریدنا چاہتی ہے، جو تاریخ کا سب سے مہنگا ہتھیار ہے۔

B-52-B-2

اپنے حالیہ پالیسی بیان میں اے ایف اے تجویز کرتا ہے کہ نئے بمبار اور لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ فضائیہ کو اپنے “تیل بردار، تربیتی، لڑاکا، تلاش و امداد، جاسوس، نگرانی اور مخبر پلیٹ فارموں میں بھی دوبارہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ عقل میں آنے والا کوئی ایک بھی ایسا پہلو نہیں ہے جس کے تحت فضائیہ اگلی دہائی،یا اس کے بعد بھی، یہ تمام طیارے خرید سکے۔ اسے کچھ نہ کچھ چھوڑنا پڑے گا۔

بجٹ کو دیکھا جائے توبڑے پیمانے پر نئے طیاروں کو خریدنے سے روکنے والا ایک بڑا منصوبہ وہ بھی ہے جس کے تحت اگلی تین دہائیوں میں امریکا پورے نیوکلیئر بیڑے کو جدید بنانا چاہتا ہے۔ ایک ٹریلین ڈالرز کے اس منصوبے میں صرف بمبار نہیں بلکہ بیلسٹک میزائل آبدوزویں، زمین سے داغے جانے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل اور نئے جوہری کروز میزائل شامل ہیں۔

ایئر فورس ایسوسی ایشن ہر اس چیز پر زیادہ سے زیادہ پیسہ لگانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے، جو اڑتی دکھائی دے

رپورٹ نے امریکا کی حفاظت پر کوئی سودے بازی کیے بغیر فضائیہ کے بجٹ پر دباؤ کم کرنے کا ایک دانشمندانہ طریقہ تجویز کیا ہے جس کے تحت امریکا کو 25 ارب ڈالرز کے نئے کروز میزائل منصوبے کو روک دینا چاہیے اور بمبار پروگرام کو بھی کچھ دھیما کرنا چاہیے۔ سابق وزیر دفاع ولیم پیری نے بھی نئے کروز میزائل بنانے کی مخالفت کی ہے۔

اس وقت امریکا کے پاس ہزاروں نیوکلیئر وارہیڈز ہیں، حالانکہ سینکڑوں سے بھی کام چل سکتا ہے کیونکہ وہ بھی دنیا کے کسی بھی ملک کو امریکا پر حملہ آور ہونے سے روکنے کے لیے کافی ہیں۔ آئندہ چند سالوں میں ایک مرتبہ اس حقیقت کا ادراک ہوجانے اور اسے پالیسی میں شامل کرنے کے بعد بالکل واضح ہو جائے گا کہ کسی بھی ٹریلین ڈالرز کے منصوبے کی کتنی ضرورت ہے۔

موجودہ بمبار طیارے آئندہ دہائیوں تک موثر انداز میں اور بحفاظت اپنے کام کر سکتے ہیں، تو روایتی کاموں کے لیے نیا بمبار خریدنے کی جلدی کیوں ہے؟

اب جبکہ بجٹ کا منظرنامہ اور امریکا کی ضروریات دونوں بمباروں کے حق میں نہیں ہیں تو یہ توقع مت رکھیے گا کہ فضائیات کے شعبے کے یہ ٹھیکیدار اور اے ایف اے میں ان کے حامی خاموش بیٹھے رہیں گے اور اپنے سامنے یہ سب کچھ ہوتا دیکھیں گے۔ نارتھروپ گرومن پہلے ہی نئے بمبار کے لیے ایک وسیع اشتہاری مہم کا آغاز کر چکا ہے، جسے بی -3 کہا جا رہا ہے۔ اب یہ ادارہ ہر سال زیادہ سے زیادہ سرمائے کے حصول کے لیے امریکی کانگریس کا رخ کرے گا۔
چند رکاوٹیں ایسی ضرورت ہے جو نارتھروپ گرومن کی مہم کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ایک اسے نہ صرف لاک ہیڈ مارٹن اوربوئنگ سے درپیش چیلنج کو روکنا ہوگا۔ اگر دونوں حریف نارتھروپ سے بمبار معاہدہ نہ چھین سکے تو وہ اپنے پروگراموں کے لیے حکومت پر دباؤ ضرور ڈالیں گے جیسا کہ ٹینکر اور ایف-35 منصوبے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ رقم لازمی بمبار میں سے کٹے گی۔ تو اب فوجی صنعتی کمپلیکس میں لابنگ کرنے والی طاقتوں ادارہ جاتی کشاکش دیکھیں گی اور پنٹاگون میں حد سے زیادہ اخراجات پر مسلسل تشویش بھی بمبار کے حامیوں کو چيلنج سے دوچار کرے گی۔

اگر حقیقی حفاظتی ضروریات اور بجٹ واجبات کو دیکھا جائے تو یہ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا فضائیہ 100 طیارے بھی خریدے گی۔ کانگریس اور انتظامیہ کے پاس موقع ہے کہ وہ درست ترین قدم اٹھائیں۔


متعلقہ خبریں


عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک وجود - هفته 14 مارچ 2026

عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی ایران کے خلاف جاری فضائی بمباری کے دوران امریکی طیارہ مغربی عراق میں گرکر تباہ ہوگیا۔ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعوی کیا ہے کہ عراق کی م...

عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان وجود - هفته 14 مارچ 2026

بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد مل...

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی وجود - هفته 14 مارچ 2026

عمران خان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فوری طور پر کرایا جائے تحریک انصاف کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی،پریس کانفرنس سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ...

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ وجود - هفته 14 مارچ 2026

شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے،سندھ کی ترقی کے نقش قدم پر چلیں گے،نہال ہاشمی ایم کیو ایم والے ہمارے پاکستانی ہیں، ناراضگی چھوٹی چیز ہے ان کو منا لیں گے ، مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں...

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات وجود - جمعه 13 مارچ 2026

صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان وجود - جمعه 13 مارچ 2026

عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج وجود - جمعه 13 مارچ 2026

مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم وجود - جمعه 13 مارچ 2026

کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط وجود - جمعه 13 مارچ 2026

جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد وجود - جمعه 13 مارچ 2026

پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

مضامین
ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک وجود اتوار 15 مارچ 2026
ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک

مودی ، انتہا پسند حکمران وجود اتوار 15 مارچ 2026
مودی ، انتہا پسند حکمران

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی سیاست عالمی قومی تناظر میں وجود اتوار 15 مارچ 2026
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی سیاست عالمی قومی تناظر میں

اگلے ہدف کی بازگشت وجود اتوار 15 مارچ 2026
اگلے ہدف کی بازگشت

بھارتی معیشت زوال پزیر وجود هفته 14 مارچ 2026
بھارتی معیشت زوال پزیر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر