وجود

... loading ...

وجود

بمباری کے حامی مزید بمبار طیاروں کے حق میں

بدھ 25 نومبر 2015 بمباری کے حامی مزید بمبار طیاروں  کے حق میں

B-2-Spirit

امریکی فضائیہ کے لیے 100 نئے بمبار جہاز بنانے کے لیے نارتھروپ گرومن کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی ابھی سیاہی خشک نہ ہوئی ہوگی کہ “شوقین” لابی جہازوں کی تعداد کو دوگنا کرنے پر زورلگاتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس ڈرامائی اضافے کی سفارش مچل انسٹیٹیوٹ آف ایرو اسپیس اسٹڈیز کی تحقیق میں سامنے آئی ہے جو ہر گز غیر جانب دار فریق نہیں ہے۔ اس کا الحاق ایئرفورس ایسوسی ایشن (اے ایف اے) سے ہے جو ہر اس چیز پر زیادہ سے زیادہ پیسہ لگانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے، جو اڑتی دکھائی دے۔

فضائیہ کے ریٹائرڈ اہلکاروں کو رکنیت دینے والی ایسوسی ایشن دراصل سابق فوجیوں کی انجمن سے کچھ بڑھ کر ہی ہے۔ اے ایف اے کا کام اپنے اراکین کی پیش کردہ سالانہ فیس کے علاوہ 600 سے زیادہ اداروں کی فراخدلانہ رکنیت فیس پر چلتا ہے۔ اس میں نارتھروپ گرومن، لاک ہیڈ مارٹن اور بوئنگ شامل ہیں۔ یعنی وہی ادارے جو نئے بمبار طیارے کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے مقابل تھے۔ اگر ہم اے ایف اے کی ویب سائٹ دیکھیں تو یہ گورنمنٹ ریلیشنز اسٹاف کے بارے میں بتاتی ہے جو اہم معاملات پر اپنے رکن اداروں کی حمایت و وکالت کرتی ہے جیسا کہ فضائیہ میں دوبارہ سرمایہ بندی اور جوہری مشن کو مضبوط تر بنانا۔ ایسوسی ایشن کا سالانہ اجلاس آدھی ملاقات اور آدھا اسلحہ میلہ ہوتا ہے جس میں فضائیات کے شعبے سے وابستہ ٹھیکیدار اپنی نمائشیں کرتے ہیں۔

بلاشبہ یہ تمام سرگرمیاں مکمل طور پر قانونی ہوتی ہیں۔ واشنگٹن میں کاروبار کرنے کے یہ عام حربے ہیں جہاں سیاسی و مالی فائدے کے لیے لابنگ کرنا ایک ابھرتی ہوئی صنعت ہے۔ لیکن قارئین- اورٹیکس دینے والوں-کو مچل انسٹیٹیوٹ کی بمبار کے حق میں آنے والی رپورٹوں کو مقاصد اور ان کارپوریٹ تعلقات کو سمجھنا چاہیے۔

نئے بمبار طیاروں کا منصوبہ بیک وقت انتہائی غیر ضروری اور موجودہ حالات کے لحاظ سے بہت مہنگا ہے

بلاشبہ یہ فریق بیک وقت صحیح بھی ہو سکتے ہیں لیکن کم از کم نئے بمبار کے معاملے میں تویہ بات ٹھیک نہیں۔ یہ بیک وقت انتہائی غیر ضروری اور موجودہ حالات کے لحاظ سے بہت مہنگا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت تجویز کردہ 100 بمبار پر کم از کم ایک ارب ڈالرز فی عدد کے اخراجات آئیں گے اور اس پر افراط زر کا بھی اضافہ ہوگا۔ اور ہاں، اس میں پنٹاگون کے نام نہاد “بلیک بجٹ” سے ہونے والی خفیہ فنڈنگ تو شامل ہی نہیں اور نہ ہی اخراجات میں اضافے کا پتہ ہے جو فضائیہ کے ایسے تمام منصوبوں میں ہو جاتا ہے اور گزشتہ تین دہائیوں سے ہو رہا ہے۔

اس وقت نئے بمبار طیارے پر آنے والے بھاری اخراجات کو دیکھیں تو مجوزہ 100 کے بجائے 200 کی تیاری پر زور دینے کی کوئی تک ہی نہیں بنتی۔ خاص طور پر اگر فضائیہ کے ایجنڈے پر موجود دیگر منصوبو ں کو بھی دیکھا جائے۔ اگلی تین دہائیوں میں امریکی فضائیہ 2400 ایف-35 لڑاکا طیارے خریدنا چاہتی ہے، جو تاریخ کا سب سے مہنگا ہتھیار ہے۔

B-52-B-2

اپنے حالیہ پالیسی بیان میں اے ایف اے تجویز کرتا ہے کہ نئے بمبار اور لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ فضائیہ کو اپنے “تیل بردار، تربیتی، لڑاکا، تلاش و امداد، جاسوس، نگرانی اور مخبر پلیٹ فارموں میں بھی دوبارہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ عقل میں آنے والا کوئی ایک بھی ایسا پہلو نہیں ہے جس کے تحت فضائیہ اگلی دہائی،یا اس کے بعد بھی، یہ تمام طیارے خرید سکے۔ اسے کچھ نہ کچھ چھوڑنا پڑے گا۔

بجٹ کو دیکھا جائے توبڑے پیمانے پر نئے طیاروں کو خریدنے سے روکنے والا ایک بڑا منصوبہ وہ بھی ہے جس کے تحت اگلی تین دہائیوں میں امریکا پورے نیوکلیئر بیڑے کو جدید بنانا چاہتا ہے۔ ایک ٹریلین ڈالرز کے اس منصوبے میں صرف بمبار نہیں بلکہ بیلسٹک میزائل آبدوزویں، زمین سے داغے جانے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل اور نئے جوہری کروز میزائل شامل ہیں۔

ایئر فورس ایسوسی ایشن ہر اس چیز پر زیادہ سے زیادہ پیسہ لگانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے، جو اڑتی دکھائی دے

رپورٹ نے امریکا کی حفاظت پر کوئی سودے بازی کیے بغیر فضائیہ کے بجٹ پر دباؤ کم کرنے کا ایک دانشمندانہ طریقہ تجویز کیا ہے جس کے تحت امریکا کو 25 ارب ڈالرز کے نئے کروز میزائل منصوبے کو روک دینا چاہیے اور بمبار پروگرام کو بھی کچھ دھیما کرنا چاہیے۔ سابق وزیر دفاع ولیم پیری نے بھی نئے کروز میزائل بنانے کی مخالفت کی ہے۔

اس وقت امریکا کے پاس ہزاروں نیوکلیئر وارہیڈز ہیں، حالانکہ سینکڑوں سے بھی کام چل سکتا ہے کیونکہ وہ بھی دنیا کے کسی بھی ملک کو امریکا پر حملہ آور ہونے سے روکنے کے لیے کافی ہیں۔ آئندہ چند سالوں میں ایک مرتبہ اس حقیقت کا ادراک ہوجانے اور اسے پالیسی میں شامل کرنے کے بعد بالکل واضح ہو جائے گا کہ کسی بھی ٹریلین ڈالرز کے منصوبے کی کتنی ضرورت ہے۔

موجودہ بمبار طیارے آئندہ دہائیوں تک موثر انداز میں اور بحفاظت اپنے کام کر سکتے ہیں، تو روایتی کاموں کے لیے نیا بمبار خریدنے کی جلدی کیوں ہے؟

اب جبکہ بجٹ کا منظرنامہ اور امریکا کی ضروریات دونوں بمباروں کے حق میں نہیں ہیں تو یہ توقع مت رکھیے گا کہ فضائیات کے شعبے کے یہ ٹھیکیدار اور اے ایف اے میں ان کے حامی خاموش بیٹھے رہیں گے اور اپنے سامنے یہ سب کچھ ہوتا دیکھیں گے۔ نارتھروپ گرومن پہلے ہی نئے بمبار کے لیے ایک وسیع اشتہاری مہم کا آغاز کر چکا ہے، جسے بی -3 کہا جا رہا ہے۔ اب یہ ادارہ ہر سال زیادہ سے زیادہ سرمائے کے حصول کے لیے امریکی کانگریس کا رخ کرے گا۔
چند رکاوٹیں ایسی ضرورت ہے جو نارتھروپ گرومن کی مہم کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ایک اسے نہ صرف لاک ہیڈ مارٹن اوربوئنگ سے درپیش چیلنج کو روکنا ہوگا۔ اگر دونوں حریف نارتھروپ سے بمبار معاہدہ نہ چھین سکے تو وہ اپنے پروگراموں کے لیے حکومت پر دباؤ ضرور ڈالیں گے جیسا کہ ٹینکر اور ایف-35 منصوبے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ رقم لازمی بمبار میں سے کٹے گی۔ تو اب فوجی صنعتی کمپلیکس میں لابنگ کرنے والی طاقتوں ادارہ جاتی کشاکش دیکھیں گی اور پنٹاگون میں حد سے زیادہ اخراجات پر مسلسل تشویش بھی بمبار کے حامیوں کو چيلنج سے دوچار کرے گی۔

اگر حقیقی حفاظتی ضروریات اور بجٹ واجبات کو دیکھا جائے تو یہ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا فضائیہ 100 طیارے بھی خریدے گی۔ کانگریس اور انتظامیہ کے پاس موقع ہے کہ وہ درست ترین قدم اٹھائیں۔


متعلقہ خبریں


18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل وجود - جمعه 12 جون 2026

اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ وجود - جمعه 12 جون 2026

صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

مضامین
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج وجود هفته 13 جون 2026
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج

بصارت سے آگے کا سفر وجود جمعه 12 جون 2026
بصارت سے آگے کا سفر

امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات وجود جمعه 12 جون 2026
امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات

ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟ وجود جمعه 12 جون 2026
ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟

آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر