وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

طالبان کے روس کے ساتھ بات چیت کے خفیہ اشارے

پیر 23 نومبر 2015 طالبان کے روس کے ساتھ بات چیت کے خفیہ اشارے

mullah-umar

(گزشتہ دنوں العربیہ نیوز چینل کے نامہ نگار وں نے افغان دارالحکومت کابل کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایک ٹی وی کے پروگرام کے لیے کچھ اہم شخصیات کے انٹرویو کیے اور دو دستاویزی فلمیں بھی تیار کیں۔ انہوں نے اپنے دورہ کابل میں وہاں موجود طالبان قیادت سے ملاقات بھی کی۔ محمود الورواری نے دو سال قبل فوت ہونے والے طالبان لیڈر ملا محمد عمر کی زندگی کے بارے میں کئی ایسی باتیں بھی معلوم کی ہیں جو آج تک پردہ راز میں تھیں۔یہ ایک اہم ترین کاوش ہے جس میں افغانستان کے موجودہ حالات کی ایک جھلک بھی ہےاور ماضی میں طالبان تحریک کے کردار کی ایک تصویر بھی سامنےآتی ہے۔اس کے علاوہ ملاعمر کی زندگی کے بعض گوشے بھی اس سے واضح ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی بالواسطہ طور پر داعش کے پس پردہ امریکی کھیل کا ایک پہلو بھی منکشف ہوتا ہے۔اس تحریر میں روس کے علاقے میں بڑھتے ہوئے کر دار کی بھی ایک جھلک صاف نظر آتی ہے۔ اور عرب دنیا کا ان حالات کو دیکھنے کا تناظر بھی واضح ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ “وجود ڈاٹ کام” اس روداد کو جوں کا تُوں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہے۔ )


نامہ نگاروں کی ملاقات طالبان دور کے وزیرخارجہ اور ملا محمد عمر کے پرنسپل سیکرٹری مولوی احمد متوکل سے ہوئی۔ مولوی متوکل ایک سلجھی شخصیت ہیں اور نہایت محتاط انداز میں بات کرتے ہیں۔ انہوں نے ملاعمر کی زندگی کے بعض گم نام گوشوں سے بھی پردہ اٹھایا۔ طویل عرصے تک ملاعمر کی رفاقت کے باعث مولوی متوکل جانتے ہیں کہ ملاعمر اورالقاعدہ کے مقتول رہ نما اسامہ بن لادن کے درمیان کس نوعیت کے تعلقات قائم تھے۔

ملا عمرکی وفات کے دو سال گزرجانے کے باوجود ان کی موت کی خبر کو چھپائے رکھنے میں کیا راز تھا؟ اس سوال کے جواب میں مولوی متوکل نے کہا ہے کہ ہم جانتے تھے کہ ملاعمر مجاہد فوت ہو چکے ہیں۔ اگر ہم ان کی وفات کی خبر فورا مشتہر کر دیتے تو اس کے نتیجے میں طالبان کی صفوں میں پھوٹ پڑنے کا اندیشہ تھا۔ طالبان کو باہم متحد رکھنے کے لیے ملا عمر کی وفات کی خبر خفیہ رکھی گئی۔

اس انٹرویو کی ایک حیران کن بات یہ ہے کہ مولوی احمد متوکل نے ملا عمرمحمد عمر مرحوم کی جوانی کی ایک یاد گار تصویر بھی مہیا کی جو اُن کی مروجہ تصویر سے بالکل مختلف ہے۔

محمد الورواری نے جب مولوی متوکل سے ملاعمر کی گھنی داڑھی اور ایک آنکھ کے بغیر انٹرنیٹ پر مشہور ہونے والی تصویر کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ تصویر جعلی ہے۔ طالبان کی جانب سے اس تصویر پر اس لیے اعتراض نہیں کیا گیا کیونکہ اصل تصویر سامنے آنے سے سیکورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے تھے۔ امریکی انٹیلی جنس ادارے بھی ملا عمر کا تعاقب کر رہے تھے۔

العربیہ کے نامہ نگار نے مولوی متوکل کو ایک فوٹیج دکھائی جس میں ملاعمر کو کندھے پر “آرپی جی” راکٹ اٹھائے دکھایا گیا ہے۔ الورواری نے اس کی تصدیق چاہی تو متوکل مسکرائے مگراس کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

محمود الورواری کے کابل میں مشاہدات

العربیہ کے نامہ نگار نے کابل میں جس بھی اہم شخصیت یا دانشور سے ملاقات کی اس سے بات چیت میں دولت اسلامی کہلوانے والی تنظیم “داعش” کے حوالے سے سوال و جواب ضرور ہوئے۔ افغانستان میں “داعش” کے حوالے سے مختلف خیالات پائے جاتے ہیں۔ اسے روس پر رعب اور خوف طاری کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ “داعش” افغانستان کی شمالی سرحدودں سے گزر کر سوویت یونین کی سابقہ ریاستوں میں دراندازی اور انتشار پھیلانے کے لیے کوشاں ہے۔ داعش کا بڑھتا ہوا خوف محض خیال نہیں بلکہ حقیقت ہے۔

چند ماہ قبل داعش نے انٹرنیٹ پر روسی زبان میں ایک ویڈیو فوٹیج پوسٹ کی تھی جس میں ایک دس سالہ بچے کے ہاتھوں قازقستان کے دو شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارتے دکھایا گیا تھا۔ اس فوٹیج کا مقصد بھی روس کو یہ پیغام دینا تھا کہ داعش اس کے پہلو میں پہنچ چکی ہے۔ داعش کی جانب سے سابق سوویت یونین کی ریاستوں اور افغانستان سے متصل وسطی ایشیائی ملکوں میں سرگرم ہونا ماسکو کی شام میں مداخلت کا رد عمل بھی ہو سکتا ہے۔

ملا متوکل نے کہا کہ ملاعمر نے اسامہ کو امریکیوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چاہے ہم اسامہ کو ملک بدر کریں یا واشنگٹن کے حوالے کریں۔ امریکیوں نے افغانستان پر ہرصورت میں قبضے کا تہیہ کر رکھا ہے

اس ضمن میں ایک روسی عہدیدار زامیر کابولوف کا بیان اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ داعش شمالی افغانستان میں اپنی قوت مجتمع کر رہی ہے، جہاں وسطی ایشیائی ریاستوں کے جنگجو اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے شمال مشرقی افغانستان میں داعشی جنگجووؤں کی تعداد کا اندازہ پانچ ہزار بتایا۔ مسٹر کابلوف کی یہ بات توجہ کی حامل ہے کہ داعش جنگجو افغانستان میں امریکی اور دوسری غیرملکی فوج سے نہیں لڑتے اور نہ ہی انہیں کسی جگہ افغان فورسز سے برسرپیکار دیکھا گیا ہے۔

داعش افغانستان میں امریکی اور افغان فوج کے خلاف نہیں لڑ رہی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تنظیم اس علاقے میں صرف روس کے خلاف جنگ چھیڑنے کی خواہاں ہے۔ افغانستان میں روس کے خلاف وہی لوگ متحد ہو رہے ہیں جنہوں نے 1980ء کے عشرے میں افغانستان سے روسی فوج کو مار بھگایا تھا۔

روس اور طالبان

افغانستان میں داعش کے بڑھتے خطرات کے بعد یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ روسی حکومت اپنی سابقہ دشمن طالبان تحریک کے ساتھ داعش کے خلاف گٹھ جوڑ کرنا چاہتی ہے۔ داعش کی جانب سے افغانستان میں اپنے اثر و نفوذ کو بڑھانے کے باعث طالبان کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان بھی اپنی بقاء کے لیے مشوش دکھائی دیتے ہیں۔ داعش جس تیزی کے ساتھ عسکری سازوسامان اور مالی وسائل تک رسائی حاصل کر رہی ہے وہ طالبان کے لیے خطرے سے کم نہیں۔

امریکی ویب سائیٹ”ڈیلی بیسٹ” کے مطابق افغان تحریک طالبان نے سابق سوویت یونین کی بعض پڑوسی ریاستوں کے ساتھ بھی روابط بڑھانا شروع کیے ہیں۔ یہاں تک کہ 1989ء میں افغانستان سے نکالے جانے والے روس کے ساتھ بھی طالبان کی خفیہ بات چیت کےاشارے ملے ہیں۔

مولوی متوکل نے کہا کہ ہم اُسامہ کو کسی مسلمان ملک کے حوالے کرنا چاہتے تھے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا کہ اس پر کوئی مسلمان ملک راضی نہ ہوا

ماسکو اور طالبان کے درمیان روابط کے حوالے سے بے شمار سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں تاجکستان سے قریب افغان صوبہ قندوز پر طالبان جنگجووؤں کا قبضہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا اس قبضے میں طالبان کو کسی بیرونی طاقت کی مدد حاصل تھی یا نہیں؟

میڈیا رپورٹ کے مطابق رواں ماہ افغانستان کے نائب صدر اور تاجک رہ نما جنرل عبدالرشید دوستم نے ماسکو اور گروزنی کا دورہ کیا۔ اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے طالبان کے حوالے سے زیادہ سخت لہجہ اختیار نہیں کیا مگر داعش پر کڑی تنقید کی۔ گروزنی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جنرل دوستم نے کہا کہ دولت مشترکہ کے تمام ممالک “داعش” کی سرکوبی کے لیے ہمارے ساتھ مل کر لڑنے کو تیار ہیں۔

اسی دوران افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے کابل میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماسکو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کابل کے ساتھ تعاون کو تیار ہے۔ انہوں نے امریکی صدر باراک اوباما سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی فوجیں مزید دو سال تک افغانستان میں رہنے دیں۔ کیا افغان حکومت کی طرف سے امریکی فوجوں کے انخلاء کو روکنے کا مطالبہ صرف داعش کے خلاف جنگ ہے یا کابل کو ایک بار پھر روس کی مداخلت کا بھی اندیشہ ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اب بھی موجود ہے۔

داعش اور افغانستان

افغانستان میں العربیہ کے نامہ نگار سے ملاقات کرنے والے اہم عہدیداروں کو افغانستان میں “داعش” کی موجودگی کے سوال کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم سب کا ایک ہی جواب تھا کہ “داعش” کا خطرہ جتنا میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اتنا نہیں ہے۔ تاہم داعش کے وجود سے انکار بھی ممکن نہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب افغانستان میں نسبتا امن قائم ہے اقوام متحدہ کی ذیلی کمیٹی “القاعدہ ۔ طالبان” نے کہا ہے کہ دولت اسلامی “داعش” افغانستان میں تیزی کے ساتھ اپنا اثرو رسوخ قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ داعش افغانستان کے جنگجووؤں میں تیزی کے ساتھ مقبول بھی ہو رہی ہے۔یو این کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند تنظیم”داعش” کے افغانستان کے 25 صوبوں میں مسلح گروپوں کے ساتھ روابط ہیں۔

ایک افغان عہدیدار نے اسی حوالے سےبات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی صورت حال نہایت پیچیدہ ہے۔ افغان حکومت ہی نہیں بلکہ طالبان بھی داعش کو یہاں انڈے بچے دینے کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ داعش طالبان کو بھی اپنا دشمن سمجھتے ہوئے ان سے برسرجنگ ہے۔

اقوام متحدہ کی کمیٹی “القاعدہ ۔ طالبان” کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کی صفوں میں موجود 10 فی صد جنگجو داعش کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو طالبان کی صفوں میں یا تو نئے شامل ہوئے ہیں یا ان کے طالبان کی مرکزی قیادت کے ساتھ اختلافات ہیں۔ داعش کی حمایت کرنے والے طالبان جنگجو اپنی ایک الگ شناخت کے لیے کوشاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ طالبان کے روایتی انداز سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں۔

عبدالحکیم مجاہد

العربیہ کے نامہ نگار محمود الورواری نے اپنے دورہ افغانستان کے دوران دارالحکومت کابل میں تحریک طالبان کے بانی رہ نما اور معتدل شخصیت ملا عبدالحکیم مجاہد سے ملاقات کی۔ ملا عبدالحکیم 1990ء کے عشرے میں طالبان کی جانب سے اقوام متحدہ میں افغانستان کے مندوب مقرر کیے گئے تھے۔ چونکہ اقوام متحدہ نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا اس لیے انہیں نیویارک میں ‘یو این’ کے صدر دفتر میں جگہ نہیں مل سکی۔ انہوں نے امریکا ہی میں اپنا دفتر بنایا۔ 2001ء میں نائن الیون کے واقعے سے قبل ملا عبدالحکیم مجاہد طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے کوشاں رہے۔ نائن الیون کے واقعات کے بعد جب امریکا نے طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا تو اسامہ کی امریکیوں کے سپرد کرنے کا مطالبہ کرنے والوں میں عبدالحکیم مجاہد بھی پیش پیش تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری ملت کو قربان کرنے کے بجائے ایک شخص کی قربانی دینا زیادہ بہتر ہے۔

کابل میں ملاعبدالحکیم مجاہد کی رہائش گاہ سے متصل افغانستان کی امن کونسل کا صدر دفتر واقع ہے۔ یہ کونسل سابق افغان صدر حامد کرزئی نے 2010ء میں قائم کی تھی جس کا مقصد ملک کے ناراض گروپوں بالخصوص طالبان کے ساتھ مصالحتی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا۔ یہ کونسل اور اس کا دفتر آج بھی موجود ہیں مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکا۔

مولوی احمد متوکل کے مطابق ملا عمر کی وفات کے بعد طالبان تحریک کمزور ضرور ہوئی ہے مگر ثابت قدم ہے۔طالبان تحریک داعش کے خلاف جنگ میں کسی دوسرے ملک سے کسی قسم کا اتحاد نہیں کرے گی

ملا عبدالحکیم نے العربیہ کے نامہ نگار سے معتدل انداز میں بات کی۔ ان کی گفتگو سے افغانستان میں قیام امن کی خواہش نمایاں دکھائی دے رہی تھی۔ مہمان نواز عبدالحکیم مجاہد کی گھنی داڑھی میں سفیدی نہیں آئی اور نہ ہی ان کے چہرے پر بڑھاپے کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے العربیہ سے نہایت ہلکے پھلکے اور مزاحیہ پیرائے میں باتیں کرتے ہوئے کئی سنجیدہ سوالوں کے جوابات دیے۔اُنہوں نے کہا کہ جب امریکا نے طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا تو میں نے اس وقت کے طالبان وزیرخارجہ اور ملا عمر کے ترجمان ملا احمد متوکل سے درخواست کی کہ آپ اسامہ بن لادن کو امریکیوں کے حوالے کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ملاعمر سے مشورے کے بعد اس کا جواب دوں گا۔ چند روز بعد ملا متوکل نے کہا کہ ملاعمر نے اسامہ کو امریکیوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چاہے ہم اسامہ کو ملک بدر کریں یا واشنگٹن کے حوالے کریں۔ امریکیوں نے افغانستان پر ہرصورت میں قبضے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

ملا عبدالحکیم مجاہد عربی سمجھ لیتے ہیں مگر بول نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ میں واپس افغانستان آیا تو ملا احمد متوکل سے ملاقات کی۔ مزاح مزاح میں ان سے کہا کہ طالبان مجھے اغواء کرنا چاہتے تھے۔ میں خود ہی چل کر آپ کے پاس آ گیا ہوں۔

ملا حکیم میڈیا کے سامنے آنے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ زیادہ تر فارسی یا پشتو میں بات کرتے ہیں۔ انگریزی بولنے پر قدرت رکھتے ہیں مگر اس میں بات نہیں کرتے۔ محمود الورواری کو کہنے لگے”جو شخص میرے گھر میں داخل ہو گیا وہ محفوظ ہو گیا”۔

اسامہ بن لادن کی حوالگی اور ملا متوکل

العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے طالبان دور کے وزیرخارجہ ملا احمد متوکل نے بتایا کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کو 2001ء میں امریکا کے حوالے کیوں نہ کیا۔ محمود الورواری نے استفسار کیا کہ جب ملا عبدالحکیم مجاہد نے آپ سے اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کرنے کی گزارش کی تھی تو آپ نے انہیں ملا عمرسے مشورے کے بعد آگاہ کرنے کا کہا تھا۔ ملا عمرنے کیا مشورہ دیا تھا۔

ملا احمد متوکل نے بتایا کہ میں اس وقت وزیرخارجہ کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔ بن لادن کی امریکا حوالگی کا مطالبہ صرف ملا عبدالحکیم کی طرف سے نہیں بلکہ کئی عرب اور مسلمان ملکوں کی طرف سے بھی کیا جا رہا تھا۔ ہم اُسامہ کو کسی مسلمان ملک کے حوالے کرنا چاہتے تھے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا کہ اس پر کوئی مسلمان ملک راضی نہ ہوا۔ ہم مسلمان ہیں اور افغانستان میں اسلامی حکومت قائم تھی۔ اس لیے ہم بن لادن کو کسی غیرمسلم ملک کے بجائے مسلمان ریاست کے حوالے کرنا چاہتے تھے۔اس حوالے سے ابھی ہم کوئی فیصلہ کر ہی نہیں پائے تھے کہ امریکیوں نے افغانستان پر جنگ مسلط کر دی۔ ملا عمر حقیقی معنوں میں بن لادن کا معاملہ حل کرنا چاہتے تھے مگر ہمیں اس کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔

انٹرویو کے دوران ملا متوکل سے پوچھا گیا کہ کیا واقعی ملا عمر دو سال قبل انتقال کر گئے تھے تو انہوں نے ہاں میں سرہلایا اور کہا کہ اس کی خبر اس لیے پوشیدہ رکھی گئی تاکہ طالبان کی صفوں کو متحد رکھا جا سکے۔ ملا عمرکی وفات کی خبر تحریک طالبان میں ایک زلزلہ بپا کر سکتی تھی اور اس کے نتیجے میں تحریک کی ٹوٹ پھوٹ کے خدشات تھے۔ یہ خبر اسامہ بن لادن کے قتل سے بھی زیادہ بھاری ثابت ہونا تھی۔ اس لیے اسے چھپا کر رکھا گیا۔

ملا عمر کی تصویر

العربیہ کے نامہ نگار”محمود الورواری” نے ملا احمد متوکل سے ملا عمر مرحوم کی تصویر کی شناخت کے بارے میں پوچھا اور ساتھ ہی ان سے ملا عمر کی کوئی صاف اور واضح تصویر دینے کی بھی درخواست کی۔

پہلے تو انہوں نے بات نہیں مانی، تاہم بعد ازاں میرے اور ملا متوکل کے ایک مشترکہ دوست کی مدد سے موبائل کے ذریعے ملاعمر کی ایک تصویر ارسال کی۔ یہ تصویر حیران کن ہے۔ ہم سب کے ذہنوں میں ملاعمر کی ایک آنکھ والی تصویر تھی مگر ملا متوکل کی جانب سے دی گئی تصویراس سے بالکل مختلف نکلی۔ ملاعمر کی نیلی آنکھیں ہالی وڈ کے کسی فلمی ہیرو کی طرح خوبصورت ہیں۔

طالبان داعش سے طاقتور

ملاعمر کے دست راست مولوی احمد متوکل سے افغانستان میں سرگرم دولت اسلامی “داعش” کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ “داعش” کا طالبان سے کوئی تقابل نہیں کیا جا سکتا۔ طالبان داعش سے زیادہ طاقتور ہیں۔ داعش جس تیزی کے ساتھ اٹھی ہے اسی سرعت کے ساتھ زوال کا شکار ہو گی جب کہ طالبان افغان عوام میں اپنی گہری اور مضبوط جڑیں رکھتے ہیں۔داعش مخالف جنگ میں طالبان اور روس کے درمیان اتحاد کو خارج ازامکان قرار دیتے ہوئے ملا متوکل نے کہا کہ ملا عمر کی وفات کے بعد طالبان تحریک کمزور ضرور ہوئی ہے مگر ثابت قدم ہے۔ داعش کے خلاف جنگ میں کسی دوسرے ملک سے کسی قسم کا اتحاد نہیں کرے گی۔

تحریک طالبان کی شروعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ملا احمد متوکل ماضی میں چلے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ طالبان دراصل دینی مدارس کے طلباء کی ایک تحریک تھی جس کا آغاز جنوب مغربی افغانستان کے صوبہ ننگر ہار سے ہوا۔ پاکستان کی سرحد سے متصل صوبے میں یہ تحریک 1994ء میں ملا عمر نے قائم کی۔ ابتدامیں اس تحریک کا مقصد ملک میں غیراخلاقی مظاہر اور لوٹ مار کا خاتمہ تھا۔ بعد ازاں ملک میں قیام امن کے لیے مساعی بھی تحریک کا حصہ بن گئیں۔ دینی مدارس کے طلباء نے تحریک کو مضبوط کیا۔اور 1994ء اور 1996ء کے عرصے میں طالبان نے افغانستان کے وسیع وعریض علاقے پر اپنا سکہ جما لیا تھا۔

2001ء میں جب امریکی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں تو طالبان دور کے وزیرخارجہ ملا متوکل نے خود کو امریکی حکام کے حوالے کر دیا۔ امریکا نے انہیں دو سال تک بگرام جیل میں قید رکھا۔ سنہ 2004ء میں رہائی کے بعد وہ حامد کرزئی کے قریب رہے۔ اب بھی افغانستان میں انہیں سیاسی حلقوں میں نہایت ادب واحترام سے دیکھا جاتا ہے۔ اگرچہ ان کے پاس تحریک طالبان کا کوئی عہدہ نہیں مگر ان کے دل میں طالبان کے لیے محبت اب بھی موجود ہے۔

(ابل ۔ محمود الورواری)

بشکریہ العربیہ نیوز


متعلقہ خبریں


بھارت میں ریاستی مشینری کورونا وباسے بڑا خطرہ بن چکی ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ وجود - پیر 30 مارچ 2020

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے بھارت پر کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن کے دوران ضبط و تحمل سے کام لینے پر زوردیتے ہوئے کہاہے کہ ریاستی مشینری کورونا وائر کی وباسے کہیں بڑا خطرہ بن چکی ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اویناش کمار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سے لاکھوں افراد پھنسے ہوئے ہیں جو خوراک اور پانی کی تلاش میں جدوجہد کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے ان افراد کیلئے ریاستی م...

بھارت میں ریاستی مشینری کورونا وباسے بڑا خطرہ بن چکی ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ

کرونا وائرس کی ماسکو پر یلغار، دارالحکومت سے لوگوں کی نقل مکانی وجود - پیر 30 مارچ 2020

روس کے دارالحکومت ماسکو میں کرونا وائرس نے ایک نیا حملہ کیا ہے جس کے بعد حکومت کی طرف سے گھروں میں رہنے کے احکامات کے برخلاف لوگوں کی بڑی تعداد کو وہاں سے نکلتے دیکھا گیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق دارالحکومت ماسکو کے میئر سیرگی سوبیانین نے ایک بیان میں خبردار کیا کہ کرونا کی وبا ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے ۔ دارالحکومت میں کرونا کے متاثرین کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی ہے ۔ حکومت کی طرف سے شہریوں سے گھروں کے اندر رہنے کو کہا گیا مگر اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ پارکوں...

کرونا وائرس کی ماسکو پر یلغار، دارالحکومت سے لوگوں کی نقل مکانی

کورونا وائرس ،دنیا کے مختلف ممالک میں شیڈول عالمی نمائشیں بھی ملتوی وجود - پیر 30 مارچ 2020

کورونا وائرس کے پھیلائو کی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں شیڈول عالمی نمائشیں بھی ملتوی کردی گئیں ، خریداروں اور مندوبین کی جانب سے اپریل کے بعد منعقدہ نمائشوں میں بھی شرکت کے حوالے سے دلچسپی کا اظہارنہیں کیا جارہا۔ تفصیلات کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں ہر ماہ مختلف مصنوعات کی عالمی نمائشوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں دنیا بھر سے خریدار اور مندوبین شریک ہوتے ہیں ۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق تیاری کے باوجود فروری ،مارچ او راپریل میں شیڈول متعدد عالمی نمائشیں منسوخ کر د...

کورونا وائرس ،دنیا کے مختلف ممالک میں شیڈول عالمی نمائشیں بھی ملتوی

امریکا میں دولاکھ تک ہلاکتوں کا خدشہ ہے ،رکن کرونا وائرس ٹاسک فورس وجود - پیر 30 مارچ 2020

امریکا کی کورونا وائرس ٹاسک فورس کے ایک اہم رکن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک میں کئی ملین لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کی کورونا ٹاسک فورس کے اہم رکن اور متعدی امراض کے ماہر اننتھونی فاؤچی نے خدشہ ظاہر کیا کہ ملک میں کئی ملین افراد کووِڈ انیس میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ گفتگو کرتے ہوئے فاؤچی نے کہا امریکا 100,000 سے 200,000 ہلاکتوں کی توقع رکھے ۔ امریکا میں اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے کیس سامنے آ چکے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت...

امریکا میں دولاکھ تک ہلاکتوں کا خدشہ ہے ،رکن کرونا وائرس ٹاسک فورس

طالبان نے افغان حکومت کا تجویز کردہ مذاکراتی وفد مسترد کر دیا وجود - اتوار 29 مارچ 2020

طالبان نے افغان حکومت سے مذاکرات کے لیے 21 رکنی وفد کو امن معاہدے سے متضاد قرار دے کر مسترد کر دیا۔افغان حکومت نے طالبان سے بات چیت کے لیے اکیس رکنی وفد کا اعلان کیا تھا جس پر طالبان کے ترجمان نے بیان جاری کیا کہ افغان حکومتی وفد میں تمام فریقوں کی نمائندگی نہیں ہے اس لیے مخصوص گروہ کی نمائندگی کرنے والے سے مذاکرات طالبان امریکہ امن ڈیل کی خلاف ورزی ہے ۔واضح رہے کہ امریکہ اور طالبان کے مابین گذشتہ ماہ امن معاہدہ ہوا تھا جو طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے ایک دوسرے پر حملوں ...

طالبان نے افغان حکومت کا تجویز کردہ مذاکراتی وفد مسترد کر دیا

ایرانی انٹیلی جنس اہلکار ترکی میں ہم وطن اپوزیشن رہ نما کے قتل میں ملوث وجود - اتوار 29 مارچ 2020

ترکی کے دوسینئرعہدیداروں نے بتایا ہے کہ گزشتہ برس نومبر میں استنبول میں قائم ایرانی قونصل خانے میں موجود انٹیلی جنس اہلکاروں نے ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت پر نکتہ چینی کرنے والے ایک نوجوان رہ نما کے قتل کی ترغیب دی تھی۔خیال رہے کہ ایرانی اپوزیشن رہ نما مسعود مولوی وردنجانی کو 14 نومبر 2019 کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔ مسعود اپنے قتل سے ایک سال قبل ایران چھوڑ کر ترکی آگئے تھے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترک عہدیداروں نے کہاکہ پولیس کی طرف سے ورد نجانی کے قتل ...

ایرانی انٹیلی جنس اہلکار ترکی میں ہم وطن اپوزیشن رہ نما کے قتل میں ملوث

مصری حکومت نے ساحلی مقامات بند کردیے وجود - اتوار 29 مارچ 2020

مصری حکام نے کورونا وائرس کے پھیلائوسے بچائوکے لیے ساحلوں کو سیل کرکے وہاں تفریح کیلئے آنے والوں کو روکنے کے احکامات جاری کر دیئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے مقرر کی جانے والی کورونا سے بچائو کی کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ عوامی مقامات پر آنے والوں پر پابندی عائد کی جائے تاکہ کورونا سے زیادہ سے زیادہ حد تک بچاجاسکے ۔کمیٹی کی سفارش پر مصری حکام نے ساحلوں کو بند کرکے وہاں تفریح کے لیے آنے والوں پر پابندی عائد کردی ۔

مصری حکومت نے ساحلی مقامات بند کردیے

کورونا وائرس، اسپین کو پیرسے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 29 مارچ 2020

کورونا وائرس کے پھیلا کو روکنے کے لیے اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچز نے (آج)پیر سے پورا ملک بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔غیر ملکی خبر رساں ا دارے کے مطابق بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے کیسز کے بعد اسپین کے وزیر اعطم پیدرو سانچز نے پیر سے پورا ملک مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اشیائے ضروریہ کے علاوہ ہر قسم کی خرید و فروخت بند رہے گی اور کسی بھی شخص کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہو گی۔اسپین کے وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس...

کورونا وائرس، اسپین کو پیرسے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

امریکا کی مختلف ریاستوں میں شدید طوفان کی وارننگ جاری وجود - اتوار 29 مارچ 2020

امریکی محکمہ موسمیات نے متعدد ریاستوں میں شدید طوفان کی وارننگ جاری کردی ۔محکمہ موسمیات کے مطابق کچھ علاقے اب بھی شدید موسمی مشکلات جھیل رہے ہیں۔ دوسری جانب جونز بورو میں ہوا کے بگولے سے متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا، جب کہ اس دوران مختلف حادثات میں 6 افراد زخمی بھی ہوئے ۔عینی شاہدین کے مطابق ہوا کے بگولے اتنی شدید نوعیت کے تھے کہ اس سے شاپنگ مال بھی تباہ ہوگیا۔ لوگوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر بگولے کے بعد تباہی کے مناظر کی ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں۔امریکی میٹ آفس ک...

امریکا کی مختلف ریاستوں میں شدید طوفان کی وارننگ جاری

امریکا، بیروزگاری الائونس کی درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ وجود - هفته 28 مارچ 2020

کورونا وائرس کے امریکی معیشت پر اثرات واضح ہونے شروع ہوگئے ، بیروزگاری الا ئونس کی درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 32 لاکھ سے زیادہ ورکرز نے بے روزگاری مراعات کے لیے درخواستیں دیں جس کی وجہ سے امریکا میں ایک دہائی سے جاری روزگار کی منڈی میں ریکارڈ نمو یکدم رک گئی ۔ بڑے امریکی شہروں میں بے روزگاری بہبود کا نظام شدید دبائو کا شکار ہو گیا ہے ، امریکا میں بیروزگاری الائونس کی حالیہ درخواستوں کی تعداد ماضی کے ریکارڈ سے 5 گنا زیاد...

امریکا، بیروزگاری الائونس کی درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ

کورونا سے بچا وکیلیے جراثیم کش اسپرے کرنے والے روبوٹس تیار وجود - هفته 28 مارچ 2020

چین نے کورونا وائرس بچا کے لیے اسپتالوں میں جراثیم کش اسپرے کرنے کے لیے روبوٹس تیار کرلیے ۔جراثیم کش روبوٹس کو شنگھائی میں چین سے منسلک کینون روبوٹک کمپنی نے تیار کیا ہے جو خودکار طریقے سے اسپتالوں میں وائرس کے بچا کے لیے جراثیم کش اسپرے کرے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی کا کہنا تھا کہ جیسے ہی اس وبا نے پھیلنا شروع کیا تو متعدد افراد کی جانب سے ادویات، کھانے اور دستاویز کی ترسیل کے لیے ڈیلورنگ روبورٹس تیار کرنے کی درخواست موصول ہورہی تھی، ایسے میں سب سے زیادہ ضرورت جراثیم کش...

کورونا سے بچا وکیلیے جراثیم کش اسپرے کرنے والے روبوٹس تیار

عامرخان نے شادی ہال کورونا سے جنگ میں استعمال کرنے کیلیے پیش کر دیا وجود - هفته 28 مارچ 2020

پاکستان نڑاد برطانوی باکسر عامر خان نے بولٹن میں موجود اپنا شادی ہال کورونا وائرس سے جنگ میں استعمال کرنے کیلیے پیش کردیا۔33 سالہ سابق ورلڈ لائٹ ویلٹر ویٹ چیمپئن نے ٹویٹر اکاونٹ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ میں اس بات سے اچھی طرح واقف ہوں کہ عام لوگوں کیلیے اس وقت اسپتال میں بیڈ حاصل کرنا کتنا مشکل ہے ، اسی لیے میں اپنی 60 ہزار اسکوائر فٹ پر قائم 4 منزلہ بلڈنگ نیشنل ہیلتھ سروس کو دینے کو تیار ہوں تاکہ وہ کورونا وائرس کے متاثرین کی مدد کرسکیں۔عامر خان نے واضح کیا کہ ان کی یہ عمارت ...

عامرخان نے شادی ہال کورونا سے جنگ میں استعمال کرنے کیلیے پیش کر دیا