وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

طالبان کے روس کے ساتھ بات چیت کے خفیہ اشارے

پیر 23 نومبر 2015 طالبان کے روس کے ساتھ بات چیت کے خفیہ اشارے

mullah-umar

(گزشتہ دنوں العربیہ نیوز چینل کے نامہ نگار وں نے افغان دارالحکومت کابل کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایک ٹی وی کے پروگرام کے لیے کچھ اہم شخصیات کے انٹرویو کیے اور دو دستاویزی فلمیں بھی تیار کیں۔ انہوں نے اپنے دورہ کابل میں وہاں موجود طالبان قیادت سے ملاقات بھی کی۔ محمود الورواری نے دو سال قبل فوت ہونے والے طالبان لیڈر ملا محمد عمر کی زندگی کے بارے میں کئی ایسی باتیں بھی معلوم کی ہیں جو آج تک پردہ راز میں تھیں۔یہ ایک اہم ترین کاوش ہے جس میں افغانستان کے موجودہ حالات کی ایک جھلک بھی ہےاور ماضی میں طالبان تحریک کے کردار کی ایک تصویر بھی سامنےآتی ہے۔اس کے علاوہ ملاعمر کی زندگی کے بعض گوشے بھی اس سے واضح ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی بالواسطہ طور پر داعش کے پس پردہ امریکی کھیل کا ایک پہلو بھی منکشف ہوتا ہے۔اس تحریر میں روس کے علاقے میں بڑھتے ہوئے کر دار کی بھی ایک جھلک صاف نظر آتی ہے۔ اور عرب دنیا کا ان حالات کو دیکھنے کا تناظر بھی واضح ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ “وجود ڈاٹ کام” اس روداد کو جوں کا تُوں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہے۔ )


نامہ نگاروں کی ملاقات طالبان دور کے وزیرخارجہ اور ملا محمد عمر کے پرنسپل سیکرٹری مولوی احمد متوکل سے ہوئی۔ مولوی متوکل ایک سلجھی شخصیت ہیں اور نہایت محتاط انداز میں بات کرتے ہیں۔ انہوں نے ملاعمر کی زندگی کے بعض گم نام گوشوں سے بھی پردہ اٹھایا۔ طویل عرصے تک ملاعمر کی رفاقت کے باعث مولوی متوکل جانتے ہیں کہ ملاعمر اورالقاعدہ کے مقتول رہ نما اسامہ بن لادن کے درمیان کس نوعیت کے تعلقات قائم تھے۔

ملا عمرکی وفات کے دو سال گزرجانے کے باوجود ان کی موت کی خبر کو چھپائے رکھنے میں کیا راز تھا؟ اس سوال کے جواب میں مولوی متوکل نے کہا ہے کہ ہم جانتے تھے کہ ملاعمر مجاہد فوت ہو چکے ہیں۔ اگر ہم ان کی وفات کی خبر فورا مشتہر کر دیتے تو اس کے نتیجے میں طالبان کی صفوں میں پھوٹ پڑنے کا اندیشہ تھا۔ طالبان کو باہم متحد رکھنے کے لیے ملا عمر کی وفات کی خبر خفیہ رکھی گئی۔

اس انٹرویو کی ایک حیران کن بات یہ ہے کہ مولوی احمد متوکل نے ملا عمرمحمد عمر مرحوم کی جوانی کی ایک یاد گار تصویر بھی مہیا کی جو اُن کی مروجہ تصویر سے بالکل مختلف ہے۔

محمد الورواری نے جب مولوی متوکل سے ملاعمر کی گھنی داڑھی اور ایک آنکھ کے بغیر انٹرنیٹ پر مشہور ہونے والی تصویر کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ تصویر جعلی ہے۔ طالبان کی جانب سے اس تصویر پر اس لیے اعتراض نہیں کیا گیا کیونکہ اصل تصویر سامنے آنے سے سیکورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے تھے۔ امریکی انٹیلی جنس ادارے بھی ملا عمر کا تعاقب کر رہے تھے۔

العربیہ کے نامہ نگار نے مولوی متوکل کو ایک فوٹیج دکھائی جس میں ملاعمر کو کندھے پر “آرپی جی” راکٹ اٹھائے دکھایا گیا ہے۔ الورواری نے اس کی تصدیق چاہی تو متوکل مسکرائے مگراس کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

محمود الورواری کے کابل میں مشاہدات

العربیہ کے نامہ نگار نے کابل میں جس بھی اہم شخصیت یا دانشور سے ملاقات کی اس سے بات چیت میں دولت اسلامی کہلوانے والی تنظیم “داعش” کے حوالے سے سوال و جواب ضرور ہوئے۔ افغانستان میں “داعش” کے حوالے سے مختلف خیالات پائے جاتے ہیں۔ اسے روس پر رعب اور خوف طاری کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ “داعش” افغانستان کی شمالی سرحدودں سے گزر کر سوویت یونین کی سابقہ ریاستوں میں دراندازی اور انتشار پھیلانے کے لیے کوشاں ہے۔ داعش کا بڑھتا ہوا خوف محض خیال نہیں بلکہ حقیقت ہے۔

چند ماہ قبل داعش نے انٹرنیٹ پر روسی زبان میں ایک ویڈیو فوٹیج پوسٹ کی تھی جس میں ایک دس سالہ بچے کے ہاتھوں قازقستان کے دو شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارتے دکھایا گیا تھا۔ اس فوٹیج کا مقصد بھی روس کو یہ پیغام دینا تھا کہ داعش اس کے پہلو میں پہنچ چکی ہے۔ داعش کی جانب سے سابق سوویت یونین کی ریاستوں اور افغانستان سے متصل وسطی ایشیائی ملکوں میں سرگرم ہونا ماسکو کی شام میں مداخلت کا رد عمل بھی ہو سکتا ہے۔

ملا متوکل نے کہا کہ ملاعمر نے اسامہ کو امریکیوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چاہے ہم اسامہ کو ملک بدر کریں یا واشنگٹن کے حوالے کریں۔ امریکیوں نے افغانستان پر ہرصورت میں قبضے کا تہیہ کر رکھا ہے

اس ضمن میں ایک روسی عہدیدار زامیر کابولوف کا بیان اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ داعش شمالی افغانستان میں اپنی قوت مجتمع کر رہی ہے، جہاں وسطی ایشیائی ریاستوں کے جنگجو اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے شمال مشرقی افغانستان میں داعشی جنگجووؤں کی تعداد کا اندازہ پانچ ہزار بتایا۔ مسٹر کابلوف کی یہ بات توجہ کی حامل ہے کہ داعش جنگجو افغانستان میں امریکی اور دوسری غیرملکی فوج سے نہیں لڑتے اور نہ ہی انہیں کسی جگہ افغان فورسز سے برسرپیکار دیکھا گیا ہے۔

داعش افغانستان میں امریکی اور افغان فوج کے خلاف نہیں لڑ رہی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تنظیم اس علاقے میں صرف روس کے خلاف جنگ چھیڑنے کی خواہاں ہے۔ افغانستان میں روس کے خلاف وہی لوگ متحد ہو رہے ہیں جنہوں نے 1980ء کے عشرے میں افغانستان سے روسی فوج کو مار بھگایا تھا۔

روس اور طالبان

افغانستان میں داعش کے بڑھتے خطرات کے بعد یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ روسی حکومت اپنی سابقہ دشمن طالبان تحریک کے ساتھ داعش کے خلاف گٹھ جوڑ کرنا چاہتی ہے۔ داعش کی جانب سے افغانستان میں اپنے اثر و نفوذ کو بڑھانے کے باعث طالبان کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان بھی اپنی بقاء کے لیے مشوش دکھائی دیتے ہیں۔ داعش جس تیزی کے ساتھ عسکری سازوسامان اور مالی وسائل تک رسائی حاصل کر رہی ہے وہ طالبان کے لیے خطرے سے کم نہیں۔

امریکی ویب سائیٹ”ڈیلی بیسٹ” کے مطابق افغان تحریک طالبان نے سابق سوویت یونین کی بعض پڑوسی ریاستوں کے ساتھ بھی روابط بڑھانا شروع کیے ہیں۔ یہاں تک کہ 1989ء میں افغانستان سے نکالے جانے والے روس کے ساتھ بھی طالبان کی خفیہ بات چیت کےاشارے ملے ہیں۔

مولوی متوکل نے کہا کہ ہم اُسامہ کو کسی مسلمان ملک کے حوالے کرنا چاہتے تھے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا کہ اس پر کوئی مسلمان ملک راضی نہ ہوا

ماسکو اور طالبان کے درمیان روابط کے حوالے سے بے شمار سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں تاجکستان سے قریب افغان صوبہ قندوز پر طالبان جنگجووؤں کا قبضہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا اس قبضے میں طالبان کو کسی بیرونی طاقت کی مدد حاصل تھی یا نہیں؟

میڈیا رپورٹ کے مطابق رواں ماہ افغانستان کے نائب صدر اور تاجک رہ نما جنرل عبدالرشید دوستم نے ماسکو اور گروزنی کا دورہ کیا۔ اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے طالبان کے حوالے سے زیادہ سخت لہجہ اختیار نہیں کیا مگر داعش پر کڑی تنقید کی۔ گروزنی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جنرل دوستم نے کہا کہ دولت مشترکہ کے تمام ممالک “داعش” کی سرکوبی کے لیے ہمارے ساتھ مل کر لڑنے کو تیار ہیں۔

اسی دوران افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے کابل میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماسکو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کابل کے ساتھ تعاون کو تیار ہے۔ انہوں نے امریکی صدر باراک اوباما سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی فوجیں مزید دو سال تک افغانستان میں رہنے دیں۔ کیا افغان حکومت کی طرف سے امریکی فوجوں کے انخلاء کو روکنے کا مطالبہ صرف داعش کے خلاف جنگ ہے یا کابل کو ایک بار پھر روس کی مداخلت کا بھی اندیشہ ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اب بھی موجود ہے۔

داعش اور افغانستان

افغانستان میں العربیہ کے نامہ نگار سے ملاقات کرنے والے اہم عہدیداروں کو افغانستان میں “داعش” کی موجودگی کے سوال کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم سب کا ایک ہی جواب تھا کہ “داعش” کا خطرہ جتنا میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اتنا نہیں ہے۔ تاہم داعش کے وجود سے انکار بھی ممکن نہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب افغانستان میں نسبتا امن قائم ہے اقوام متحدہ کی ذیلی کمیٹی “القاعدہ ۔ طالبان” نے کہا ہے کہ دولت اسلامی “داعش” افغانستان میں تیزی کے ساتھ اپنا اثرو رسوخ قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ داعش افغانستان کے جنگجووؤں میں تیزی کے ساتھ مقبول بھی ہو رہی ہے۔یو این کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند تنظیم”داعش” کے افغانستان کے 25 صوبوں میں مسلح گروپوں کے ساتھ روابط ہیں۔

ایک افغان عہدیدار نے اسی حوالے سےبات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی صورت حال نہایت پیچیدہ ہے۔ افغان حکومت ہی نہیں بلکہ طالبان بھی داعش کو یہاں انڈے بچے دینے کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ داعش طالبان کو بھی اپنا دشمن سمجھتے ہوئے ان سے برسرجنگ ہے۔

اقوام متحدہ کی کمیٹی “القاعدہ ۔ طالبان” کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کی صفوں میں موجود 10 فی صد جنگجو داعش کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو طالبان کی صفوں میں یا تو نئے شامل ہوئے ہیں یا ان کے طالبان کی مرکزی قیادت کے ساتھ اختلافات ہیں۔ داعش کی حمایت کرنے والے طالبان جنگجو اپنی ایک الگ شناخت کے لیے کوشاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ طالبان کے روایتی انداز سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں۔

عبدالحکیم مجاہد

العربیہ کے نامہ نگار محمود الورواری نے اپنے دورہ افغانستان کے دوران دارالحکومت کابل میں تحریک طالبان کے بانی رہ نما اور معتدل شخصیت ملا عبدالحکیم مجاہد سے ملاقات کی۔ ملا عبدالحکیم 1990ء کے عشرے میں طالبان کی جانب سے اقوام متحدہ میں افغانستان کے مندوب مقرر کیے گئے تھے۔ چونکہ اقوام متحدہ نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا اس لیے انہیں نیویارک میں ‘یو این’ کے صدر دفتر میں جگہ نہیں مل سکی۔ انہوں نے امریکا ہی میں اپنا دفتر بنایا۔ 2001ء میں نائن الیون کے واقعے سے قبل ملا عبدالحکیم مجاہد طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے کوشاں رہے۔ نائن الیون کے واقعات کے بعد جب امریکا نے طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا تو اسامہ کی امریکیوں کے سپرد کرنے کا مطالبہ کرنے والوں میں عبدالحکیم مجاہد بھی پیش پیش تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری ملت کو قربان کرنے کے بجائے ایک شخص کی قربانی دینا زیادہ بہتر ہے۔

کابل میں ملاعبدالحکیم مجاہد کی رہائش گاہ سے متصل افغانستان کی امن کونسل کا صدر دفتر واقع ہے۔ یہ کونسل سابق افغان صدر حامد کرزئی نے 2010ء میں قائم کی تھی جس کا مقصد ملک کے ناراض گروپوں بالخصوص طالبان کے ساتھ مصالحتی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا۔ یہ کونسل اور اس کا دفتر آج بھی موجود ہیں مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکا۔

مولوی احمد متوکل کے مطابق ملا عمر کی وفات کے بعد طالبان تحریک کمزور ضرور ہوئی ہے مگر ثابت قدم ہے۔طالبان تحریک داعش کے خلاف جنگ میں کسی دوسرے ملک سے کسی قسم کا اتحاد نہیں کرے گی

ملا عبدالحکیم نے العربیہ کے نامہ نگار سے معتدل انداز میں بات کی۔ ان کی گفتگو سے افغانستان میں قیام امن کی خواہش نمایاں دکھائی دے رہی تھی۔ مہمان نواز عبدالحکیم مجاہد کی گھنی داڑھی میں سفیدی نہیں آئی اور نہ ہی ان کے چہرے پر بڑھاپے کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے العربیہ سے نہایت ہلکے پھلکے اور مزاحیہ پیرائے میں باتیں کرتے ہوئے کئی سنجیدہ سوالوں کے جوابات دیے۔اُنہوں نے کہا کہ جب امریکا نے طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا تو میں نے اس وقت کے طالبان وزیرخارجہ اور ملا عمر کے ترجمان ملا احمد متوکل سے درخواست کی کہ آپ اسامہ بن لادن کو امریکیوں کے حوالے کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ملاعمر سے مشورے کے بعد اس کا جواب دوں گا۔ چند روز بعد ملا متوکل نے کہا کہ ملاعمر نے اسامہ کو امریکیوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چاہے ہم اسامہ کو ملک بدر کریں یا واشنگٹن کے حوالے کریں۔ امریکیوں نے افغانستان پر ہرصورت میں قبضے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

ملا عبدالحکیم مجاہد عربی سمجھ لیتے ہیں مگر بول نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ میں واپس افغانستان آیا تو ملا احمد متوکل سے ملاقات کی۔ مزاح مزاح میں ان سے کہا کہ طالبان مجھے اغواء کرنا چاہتے تھے۔ میں خود ہی چل کر آپ کے پاس آ گیا ہوں۔

ملا حکیم میڈیا کے سامنے آنے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ زیادہ تر فارسی یا پشتو میں بات کرتے ہیں۔ انگریزی بولنے پر قدرت رکھتے ہیں مگر اس میں بات نہیں کرتے۔ محمود الورواری کو کہنے لگے”جو شخص میرے گھر میں داخل ہو گیا وہ محفوظ ہو گیا”۔

اسامہ بن لادن کی حوالگی اور ملا متوکل

العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے طالبان دور کے وزیرخارجہ ملا احمد متوکل نے بتایا کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کو 2001ء میں امریکا کے حوالے کیوں نہ کیا۔ محمود الورواری نے استفسار کیا کہ جب ملا عبدالحکیم مجاہد نے آپ سے اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کرنے کی گزارش کی تھی تو آپ نے انہیں ملا عمرسے مشورے کے بعد آگاہ کرنے کا کہا تھا۔ ملا عمرنے کیا مشورہ دیا تھا۔

ملا احمد متوکل نے بتایا کہ میں اس وقت وزیرخارجہ کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔ بن لادن کی امریکا حوالگی کا مطالبہ صرف ملا عبدالحکیم کی طرف سے نہیں بلکہ کئی عرب اور مسلمان ملکوں کی طرف سے بھی کیا جا رہا تھا۔ ہم اُسامہ کو کسی مسلمان ملک کے حوالے کرنا چاہتے تھے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا کہ اس پر کوئی مسلمان ملک راضی نہ ہوا۔ ہم مسلمان ہیں اور افغانستان میں اسلامی حکومت قائم تھی۔ اس لیے ہم بن لادن کو کسی غیرمسلم ملک کے بجائے مسلمان ریاست کے حوالے کرنا چاہتے تھے۔اس حوالے سے ابھی ہم کوئی فیصلہ کر ہی نہیں پائے تھے کہ امریکیوں نے افغانستان پر جنگ مسلط کر دی۔ ملا عمر حقیقی معنوں میں بن لادن کا معاملہ حل کرنا چاہتے تھے مگر ہمیں اس کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔

انٹرویو کے دوران ملا متوکل سے پوچھا گیا کہ کیا واقعی ملا عمر دو سال قبل انتقال کر گئے تھے تو انہوں نے ہاں میں سرہلایا اور کہا کہ اس کی خبر اس لیے پوشیدہ رکھی گئی تاکہ طالبان کی صفوں کو متحد رکھا جا سکے۔ ملا عمرکی وفات کی خبر تحریک طالبان میں ایک زلزلہ بپا کر سکتی تھی اور اس کے نتیجے میں تحریک کی ٹوٹ پھوٹ کے خدشات تھے۔ یہ خبر اسامہ بن لادن کے قتل سے بھی زیادہ بھاری ثابت ہونا تھی۔ اس لیے اسے چھپا کر رکھا گیا۔

ملا عمر کی تصویر

العربیہ کے نامہ نگار”محمود الورواری” نے ملا احمد متوکل سے ملا عمر مرحوم کی تصویر کی شناخت کے بارے میں پوچھا اور ساتھ ہی ان سے ملا عمر کی کوئی صاف اور واضح تصویر دینے کی بھی درخواست کی۔

پہلے تو انہوں نے بات نہیں مانی، تاہم بعد ازاں میرے اور ملا متوکل کے ایک مشترکہ دوست کی مدد سے موبائل کے ذریعے ملاعمر کی ایک تصویر ارسال کی۔ یہ تصویر حیران کن ہے۔ ہم سب کے ذہنوں میں ملاعمر کی ایک آنکھ والی تصویر تھی مگر ملا متوکل کی جانب سے دی گئی تصویراس سے بالکل مختلف نکلی۔ ملاعمر کی نیلی آنکھیں ہالی وڈ کے کسی فلمی ہیرو کی طرح خوبصورت ہیں۔

طالبان داعش سے طاقتور

ملاعمر کے دست راست مولوی احمد متوکل سے افغانستان میں سرگرم دولت اسلامی “داعش” کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ “داعش” کا طالبان سے کوئی تقابل نہیں کیا جا سکتا۔ طالبان داعش سے زیادہ طاقتور ہیں۔ داعش جس تیزی کے ساتھ اٹھی ہے اسی سرعت کے ساتھ زوال کا شکار ہو گی جب کہ طالبان افغان عوام میں اپنی گہری اور مضبوط جڑیں رکھتے ہیں۔داعش مخالف جنگ میں طالبان اور روس کے درمیان اتحاد کو خارج ازامکان قرار دیتے ہوئے ملا متوکل نے کہا کہ ملا عمر کی وفات کے بعد طالبان تحریک کمزور ضرور ہوئی ہے مگر ثابت قدم ہے۔ داعش کے خلاف جنگ میں کسی دوسرے ملک سے کسی قسم کا اتحاد نہیں کرے گی۔

تحریک طالبان کی شروعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ملا احمد متوکل ماضی میں چلے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ طالبان دراصل دینی مدارس کے طلباء کی ایک تحریک تھی جس کا آغاز جنوب مغربی افغانستان کے صوبہ ننگر ہار سے ہوا۔ پاکستان کی سرحد سے متصل صوبے میں یہ تحریک 1994ء میں ملا عمر نے قائم کی۔ ابتدامیں اس تحریک کا مقصد ملک میں غیراخلاقی مظاہر اور لوٹ مار کا خاتمہ تھا۔ بعد ازاں ملک میں قیام امن کے لیے مساعی بھی تحریک کا حصہ بن گئیں۔ دینی مدارس کے طلباء نے تحریک کو مضبوط کیا۔اور 1994ء اور 1996ء کے عرصے میں طالبان نے افغانستان کے وسیع وعریض علاقے پر اپنا سکہ جما لیا تھا۔

2001ء میں جب امریکی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں تو طالبان دور کے وزیرخارجہ ملا متوکل نے خود کو امریکی حکام کے حوالے کر دیا۔ امریکا نے انہیں دو سال تک بگرام جیل میں قید رکھا۔ سنہ 2004ء میں رہائی کے بعد وہ حامد کرزئی کے قریب رہے۔ اب بھی افغانستان میں انہیں سیاسی حلقوں میں نہایت ادب واحترام سے دیکھا جاتا ہے۔ اگرچہ ان کے پاس تحریک طالبان کا کوئی عہدہ نہیں مگر ان کے دل میں طالبان کے لیے محبت اب بھی موجود ہے۔

(ابل ۔ محمود الورواری)

بشکریہ العربیہ نیوز


متعلقہ خبریں


بچوں سے بد فعلی‘ 38 ممالک سے 337 افراد گرفتار وجود - جمعه 18 اکتوبر 2019

برطانیا اور امریکا کے تفتیش کاروں نے ڈارک ویب پر موجود بچوں سے بد فعلی پر مبنی ویڈیوز کی ویب سائٹ پر تحقیق کر کے مختلف ممالک سے 337 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔برطانیا کی سرکاری ایجنسی این سی اے نے بتایا کہ ویب سائٹ پر 2 لاکھ 50 ہزار ویڈیو موجود تھیں جن کو پوری دنیا سے مختلف افراد نے10 لاکھ بار ڈاون لوڈ کیا تھا۔ویب سائٹ پر ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والوں کو ڈیجیٹل کرنسی میں ادائیگی کی جاتی تھی۔ تفتیش کاروں نے 38 ممالک سے 337 افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں برطانیا، آئرلینڈ، امریکا،جنوب...

بچوں سے بد فعلی‘ 38 ممالک سے 337 افراد گرفتار

امریکا سے مذاکرات ‘ترکی نے کردوں کیخلاف آپریشن روک دیا وجود - جمعه 18 اکتوبر 2019

ترکی اور امریکا کے درمیان شام میں کردوں کے خلاف جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا جس کے بعد ترکی نے شام میں عارضی طور پر سیز فائر کا اعلان کرتے ہوئے کردوں کو نکلنے کے لیے پانچ دن کی مہلت دے دی۔جنگ بندی کے حوالے سے امریکا کے نائب صدر مائیک پینس ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کرنے انقرہ پہنچے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیغام پہنچایا، ان کے ساتھ وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھی موجود تھے۔ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی جس میں مائیک پینس نے بتایا کہ امریکا اور ترکی کے درمیان...

امریکا سے مذاکرات ‘ترکی نے کردوں کیخلاف آپریشن روک دیا

برطانیا نے یورپی یونین سے بریگزٹ معاہدہ کرلیا وجود - جمعه 18 اکتوبر 2019

یورپی کمیشن کے صدر جین کلاڈ جنکر نے برسلز میں بلاک کے رہنماؤں کے سمٹ سے قبل بتایا کہ برطانیا نے یورپی یونین سے سخت کوشش کے بعد بریگزٹ معاہدہ حاصل کر لیا ہے۔دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم بورس جونسن کا کہنا تھا کہ ہم نے زبردست بریگزٹ معاہدہ حاصل کیا ہے۔جین کلاڈ جنکر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جہاں چاہت ہو وہاں معاہدہ ہوتا ہے، یہ یورپی یونین اور برطانیہ کے لیے منصفانہ اور متوازن معاہدہ ہے اور ہمارے حل تلاش کرنے کا عہد نامہ ہے۔انہوں نے آئندہ ہ...

برطانیا نے یورپی یونین سے بریگزٹ معاہدہ کرلیا

کانگرس میں ایردوآن اور خاندان کے اثاثوں کی رپورٹ طلب وجود - جمعه 18 اکتوبر 2019

شام میں ترکی کی فوجی کارروائی کے بعد امریکا نے ترک حکومت اور صدر طیب ایردوآن کے خلاف مزید اقدامات پرعمل درآمد شروع کیا ہے۔ ری پبلیکن رکن کانگرس سینیٹر لنڈسی گراہم اور متعدد امریکی سینیٹرز نے کانگرس میں ایک نیا بل پیش کیا ہے جس میں ترک عہدیداروں اور اداروں پر عائد کی جانے والی پابندیوں کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ ترک صدر طیب ایردوآن اور ان کے خاندان کے اثاثوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ فراہم کرے۔ اس بل میں روس ، ایران اور ترکی کے لیے شام میں تیل پیدا کرن...

کانگرس میں ایردوآن اور خاندان کے اثاثوں کی رپورٹ طلب

امریکی پابندیوں کے باوجود ہواوے کی آمدن میں اضافہ وجود - جمعه 18 اکتوبر 2019

امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ اور مختلف پابندیوں کا سامنا کرنے والی چینی کمپنی ہواوے کے منافع میں کوئی کمی نہیں آ سکی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے چینی کمپنی کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں، تمام تر کوششوں کے باوجود رواں سال کے پہلے نو ماہ میں کمپنی کی آمدن میں 24.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔کمپنی کے مطابق ہواوے کو 86.2 ارب ڈالرز کا منافع ہوا ہے اور اسکے منافع کی شرح میں 8.7 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔یاد رہے کہ امریکی صد...

امریکی پابندیوں کے باوجود ہواوے کی آمدن میں اضافہ

قبل از وقت سفید بال خطرناک بیماری کی علامت ہے، ماہرین وجود - جمعرات 17 اکتوبر 2019

رواں دور میں سفید بال ہونا عمومی بات ہے اور مرد و خواتین دونوں ہی اس بات سے پریشان نظر آتے ہیں،کیونکہ سفید بال بڑھاپے کی نشانی سمجھے جاتے ہیں۔ماہرین صحت قبل از وقت سفید بال امراض قلب کا عندیہ دیتے ہیں۔یونیورسٹی آف قاہرہ کے ماہرین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں 545 مردوں میں سفید بالوں اور دل کی بیماری کے خطرے کے درمیان تعلق کا مطالعہ کیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ بالوں کی جتنی سفید رنگت زیادہ تھی اتنا ہی دل کی بیماری کا خطرہ زیادہ دیکھا گیا۔ماہرین نے مردوں کو وارننگ جاری کر تے...

قبل از وقت سفید بال خطرناک بیماری کی علامت ہے، ماہرین

مصنوعی ذہانت والے روبوٹس سے ملازمین کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ، اوریکل رپورٹ وجود - جمعرات 17 اکتوبر 2019

اوریکل کی ملازمین کے حوالے سے ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت، آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) نے ملازمین کی سوچ کو بدل رکھ دیا ہے اور ملازمین عام منیجروں کے مقابلے میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس والے روبوٹس ساتھی ملازمین کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ خوش ہیں، ایچ آر ٹیم کا کردار ملازمین کی بھرتی، ان کی تربیت اور ملازمین کو ادارے سے منسلک رکھنے کے لیے بھی تبدیل ہوا ہے۔ یہ سروے رپورٹ اوریکل اور فیوچر ورک پلیس نے کی جو کاروباری قائدین کی تیاری، ان کی ملازمتوں اور ملازمین کے دیگر...

مصنوعی ذہانت والے روبوٹس سے ملازمین کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ، اوریکل رپورٹ

امریکا میں نظربند فلسطینی سائنسدان کی اسرائیل حوالگی کا خدشہ بڑھ گیا وجود - جمعرات 17 اکتوبر 2019

امریکا میں گھر پرنظربند فلسطینی سائنسدان عبدالحلیم الاشقر کو اسرائیل کے حوالے کیے جانے کا خدشہ بڑھ گیا ع،بدالحلیم الاشقر کی اہلیہ اسما ء مھنا نے مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر کو امریکا میں گھر پرنظربند کیا گیا ہے ۔ ان کے حوالے سے امریکی حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا ۔ خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت امریکا پروفیسر ڈاکٹر الاشقر کو امریکا کے حوالے کردے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر کے حوالے سے جاری تنازع کے حل میں کوئی پیش رفت نہیں...

امریکا میں نظربند فلسطینی سائنسدان کی اسرائیل حوالگی کا خدشہ بڑھ گیا

شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام پر ترک حملے کے بعد امریکا نے ایکشن لیتے ہوئے ترکی پر پابندیاں عائد کردیں جب کہ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ ترکی کی معیشت کو برباد کرنے کیلئے مکمل تیار ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی جانب سے ترکی کی وزارت دفاع اور توانائی پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ ترکی کے دو وزرا اور تین سینئر عہدیداروں پر بھی پابندی لگادی گئی ۔میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ترکی پر عائد کی گئی پابندیاں بہت سخت ہیں جو اس کی معیشت پر بہت زیادہ اثر...

شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

برطانوی ملکہ الزبتھ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا، جنوری 2021 سے یورپی شہریوں کو برطانیہ کا ویزہ درکار ہو گا۔برطانوی ملکہ الزبتھ نے برطانوی پارلیمان سے خطاب کے دوران وزیراعظم بورس جانسن کی طرف سے تیار کیے گئے امیگریشن کے اس قانونی مسودے کو متعارف کرایا ہے جو یورپین یونین سے برطانیہ کی حتمی علیحدگی کے بعد نافذ ہو گا۔اس بل کے تحت یورپی ممالک کے شہریوں کیلئے آزادانہ طور پر برطانیہ آنے جانے کی سہولت جنوری 2021 سے ختم کر دی جائے گی اور ان پر برطانیہ آنے کیلئے ویزے اور دیگر...

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورٹ وورتھ میں میں سفید فام پولیس اہلکار نے ایک سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ فورٹ وورتھ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق گذشتہ روز پولیس آفیسر ایرن ڈین نے علاقہ میں معمول کے گشت کے دوران 28سالہ خاتون کو مشکوک سمجھتے ہوئے اس وقت کھڑکی کے باہر سے فائر کرکے ہلاک کر دیا جب وہ اپنے بھتیجے کے ہمراہ ویڈیو گیم کھیل رہی تھی ، مقا می پولیس نے گھر کے باہر نصب سی سی ٹی وی کیمرہ کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے دو پولیس افسروںکی جانب سے سرچ لائٹ کے ساتھ گھر کی کھڑ...

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام میں کردوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے ترکی کی جانب سے ان کے خلاف جاری کارروائی کو روکنے کے لیے اپنی فوج کو شمالی سرحد پر بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے شام کی غیر مستحکم صورتحال اور وہاں سے اپنی باقی تمام فوج کو نکالنے کے بعد سامنے آیا ہے۔اس سے قبل شام کے سرکاری میڈیا نے بتایا تھا کہ فوج کو شمال میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ترکی کی جانب سے کردوں کے خلاف کی جانے والی اس کارروائی کا مقصد کرد افواج کو اس سرحدی علاقے سے نکالنا ہے۔ برطانیہ میں قائم سیرین آبزرو...

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ

مضامین
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

کامی یاب مرد۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
کامی یاب مرد۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

اشتہار