وجود

... loading ...

وجود

پیرس حملے، روس نے پہلے ہی خبردار کردیا تھا

پیر 16 نومبر 2015 پیرس حملے، روس نے پہلے ہی خبردار کردیا تھا

vladimir-putin

روس کی وزارت دفاع کی جانب سے ملک کی سلامتی کونسل کے پالیسی سازوں کے لیے جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پیرس حملوں کا تعلق “علامتی قتل عام” سے ہو سکتا ہے اوراس کے لیے ہدایات فری میسنز کے خفیہ عناصر نے دی تھیں جو اس وقت امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے)، فرانس کی ڈائریکٹوریٹ آف ایکسٹرنل سیکورٹی(ڈی جی ایس ای)، برطانیہ کی خفیہ انٹیلی جنس سروس (ایس آئی ایس/ایم آئی6) اسرائیل کی ڈائریکٹوریٹ آف ملٹری انٹیلی جنس (ڈی ایم آئی اور ویٹی کن میں با اختیار عہدوں پر ہیں۔

روس کی وزارت دفاع کی اس رپورٹ کے مطابق مرکزی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ (جی آر یو) نے “جمعہ 13” کے اس ممکنہ منصوبے کے بارے میں 15 روز قبل یعنی 27 اکتوبر کو وزارت دفاع کو آگاہ کیا تھا۔ اس روز واشنگٹن ڈی سی میں ایک انتہائی خفیہ اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن، ڈی جیس ایس اے کے ڈائریکٹر برنارڈ بایولیت، ایم آئی 6 کے سابق سربراہ جان ساوورز اور ڈی ایم آئی کے سابق سربراہ اور اسرائیل کے موجودہ قومی سلامتی مشیر یاکوو آمیدور نے شرکت کی۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ مغرب کے ان سرفہرست انٹیلی جنس اذہان کے اس انتہائی غیر معمولی اجلاس کا بظاہر مقصد تو ایک عوامی مذاکرہ تھا جسے سی آئی اے-جی ڈبلیو انٹیلی جنس کانفرنس کہا جاتا ہے، جس میں “21 ویں صدی میں بین الاقوامی مشن پینل نامی کانفرنس ہوئی جہاں (مغرب کے زاویہ نظر سے) مشرق وسطیٰ کے مستقبل کا نقشہ کھینچا گیا۔ لیکن رپورٹ کا کہنا ہے کہ اجلاس کا خفیہ مقصد جی آر یو نے بیان کیا ہے کہ کانفرنس کے بعد ان ان شخصیات نے امریکی نائب صدر جوزف بائیڈن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ بائیڈن رومن کیتھولک یسوعی ہیں یعنی سوسائٹی آف جیسس کے رکن ہیں جو امریکا میں آج بھی طاقت رکھتی ہے۔ اس ملاقات کی صدارت سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے کی جو نائب صدر بائیڈن کی طرح یسوعی تربیت یافتہ انٹیلی جنس تجزیہ کار ہیں اور “صرف جنگ” کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔

مغرب کے ان “جاسوس سرداروں” کی جوزف بائیڈن کے ساتھ 27 اکتوبر کے ہونے والی ملاقات کے بعد جی آر یو نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں روسی وزارت دفاع کو خبردار کیا تھا کہ یسوعی-فری میسن گٹھ جوڑ کی 13 نومبر کو روس کے خلاف کسی معاندانہ کارروائی کا خدشہ رد نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ خفیہ تنظیمیں ہمیشہ کسی نہ کسی “اہم” تاریخ پر قتل عام کرتی ہیں۔

27 اکتوبر کو ہونے والے جاسوس رہنماؤں کے اس اجلاس میں ڈی جی ایس اے کے ڈائریکٹر برنارڈ بایولیت نے کہا کہ روس کی حفاظت میں موجود شامی ریاست دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم کی گئی ریاست سے مختلف ہوگی۔

اجلاس کے بعد جی آر یو نے روس کی وزارت دفاع کو خبردار کیا کہ فری میسن 11 اور 13 کے جادوئی نمبروں سے کھیلیں گے اور بالکل اسی طرح جیسا کہ جی آر یو نے خبردار کیا تھا، 13 نومبر کو “علامتی قتل عام” کے لیے پیرس کا انتخاب کیا گیا تاکہ دنیا کو اپنے نظریے پر لایا جا سکے۔ یہ واقعہ مغرب کے حمایت یافتہ داعش ہی نے کیا ہے، جیسا کہ اس نے قبول کیا۔ اس میں کم از کم 129 افراد مارے گئے ہیں، 200 سے زیادہ ہیں اور لگ بھگ 100 کی حالت نازک ہے۔

فری میسن-یسوعی منصوبہ سازوں کا پیرس قتل عام دراصل 13 اکتوبر 1307ء کو اس خفیہ تنظیم پر لگنے والی پابندی کا بدلہ ہے اور اسی شہر پیرس کے نوٹرڈیم گرجا گھر کے سامنے سات سال بعد 13 مارچ 1314ء کو یسوعی گرینڈ ماسٹر ژاک دے مولے کو زندہ آگ لگا دی گئی تھی۔ جی آر یو نے 2013ء میں بھی خبردار کیا تھا کہ فری میسن-یسوعی پاپائے روم کے انتخاب کے بعد گرینڈ ماسٹر کے قتل کا بدلہ لیں گے۔ پوپ فرانسس گرجے کی تاریخ میں اس منصب تک پہنچنے والے پہلے یسوعی ہیں اور ان کا انتخاب 13 مارچ 2013ء کو ہوا تھا یعنی ژاک دو مولے کی اذیت ناک موت کے ٹھیک 699 سال بعد۔ پھر پیرس حملے کے بعد انہوں نے جو پہلی بات کی وہ یہی تھی کہ یہ تیسری جنگ عظیم کا پیش خیمہ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یسوعی-فری میسنز نے تیسری جنگ عظیم کے آغاز کے لیے پیرس کو ہدف بنایا۔

اب فرانس کے صدر فرانکو اولاندے نے اس “قتل عام” کو اقدام جنگ قرار دیا ہے۔ گو کہ روس کی وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ پیرس واقعے کی وجوہات اور مقاصد کے بارے میں کوئی نتیجہ خیز بات ابھی قبل از وقت ہے، لیکن تحقیق کار تمام معلومات کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ مغرب کا ذرائع ابلاغ تو باؤلا ہو گیا ہے اور عوام کو جنگ پر اکسا رہا ہے۔

اب فرانس کی جانب سے اعلانِ جنگ ہونے ہی والا ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ نیٹو کے آرٹیکل پانچ کو نافذ کردے۔ جو 1966ء میں نیٹو چھوڑ دینے کے بعد 2009ء میں اس میں دوبارہ شامل ہوا ہے۔ اگر فرانس نے آرٹیکل 5 نافذ کیا تو یہ امریکا پر نائن الیون حملوں کے بعد 12 ستمبر 2001ء کے بعد تاریخ میں اس دفعہ کا دوسری بار اطلاق ہوگا۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

مضامین
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم وجود منگل 16 جون 2026
ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم

عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر