وجود

... loading ...

وجود

ملک ریاض: ہاؤسنگ اسکیموں کی کامیابی کا طریقۂ واردات

جمعرات 12 نومبر 2015 ملک ریاض: ہاؤسنگ اسکیموں کی کامیابی کا طریقۂ واردات

malik-riaz

ملک ریاض ایک شخص کا نہیں بلکہ ایک طریقۂ واردات کا نام ہے۔ اُن کے متعلق کوئی شخص بھی زبان کھولنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اُنہوں نے بے پناہ دولت کے ذخائر جس طرح جمع کئے ہیں ، وہ اگر دیانت داری سے کئے ہوتے تووہ ملک میں ایک مثال بن کر جیتے۔ مگر وہ سیاسی اور فوجی اثرورسوخ کے ساتھ ایک خاص طریقے سے کاروبار کو برتتے ہیں جس کا اندازا بہت کم لوگوں کو ہیں ۔ وہ اپنے ہر پراجیکٹ کو ایک انوکھے فراڈ سے کامیاب بناتے ہیں ۔ مگر پاکستان میں فراڈ کو جانچنے کے لئے درکار ضروری دیانت داری کا دور دور تک کوئی نام ونشان نہیں پایا جاتا ۔ چنانچہ ملک ریاض کے خلاف قانون کے حرکت میں آنے کا مطلب اس کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا کہ ایک بار پھر نئے لین دین کے آثار اور امکانات پیدا کردئے جائیں۔ ملک ریاض کے فراڈ کے ہمہ گیر طریقہ کار کو کسی بھی ایک تحریرمیں پوری طرح سامنے نہیں لایا جاسکتا۔ زیر نظر رپورٹ میں اُن کے مختلف النوع فراڈ کے محض ایک پہلو سے پردہ اُٹھایا جارہا ہے۔ جو اُن کی ہاؤسنگ اسکیموں کی کامیابی میں ایک کلاسیک ماڈل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

ملک ریاض صاحب کا طریقۂ واردات یہ ہے کہ وہ جب بھی کسی نئی ہاؤسنگ اسکیم کا اعلان کرتے ہیں تو اس کے لئے ابتدائی ادائی (یعنی ڈاون پے منٹ )اور اس کے ساتھ وصول ہونے والی پہلی قسط کی مالیت بہت کم رکھتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک عام آدمی اس ا سکیم کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور سوچتا ہے کہ اتنی کم ابتدائی ادائی سے وہ پلاٹ لینے والوں کی دوڑ میں شامل ہو سکتا ہے۔ یعنی اگر انہوں نے مارکیٹ میں پانچ مرلے یعنی 125 گز کا پلاٹ اگر بیس لاکھ روپے میں بیچنا ہے تو وہ اس کی ابتدائی قیمت کو کبھی بھی ایک لاکھ سے اوپر نہیں جانے دیں گے۔ اب وہ کرتے یہ ہیں کہ اگر انہوں نے ایک اسکیم میں ایک ہزار پلاٹ کاٹنے ہیں تو وہ ان ایک ہزار پلاٹوں کے عوض دس ہزار فائلیں بناتے ہیں اور ان دس ہزار فائلوں میں تقریباً اڑھائی سے تین ہزار فائلیں اپنے ان پالتو 2600 سے زائد پراپرٹی ڈیلرز میں تقسیم کر دیتے ہیں جو پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ پراپرٹی ڈیلر پورے ملک میں ماحول بناتے ہیں اور عام لوگوں کو قائل کرتے ہیں کہ اس ا سکیم سے تو گویا تیل ہی نکل آنا ہے اس لئے اسے سرمایہ کاری کے طور پر ہی سہی خریدنا عین عقل مندی ہے۔

ملک ریاض ملک بھر میں اپنے پالتو چھبیس سو سے زائد پراپرٹی ڈیلرز کے ذریعے کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم کو ایک فراڈ کے ذریعے کامیاب کراتے ہیں

یہ پراپرٹی ڈیلر پچاس ہزار کے عوض خریدی گئی اس فائل سے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لئے اسے زیادہ سے زیادہ مہنگا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں یہ پچاس ہزار کی ابتدائی ادائی والی فائل کو جیک اپ کر کے کم از کم دس لاکھ روپے تک لے جاتے ہیں۔ اس دوڑ میں جیسے ہی فائل آٹھ لاکھ کی سطح پار کرتی ہے تو ملک صاحب بذاتِ خود باقی سات ہزار فائلیں بیچنے کے لئے مارکیٹ میں اتر آتے ہیں۔ اور یوں ایک ایسا کاغذ جس کے پیچھے کوئی اثاثہ موجود ہی نہیں وہ مارکیٹ میں مہنگے داموں بک جاتا ہے۔

جب وہ اپنا یہ سارا سودا بیچ لیتے ہیں تو پھر ایک دم اسی سکیم کے بارے میں منفی خبریں مارکیٹ میں پھیلادی جاتی ہیں ۔ مثلاً یہ کہ ترقیاتی کام نہیں ہو رہے۔ فلاں سیاست دان ملک کے خلاف ہو گیا ہے وغیرہ وغیرہ اور یہ خبریں پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ یہ پراپرٹی ڈیلرز ہی ہوتے ہیں۔

اس کے بعد سب سے منفی خبر یہ ہوتی ہے کہ پلاٹوں کی باقاعدہ فائلیں کھلوا کر ادائیگی کا شیڈول بحریہ ٹاون کی انتظامیہ سے طے کر لیا جائے اور اس کے بڑے بڑے اشتہارات اخبارات میں چھپوائے جاتے ہیں۔ اب اعصاب کی جنگ شروع ہوتی ہے۔ کئی لوگوں نے سرمایہ کاری کے جوش میں ایک سے زائد اور بعض نے درجنوں فائلیں خرید لی ہوتی ہیں جب کہ ان کی اوقات ایک فائل کی قسطیں ادا کرنے کی نہیں ہوتی ۔ لہٰذا وہ یہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ کچھ فائلیں بیچ کر بقیہ کی قسط ادا کر دیں، لیکن ہوتا یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے وہی پراپرٹی ڈیلر جو اس فائل کو دس لاکھ روپے میں بھی سستا کہہ کر سرمایہ داروں کو تھما رہے ہوتے ہیں وہ اب یہی فائل دو لاکھ روپے میں بھی خریدنے کے روادار نہیں ہوتے۔ بہت سی صورتوں میں تو یہ فائل اپنی اصل قیمت (ہمارے اوپر والی مثال میں پچاس ہزار روپے میں ہی ) بک پاتی ہے۔

اب ملک صاحب اپنے ایجنٹ پراپرٹی ڈیلروں کو رو بہ عمل لاتے ہیں اور دس لاکھ روپے میں بیچی گئی فائل کو پچاس ہزار روپے میں واپس خرید کر ضائع کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کچھ لوگ ناگزیر وجوہات کی بنا پرقسطیں نہیں دے پاتے اور انتظامیہ ان کو قطعاً نہیں پوچھتی۔ لیکن جب وہ انتظامیہ سے رابطہ کرتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ ہم نے تو یہ فائل پچاس ہزار روپے میں بیچی تھی، آپ نے دس لاکھ میں خریدی تو اس میں ہمارا کیا قصور؟ آپ نے ساڑھے نو لاکھ روپے کا پریمئم ادا کیا تھا ، ہمارے پاس آپ کے پچاس ہزار روپے محفوظ ہیں جو پندرہ یا بیس فی صد کٹوتی کے بعد آپ کو واپس مل سکتے ہیں۔

اص صورت میں زیادہ امکان تو یہی ہوتا ہے کہ جب تک ان کی ایک ہزار پلاٹوں والی ا سکیم اپنے اصلی خد و خال میں واضح ہو کر پلاٹوں کی قرعہ اندازی کے مرحلے تک آتی ہے تو مارکیٹ میں ایک ہزار فائلیں ہی باقی رہ جاتی ہیں۔ لیکن اگر کچھ فائلیں زائد بھی ہوں تو پھر آواز لگا دی جاتی ہے کہ وہ زائد لوگ اپنی فائلیں پہلے سے بنی ہوئی کسی اسکیم میں ایڈجسٹ کروا لیں (جیسا کہ ڈی ایچ اے ویلی کے دس ہزار پلاٹوں کو بحریہ ٹاون کراچی اور بحریہ ٹاون راولپنڈی میں ایڈجسٹ کروا لینے کے اشتہارات آج کل اخباروں کی زینت بن رہے ہیں) ۔ یوں جن ایک ہزار یا اس سے کچھ زائد لوگوں کو پلاٹ مل جاتے ہیں وہ پورے شہر میں ملک صاحب کی عظمت اور دریا دلی کے گن گانے کے لئے موجود رہتے ہیں اور سینکڑوں راتب خور پراپرٹی ڈیلر ان کے علاوہ۔ اور اس پر مستزاد میڈیا پر چلنے والے اشتہارات کی بدولت ان کی عظمت کا سورج ہمیشہ سوا نیزے پر ہی رہتا ہے۔اور لٹنے والا اپنی قسمت کو کوستا رہتا ہے۔

اس میں ایک اور اہم بات یہ بھی ہے اپنی ا سکیم میں اس جوئے کو مزید معتبر بنانے کے لئے وہ کسی نہ کسی حاضر سروس جرنیل کا نام بھی استعمال کرنے سے باز نہیں آتے۔ مشرف دور میں لاہور میں متعین جرنیل صاحبان کو فائلیں تحفے میں دی گئیں۔ فرض کیا جرنیل صاحب کو تحفے میں دو فائلیں دی گئیں لیکن ان کے نام سے دو سو فائلیں بیچی گئیں۔ اب خریدنے والا تو یہی سمجھے گا حاضر سروس جرنیل دو نمبری کیسے کر سکتا ہے۔ اور یوں ان کے کاروبار کی ساکھ کو وردی کا سہارا بھی دستیاب ہو جاتا ہے۔

تو اس کیس میں وہ ہزاروں فائلیں اور ان کے بدلے سٹّے بازی سے کمایا گیا پیسہ ہی ان کی اصل کمائی ہوتی ہے اور وہ پلاٹوں کے خریداروں کے پیسے ایمانداری سے ا سکیم کی ترقی پر لگا دیتے ہیں اور ان کی ا سکیم باقی اسکیموں کے مقابلے میں بہت بہتر صورت میں سامنے آ جاتی ہے۔


متعلقہ خبریں


پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری وجود - جمعرات 11 جون 2026

سزائے موت کا فیصلہ کالعدم، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں جس نے ملزمان کو آگ لگاتے دیکھا ہو،وکیل صفائی سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحما...

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

فریقین نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا سلامتی کونسل میں اجلاس سے خطاب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن، علاقائی استحکام ...

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں سروسز عوامی سہولت کیلئے جمعہ کو کھلی رہیں گی ملک بھر میں اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھا دییگئے،ہفتہ اتوار کھلے رہیں گے توانائی بچت مہم کے دور ان کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسح...

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

مضامین
آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

منی پور میں جھڑپیں وجود جمعرات 11 جون 2026
منی پور میں جھڑپیں

پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر