وجود

... loading ...

وجود

ملک ریاض: ہاؤسنگ اسکیموں کی کامیابی کا طریقۂ واردات

جمعرات 12 نومبر 2015 ملک ریاض: ہاؤسنگ اسکیموں کی کامیابی کا طریقۂ واردات

malik-riaz

ملک ریاض ایک شخص کا نہیں بلکہ ایک طریقۂ واردات کا نام ہے۔ اُن کے متعلق کوئی شخص بھی زبان کھولنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اُنہوں نے بے پناہ دولت کے ذخائر جس طرح جمع کئے ہیں ، وہ اگر دیانت داری سے کئے ہوتے تووہ ملک میں ایک مثال بن کر جیتے۔ مگر وہ سیاسی اور فوجی اثرورسوخ کے ساتھ ایک خاص طریقے سے کاروبار کو برتتے ہیں جس کا اندازا بہت کم لوگوں کو ہیں ۔ وہ اپنے ہر پراجیکٹ کو ایک انوکھے فراڈ سے کامیاب بناتے ہیں ۔ مگر پاکستان میں فراڈ کو جانچنے کے لئے درکار ضروری دیانت داری کا دور دور تک کوئی نام ونشان نہیں پایا جاتا ۔ چنانچہ ملک ریاض کے خلاف قانون کے حرکت میں آنے کا مطلب اس کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا کہ ایک بار پھر نئے لین دین کے آثار اور امکانات پیدا کردئے جائیں۔ ملک ریاض کے فراڈ کے ہمہ گیر طریقہ کار کو کسی بھی ایک تحریرمیں پوری طرح سامنے نہیں لایا جاسکتا۔ زیر نظر رپورٹ میں اُن کے مختلف النوع فراڈ کے محض ایک پہلو سے پردہ اُٹھایا جارہا ہے۔ جو اُن کی ہاؤسنگ اسکیموں کی کامیابی میں ایک کلاسیک ماڈل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

ملک ریاض صاحب کا طریقۂ واردات یہ ہے کہ وہ جب بھی کسی نئی ہاؤسنگ اسکیم کا اعلان کرتے ہیں تو اس کے لئے ابتدائی ادائی (یعنی ڈاون پے منٹ )اور اس کے ساتھ وصول ہونے والی پہلی قسط کی مالیت بہت کم رکھتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک عام آدمی اس ا سکیم کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور سوچتا ہے کہ اتنی کم ابتدائی ادائی سے وہ پلاٹ لینے والوں کی دوڑ میں شامل ہو سکتا ہے۔ یعنی اگر انہوں نے مارکیٹ میں پانچ مرلے یعنی 125 گز کا پلاٹ اگر بیس لاکھ روپے میں بیچنا ہے تو وہ اس کی ابتدائی قیمت کو کبھی بھی ایک لاکھ سے اوپر نہیں جانے دیں گے۔ اب وہ کرتے یہ ہیں کہ اگر انہوں نے ایک اسکیم میں ایک ہزار پلاٹ کاٹنے ہیں تو وہ ان ایک ہزار پلاٹوں کے عوض دس ہزار فائلیں بناتے ہیں اور ان دس ہزار فائلوں میں تقریباً اڑھائی سے تین ہزار فائلیں اپنے ان پالتو 2600 سے زائد پراپرٹی ڈیلرز میں تقسیم کر دیتے ہیں جو پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ پراپرٹی ڈیلر پورے ملک میں ماحول بناتے ہیں اور عام لوگوں کو قائل کرتے ہیں کہ اس ا سکیم سے تو گویا تیل ہی نکل آنا ہے اس لئے اسے سرمایہ کاری کے طور پر ہی سہی خریدنا عین عقل مندی ہے۔

ملک ریاض ملک بھر میں اپنے پالتو چھبیس سو سے زائد پراپرٹی ڈیلرز کے ذریعے کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم کو ایک فراڈ کے ذریعے کامیاب کراتے ہیں

یہ پراپرٹی ڈیلر پچاس ہزار کے عوض خریدی گئی اس فائل سے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لئے اسے زیادہ سے زیادہ مہنگا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں یہ پچاس ہزار کی ابتدائی ادائی والی فائل کو جیک اپ کر کے کم از کم دس لاکھ روپے تک لے جاتے ہیں۔ اس دوڑ میں جیسے ہی فائل آٹھ لاکھ کی سطح پار کرتی ہے تو ملک صاحب بذاتِ خود باقی سات ہزار فائلیں بیچنے کے لئے مارکیٹ میں اتر آتے ہیں۔ اور یوں ایک ایسا کاغذ جس کے پیچھے کوئی اثاثہ موجود ہی نہیں وہ مارکیٹ میں مہنگے داموں بک جاتا ہے۔

جب وہ اپنا یہ سارا سودا بیچ لیتے ہیں تو پھر ایک دم اسی سکیم کے بارے میں منفی خبریں مارکیٹ میں پھیلادی جاتی ہیں ۔ مثلاً یہ کہ ترقیاتی کام نہیں ہو رہے۔ فلاں سیاست دان ملک کے خلاف ہو گیا ہے وغیرہ وغیرہ اور یہ خبریں پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ یہ پراپرٹی ڈیلرز ہی ہوتے ہیں۔

اس کے بعد سب سے منفی خبر یہ ہوتی ہے کہ پلاٹوں کی باقاعدہ فائلیں کھلوا کر ادائیگی کا شیڈول بحریہ ٹاون کی انتظامیہ سے طے کر لیا جائے اور اس کے بڑے بڑے اشتہارات اخبارات میں چھپوائے جاتے ہیں۔ اب اعصاب کی جنگ شروع ہوتی ہے۔ کئی لوگوں نے سرمایہ کاری کے جوش میں ایک سے زائد اور بعض نے درجنوں فائلیں خرید لی ہوتی ہیں جب کہ ان کی اوقات ایک فائل کی قسطیں ادا کرنے کی نہیں ہوتی ۔ لہٰذا وہ یہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ کچھ فائلیں بیچ کر بقیہ کی قسط ادا کر دیں، لیکن ہوتا یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے وہی پراپرٹی ڈیلر جو اس فائل کو دس لاکھ روپے میں بھی سستا کہہ کر سرمایہ داروں کو تھما رہے ہوتے ہیں وہ اب یہی فائل دو لاکھ روپے میں بھی خریدنے کے روادار نہیں ہوتے۔ بہت سی صورتوں میں تو یہ فائل اپنی اصل قیمت (ہمارے اوپر والی مثال میں پچاس ہزار روپے میں ہی ) بک پاتی ہے۔

اب ملک صاحب اپنے ایجنٹ پراپرٹی ڈیلروں کو رو بہ عمل لاتے ہیں اور دس لاکھ روپے میں بیچی گئی فائل کو پچاس ہزار روپے میں واپس خرید کر ضائع کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کچھ لوگ ناگزیر وجوہات کی بنا پرقسطیں نہیں دے پاتے اور انتظامیہ ان کو قطعاً نہیں پوچھتی۔ لیکن جب وہ انتظامیہ سے رابطہ کرتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ ہم نے تو یہ فائل پچاس ہزار روپے میں بیچی تھی، آپ نے دس لاکھ میں خریدی تو اس میں ہمارا کیا قصور؟ آپ نے ساڑھے نو لاکھ روپے کا پریمئم ادا کیا تھا ، ہمارے پاس آپ کے پچاس ہزار روپے محفوظ ہیں جو پندرہ یا بیس فی صد کٹوتی کے بعد آپ کو واپس مل سکتے ہیں۔

اص صورت میں زیادہ امکان تو یہی ہوتا ہے کہ جب تک ان کی ایک ہزار پلاٹوں والی ا سکیم اپنے اصلی خد و خال میں واضح ہو کر پلاٹوں کی قرعہ اندازی کے مرحلے تک آتی ہے تو مارکیٹ میں ایک ہزار فائلیں ہی باقی رہ جاتی ہیں۔ لیکن اگر کچھ فائلیں زائد بھی ہوں تو پھر آواز لگا دی جاتی ہے کہ وہ زائد لوگ اپنی فائلیں پہلے سے بنی ہوئی کسی اسکیم میں ایڈجسٹ کروا لیں (جیسا کہ ڈی ایچ اے ویلی کے دس ہزار پلاٹوں کو بحریہ ٹاون کراچی اور بحریہ ٹاون راولپنڈی میں ایڈجسٹ کروا لینے کے اشتہارات آج کل اخباروں کی زینت بن رہے ہیں) ۔ یوں جن ایک ہزار یا اس سے کچھ زائد لوگوں کو پلاٹ مل جاتے ہیں وہ پورے شہر میں ملک صاحب کی عظمت اور دریا دلی کے گن گانے کے لئے موجود رہتے ہیں اور سینکڑوں راتب خور پراپرٹی ڈیلر ان کے علاوہ۔ اور اس پر مستزاد میڈیا پر چلنے والے اشتہارات کی بدولت ان کی عظمت کا سورج ہمیشہ سوا نیزے پر ہی رہتا ہے۔اور لٹنے والا اپنی قسمت کو کوستا رہتا ہے۔

اس میں ایک اور اہم بات یہ بھی ہے اپنی ا سکیم میں اس جوئے کو مزید معتبر بنانے کے لئے وہ کسی نہ کسی حاضر سروس جرنیل کا نام بھی استعمال کرنے سے باز نہیں آتے۔ مشرف دور میں لاہور میں متعین جرنیل صاحبان کو فائلیں تحفے میں دی گئیں۔ فرض کیا جرنیل صاحب کو تحفے میں دو فائلیں دی گئیں لیکن ان کے نام سے دو سو فائلیں بیچی گئیں۔ اب خریدنے والا تو یہی سمجھے گا حاضر سروس جرنیل دو نمبری کیسے کر سکتا ہے۔ اور یوں ان کے کاروبار کی ساکھ کو وردی کا سہارا بھی دستیاب ہو جاتا ہے۔

تو اس کیس میں وہ ہزاروں فائلیں اور ان کے بدلے سٹّے بازی سے کمایا گیا پیسہ ہی ان کی اصل کمائی ہوتی ہے اور وہ پلاٹوں کے خریداروں کے پیسے ایمانداری سے ا سکیم کی ترقی پر لگا دیتے ہیں اور ان کی ا سکیم باقی اسکیموں کے مقابلے میں بہت بہتر صورت میں سامنے آ جاتی ہے۔


متعلقہ خبریں


پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ آئی ایم ایف کے نشانے پر وجود - اتوار 17 مئی 2026

حکومت کی آئی ایم ایف کو سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کی یقین دہانی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا متبادل پلان پیش ،بین الاقوامی مالیاتی ادارے کارئیل اسٹیٹ سیکٹر کی سخت نگرانی پر زور 27 سرکاری اداروں کی نج کاری پر پیش رفت جاری پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نج کار...

پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ آئی ایم ایف کے نشانے پر

ملک میں گولی گالی کی سیاست ،کرپشن اقربا پروری کا راج ،حافظ نعیم وجود - اتوار 17 مئی 2026

اشرافیہ، جاگیردار وڈیرے پارٹیاں بدل بدل کر قوم پر مسلط ، حکمران جماعتوں کی قسم ایک ہی ہیں کوئی جماعت عوام کو حق دینے کیلئے تیار نہیں، نوجوان مایوس نہ ہوں،بنوقابل تقریب سے خطاب امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں گولی اور گالی کی سیاست عام، تعلیم مہن...

ملک میں گولی گالی کی سیاست ،کرپشن اقربا پروری کا راج ،حافظ نعیم

قائداعظم کے اصول آج بھی ملکی پالیسی کی بنیاد ہیں،شہباز شریف وجود - اتوار 17 مئی 2026

عالمی برادری کے ساتھ مل کر پرامن، ہم آہنگ، متحد معاشرے کے قیام کیلئے پرعزم ہیں نوجوان ، مذہبی رہنما،سول سوسائٹی برداشت، ہمدردی، رواداری کو فروغ دیں،وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف نے پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم کے اصول آج بھی پ...

قائداعظم کے اصول آج بھی ملکی پالیسی کی بنیاد ہیں،شہباز شریف

، برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم وجود - اتوار 17 مئی 2026

نئی دہلی وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام امارات پر ایران کا اپنے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام برکس گروپ کے رکن ممالک ایران اور متحدہ عرب امارات کے باہمی اختلافات کے باعث برکس وزرائے خارجہ اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم...

، برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم

حکومت آئی ایم ایف کے آگے ڈھیر،بجلی ، گیس مزید مہنگی کرنے کی یقین دہانی وجود - هفته 16 مئی 2026

توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں کمی اور مالی اہداف سے متعلق مذاکرات جاری،پروٹیکٹڈ صارفین کے علاوہ دیگربجلی اور گیس صارفین کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا،حکام حکومت کی عالمی توانائی قیمتوں کا مکمل بوجھ صارفین تک منتقل کرنے کی پالیسی برقرار، گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا آڈ...

حکومت آئی ایم ایف کے آگے ڈھیر،بجلی ، گیس مزید مہنگی کرنے کی یقین دہانی

کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا،شہری شدید مشکلات کا شکار وجود - هفته 16 مئی 2026

کراچی واٹر کارپوریشن میں مبینہ بدانتظامی اور پانی کی تقسیم کے نظام پر سوالات اٹھ گئے سرکاری نرخ پر بک ہونیوالے آن لائن ٹینکرپانی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں، شہری شہر قائد میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ کراچی واٹر کارپوریشن کے انتظامی امور، ہائیڈرنٹ نظام اور آن ل...

کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا،شہری شدید مشکلات کا شکار

کھانا پینا بالکل ختم ، جہاز کا گندا پانی پی رہے ہیں،صومالی قزاقوں کا پاکستانیوں پر ظلم وجود - هفته 16 مئی 2026

صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی دلخراش ویڈیو سامنے آگئی اغوا ہوئے 26 روز گزر چکے، حکومت رہائی کیلئے اقدامات کرے، سیکنڈ آفیسر حسین یوسف صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی ایک اور ویڈیو منظرعام پر آگئی جس میں انہوں نے رہائی کی اپیل کی...

کھانا پینا بالکل ختم ، جہاز کا گندا پانی پی رہے ہیں،صومالی قزاقوں کا پاکستانیوں پر ظلم

اسرائیل نے لبنان میں معصوم پھولوں کو نشانے پر رکھ لیا( 200سے زائد بچے شہید) وجود - هفته 16 مئی 2026

لبنانی بچے مسلسل تشدد، نقل مکانی، خوفناک واقعات کا سامنا کر رہے ہیں،عالمی ادارہ لبنان میں بچوں کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں، عالمی برادری سے مطالبہ یونیسیف نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان میں مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 200 بچے شہید ہو چکے ہیں۔یونیسیف ...

اسرائیل نے لبنان میں معصوم پھولوں کو نشانے پر رکھ لیا( 200سے زائد بچے شہید)

حکومت ہمارے بغیر بجٹ منظور نہیں کراسکتی(28 ویں ترمیم سامنے آنے پر ردعمل دوں گا ،بلاول بھٹو وجود - جمعه 15 مئی 2026

عوام مشکل میں ہیں، آئندہ بجٹ مشکل ہو گا، 28 ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی،امریکا ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیشکش نہیں کی گئی،چیئرمین پیپلز پارٹی حکومت سے بجٹ مذاکرات کے لیے پیپلزپارٹی کی 4 رکنی کمیٹی بنادی،پیٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جا رہا ...

حکومت ہمارے بغیر بجٹ منظور نہیں کراسکتی(28 ویں ترمیم سامنے آنے پر ردعمل دوں گا ،بلاول بھٹو

بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائیگا،صدر،وزیراعظم وجود - جمعه 15 مئی 2026

وزیرداخلہ کا بارکھان میںجامِ شہادت نوش کرنے والے میجر توصیف احمد بھٹی اور دیگر کو سلام عقیدت پیش قوم بہادر شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد رکھے گی، شہداء کی بلندی درجات اور اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا صدرِ مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہبازشریف اوروفاقی وزیر داخلہ محسن نق...

بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائیگا،صدر،وزیراعظم

عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کیخلاف پی ٹی آئی عدالت پہنچ گئی وجود - جمعه 15 مئی 2026

علیمہ خانم نے بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجہ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میںنئی درخواست دائرکردی کسی بھی عدالت نے بانی کو تنہائی میں قید کی سزا نہیں سنائی،بشریٰ بی بی کو روزانہ 24 گھنٹے تنہائی میں رکھا جاتا ہے بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کے خلاف اسلام آ...

عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کیخلاف پی ٹی آئی عدالت پہنچ گئی

ایران کیخلاف سازش کرنیوالوں کااحتساب ہو گا،عباس عراقچی وجود - جمعه 15 مئی 2026

ایرانی عوام کے خلاف دشمنی اختیار کرنا ایک احمقانہ جوا ہے،ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے حامی ہیں،قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،بیان ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف سازش کرنے والوں کا احتساب...

ایران کیخلاف سازش کرنیوالوں کااحتساب ہو گا،عباس عراقچی

مضامین
یہ کارکردگی ہے ؟ وجود اتوار 17 مئی 2026
یہ کارکردگی ہے ؟

سربراہی ملاقات میں باڈی لینگویج وجود اتوار 17 مئی 2026
سربراہی ملاقات میں باڈی لینگویج

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی وجود اتوار 17 مئی 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی

فرق وجود هفته 16 مئی 2026
فرق

زندگی کا یہ سبق یاد رکھیں! وجود هفته 16 مئی 2026
زندگی کا یہ سبق یاد رکھیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر