وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

چین میں فضائی آلودگی انتہا کو پہنچ گئی

منگل 10 نومبر 2015 چین میں فضائی آلودگی انتہا کو پہنچ گئی

china air pollotion

چین میں فضائی آلودگی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سے بڑی تعداد چین کے صنعتی شہرہیں۔ گزشتہ روز سے شمال مشرقی چین کے صوبہ لیاؤننگ میں فضائی آلودگی نے لوگوں کو عذاب میں مبتلاکردیا ہے۔ اس کی وجہ عمارات کو گرم رکھنے کے لیے کوئلے سے چلنے والے سسٹم ہیں جن کی وجہ سے شہر میں انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک پی ایم 2.5 ذرات بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے معیار کے مطابق ان ذرات کی تعداد فی مکعب میٹر 25 مائیکروگرام سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے لیکن شین یانگ شہر میں یہ تعداد 1155 مائیکروگرامز تک جا پہنچی ہے۔ شہر کے ماحولیاتی حفاظت کے دفتر نے بتایا ہے کہ بلکہ مانیٹرنگ کے چند مقامات پر تو انہیں 1400 تک پایا گیا ہے۔ جس کے بعد انتہائی ہنگامی حالت کا اعلان کردیا گیا ہے۔

صوبہ لیاؤننگ شہر کے 14 میں سے 9 شہروں میں ہوائی معیار کا اشاریہ 300 سے اوپر تک پہنچا ہے، جو بہت خطرناک سطح ہے۔شین یانگ، آن شان، لیاؤ یانگ اور تیلنگ سب سے زیادہ آلودہ شہر رہے، جہاں یہ اشاریہ 500 سے بھی آگے تک گیا۔ کوئلے سے چلنے والے ہیٹنگ سسٹمز کے علاوہ پڑوسی صوبے ہیلونگ جیانگ سے آنے والی آلودہ ہوائیں بھی اس صورت حال کا سبب ہیں۔

شی نیانگ کے جن چیو ہسپتال کے مطابق علاج کے لیے آنے والے سانس کے مریضوں میں یکدم 15 فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے اور محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگلے کئی دنوں تک فضائی آلودگی کی سطح برقرار رہے گی۔


متعلقہ خبریں


دنیا کے 90 فیصد افراد آلودہ فضا میں جینے پر مجبور صبا حیات - بدھ 05 اکتوبر 2016

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے صحت کے مطابق دنیا میں ہر10میں سے9 افراد آلودہ فضا میں سانس لے رہے ہیں۔’دنیا کی 92 فیصد آبادی فضائی آلودگی سے متاثر‘ ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق یہ آلودگی دنیا میں مرنے والے ہر آٹھویں فرد کی موت کی وجہ ہے اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں صرف سنہ 2012 میں 70 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ جبکہ ایک اور تحقیقی رپورٹ کے مطابق ہر سال کم وبیش 30 لاکھ اموات فضائی آلودگی کے باعث ہوتی ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے بقول دنیا کی 92 فیصد آبادی ایسے مقامات پر رہتی ہے جہاں کی ...

دنیا کے 90 فیصد افراد آلودہ فضا میں جینے پر مجبور