وجود

... loading ...

وجود
جمعه 02 جنوری 2026

ترکی میں انتخابات کی مختصر تاریخ

اتوار 01 نومبر 2015 ترکی میں انتخابات کی مختصر تاریخ

first-ottoman-parliament

ترکی چھ ماہ میں آج اپنے دوسرے اور اہم ترین انتخابات کے مرحلے سے گزر ے گا۔ ایک ایسے موقع پر جب ملک کئی بحرانوں کا سامنا کررہا ہے، یہ انتخابات ترکی کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ملک میں انتخابات کی تاریخ بہت پرانی ہے بلکہ تمام مسلم اکثریتی ممالک میں سب سے پہلے جدید انتخابات ترکی ہی میں ہوئے۔

موجودہ ترکی میں پہلے جدید انتخابات 1840ء میں اس وقت ہوئے جب یہ سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھے۔ گوکہ اس کی صورت جدید دور سے کچھ مختلف تھی کیونکہ اس میں مقامی اراکین پارلیمان کو دیہی علاقوں میں مقرر کیا گیا تھا تاکہ وہ انتظامی اور امن و امان کے مسائل کا خیال رکھیں ۔ اس میں اجلاس مقامی گورنر یا ضلعی سربراہ کے ماتحت ہوتے تھے اور اس میں مقامی آبادی کے اراکین بھی شامل ہوتے تھے۔ نصف اراکین کا انتخاب مسلمانوں میں سے جبکہ نصف کا غیر مسلم آبادی سے ہوتا تھا۔ مزید برآں، غیر مسلم برادری کے دنیاوی امور کی نگرانی کے لیے کونسل بھی انتخابات کے ذریعے ہی منتخب ہوتی تھی۔

چند مورخین کہتے ہیں کہ سلطنت عثمانیہ میں اقلیتوں کو جو حقوق حاصل تھے، اس وقت کے یورپ میں اس کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔

پھر 1876ء میں ایک جدید آئین تشکیل دیا گیا اور سلطنت عثمانیہ ایک آئینی بادشاہت میں بدل گئی۔ منتخب اراکین کی پارلیمنٹ استنبول میں طلب کی گئی۔ بعد ازاں سلطان عبد الحمید ثانی نے پارلیمان کو معطل کردیا اور آئندہ انتخابات کا بھی خاتمہ کردیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ 1877ء کی ترک-روس جنگ میں شکست کا سبب پارلیمان تھی۔ بہرحال، وہ 30 سال تک مطلق العنان بادشاہ کی حیثیت سے برقرار رہے یہاں تک کہ 1908ء میں فوجی افسران کی بغاوت کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر آئینی بادشاہت بحال ہوئی اور ملک کا اقتدار جمعیت ِ اتحاد و ترقی نامی جماعت نے سنبھالا۔

سلطان عبد الحمید 1908ء میں آئین بحال کرنے پر مجبور ہوئے اور یوں ترکی میں عثمانیوں کے اقتدار کا حتمی زوال شروع ہوگیا

سلطان عبد الحمید 1908ء میں آئین بحال کرنے پر مجبور ہوئے اور یوں ترکی میں عثمانیوں کے اقتدار کا حتمی زوال شروع ہوگیا

عثمانی تاریخ کی پہلی باضابطہ پارلیمان کل 130 اراکین پر مشتمل تھی جن میں سے 80 مسلمان اور 50 غیر مسلم تھے لیکن 1908ء کی اس پارلیمان میں غیر مسلم اراکین کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا حالانکہ پارلیمان کے اراکین کی کل تعداد 280 ہوگئی تھی۔

نئے انتخابات میں سلطنت کے ان مردوں کو ہی ووٹ دینے کا اختیار حاصل تھا جو محصول دیتے تھے یا ملک میں جائیداد رکھتے تھے۔ اس میں ایک رکن 50 ہزار افراد کی نمائندگی کرتا تھا جس کے لیے انتخاب کا عمل دو مرحلوں میں ہوتا تھا۔ پہلے مرحلے میں ہر 500 ووٹر ایک ثانوی مختار کو چنتے تھے جبکہ دوسرے میں ثانوی مختار مل کر پارلیمان کے اراکین کا انتخاب کرتے تھے۔ دو مرحلہ انتخابات کا یہ نظام 1946ء تک امریکا میں نافذ العمل رہا بلکہ یورپ میں بھی لگ بھگ اسی طرح انتخابات ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ محصولات ادا نہ کرنے والے یا ملکیت نہ رکھنے والوں کو یورپ میں بھی ووٹ دینے کا اختیار نہیں تھا۔ یعنی “انتخابی کھیل” صرف صاحبانِ ثروت اور شاہی خاندان کے افراد ہی کھیل سکتے تھے۔

بہرحال، 1908ء سے سلطنت عثمانیہ میں جدید سیاسی جماعتوں کا قیام عمل میں آنے لگا۔ 1912ء کے انتخابات سے قبل جمعیت اتحاد و ترقی نے کافی عوامی حمایت کھوئی لیکن اپنا ووٹ بچانے کے لیے اس نے عوام پر مختلف طریقے سے دباؤ ڈالا یہاں تک کہ مخالفین کو ووٹ دینے کے خواہشمند افراد کو جمعیت کے افراد نے مارا پیٹا بھی۔ یوں 1912ء کے انتخابات سے ملک واحد جماعت کی آمریت کے چنگل میں پھنس گیا۔ ترک تاریخ میں انہیں “ڈنڈا بردار انتخابات” کہا جاتا ہے۔

جب 1918ء میں جمعیت کو حکومت کا تختہ الٹا گیا تو ایک مرتبہ پھر انتخابات ہوئے۔ عثمانی سلطنت کے بچے کچھے حصے اب ایک کثیر جماعتی جمہوریت تھے، جس میں ایک سوشلسٹ جماعت تک شامل تھی۔ آزاد خیال فکر جڑیں پکڑ چکی تھی لیکن انقرہ سے اٹھنے والی قوم پرست تحریک نے اپنے پیروکاروں کے علاوہ کسی کو 1919ء کے انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا۔ سلطنت عثمانیہ کی آخری جنرل اسمبلی 23 اپریل 1920ء کو انقرہ منتقل ہوئی کیونکہ استنبول دشمن کے قبضے میں تھا۔ جب مصطفیٰ کمال کو اندازہ ہوا کہ وہ ترکی کے بارے میں اپنے بڑے وژن کو ایک نسبتاً جمہوری پارلیمان کے ساتھ پورا نہیں کرسکتے تو انہوں نے 1923ء میں پارلیمان ہی معطل کردی۔ انہوں نے اپنے ہی منتخب کردہ نائب اراکین کے ساتھ مل کر نئی پارلیمان تشکیل دی اور خود صدر بن بیٹھے۔ ترکی میں جمہوریت کا قیام اور دیگر “انقلابی” تبدیلیاں اسی پارلیمان کے ہاتھوں رونما ہوئیں۔

اتاترک کا عہد مطلق العنان جمہوریت کی زریں مثال تھا

اتاترک کا عہد مطلق العنان جمہوریت کی زریں مثال تھا

نئے اراکین جمہوری خلق پارٹی کے رکن تھے، جس کی قیادت خود مصطفیٰ کمال کے ہاتھ میں تھی۔ انتخابات ضرور ہوئے لیکن کوئی مخالف جماعت تھی ہی نہیں۔ سب کو انہی افراد کو ووٹ دینا تھا، جنہیں حکومت نے منتخب کیا تھا۔ بالفاظ دیگر یہ صدر کے منتخب کردہ افراد کے لیے عوامی تصدیق حاصل کرنے کا عمل تھا۔ اسے آپ سوویت یونین کے سیاسی ماحول جیسا کہہ سکتے ہیں۔ 1935ء میں ترکی میں عورتوں کو بھی حق رائے دہی دیا گیا اور حکومت کی منتخب کردہ 17 خواتین پارلیمان میں پہنچیں۔

مخالفین کو خوش کرنے کے لیے حکومت نے 1943ء میں ہر صوبے میں اضافی امیدوار بھی کھڑا کیا۔ لیکن یہ دوسری جنگ عظیم کا زمانہ تھا۔ ترکی نے عالمی جنگ میں حصہ تو نہیں لیا تھا لیکن غربت نے ملک کو جکڑ لیا تھا اور امریکی امداد کے حصول کے لیے جمہوری خلق پارٹی کے صدر عصمت انونو کو ایک کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔ انہیں جمہوری انتخابات پر رضامندی دکھانی پڑی حالانکہ وہ خود جمہوریت پسند نہیں تھے۔

1945ء میں جمہوری خلق پارٹی کے مخالف کے طور پر ڈیموکریٹ پارٹی کا قیام عمل میں آیا۔ لیکن 1946ء کے انتخابات ہو بہو 1912ء جیسے ہی تھے۔ جمہوری خلق پارٹی کے مقررہ گورنر، ضلعی سربراہ، میئر اور صوبائی سربراہان نے جمہوری خلق پارٹی کو ووٹ دینے کے لیے عوام پر دباؤ ڈالا۔ کئی مقامات پر ہنگامے پھوٹے۔ فاتح کا تعین پہلے سے کیا جاچکا تھا، اس لیے ووٹ گننے تک کی نوبت نہ آئی۔ اس کے باوجود یہ بدترین انتخابات ملک کی جمہوری تاریخ میں فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئے کیونکہ یہ پہلے انتخابات تھے جہاں عوام نے براہ راست اراکین کا انتخاب کیا۔ پھر جمہوری خلق پارٹی کی حرکتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1950ء کے بعد سے یہ جماعت کبھی اکثریت کے ساتھ اختیار حاصل نہیں کرسکی۔

ترکی میں 1979ء کے انتخابات سیاہی والے انتخابات کہلاتے ہیں

ترکی میں 1979ء کے انتخابات سیاہی والے انتخابات کہلاتے ہیں

بارہا فوج اور افسر شاہی کی مداخلت کے باوجود انتخابات ترکی کے سیاسی منظرنامے کا اہم حصہ بن چکے تھے۔ 1961ء میں انتخابات متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہوئے۔ جس کے تحت ہر سیاسی جماعت کو پارلیمان میں اتنی نمائندگی ملی، جتنے اس نے انتخابات میں ووٹ حاصل کیے۔ اس نظام میں اتحاد ناگزیر ہوگیا۔ پھر 1980ء کی فوجی بغاوت کے بعد ایسا نظام ترتیب دیا گیا جو اتحادوں اور چھوٹی سیاسی جماعتوں کو پارلیمان میں داخل ہونے سے روک دے۔ سیاسی جماعتیں جو 10 فیصد ووٹ حاصل نہیں کرتیں، ان کو آج بھی پارلیمان میں نمائندگی نہیں دی جاتی۔

بار بار ووٹ بھگتانے والے عناصر کی سرکوبی کے لیے 1979ء کے انتخابات میں رائے دہندگان کے ہاتھوں ایسی سیاہی استعمال کی گئی جو کئی دنوں تک نہیں مٹتی تھی۔ اس لیے یہ انتخابات ترکی میں “سیاہی والے انتخابات” کے طور پر مشہور ہیں۔

ماضی قریب میں انتخابات میلے ٹھیلے اور جنگ کا سا سماں پیش کرتے تھے، گو کہ اب وہ پہلی والی رونقیں نہیں لیکن موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں ترکی کے ان انتخابات کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

turkey-elections-2015


متعلقہ خبریں


وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکا کراچی اور سندھ کے دورے کا اعلان(عمران خان کا پیغام لے کر آرہا ہوں، سہیل آفریدی وجود - جمعه 02 جنوری 2026

اسٹریٹ موومنٹ کیلئے 9 جنوری کو کراچی اور سندھ والو تیاری پکڑو، تمام پارٹی کے دوستوں سے جمعہ کے دن ملاقات ہوگی، لوگو! یاد رکھو اب ہمارے لیے کوئی طارق بن زیاد یا محمد بن قاسم نہیں آئے گا ظالم کیخلاف کھڑا ہونا ہے،اب پوری قوم کو نکلنا ہوگا ان کی گولیاں ختم ہو جائیں ہمارے سینے ختم ن...

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکا کراچی اور سندھ کے دورے کا اعلان(عمران خان کا پیغام لے کر آرہا ہوں، سہیل آفریدی

امریکی تاریخ کا منفرد لمحہ،ظہران ممدانی قرآن پر حلف اٹھا کرمیئر بن گئے وجود - جمعه 02 جنوری 2026

ظہران ممدانی نے حلف برداری کے دوران اپنا ہاتھ قرآن پاک پر رکھا،غیر ملکی میڈیا نیویارک کے شہریوں کی خدمت ان کیلئے زندگی کا سب سے بڑا اعتمار ہے،خطاب امریکا کے سب سے بڑے شہر نیویارک کے نو منتخب میٔرظہران ممدانی نے یکم جنوری 2026 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا اور وہ نیویارک کی تا...

امریکی تاریخ کا منفرد لمحہ،ظہران ممدانی قرآن پر حلف اٹھا کرمیئر بن گئے

نئے سال کی خوشیاں ماتم میں تبدیل،سوئٹزرلینڈ میں خوفناک دھماکا40 افراد ہلاک وجود - جمعه 02 جنوری 2026

علی الصبح تقریباً ڈیڑھ بجے ایک مشہوربار میں آگ لگنے سے تقریبا 100 افراد زخمی ہوئے نئے سال کی تقریبات جاری تھیں اور بڑی تعداد میں سیاح موجود تھے،ترجمان سوئس پولیس سوئٹزرلینڈ کے معروف اور لگژری اسکی ریزورٹ شہر کرانس مونٹانا میں ایک بار میں ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں...

نئے سال کی خوشیاں ماتم میں تبدیل،سوئٹزرلینڈ میں خوفناک دھماکا40 افراد ہلاک

سعودی عرب کا یمنی بندرگاہ پر فضائی حملہ،متحدہ عرب امارات کا فوجی آپریشن بند،فوجی واپس بلانے کا اعلان وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

کارروائی یمن کے علیحدگی پسند گروہ کیلئے اسلحے کی کھیپ پہنچنے پر کی گئی،امارات کی جانب سے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت سعودی عرب کی قومی سلامتی کیلئے براہِ راست خطرہ ہے،سعودی حکام یمن میں انسداد دہشتگردی کیلئے جاری اپنے باقی ماندہ آپریشن فوری طور پر ختم کررہے ہیں، واپسیشراکت دار...

سعودی عرب کا یمنی بندرگاہ پر فضائی حملہ،متحدہ عرب امارات کا فوجی آپریشن بند،فوجی واپس بلانے کا اعلان

ایف بی آر اقدامات ، تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال،دھرنے کی دھمکی وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

پوائنٹ آف سیل کا کالا قانون واپس نہ لیا گیا تو 16 جنوری سے آغاز کرینگے، ملک بھر کے تمام چوراہے اور کشمیر ہائی وے کو بند کردیا جائے گا،وزیراعظم ہماری شکایات دور کریں، صدر آبپارہ چوک سے ایف بی آر دفتر تک احتجاجی ریلی،شرکاء کو پولیس کی بھاری نفری نے روک لیا، کرپشن کے خاتمہ کے ل...

ایف بی آر اقدامات ، تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال،دھرنے کی دھمکی

بااختیار بلدیاتی نظام کیلئے ملک گیر عوامی ریفرنڈم ہوگا،حافظ نعیم وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

ریفرنڈم کے بعد پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کیخلاف صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے پاکستان اپنی فوج حماس اور فلسطینیوں کے مقابل کھڑی نہ کرے، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں پندرہ جنوری کو ملک گ...

بااختیار بلدیاتی نظام کیلئے ملک گیر عوامی ریفرنڈم ہوگا،حافظ نعیم

یوٹیوبر رجب بٹ ، وکلا کی لڑائی ؛ سٹی کورٹ میں ہڑتال وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

مظاہرین کا ایم اے جناح روڈ پر دھرنا ، ایف آئی آر کو فوری واپس لینے کا مطالبہ جب تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں ہوتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا،احتجاجی وکلاء (رپورٹ:افتخار چوہدری)کراچی ایم اے جناح روڈ پر وکلاء کے احتجاج کے باعث شاہراہ کئی گھنٹوں سے بند ۔احتجاج یوٹیوبر رجب بٹ ک...

یوٹیوبر رجب بٹ ، وکلا کی لڑائی ؛ سٹی کورٹ میں ہڑتال

عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں کرینگے،سلمان اکرم راجا وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

محمود اچکزئی کا یہی موقف ہے بانی کیساتھ ملاقاتیں بحال کئے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے مذاکرات کیلئے بھیک کا لفظ غلط لفظ ہے،پی ٹی آئی اور اچکزئی ایجنڈے میں کوئی فرق نہیں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرسکتے تو مذاکرات کی ک...

عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں کرینگے،سلمان اکرم راجا

بی ایل اے بچوں کو ہتھیار بنانے لگا،کمسن بچی کو خود کش بمبار بنانے کی کوشش ناکام وجود - منگل 30 دسمبر 2025

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں،سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے بلوچ بچی بلوچستان سے ہے، اس کی مختلف لوگوں نے ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، رابطہ ...

بی ایل اے بچوں کو ہتھیار بنانے لگا،کمسن بچی کو خود کش بمبار بنانے کی کوشش ناکام

پنجاب حکومت اخلاقی اور ذہنی پستی کا شکار ہے، میرے دورے میں نفرت آمیز رویہ اختیار کیا، سہیل آفریدی کا مریم نواز کواحتجاجی خط وجود - منگل 30 دسمبر 2025

میرے کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی،اسے اسمگلنگ اور منشیات سے جوڑا گیا، یہ سب پنجاب حکومت کی زیر نگرانی ہوا، انتظامی حربے استعمال کرنے کا مقصد تضحیک کرنا تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب حکومت نے کابینہ ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا ،لاہورکے شہریوں کو تکلیف دی گئی، قومی یکجہت...

پنجاب حکومت اخلاقی اور ذہنی پستی کا شکار ہے، میرے دورے میں نفرت آمیز رویہ اختیار کیا، سہیل آفریدی کا مریم نواز کواحتجاجی خط

عمران اور بشریٰ نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا وجود - منگل 30 دسمبر 2025

اسلام آباد ہائیکورٹ نیبانی تحریک انصافعمران خان کی اپیل پر ڈائری نمبر24560 لگا دیا عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر انحصار کیا جو نہیں کیا جا سکتا تھا، دائراپیل میں مؤقف بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا۔تفصیلات...

عمران اور بشریٰ نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا

فیض حمید نے فوجی عدالت کی سزا کیخلاف اپیل دائر کردی وجود - منگل 30 دسمبر 2025

اپیل رجسٹرار کورٹ آف اپیلز، اے جی برانچ، چیف آف آرمی اسٹاف کو جمع کرائی گئی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کیلئے 40 دن کا وقت تھا، وکیل میاں علی اشفاق کی تصدیق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی ...

فیض حمید نے فوجی عدالت کی سزا کیخلاف اپیل دائر کردی

مضامین
کشمیر 'خاموش اور اُداس' ہے :کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی رپورٹ میں انکشاف وجود جمعه 02 جنوری 2026
کشمیر 'خاموش اور اُداس' ہے :کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی رپورٹ میں انکشاف

بھارت کی ریاستی دہشت گردی وجود جمعه 02 جنوری 2026
بھارت کی ریاستی دہشت گردی

شیطان باہر نہیں اندر ہو تا ہے ! وجود جمعه 02 جنوری 2026
شیطان باہر نہیں اندر ہو تا ہے !

مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے! وجود جمعرات 01 جنوری 2026
مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے!

بھارتی مسلمان غیر محفوظ وجود جمعرات 01 جنوری 2026
بھارتی مسلمان غیر محفوظ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر