... loading ...

زلزلہ آگیا! ملک ریا ض کہیں نظر نہیں آئے۔ویگنوں اور رکشوں پر تحریریہ شعر ذرا گھسا پٹا اور وزن میں پورا نہیں مگر جن کے بارے میں ہیں ، وہ بھی وزن میں پورے نہیں ، اس لیے حسب حال ہی نہیں حسب وزن بھی ہے کہ
ملک ریاض “امداد” کے اعلانات میں کچھ اِسی طرح کی نفسیات رکھتے ہیں۔ جس کے باعث گاہے گمان ہوتا ہے کہ وہ خدانخواستہ حادثوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ تاکہ ملک میں کسی بھی حادثے میں اچانک نمودار ہو کر حکومت سے بھی پہلے امداد کے اعلانات کرکے اپنی” عزت” بڑھائیں ۔ مگر ایسا پہلی با ر ہوا ہے کہ ملکی تاریخ کے چند بڑے زلزلوں میں شامل حادثے میں وہ بالکل “مفقود الخبر” ہو گئے ہیں۔مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ ملک ریاض کے ساتھ “چور کو پڑ گیے مور ” والامعاملہ ہو چکا ہے۔ اس لیے پہلی بار حسینوں کے باپ مرنے پر بھی وہ موت کا بہانا ہونے کے باوجود اُن کے گھروں میں نہیں پہنچ سکے۔
تفصیلات کچھ یوں ہے کہ ملک ریاض راولپنڈی میں ایک ایسی زمین کو لے اڑے تھے جو فوجی شہدا کے لیے مخصوص تھی ۔ وقت گزارتے گزارتے وہ معاملے کو اپنی ڈھب پر لاتے رہے۔ جیسا کہ اس طرح کے معاملات میں کیا جاتا ہے۔ جب کبھی اُن سے کوئی “سرکاری ” یا “فوجی” رابطہ کیا جاتا تو اُن کا مشہور زمانہ جواب ایک نسخے کی شکل میں یوں ہوتا کہ “اس کو چھوڑو تم اپنا بتاؤ، کیا کرنا ہے؟” اس طرح چھوڑتے چھڑاتے وہ معاملے کو عدالتی چکی میں اپنی مرضی سے پیستے آرہے تھے۔ مگر اس مرتبہ کچھ اور ہی معاملہ ہو گیا۔ بہت سے لوگوں کی طرح وہ یہ سمجھ نہیں پائے کہ اس مرتبہ جو فوجی قیادت ہے ، اُن کا کوئی بھائی کامران کیا نی نہیں۔ اور جو منصف اعلیٰ ہیں ، اُن کا کوئی بیٹا ارسلان افتخار نہیں۔ چنانچہ جب ایک ماہ قبل اُنہیں ایک برگیڈئیر کا فون گیا کہ اُن سے کچھ “حل طلب” معاملات پر بات چیت کرنی ہے۔ تو وہ اِسے پہلے والے رابطوں کی طرح سمجھنے کی غلطی کر بیٹھے۔ ملک ریاض اپنے دفتر میں آنے والے مہمانوں سے عام طور پر یہ پوچھتے تھے کہ “آپ چائے برگیڈئیر کے ہاتھ کی پینا پسند کریں گے یا میجر جنرل کے ہاتھ کی؟” اس دفعہ یہ سمجھنے میں غلطی کر گیے کہ اُن کے ساتھ ہاتھ کیا ہورہا ہے؟ اور اُن پر ہاتھ کون سا پڑنے والا ہے؟ چنانچہ اُنہوں نے روایتی ٹال مٹول کیا ۔ اور مذکورہ برگیڈئیر(نام بوجوہ نہیں لکھا جارہا) کو پہلے والے نسخے سے رام کرنے کی کوشش کی۔ بس پھر کیا تھا؟ گاڑیاں حرکت میں آئیں اور اُن کی دہلیز تک جاپہنچیں۔ اور ملک ریاض کو لے کر مذکورہ برگیڈئیر کے پاس پہنچیں۔ مبینہ طور پر اُنہیں وہاں ایک اسٹول پر بٹھایا گیا ۔ اور کئی گھنٹے انتظار کی زحمت کرائی گئی۔ پھر اُن سے اُن ہی برگیڈئیر کی ملاقات کرائی گئی جن کے فون کو وہ سنجیدگی سے لینے تک تیار نہیں تھے۔ وہاں باتیں تو بہت ساری ہوئیں ۔ مگر شنید یہ ہے کہ اُن سے پو چھا گیا کہ وہ زمین کے معاملے میں مارکیٹ قیمت کب ادا کریں گے؟ جو ایک محتاط اندازے کے مطابق 35ارب روپے بنتی ہے۔ اُنہوں نے مختلف حیلے بہانے اور روایتی ٹوٹکے آزمانے چاہے۔ مگر اُنہیں نہایت سخت اور سرد لہجے میں بتا یا گیا کہ اُن کی روایتی چالاکیاں کام کرنے والی نہیں ہے۔ چنانچہ اُنہوں نے بادل نخواستہ رقم کی ادائی کے لیے تین ماہ کا وقت مانگا تھا ۔ جس پر اُنہیں ایک ماہ کا وقت دیا گیا ۔ اُٹھتے اُٹھتے اُن سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے اوپر واجب الادا ٹیکس ادا کیوں نہیں کر رہے؟ اس پر اُن کا جواب تھا کہ یہ مقدمہ عدالت میں ہے؟ اُنہیں پھر تلخ لہجے میں بتایا گیا کہ وہ روایتی چالاکیوں سے کام نہ لیں۔ اس پر اُنہیں اُسی ایک ماہ میں ٹیکس کی ادائی کا بھی وعدہ کرنا پڑا۔ یہ رقم بھی ایک محتاط اندازے کے مطابق 19 ارب روپے بنتی ہے۔ اس طرح اُنہیں ایک ماہ کے اندر اندر 54 ارب روپے کی ادائی کرنی تھی جس کے لیے اُن کے پاس اس ماہ کے اختتام تک کا وقت تھا۔
ملک ریاض نے مذکورہ برگیڈئیر سے ملاقات کے بعد دوکام کئے ہیں۔ سب سے پہلے تو اس رقم کے بندوبست میں وہ لگ گئے اور دوسرا کام اُنہوں نے نہایت تیزرفتاری سے ٹیلی ویژن نیٹ ورک لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ یہاں ہر بدعنوان شخص محاسبے سے بچنے کے لیے ذرائع ابلاغ کی آڑ میں چھپنا چاہتا ہے۔ اس رجحان کے زیر اثر آنے والے اب تک تمام ٹیلی ویژن کی اندرونی کہانیوں کا جائزہ ایک الگ تحریر پر اُٹھا رکھتے ہیں۔ جس میں ملک ریاض کے مذکورہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک سے ٹی وی انڈسٹری میں پیدا ہونے والی ہلچل پر بھی پوری روشنی ڈالی جائیگی۔
یہاں تو بس اتنا بتانا مقصود تھا کہ زلزلے کے بعد نظر نہ آنے والے ملک ریاض کن زلزلوں سے دوچار تھے۔
سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...
سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...
متعلقہ ممالک کو نئے معاہدے کیلئے راغب کریں،محکمہ خار جہ کا امریکی سفارتخانوں کو پیغام معاہدے کا نام میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ رکھا گیا ہے،ہرمز کاروبار کیلئے تیار ، ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ ک...
بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...
ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...
چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...
کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...
جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...
جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...
آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...
امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...