... loading ...

شام میں روس کی عسکری مداخلت کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہوگا کہ مشرق وسطیٰ میں زور زبردستی کی امریکا کی اجارہ داری کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اب امریکا خطے میں قیادت کھو رہا ہے۔ ایک متبادل داعش مخالف اتحاد کا ظہور پذیر ہونا مریکا کو دنیا کے ایک بڑے حصے میں قائدانہ حیثیت سے محروم کردے گا۔
امریکا کو سیاسی، عسکری و ابلاغی تینوں منظرناموں پر اس چیلجن کا جواب دینا پڑ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا پیش مرگہ اور وائی پی جی کے ساتھ مل کر عسکری آپریشن کی تیاری کررہا ہے تاکہ رقہ پر قبضہ کیا جاسکے۔ امریکا اس جارحانہ کارروائی میں کرد گروہوں کو فضائی مدد بھی پیش کرے گا۔
اہم بات یہ ہے کہ ترکی اس منصوبے کی حمایت کررہا ہے۔ قبل ازیں، ساؤتھ فرنٹ نے پایا تھا کہ کردوں کے خلاف ترکی کا رویہ واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان تناؤکا سبب بن سکتا ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ طیب ایردوغان فیصلہ کر چکے ہیں کہ انہیں امریکا کی حمایت کرنی ہے کیونکہ شام میں دہشت گرد حامی پالیسی کی ناکامی سے اسے سیکورٹی خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ 7 اکتوبر کو داعش سے تعلق رکھنے والے چھ افراد ترک صوبہ غازی عنتب سے گرفتار ہوئے جو نقلی سکے ڈھال رہے تھے۔ پھر ترکی کی داعش کے ساتھ تیل کی تجارت میں بھی مبینہ طور پر کمی واقع ہوگئی ہے۔ 10 اکتوبر کو انقرہ میں امن ریلی میں دو دھماکوں نے ثابت کیا کہ ایردوغان حکومت دارالحکومت کا بھی دفاع نہیں کرسکتی اور داعش کے عسکریت پسندوں نے فیصلہ کیا ہے کہ دھوکا دینے پر ترکی کو نشانہ بنائیں گے۔
روسی آپریشن کے نتائج اور رقہ میں امریکی آپریشن کا مستقبل شام میں داعش کا صفایا کرنے کے لیے حقیقی خطرات پیدا کرے گا۔ اس ماحول میں ایرودغان نے خطے کے لیے اپنی آزادانہ پالیسی کی کوششیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور امریکا، نیٹو اور یورپی یونین کے ساتھ مصالحت و مفاہمت کا راستہ اختیار کیا ہے۔
18 اکتوبر کو جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل ترکی پہنچیں اور یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کے مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی حمایت کی۔ ترکی یورپ کے ساتھ اپنی سرحدوں کو مضبوط بنانے کے لیے 3 ارب یوروز کے امدادی پیکیج کا مطالبہ کرچکا ہے۔ یوں ترکی خطے کے لیے اپنی حکمت عملی کو از سر نو تشکیل دے رہا ہے۔ اس میں سخت ایران مخالف پالیسی اور روس کے ساتھ تعلقات میں نرمی پیدا کرنا شامل ہے۔ یہ ایک عظیم بحران کے شکار خطے کے لیے بڑی پیشرفت کی علامت ہے۔ شام، عراق، یمن اور اسرائیل-فلسطین تنازع اس بحران کے مراکز ہیں، لیکن خطے میں عدم استحکام بڑے پیمانے پر پھیل چکا ہے۔ ترکی خود بھی دہشت گردی سے متاثر ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کا معاملہ بہت پرانی ہے۔ سعودی عرب یمن میں ایک طویل معرکے میں ملوث ہے اور اس کے سرحد پار سے ہونے والے حملوں کو بھگت رہا ہے۔
ساؤتھ فرنٹ توقع رکھتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں باہم مقام عالمی اتحاد اب نئی صورت اختیار کریں گے:
پہلے اتحاد میں سعودی عرب، ترکی اور اسرائیل ہوں گے جن کی قیادت امریکا کے پاس ہوگی۔ اکتوبر میں اسرائیل کے لیے حق میں کچھ نرم بیانات سعودی ذرائع ابلاغ پر سامنے آئے جبکہ ترکی اور اسرائیل میں مشترکہ عسکری تعاون کا امکان ہے۔ وہ پہلے ہی عسکری شعبوں میں طویل المیعاد تعاون کی ایک کامیاب تاریخ رکھتے ہیں۔
دوسرے اتحاد میں روس، ایران اور شام ہوں گے۔ ایران نے شام میں روس کے فوجی آپریشن کی سب سے پہلے حمایت کی تھی۔ وہ روس کی مدد سے خطے میں اپنے کردار کو مزید پھیلا سکتا ہے۔ یہ اتحاد امریکا کی زیر قیادت قوتوں کے خلاف متحد ہوگا۔
درحقیقت یہ صورتحال مستقبل کی ایک جنگ کا پس منظر فراہم کررہی ہے۔ باوجودیکہ مستقبل قریب میں ایسی کسی جنگ کا امکان نہیں لیکن امریکا اور روس جنگی محاذ کے مختلف حصوں پر موجود ہیں اور تیزی سے تبدیل ہوتی صورتحال دونوں میں فوری مصالحت کا رخ اختیار کرسکتی ہے۔
آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...
کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...
ملک بھر میںکشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کا عہد، شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے مختلف مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی پاکستان ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے جدوجہد آزادی میں مصروف ...
پاکستان اور جموں وکشمیر کے اٹوٹ رشتے کی تجدید، دنیا کشمیریوں کی پکار سنے گی پاکستان اور آزاد کشمیر میںجوش و خروش سے جلسے ، جلوسوں ، ریلیوں کا انعقادکیا جائیگا پاکستان، آزاد جموں وکشمیر اور دنیا بھر میںآج یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جائے گا جسکا مقصد بھارتی ظلم ستم...
ہر شہر میں جلسے منعقد کیے جائیں اور ریلیاں نکالی جائیں، مولانا عبدالغفور حیدری 8 فروری کا الیکشن قوم کیلئے ناقابل قبول ، عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے،بات چیت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے مرکزی سیکریٹری جنرل جمعیت...
آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں پھلوں کی 2۔28 اور مصالحہ جات کی 2 فیصدقیمتوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیا رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ، آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں۔ تفصیلات...
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...