... loading ...

پا کستانی سیاست کے دو اہم ترین کردار گذشتہ ڈھائی سال سے آپس میں سینگ لڑاتے ہوئے عوام کے دکھوں کا رونا رو رہے ہیں اور اس بات کے دعویدار ہیں کہ صرف وہی عوام کے دکھوں کا مداوا کر سکتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف ان دونوں نے اربوں روپوں کے اثاثے اور جائیدادیں بنائیں اور اب جرات سے انہیں تسلیم نہیں کرتے کہ کیا کچھ ان کے پاس ہے۔ حالیہ دنوں میں ہر دو قائد ین نے جس تواتر کے ساتھ غریب کے چولہے کا رونا رویا ہے ، اُسے سامنے رکھتے ہوئے کیوں نہ ان کے اپنے ہاتھوں کا لکھا ہوا کچھ عوام کے سامنے لا کر پو سٹمارٹم کر لیا جائے باقی جو رہ جائے گا وہ وقت آنے پر خود ہی سامنے آ جائے گا۔
وزیراعظم نوازشریف اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اثاثوں کے وہ گوشوارے سامنے ہیں جو انہوں نے حالیہ 2013 ء کے انتخابات کے بعد قومی اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنے کے فارم پر الیکشن کمیشن میں جمع کرائے تھے۔ ان گوشواروں میں ان دونوں حضرات نے نہ صرف اربوں کے اثاثے انتہائی بد نیتی سے کم دکھائے بلکہ ان کے دعووں کے برخلاف ان میں اضافہ بھی ہوتا جا رہا ہے اور ٹیکس بھی نہایت معمولی ادا کیا ہے۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اثاثوں کے گوشوارے کے مطابق ان کے اثاثوں کی مجموعی مالیت ۳ کروڑ ۲۷ لاکھ روپے ہے جن میں گزشتہ سال 2013ء کے مقابلے میں ۳۰ لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ افسوس اور انتہائی دکھ کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سالہاسال قبل حاصل کہ گئی جائیدادوں کی کوئی مالیت نہیں لکھی جن میں بنی گالہ اسلام آباد کا ۳۰۰ کنال کا گھر سرفہرست ہے جس کی کم از کم مارکیٹ میں مالیت ۵۰ کروڑ سے زائد ہے۔ اسی طرح زمان پارک لاہور کے بنگلے کی بھی کوئی قیمت نہیں لکھی گئی جبکہ خود نوازشریف نے اسی طرح کے بنگلے کی مالیت ۲۵ کروڑ روپے بتائی ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اسلام آباد کے سفارتی انکلیو کے کلارا اپارٹمنٹس کے فلیٹ کی مالیت ساڑھے گیارہ لاکھ روپے بتائی ہے جبکہ یہ اس کے تین ماہ کا کرایہ بھی نہیں ہے۔
پاکستان میں سماجی انصاف اور غریب عوام کو حقوق پہنچانے کے دعویدار عمران خان نے بھکر میں سات مقامات پر واقع ۵۷۴ کنال اراضی کی کوئی قیمت نہیں لکھی جبکہ بکھر میں ہی واقع ۲۴۶ کنال کے ایک اور ٹکڑے کی قیمت ۴۲ لاکھ روپے بتائی ہے۔ اسی طرح موصوف نے میاں چنوں میں ۵۳۰ کنال کی ایک زرعی اراضی کی مالیت صرف ۵۰ ہزار روپے قرار دی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق عمران خان کی ۱۳۵۰ کنال زرعی اراضی ، رہائشی پلاٹس، بنگلوں اور جائیدادوں کی اصل قیمت دو ارب روپے سے زیادہ بنتی ہے جبکہ اس غریب پرور لیڈر کے تین مختلف فارن کرنسی اکاؤنٹس میں ایک کروڑ ستر لاکھ روپے موجود ہے۔
کچھ اسی طرح کا حال ملک کے وزیراعظم نوازشریف صاحب کا بھی ہے کہ عباس اینڈ کمپنی میں ان کی سرمایہ کاری کی مالیت دس ہزار روپے ہے۔جاتی عمرہ کے محلات کی مالیت صرف ۴۰ لاکھ روپے ۔ حدیبیہ انجینئرنگ کمپنی ، حدیبیہ پیپر ملز، حمزہ سپننگ ملز اور محمد بخش ٹیکسٹائل ملز میں شیئرز کی مالیت محض ایک کروڑ انیس لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ ان کھربوں روپے مالیت کی فیکٹریوں میں وزیراعظم نوازشریف صاحب کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کے شیئرزکی قیمت تاحال ۶۷ لاکھ روپے ہے۔ وزیراعظم نوازشریف صاحب کے گھر میں فرنیچر وغیرہ کا تخمینہ ۳۰ لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔ اہلیہ کے پاس موجود زیورات کی مالیت ۱۵ لاکھ روپے ہے۔
وزیراعظم نوازشریف صاحب کے ہاتھ میں بندھی اس مشہور زمانہ گھڑی کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جو خود حکومتی ترجمان کے بقول نوازشریف کو کسی نے تحفہ میں دی ہے۔ اس کی مالیت عالمی سطح پر کروڑوں میں ہے۔ تاہم وزیراعظم نوازشریف صاحب نے اپنی بعض جائیدادوں کی وہ قیمت بھی بتائی ہیں جو مارکیٹ قیمت کے قریب ہیں تاہم ڈنڈی ان میں بھی ماری ہے جن میں ماڈل ٹاؤن لاہور کے گھر کی مالیت ۲۵ کروڑ روپے ، رائیونڈ کی زمینوں کی قیمت ۹۹ کروڑ ان کی اہلیہ کلثوم نواز کی ملکیت مری کے دو بنگلوں کی مالیت بالترتیب ۱۰ کروڑ اور ۷ کروڑ بتائی ہے۔ ایک اور اہم چیز وزیراعظم نوازشریف صاحب کے فرزند حسین نواز کی جانب سے لندن سے بجھوائے جانے والی قریبا ۲۵ کروڑ کی رقم ہے۔
وزیراعظم نوازشریف صاحب کے گوشوارے کے مطابق ان کے اثاثوں کی مالیت ڈھائی سے تین ارب روپے ہے تاہم ان کی اصل قیمت کئی گنا زیادہ ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ نوازشریف نے بھی صاف جھوٹ بولتے ہوئے اصل جائیدادوں اور ان کی اصل قیمت کو چھپایا ہے۔
ان دونوں سیاسی لیڈروں کا رہن سہن ان کے گوشواروں سے بھی میل نہیں کھاتا اور نہ ہی ان کے ادا شدہ انکم ٹیکس سے کوئی موازنہ ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ دونوں قائدین عوام کے سامنے تو عوام دوست اور ان کے ہمدرد ہیں تاہم ان کی اصل زندگی ان کے دعوؤں سے کہیں مختلف ہے۔
مذکورہ حقائق کو سامنے رکھ کر اگر عدالت سے رجوع کیا جائے اور ان دونوں قومی رہنماؤں کے خود ظاہر کیے گیے اثاثوں کی مارکیٹ میں اصل لاگت کی درست پڑتال کرائی جائے تو تمام حقائق منظر عام پر خود ہی آجائیں گے اور دونوں ہی رہنماؤں پر آئین کی دفعات ۶۲ اور۶۳ کا اطلاق بآسانی ہو سکے گا جن میں یہ اپنے موجودہ اثاثوں کی لاگت کو درست بیان کرنے میں دروغ گوئی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ جبکہ ان دونوں رہنماؤں نے اپنی اصل جائیدادیں سرے سے ظاہر ہی نہیں کی اور اپنی بے اندازا دولت اور اس کے ذرایع کو جس طرح چھپایا ہے اُس کا تو کوئی حساب ہی نہیں ۔
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...
سندھ حکومت نے فوری طور پر آگ کے واقعے کا نوٹس لیا ہے،وزیر اطلاعات سندھ کتنا نقصان ہوا اس کا تخمینہ آگ بھجانے کے بعد ہی لگایا جائے گا،نجی ٹی وی سے گفتگو وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں لگی آگ میں کوتاہی سامنے آئی تو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروا...
نفاذ یکم فروری سے کیا جائیگا،جب تک گرین لینڈ نہیں مل جاتا ٹیرف بڑھتا ہی جائیگا معاہدہ نہ ہونے پر یکم جون سے ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا،امریکی صدر گرین لینڈ ملنے میں رکاوٹ اور ساتھ نہ دینے پر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کر دیا، جس کا باقاعد...
قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا، وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گے، سردار ایاز صادق اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں،آئین کے دائرے میں گفتگو کی اجازت ہوگی ،ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور ان ...
ہم عوام کو ساتھ لے کر چلیں گے، کسی آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے،ہری پور کی عوام بانی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں لیکن ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیاہے ،کارکنان کا وزیر اعلی کا شاندار استقبال ہماری بدقسمتی ہے ایک دفعہ نہیں دو دفعہ منیڈیٹ چوری کیا، تین سال سے ہم ہر جگہ تحریک چلا رہے ہی...
کراچی میں بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی گرفتاری بڑی کامیابی ہے، مراد علی شاہ ملزم کیخلاف شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں لیجایا جائے،ملزم کی گرفتاری پرپولیس کو شاباش وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کی گرفتاری پر پولیس کو شاباش دی ہے۔اس...
متاثرہ بچے کی نشاندہی پر ٹیپو سلطان میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون کی بڑی کارروائی ملزم عمران اور وقاص خان نے 12 سے 13 سال کے لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا کراچی میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون نے رواں سال کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کو ساتھی سمیت گرفتار ...