وجود

... loading ...

وجود

نواز شریف اور عمران خان اربوں کھربوں کے مالک مگر ماننے اور ٹیکس دینے کو تیار نہیں

اتوار 18 اکتوبر 2015 نواز شریف اور عمران خان اربوں کھربوں کے مالک مگر ماننے اور ٹیکس دینے کو تیار نہیں

Imran-Khan-vs-Nawaz-Sharif

پا کستانی سیاست کے دو اہم ترین کردار گذشتہ ڈھائی سال سے آپس میں سینگ لڑاتے ہوئے عوام کے دکھوں کا رونا رو رہے ہیں اور اس بات کے دعویدار ہیں کہ صرف وہی عوام کے دکھوں کا مداوا کر سکتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف ان دونوں نے اربوں روپوں کے اثاثے اور جائیدادیں بنائیں اور اب جرات سے انہیں تسلیم نہیں کرتے کہ کیا کچھ ان کے پاس ہے۔ حالیہ دنوں میں ہر دو قائد ین نے جس تواتر کے ساتھ غریب کے چولہے کا رونا رویا ہے ، اُسے سامنے رکھتے ہوئے کیوں نہ ان کے اپنے ہاتھوں کا لکھا ہوا کچھ عوام کے سامنے لا کر پو سٹمارٹم کر لیا جائے باقی جو رہ جائے گا وہ وقت آنے پر خود ہی سامنے آ جائے گا۔

وزیراعظم نوازشریف اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اثاثوں کے وہ گوشوارے سامنے ہیں جو انہوں نے حالیہ 2013 ء کے انتخابات کے بعد قومی اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنے کے فارم پر الیکشن کمیشن میں جمع کرائے تھے۔ ان گوشواروں میں ان دونوں حضرات نے نہ صرف اربوں کے اثاثے انتہائی بد نیتی سے کم دکھائے بلکہ ان کے دعووں کے برخلاف ان میں اضافہ بھی ہوتا جا رہا ہے اور ٹیکس بھی نہایت معمولی ادا کیا ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اثاثوں کے گوشوارے کے مطابق ان کے اثاثوں کی مجموعی مالیت ۳ کروڑ ۲۷ لاکھ روپے ہے جن میں گزشتہ سال 2013ء کے مقابلے میں ۳۰ لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ افسوس اور انتہائی دکھ کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سالہاسال قبل حاصل کہ گئی جائیدادوں کی کوئی مالیت نہیں لکھی جن میں بنی گالہ اسلام آباد کا ۳۰۰ کنال کا گھر سرفہرست ہے جس کی کم از کم مارکیٹ میں مالیت ۵۰ کروڑ سے زائد ہے۔ اسی طرح زمان پارک لاہور کے بنگلے کی بھی کوئی قیمت نہیں لکھی گئی جبکہ خود نوازشریف نے اسی طرح کے بنگلے کی مالیت ۲۵ کروڑ روپے بتائی ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اسلام آباد کے سفارتی انکلیو کے کلارا اپارٹمنٹس کے فلیٹ کی مالیت ساڑھے گیارہ لاکھ روپے بتائی ہے جبکہ یہ اس کے تین ماہ کا کرایہ بھی نہیں ہے۔

پاکستان میں سماجی انصاف اور غریب عوام کو حقوق پہنچانے کے دعویدار عمران خان نے بھکر میں سات مقامات پر واقع ۵۷۴ کنال اراضی کی کوئی قیمت نہیں لکھی جبکہ بکھر میں ہی واقع ۲۴۶ کنال کے ایک اور ٹکڑے کی قیمت ۴۲ لاکھ روپے بتائی ہے۔ اسی طرح موصوف نے میاں چنوں میں ۵۳۰ کنال کی ایک زرعی اراضی کی مالیت صرف ۵۰ ہزار روپے قرار دی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق عمران خان کی ۱۳۵۰ کنال زرعی اراضی ، رہائشی پلاٹس، بنگلوں اور جائیدادوں کی اصل قیمت دو ارب روپے سے زیادہ بنتی ہے جبکہ اس غریب پرور لیڈر کے تین مختلف فارن کرنسی اکاؤنٹس میں ایک کروڑ ستر لاکھ روپے موجود ہے۔

عمران خان نے میاں چنوں میں ۵۳۰ کنال کی ایک زرعی اراضی کی مالیت صرف ۵۰ ہزار روپے قرار دی ہے، وزیراعظم نوازشریف نے عباس اینڈ کمپنی میں اپنی سرمایہ کاری کی مالیت دس ہزار روپے بتائی ہے۔

کچھ اسی طرح کا حال ملک کے وزیراعظم نوازشریف صاحب کا بھی ہے کہ عباس اینڈ کمپنی میں ان کی سرمایہ کاری کی مالیت دس ہزار روپے ہے۔جاتی عمرہ کے محلات کی مالیت صرف ۴۰ لاکھ روپے ۔ حدیبیہ انجینئرنگ کمپنی ، حدیبیہ پیپر ملز، حمزہ سپننگ ملز اور محمد بخش ٹیکسٹائل ملز میں شیئرز کی مالیت محض ایک کروڑ انیس لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ ان کھربوں روپے مالیت کی فیکٹریوں میں وزیراعظم نوازشریف صاحب کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کے شیئرزکی قیمت تاحال ۶۷ لاکھ روپے ہے۔ وزیراعظم نوازشریف صاحب کے گھر میں فرنیچر وغیرہ کا تخمینہ ۳۰ لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔ اہلیہ کے پاس موجود زیورات کی مالیت ۱۵ لاکھ روپے ہے۔

وزیراعظم نوازشریف صاحب کے ہاتھ میں بندھی اس مشہور زمانہ گھڑی کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جو خود حکومتی ترجمان کے بقول نوازشریف کو کسی نے تحفہ میں دی ہے۔ اس کی مالیت عالمی سطح پر کروڑوں میں ہے۔ تاہم وزیراعظم نوازشریف صاحب نے اپنی بعض جائیدادوں کی وہ قیمت بھی بتائی ہیں جو مارکیٹ قیمت کے قریب ہیں تاہم ڈنڈی ان میں بھی ماری ہے جن میں ماڈل ٹاؤن لاہور کے گھر کی مالیت ۲۵ کروڑ روپے ، رائیونڈ کی زمینوں کی قیمت ۹۹ کروڑ ان کی اہلیہ کلثوم نواز کی ملکیت مری کے دو بنگلوں کی مالیت بالترتیب ۱۰ کروڑ اور ۷ کروڑ بتائی ہے۔ ایک اور اہم چیز وزیراعظم نوازشریف صاحب کے فرزند حسین نواز کی جانب سے لندن سے بجھوائے جانے والی قریبا ۲۵ کروڑ کی رقم ہے۔

وزیراعظم نوازشریف صاحب کے گوشوارے کے مطابق ان کے اثاثوں کی مالیت ڈھائی سے تین ارب روپے ہے تاہم ان کی اصل قیمت کئی گنا زیادہ ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ نوازشریف نے بھی صاف جھوٹ بولتے ہوئے اصل جائیدادوں اور ان کی اصل قیمت کو چھپایا ہے۔

ان دونوں سیاسی لیڈروں کا رہن سہن ان کے گوشواروں سے بھی میل نہیں کھاتا اور نہ ہی ان کے ادا شدہ انکم ٹیکس سے کوئی موازنہ ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ دونوں قائدین عوام کے سامنے تو عوام دوست اور ان کے ہمدرد ہیں تاہم ان کی اصل زندگی ان کے دعوؤں سے کہیں مختلف ہے۔

مذکورہ حقائق کو سامنے رکھ کر اگر عدالت سے رجوع کیا جائے اور ان دونوں قومی رہنماؤں کے خود ظاہر کیے گیے اثاثوں کی مارکیٹ میں اصل لاگت کی درست پڑتال کرائی جائے تو تمام حقائق منظر عام پر خود ہی آجائیں گے اور دونوں ہی رہنماؤں پر آئین کی دفعات ۶۲ اور۶۳ کا اطلاق بآسانی ہو سکے گا جن میں یہ اپنے موجودہ اثاثوں کی لاگت کو درست بیان کرنے میں دروغ گوئی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ جبکہ ان دونوں رہنماؤں نے اپنی اصل جائیدادیں سرے سے ظاہر ہی نہیں کی اور اپنی بے اندازا دولت اور اس کے ذرایع کو جس طرح چھپایا ہے اُس کا تو کوئی حساب ہی نہیں ۔


متعلقہ خبریں


دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم وجود - هفته 17 جنوری 2026

دہشت گردی کے ناسور نے پھر سر اٹھا لیا، قومی اتحاد و یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، شہباز شریف خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، قومی پیغام امن کمیٹی سے ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے ایک بار پھر ...

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - هفته 17 جنوری 2026

منصوبے کی فزیکل پیشرفت 65فیصد مکمل ہوچکی ، ملیر ندی پل منصوبہ مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کے الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت، پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی پل منصوبے کو مئی 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایت کرد...

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 17 جنوری 2026

ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشن، کیا ضمانت ہے امن قائم ہو سکے گا،متاثرین سے ملاقات خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپری...

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی وجود - هفته 17 جنوری 2026

اسرائیلی افواج کی بمباری میں القسام بریگیڈز کے ایک سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اعلان ،امریکی حکام کی تصدیق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے باوجود دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے، اسرائیلی افواج کی حال...

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 17 جنوری 2026

ٹاس سہہ پہر ساڑھے 3 بجے ، میچز 4 بجے شروع ہوں گے،جلد باضابطہ اعلان متوقع موسمی شدت کی وجہ سے اوقات تبدیل ،میچز 29 ، 31 جنوری اور یکم فروری کو ہوں گے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں ماہ کے آخر میں آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والی وائٹ بال سیریز کے اوقات تبدیل کرنے ک...

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی) وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی)

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پنجاب بیدار ہوگیا، بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی عوامی ریفرنڈم کیلئے ہزاروں کیمپ قائم، مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر...

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب وجود - جمعه 16 جنوری 2026

اسکریپ ڈیلرعمیر ناصر رند کو گرفتار کرلیا،پولیس اہلکارون کی پشت پناہی میں چلنے کا انکشاف ملزم کے قبضے سے 150کلو گرام چوری شدہ کاپر کیبل اور گاڑی برآمد ہوئی ہے، پولیس حکام بن قاسم پولیس نے ایک کارروائی کے دوران اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئ...

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد وجود - جمعه 16 جنوری 2026

2025کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50مسلمان جان سے گئے امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ،عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی...

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

مضامین
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں وجود هفته 17 جنوری 2026
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن وجود هفته 17 جنوری 2026
ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود جمعه 16 جنوری 2026
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود جمعه 16 جنوری 2026
اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود جمعه 16 جنوری 2026
معاوضے پر استعفیٰ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر