... loading ...

گلستان جوہر حادثے کی تحقیقات سے اب تک سامنے آنے والے حقائق نے کراچی میں سب کو چونکا دیا ہے۔ اس حادثے کے اسباب میں ہر سبب بدعنوانیوں کا ایک گورکھ دھندا ہے۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ حادثہ کیسے پیش آیا؟
گلستان جوہر کے بلاک ایک میں پہاڑی پر قائم دو بنگلوں کے مالکان ایک پارک تعمیر کر رہے تھے ۔ پارک کی تعمیر سرکاری اراضی پر قبضہ کرکے ناجائز طور پر ہورہی تھی۔اسی تعمیر کے باعث پہاڑی تودا سابق صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو کے پلاٹ پر قائم جھگیوں پرگر پڑا۔ جس کے باعث تیرہ ہلاکتیں ہوئیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری اراضی پر قبضہ کرکے کی جانے والی تعمیر پر شہری ادارے اب تک جاگے کیوں نہیں تھے؟ یہاں تک کہ ایک حادثے نے تیرہ انسانوں کی جانیں نگل لیں۔ وجود ڈاٹ کام کو کے ڈی کے بعض ذرایع نے اطلاع دی ہے کہ غیر قانونی طور پر سرکاری اراضی پر قبضے کی اس جاں لیوا مہم میں خود کے ڈی اے کے بعض سرکاری افسران بھی شریک تھے۔ یہاں بنگلوں کے وہ مالکان جو سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضے کے بعدپارک کی تعمیر میں مشغول تھے، کے علاوہ کے ڈی اے کے وہ افسران بھی اس حادثے کے ذمہ داران میں شریک ٹہرتے ہیں جو اس قبضے کی ناجائز سرپرستی کر رہے تھے جو بآلاخر تیرہ افرادکی جانوں کو نگلنے کا محرک ثابت ہوا۔
مگر اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو اس کے بالکل برابر نوعیت کا خطرناک کہا جا سکتا ہے۔تین بدقسمت خاندانوں کے ہلاک ہونے والے تیرہ افراد جن تین پلاٹوں پر جھگیاں قائم کرکے رہ رہے تھے، یہ دراصل خود ایک بہت بڑا بکھیڑا ہے جو شہر کراچی کو برباد کرنے کا موجب بنا ہوا ہے۔ یہ تینوں پلاٹ وزیراعلیٰ سندھ کے کوٹے پر الاٹ کیے گئے پلاٹوں میں شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کے کوٹے سے یہاں بہت سے پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں جو بعد ازاں فروخت کے لین دین میں بھی شامل رہے۔ ان پلاٹوں کو حاصل کرنے والے افراد خود یہاں غیر قانونی قبضوں میں شامل ہیں۔ اور غیر قانونی قبضوں کے شکار بھی ہیں۔ چنانچہ یہاں کراچی میں عموی طور پر لینڈ مافیا زمینوں پر قبضے کے لیے یا اپنے قبضے برقرار رکھنے کے لیے ایسے افراد ڈھونڈتی ہیں جو جھگیاں قائم کرکے رہنے کو تیار ہوں ، اُنہیں اس کے لیے ایک مناسب معاوضہ بھی ادا کردیا جاتا ہے۔المناک حادثے کے شکار افراد جن پلاٹوں پر جھگیاں قائم کرکے رہ رہے تھے، وہ وزیراعلیٰ کے کوٹے پر ملنے والے پلاٹ تھے جن میں بی ۔ چون تیرہ ڈی اور تیرہ ای شامل ہیں ۔ یہ ایاز سومرو اور سیمی کاظمی کے نام الاٹ پلاٹ ہیں۔ جہاں پر ان لوگوں کو جھگیاں قائم کرکے اس لیے رکھا گیا تھا تاکہ ان پلاٹوں پر بھی کہیں قبضہ نہ ہو جائے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ کے کوٹے سے الاٹ کیے جانے والے یہ پلاٹ کتنے قانونی تقاضے پورے کرتے ہیں؟ کیا یہ پلاٹ صحیح الاٹ کیے گئے تھے؟ جھگیوں قائم کرکے جگہوں ، زمینوں اور پلاٹوں کی حفاظت نے اس شہر میں قانون کی رٹ کو کتنا متاثر کیا ہے؟ اور یہ رجحان بجائے خود کتنا خطرناک ہے؟ پھر ان جھگیوں کو قائم کرنے کے لیے لوگ کہاں سے اور کیوں میسر آجاتے ہیں؟
اس معاملے کا ایک تیسرا پہلو بھی ہے۔ ایاز سومروکے نام اس پلاٹ میں جھگیوں کے علاوہ وہاں کے ڈی ایس پی کو بھی یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ پلاٹ کی حفاظت کریں۔ یہ سہولت کتنے اراضی مالکان کو حاصل ہے۔ بدقسمتی سے شہر کراچی میں پلاٹوں پر قبضے سے لے کر قبضوں کی حفاظت تک پولیس کا غیر قانونی استعمال عام ہے۔ اور اس پر کوئی تو جہ دینے کو تیار نہیں۔ گلستان جو ہر کے حادثے نے ایک بار پھر شہر کے اندر جاری ہمہ جہتی ظلم کی طرف پورے ملک کو متوجہ کیا ہے۔
گلستان جوہر میں جھگیوں پر پہاڑی تودہ گرنے کے اس حادثے میں تخریب کاری کے پہلو کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس حادثے کی تحقیقات کے لیے قائم تین کمیٹیاں اس سے کیا برآمد کرتی ہیں۔اور وہ اوپر اُٹھائے گئے سوالات کے جواب بھی دیتی ہیں یا نہیں؟

معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...
آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...
کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...
ملک بھر میںکشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کا عہد، شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے مختلف مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی پاکستان ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے جدوجہد آزادی میں مصروف ...
پاکستان اور جموں وکشمیر کے اٹوٹ رشتے کی تجدید، دنیا کشمیریوں کی پکار سنے گی پاکستان اور آزاد کشمیر میںجوش و خروش سے جلسے ، جلوسوں ، ریلیوں کا انعقادکیا جائیگا پاکستان، آزاد جموں وکشمیر اور دنیا بھر میںآج یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جائے گا جسکا مقصد بھارتی ظلم ستم...
ہر شہر میں جلسے منعقد کیے جائیں اور ریلیاں نکالی جائیں، مولانا عبدالغفور حیدری 8 فروری کا الیکشن قوم کیلئے ناقابل قبول ، عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے،بات چیت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے مرکزی سیکریٹری جنرل جمعیت...
آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں پھلوں کی 2۔28 اور مصالحہ جات کی 2 فیصدقیمتوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیا رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ، آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں۔ تفصیلات...
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...