وجود

... loading ...

وجود

ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری کا تنازع نئے موڑ پر

منگل 13 اکتوبر 2015 ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری کا تنازع نئے موڑ پر

dow university

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے انتظامی سربراہ کی تقرری کا تنازع ایک بار پھر عدالت عالیہ سندھ جاپہنچا ہے۔ جہاں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور پروفیسر محمد سعید قریشی کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن کی آج 13 اکتوبر بروز منگل سماعت ہورہی ہے۔

فاضل عدالت اس سے قبل ہی ڈاؤ یونیورسٹی کے متنازع وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نوشاد احمد شیخ کی تقرری کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔باخبر طبی حلقوں کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی کے اعلیٰ ترین منصب پر تنازع کے پس پردہ متعدد اسباب میں سے سب سے بڑا سبب ڈاکٹر عاصم حسین اور پروفیسر مسعود حمید کی طویل رفاقت اور قربت ہے۔ اگرچہ پروفیسر مسعود حمید کو ڈاؤ یونیورسٹی کے منصب پر فائز کرانے اور وہاں کے سیاہ وسفید کا دس برس تک بلاشرکت غیرے سہرابندھوائے رکھنے کا ذمہ دارگورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کو سمجھا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس منصب کو پانے سے قبل ہی سابق سیکریٹری صحت سندھ پروفیسر ڈاکٹر نوشاد احمد شیخ کی سمری پر ڈاکٹر عاصم حسین پیپلز میڈیکل کالج نواب شاہ کے فرضی پرنسپل کی حیثیت میں اپنی چڑیا بٹھا چکے تھے۔ اور پروفیسر مسعود حمید کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل میں داخل کرا چکے تھے۔ پھر جب تک ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ، پروفیسر مسعود حمید کو پی ایم ڈی سے باہر نکالنے میں عدالتی احکامات بھی ناکام رہے۔
پروفیسر مسعود حمید کے پاس ایسی کیا گیڈر سنگھی ہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی میں دس برس تک وائس چانسلر کے منصب پر رہنے والے وہ ایک ایسے انتطامی سربراہ ثابت ہوئے جنہیں تیسری مدت کی توسیع دینے کے لیے سندھ اسمبلی کو اپنے ہی بنائے ہوئے قانون سے دستبردار ہونا پڑا۔ پروفیسر مسعود حمید کا ان دس برسوں کے دوران میں سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اُنہوں نے اس پبلک یونیورسٹی کو مسعود حمید فیملی فرینڈز یونیورسٹی میں تبدیل کر دیا ہے۔ جہاں اقربا پروری کی بدترین مثالوں کے ساتھ مالی بدعنوانیوں کی بھیانک وارداتوں کا بغیر کسی تحقیق کے خود بخود پتا چلتا جاتا ہے۔ یہ یونیورسٹی مالی اعتبار سے دھول مٹی کا کوئی صحرا نہیں، بلکہ سونے کی ایک نہ ختم ہونے والی کان ہے۔ جس کے زیرانتظام چلنے والے ڈاؤ انٹر نیشنل میڈیکل کالج میں زیر تعلیم طلبا فیس پاکستانی روپوں میں نہیں بلکہ ڈالروں میں ادا کرتے ہیں۔

سالانہ اربوں روپے کا یہ کھیل اب ضربِ عضب آپریشن کی زد پر ہے۔ پروفیسر مسعود حمید کو یہ سب سے بڑا خوف ہے کہ اگر میرٹ پر کسی اور کی تقرری ہوئی تو دس سالہ بدانتظامیوں ، بدعنوانیوں اور اربوں روپے کی ہیر پھیر کے معاملات طشت ازبام ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گورنر سندھ کے متنازع نوٹیفیکشن پر ڈاکٹر نوشاد احمد شیخ اپنے ایک روزہ عارضی چارج سنبھالتے ہی سول اسپتال کا دورہ کرنے بھاگم بھاگ پہنچے تو پروفیسر مسعود حمیداور اُن کی اہلیہ رعنا قمر بھی اُن کے ہمراہ تھے۔ تاکہ یونیورسٹی میں اُن کے مظالم کا نشانا بننے والوں کو یہ پیغام دیا جاسکے کہ وہ ابھی کہیں نہیں جا رہے۔ اس لیے اُن کے خلاف ثبوتوں کی فراہمی اور گواہی کا خواب و خیال دماغ میں نہ پالیں۔

پروفیسر حمید پی ایم ڈی سی کی تفتیش میں شامل کیے جانےکے خدشات کے باعث اپنے گھر کے بجائے کسی
گوشہ عافیت میں پناہ گزین ہو گئے

واضح رہےکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وائس چانسلرز کی تقرریوں کا آئینی اختیار گورنروں سےاب صوبائی وزرائے اعلیٰ کو منتقل ہو چکا ہے۔ جس کے بعد ڈاکٹر عاصم حسین اس قابل تھے کہ وہ اپنی مرضی کا یہ مکروہ دھندا مستقل جاری رکھ پاتے مگر سوئے اتفاق یا حسن اتفاق سے وہ وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے قائم تلاش کمیٹی کے اجلاس سے ذرا قبل تحقیقاتی اداروں کی تلاش میں آ گئے اور دھر لیے گئے۔ باخبر حلقوں کے مطابق پی ایم ڈی سی کے حوالے سے ہونے والی تفتیش میں پروفیسر حمید کے بھی شامل ہونے کے خدشات زور پکڑ رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پروفیسر حمید اس خوف کے باعث گزشتہ کئی دنوں سے گزری میں واقع اپنے محل نما گھر کے بجائے کسی محفوظ گوشہ عافیت میں پناہ گزین ہیں۔

ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تلاش کمیٹی کے متفقہ فیصلے میں میرٹ کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر سعید قریشی پہلے اور پروفیسر ڈاکٹر جنید اشرف دوسرے نمبر پر تھے ۔ مگر ڈاؤ یونیورسٹی کے اربوں روپے کے مالی اسکینڈلز منظر عام پر آنے کے خوف نے بعض طاقت ور شخصیات کو متحرک کر دیا۔ یہاں تک کہ اب دبئی میں مقیم آصف علی زرداری کو بھی رام یا مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ اس میں مداخلت کریں ۔ چنانچہ اگر وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے پروفیسر ڈاکٹر سعید قریشی کی تقرری کی سمری گورنر ہاؤس سے واپس منگوا لی تو پھر اس کایہی مطلب ہوگا کہ بآلاخر دبئی سرکار کو رام کر لیا گیا اور ڈاؤ یونیورسٹی میں میرٹ کے قتل کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ پھر کوئی اور نہیں بلکہ ڈاکٹر عاصم حسین کے کہنے پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے پانچ عہدیداروں کو پانچ پانچ کروڑ روپےہرجانے کا نوٹس دینے والے پروفیسر ڈاکٹر نوشاد شیخ ہی ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہوں گے۔ جو وہاں ہونے والی مالی بدعنوانیوں پر ہی نہ صرف پردہ ڈالیں رکھیں گے بلکہ مسعود حمید کے خاندانی دوستوں کی دیکھ بھال بھی کر سکیں گے۔


متعلقہ خبریں


آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید وجود - جمعه 24 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا

پی ٹی اے ، غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن تشہیر کیخلاف ایکشن وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...

پی ٹی اے ، غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن تشہیر کیخلاف ایکشن

لبنان میں چلتی کار پر اسرائیل کا ڈرون حملہ، 2 افراد شہید وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...

لبنان میں چلتی کار پر اسرائیل کا ڈرون حملہ، 2 افراد شہید

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی وجود - بدھ 22 اپریل 2026

امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان وجود - بدھ 22 اپریل 2026

ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان

مضامین
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں وجود جمعه 24 اپریل 2026
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں

ایران جنگ میں بھارتی تنہائی وجود جمعه 24 اپریل 2026
ایران جنگ میں بھارتی تنہائی

کراچی کی قاتل اور زہریلی فضا وجود جمعه 24 اپریل 2026
کراچی کی قاتل اور زہریلی فضا

انسان خوش فہمیوں کا قید ی! وجود جمعرات 23 اپریل 2026
انسان خوش فہمیوں کا قید ی!

یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری وجود جمعرات 23 اپریل 2026
یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر