... loading ...

سید علی رضا کاشمار اُن بینکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے بینکنگ کی دنیا میں نمایاں کارنامے انجام دیئے ۔ نیشنل بینک میں کئی صدور آئے اور اپنا مقام پیدا کیا۔مگر جو کام سید علی رضا نے کیا، وہ سب سے مختلف تھا۔سید علی رضا کی تعیناتی کسی معیار (criteria)کے تحت نہیں ہوئی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ انہیں ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت یہان متعین لایا گیا۔ جس کے پیچھے پاکستان کا مفاد نہیں بلکہ عالمی بینک کی معرفت ان قوتوں کا مفاد تھا جو ملک کے واحد مالیاتی ادارے کے تجارتی و کاروباری چیلینجز( Business Threat) سے نمٹنا چاہتے تھے۔ تاکہ بین القومی بینک اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں۔ علی رضا کے ذریعے ایسے اقدامات کئے گئے جس سے ان مقاصد کے حصول میں آسانی پیدا ہوسکے۔ دوسرے لفظوں میں ان قوتوں کا اصل مقصد پاکستان کی معیشت کو اپنے قابو میں رکھنا تھا۔ سید علی رضا کو یہی ایجنڈا دیکر بھیجا گیا۔ جنہوں نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اسے نبھایا ۔ وہ نیشنل بینک کو بند تو نہیں کرسکے مگر اسکی بنیادوں کو اتنا کمزور کردیا کہ اس کا ڈھانچہ کسی وقت بھی ڈھ سکتا ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے وہ عناصر بھی مستعدہوگئے جو ایسے حالات میں بینک کو بیچنے کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔
علی رضا نے ایک حکمت عملی کے تحت اپنی خوش اخلاقی کو بڑی خوش اسلوبی سے استعمال کیا اور ان قوتوں کو خرید لیا جو ان کے ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تھے۔ انہوں نے جدت پسندی کے نام پر نیشنل بینک کو جدید لٹیروں کے ہاتھوں یرغمال بنائے رکھا۔ان اعلیٰ افسران نے لوٹ مار کی وارداتوں میں اپنے حصہ وصولی کے لئے بینک کی حدود میں برسر عام ہاتھا پائی سے بھی گریز نہیں کیا۔ اس طرح کے کئی واقعات اُن کے دور کاکے حصہ بنے۔ انتظامیہ نام کی کوئی شے اُن کے دور میں نہیں تھی۔ وہ تنظیمی تقاضوں اور اصولی ضروریات کو مدنظر رکھ کر احکامات نہیں دیتے تھے بلکہ اُن کا موڈ ان کے احکامات پر حاوی ہوتا تھا۔ابتدا اس طرح کی گئی کہ نمائندہ تنظیموں کو یقین دلایا گیا کہ 18 مشیر بھرتی کئے جائیں گے مگربعد ازاں یہ تعداد 35 اور پھر 70 تک پہنچ گئی۔ پھر تجربہ کار افسران کو تبدیل کرکے ان کی جگہ نااہل مشیروں کو لگادیا گیا۔جنہوں نے اپنی کارروائی ڈالتے ہوئے گولڈن ہینڈ شیک کی کارروائی کو بڑھاوا دیا ۔ جوازگھڑا گھڑایا تیار تھا کہ اخراجات کم کرنے ہیں۔ اس طرح تقریباً آٹھ ہزار ملازمین فارغ کردئے گئے۔2500 برانچیں بند کردی گئیں یا انہیں ایک دوسرے میں ضم کردیا گیا۔( حیرت کی بات ہے کہ بچت کے نام پر آٹھ ہزار ملازمین نکال کر سولہ ہزار ملازمین بھرتی بھی کرلئے گیے) مقصدصرف یہ تھا کہ نیشنل بینک کے کاروبار کو محدود کیا جائے تاکہ غیر ملکی بینکوں کو کاروبار بڑھانے کا موقع ملے۔ ایجنڈے کے اس مرحلے کی کامیابی کے بعد اب اصل مرحلہ شروع ہوتا ہے یعنی لوٹ مار اور کرپشن ۔جسے علی رضا کی فیاضی اور نیشنل بینک کی بربادی کا عنوان دیا جاسکتا ہے۔قرضوں کی اندھا دھند معافی کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان کے دور میں صرف نیشنل بینک سے 21 ارب کے قرضے معاف کئے گئے۔ (جس کی فہرست علیحدہ شائع کی جائے گی )
اکتوبر 2014ء کی آڈٹ کے مطابق صرف کارپوریٹ سیکٹر میں غیر فعال قرضوں کی حد 89 بلین تھی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے نادہندگان کی اکثریت کو دوبارہ قرضے جاری کردئے گئے۔اس ملک کے اس وقت کے منصف اعلیٰ عبدالحمید ڈوگرکو( جو اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے نادہندہ تھے)، نیشنل بینک سے 8.9 ملین کا قرضہ اس نوٹ کے ساتھ دیا گیا کہ ’’کیونکہ درخواست گزار چیف جسٹس آف پاکستان ہیں ،لہذا قرضہ منظور کیا جاتا ہے۔‘‘ اس طرح کی اور بھی کئی مثالیں ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ مثلّا نیشنل بینک آف پاکستان پی آئی ڈی سی برانچ میں علیم انٹر نیشنل کو 5؍کروڑ روپے کا قرضہ جاری کیا گیاجبکہ یہ پارٹی نادہندگان کے زمرے میں آتی تھی۔ نادہندگان میں شامل ضراب ٹیکسٹائل کو مین برانچ کراچی سے 46 کروڑ روپے کا قرضہ دیا گیا۔اسی برانچ سے ایک اور نادہندہ انورٹیکسٹائل کو بھی 56 ؍کروڑ جاری کیے گیے۔ حیران کُن بات یہ ہے کہ 56 کروڑ کا نقصان پہنچانے والی اس پارٹی کا یہ قرضہ معاف کردیا گیا ۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ اس قرضہ کے اجراء میں کوئی جائیداد رہن رکھوانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی اور محض مفروضوں پر یہ قرضہ جاری کردیا گیا۔اسی مشہور دور کا مشہور بوسیکار کا کیس اپنی مثال آپ ہے ،جسے دوارب روپے کا قرضہ جاری کیا گیا اور رہن کے لئے وہ پلاٹ قبول کرلیا گیا جو متنازع تھا۔ غرض نادہندگان کی اکثریت کو اندھیر نگری چوپٹ راج میں قوم کی دولت کو باپ کا مال سمجھ کر بے رحمی سے لٹایا گیا ۔ نیشنل بینک کی پروڈکٹس پر نظر ڈالیں تو “کیش اینڈ گولڈ،این بی پی کارساز، کسان دوست، ایڈوانس سیلری، اور سائبان جیسے خوشنما نام سامنے آتے ہیں۔ ان تمام پروڈکٹس کے نتائج انتہائی مایوس کن رہے۔ نا اہل مشیروں نے اپنی جعلی ڈگریوں کا بھرم ایسے برقرار رکھنے کی کوشش کی کہ ہر پروڈکٹ کو پیچ در پییچ کاغذی کارروائیوں میں اتنا پیچیدہ بنادیا گیا کہ لوگ مایوس ہوکر پرائیوٹ بینکوں کا رخ کرنے لگے۔ بلکہ یہاں تک ہوا کہ بینک کے درآمدی مشیروں نے درخواست کنندگان کو دوسرے بینکوں سے رجوع کرنے کی تلقین کی۔
قومی اداروں کی جانب سے احتساب کے دعوے اُس وقت تک عوام کی نظروں میں آبرو نہیں پاسکیں گے جب اُسے ملکی دولت لوٹنے والے اصل ہاتھوں تک پھیلایا نہیں جاتا۔ علی رضا اصل میں ایک ایسا ہی نام ہے۔ جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مکمل نظر انداز کر رکھا ہے۔ مگر صرف اُن کے دور میں نیشنل بینک میں ہونے والی ڈکیٹیوں پر توجہ مرکوز کی جائے تو سیاسی جماعتوں کی لوٹ مار کی تمام داستانیں ہیچ محسوس ہونے لگیں گی۔جس کی محض ایک جھلک اوپر دکھائی گئی۔
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...