وجود

... loading ...

وجود

دنیائے بینکاری کا بدنام، نام سید علی رضا

بدھ 30 ستمبر 2015 دنیائے بینکاری کا بدنام، نام سید علی رضا

syed Ali raza

سید علی رضا کاشمار اُن بینکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے بینکنگ کی دنیا میں نمایاں کارنامے انجام دیئے ۔ نیشنل بینک میں کئی صدور آئے اور اپنا مقام پیدا کیا۔مگر جو کام سید علی رضا نے کیا، وہ سب سے مختلف تھا۔سید علی رضا کی تعیناتی کسی معیار (criteria)کے تحت نہیں ہوئی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ انہیں ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت یہان متعین لایا گیا۔ جس کے پیچھے پاکستان کا مفاد نہیں بلکہ عالمی بینک کی معرفت ان قوتوں کا مفاد تھا جو ملک کے واحد مالیاتی ادارے کے تجارتی و کاروباری چیلینجز( Business Threat) سے نمٹنا چاہتے تھے۔ تاکہ بین القومی بینک اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں۔ علی رضا کے ذریعے ایسے اقدامات کئے گئے جس سے ان مقاصد کے حصول میں آسانی پیدا ہوسکے۔ دوسرے لفظوں میں ان قوتوں کا اصل مقصد پاکستان کی معیشت کو اپنے قابو میں رکھنا تھا۔ سید علی رضا کو یہی ایجنڈا دیکر بھیجا گیا۔ جنہوں نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اسے نبھایا ۔ وہ نیشنل بینک کو بند تو نہیں کرسکے مگر اسکی بنیادوں کو اتنا کمزور کردیا کہ اس کا ڈھانچہ کسی وقت بھی ڈھ سکتا ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے وہ عناصر بھی مستعدہوگئے جو ایسے حالات میں بینک کو بیچنے کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔

اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے نادہندہ سابق منصف اعلیٰ عبدالحمید ڈوگرکو نیشنل بینک
سے 8.9 ؍ملین کا قرضہ اس نوٹ کے ساتھ دیا گیا کہ ’’کیونکہ درخواست گزار چیف جسٹس
آف پاکستان ہیں ،لہذا قرضہ منظور کیا جاتا ہے

علی رضا نے ایک حکمت عملی کے تحت اپنی خوش اخلاقی کو بڑی خوش اسلوبی سے استعمال کیا اور ان قوتوں کو خرید لیا جو ان کے ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تھے۔ انہوں نے جدت پسندی کے نام پر نیشنل بینک کو جدید لٹیروں کے ہاتھوں یرغمال بنائے رکھا۔ان اعلیٰ افسران نے لوٹ مار کی وارداتوں میں اپنے حصہ وصولی کے لئے بینک کی حدود میں برسر عام ہاتھا پائی سے بھی گریز نہیں کیا۔ اس طرح کے کئی واقعات اُن کے دور کاکے حصہ بنے۔ انتظامیہ نام کی کوئی شے اُن کے دور میں نہیں تھی۔ وہ تنظیمی تقاضوں اور اصولی ضروریات کو مدنظر رکھ کر احکامات نہیں دیتے تھے بلکہ اُن کا موڈ ان کے احکامات پر حاوی ہوتا تھا۔ابتدا اس طرح کی گئی کہ نمائندہ تنظیموں کو یقین دلایا گیا کہ 18 مشیر بھرتی کئے جائیں گے مگربعد ازاں یہ تعداد 35 اور پھر 70 تک پہنچ گئی۔ پھر تجربہ کار افسران کو تبدیل کرکے ان کی جگہ نااہل مشیروں کو لگادیا گیا۔جنہوں نے اپنی کارروائی ڈالتے ہوئے گولڈن ہینڈ شیک کی کارروائی کو بڑھاوا دیا ۔ جوازگھڑا گھڑایا تیار تھا کہ اخراجات کم کرنے ہیں۔ اس طرح تقریباً آٹھ ہزار ملازمین فارغ کردئے گئے۔2500 برانچیں بند کردی گئیں یا انہیں ایک دوسرے میں ضم کردیا گیا۔( حیرت کی بات ہے کہ بچت کے نام پر آٹھ ہزار ملازمین نکال کر سولہ ہزار ملازمین بھرتی بھی کرلئے گیے) مقصدصرف یہ تھا کہ نیشنل بینک کے کاروبار کو محدود کیا جائے تاکہ غیر ملکی بینکوں کو کاروبار بڑھانے کا موقع ملے۔ ایجنڈے کے اس مرحلے کی کامیابی کے بعد اب اصل مرحلہ شروع ہوتا ہے یعنی لوٹ مار اور کرپشن ۔جسے علی رضا کی فیاضی اور نیشنل بینک کی بربادی کا عنوان دیا جاسکتا ہے۔قرضوں کی اندھا دھند معافی کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان کے دور میں صرف نیشنل بینک سے 21 ارب کے قرضے معاف کئے گئے۔ (جس کی فہرست علیحدہ شائع کی جائے گی )

بینک کے نادہندگان میں سے علیم انٹرنیشنل کو 5؍ کروڑ ، ضراب ٹیکسٹائل کو 46؍ کروڑ
اور انور ٹیکسٹائل کو 56؍ کروڑ روپے کے قرضے جاری کر دیے گیے۔بدنام زمانہ بوسیکار کیس
میں دو ارب روپے کا قرضہ ایک معمولی اور متنازع پلاٹ کے عوض دے دیا گیا۔

اکتوبر 2014ء کی آڈٹ کے مطابق صرف کارپوریٹ سیکٹر میں غیر فعال قرضوں کی حد 89 بلین تھی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے نادہندگان کی اکثریت کو دوبارہ قرضے جاری کردئے گئے۔اس ملک کے اس وقت کے منصف اعلیٰ عبدالحمید ڈوگرکو( جو اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے نادہندہ تھے)، نیشنل بینک سے 8.9 ملین کا قرضہ اس نوٹ کے ساتھ دیا گیا کہ ’’کیونکہ درخواست گزار چیف جسٹس آف پاکستان ہیں ،لہذا قرضہ منظور کیا جاتا ہے۔‘‘ اس طرح کی اور بھی کئی مثالیں ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ مثلّا نیشنل بینک آف پاکستان پی آئی ڈی سی برانچ میں علیم انٹر نیشنل کو 5؍کروڑ روپے کا قرضہ جاری کیا گیاجبکہ یہ پارٹی نادہندگان کے زمرے میں آتی تھی۔ نادہندگان میں شامل ضراب ٹیکسٹائل کو مین برانچ کراچی سے 46 کروڑ روپے کا قرضہ دیا گیا۔اسی برانچ سے ایک اور نادہندہ انورٹیکسٹائل کو بھی 56 ؍کروڑ جاری کیے گیے۔ حیران کُن بات یہ ہے کہ 56 کروڑ کا نقصان پہنچانے والی اس پارٹی کا یہ قرضہ معاف کردیا گیا ۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ اس قرضہ کے اجراء میں کوئی جائیداد رہن رکھوانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی اور محض مفروضوں پر یہ قرضہ جاری کردیا گیا۔اسی مشہور دور کا مشہور بوسیکار کا کیس اپنی مثال آپ ہے ،جسے دوارب روپے کا قرضہ جاری کیا گیا اور رہن کے لئے وہ پلاٹ قبول کرلیا گیا جو متنازع تھا۔ غرض نادہندگان کی اکثریت کو اندھیر نگری چوپٹ راج میں قوم کی دولت کو باپ کا مال سمجھ کر بے رحمی سے لٹایا گیا ۔ نیشنل بینک کی پروڈکٹس پر نظر ڈالیں تو “کیش اینڈ گولڈ،این بی پی کارساز، کسان دوست، ایڈوانس سیلری، اور سائبان جیسے خوشنما نام سامنے آتے ہیں۔ ان تمام پروڈکٹس کے نتائج انتہائی مایوس کن رہے۔ نا اہل مشیروں نے اپنی جعلی ڈگریوں کا بھرم ایسے برقرار رکھنے کی کوشش کی کہ ہر پروڈکٹ کو پیچ در پییچ کاغذی کارروائیوں میں اتنا پیچیدہ بنادیا گیا کہ لوگ مایوس ہوکر پرائیوٹ بینکوں کا رخ کرنے لگے۔ بلکہ یہاں تک ہوا کہ بینک کے درآمدی مشیروں نے درخواست کنندگان کو دوسرے بینکوں سے رجوع کرنے کی تلقین کی۔

قومی اداروں کی جانب سے احتساب کے دعوے اُس وقت تک عوام کی نظروں میں آبرو نہیں پاسکیں گے جب اُسے ملکی دولت لوٹنے والے اصل ہاتھوں تک پھیلایا نہیں جاتا۔ علی رضا اصل میں ایک ایسا ہی نام ہے۔ جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مکمل نظر انداز کر رکھا ہے۔ مگر صرف اُن کے دور میں نیشنل بینک میں ہونے والی ڈکیٹیوں پر توجہ مرکوز کی جائے تو سیاسی جماعتوں کی لوٹ مار کی تمام داستانیں ہیچ محسوس ہونے لگیں گی۔جس کی محض ایک جھلک اوپر دکھائی گئی۔


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر