وجود

... loading ...

وجود

مستقبل کی زبان کون سی ہوگی؟

هفته 26 ستمبر 2015 مستقبل کی زبان کون سی ہوگی؟

Globe-of-language.PNG

لسانی اعتبار سے امریکا کو دنیا  پر ایک برتری حاصل ہے، ملک میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانیں یعنی انگریزی اور ہسپانوی، دنیا بھر میں بھی سب سے زیادہ بولی جاتی ہیں۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکی طلباء کو نئی زبانیں سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے؟ ماڈرن لینگویج ایسوسی ایشن کی تحقیق کے مطابق انگریزی کے علاوہ دیگر زبانوں کی تعلیم حاصل کرنے والے امریکی طلباء کی تعداد میں ویسے ہی 4 سالوں میں ایک لاکھ کی کمی آئی ہے۔ وجہ سادہ سی ہے، فرانسیسی سیکھنے سے زیادہ بہتر اقتصادیات کی تعلیم کو سمجھا جاتا ہے۔لیکن کیا مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوگا؟ اس کے لیے ہمیں موجودہ اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر مستقبل کی پیش بینی کی ضرورت ہے۔

اس وقت چینی زبان، اور اس کے دیگر لہجے، دنیا بھر میں سب سے زیادہ افراد بولتے ہیں۔ اس کے بعد ہندی اور اردو کی باری آتی ہے جو مختلف رسم الخط رکھنے کے باوجود ایک ہی لسانی بندھن میں بندھی ہوئی ہیں اور شمالی ہند اور پورے پاکستان کی مقبول ترین زبان ہے۔ انگریزی 527 ملین افراد کی ، ہسپانوی 389 ملین کی جبکہ عربی 100 ملین افراد کی مادری زبان ہے۔

مستقبل میں کون سی زبان سیکھنا زیادہ کارآمد ہوگا، اس کا جواب اتنا سادہ نہیں ہے۔ سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ سیکھنے کا خواہشمند کہاں رہتا ہے اور آپ کے مستقبل کے ارادے کیا ہیں؟ یعنی اس سوال کے جوابات مختلف ہو سکتے ہیں۔ چلیں، چند اہم سوالات اور ان کے جوابات دے کر آپ کے لیے معاملہ آسان کردیتے ہیں۔

کیا آپ کسی ابھرتی ہوئی معیشت سے کمانا چاہتے ہیں؟

برطانیا میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں برٹش کونسل نے 20 ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ان کی اہم زبانوں کی نشاندہی کی ہے۔ یہ رپورٹ “برک” ممالک یعنی برازیل، روس، بھارت اور چین میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں کو پیش کرتی ہے جو اس وقت سب سے زیادہ ابھرتی ہوئی معیشتیں ہیں۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں سرمایہ کاری بینک گولڈ مین ساس اور ارنسٹ اینڈ ینگ کی پیش کردہ فہرست میں شامل مارکیٹوں کو بھی ڈالا گیا ہے۔ جس کے مطابق ہسپانوی اور عربی سب سے آگے دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن اگر اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کی بنیاد پر رحجانات کو دیکھیں تو نتیجہ مختلف دکھائی دیتا ہے۔ اس کے مطابق 2050ء تک عالمی کاروبار پر ہندی، بنگالی، اردو اور انڈونیشیی زبانوں کا غلبہ ہوگا اور ہسپانوی، پرتگیزی، عربی اور روسی کی باری ان کے بعد آئے گی۔ اس لیے اگر آپ کوئی زبان سیکھنا چاہتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ کمانے کے خواہشمند ہیں تو مستقبل کے لیے ان میں سے کسی ایک زبان کا انتخاب کرنا آپ کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

langues-in-fastest-growing-economies

درحقیقت ایسی کسی تحقیق کی بنیاد پر کوئی واضح پیش بینی کرنا مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ خود دیکھ لیں کہ برٹش کونسل نے صرف موجودہ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کو شامل کیا ہے اور ان ممالک کا ذکر نہیں، جو آج چھوٹے پیمانے پر ہیں، لیکن ترقی کی بڑی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پھر بڑی زبانوں جیسا کہ عربی اور چینی کے کئی لہجے بھی پائے جاتے ہیں اور یوں ایک پر عبور حاصل کرنے کے باوجود سیکھنے والوں کے لیے غیر ملکی باشندوں سے رابطہ کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

البتہ ایک بات بالکل واضح ہے کہ کاروباری دنیا کی لسانیاتی سمت تبدیل ہو رہی ہے اور یہ یورپ و شمالی امریکا سے ایشیا و مشرق وسطیٰ کا رخ کررہی ہے۔

زیادہ سے زیادہ افراد سے بات چیت ممکن بنانا چاہتے ہیں؟

جرمن ماہر لسانیات الریخ ایمون نے 15 سال کی طویل تحقیق کے بعد ایک خلاصہ شائع کیا ہے جس میں انہوں نے سب سے زیادہ مادری زبان بولنے والوں اور سب سے زیادہ سیکھی جانے والی زبانوں کا جائزہ لیا ہے۔ موخر الذکر معاملے میں تو حقیقی اعداد و شمار بہت کم دستیاب ہیں، اس لیے ایمون نے اس حوالے سے کوئی پیش گوئی نہیں کی۔ لیکن اتنا ضرور کہا ہے کہ اگر آپ دنیا بھر میں زیادہ سے زیادہ افراد کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو یہ تین زبانیں سیکھنی چاہئیں۔ لیکن اگر آپ کے پاس زیادہ وقت نہیں تو مستقبل قریب میں تو انگریزی ہی کا راج ہوگا۔

languages-all-over-the-world

چینی: انگریزی کے مقابلے میں تین گنا زیادہ افراد کی مادری زبان چینی ہے، لیکن یہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے نہیں ہیں بلکہ صرف چین تک ہی محدود ہیں۔ پھر سائنس میں چینی زبان کا استعمال بہت کم ہے اور اسے لکھنا اور پڑھنا بھی دشوار ہے۔

ہسپانوی: چینی کے مقابلے میں بطور ہسپانوی کم لوگوں کی چینی زبان ہے لیکن دنیا بھر میں اسکولوں میں پڑھائے جانے کے لحاظ سے ہسپانوی دوسری مقبول ترین زبان ہے۔

فرانسیسی: چند خطوں، بالخصوص، گزشتہ چند دہائیوں میں یورپ میں فرانسیسی نے اپنا مقام بڑی حد تک کھویا ہے لیکن مغربی افریقا میں اب بھی کافی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ جہاں سیاسی طور پر استحکام اور اقتصادی لحاظ سے پرکشش بننے کے لیے فرانسیسی کا استعمال عام ہے۔ 2014ء میں ایک تحقیق میں یہ ثابت کرنے کی کوشش بھی کی گئی کہ 2050ء تک فرانسیسی دنیا کی دوسری سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان بن جائے گی لیکن اس کا انحصارافریقا کی ترقی کے امکانات پر ہے۔ پھر تحقیق میں یہ بات بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھی گئی کہ جن علاقوں میں فرانسیسی بولی جاتی ہے، وہاں ہر شخص زبان پر عبور نہیں رکھتا۔

کیا آپ صرف ایک زبان سیکھ کر زیادہ سے زیادہ ممالک جانا چاہتے ہیں؟

یہ نقشہ ان ممالک کو ظاہر کرتا ہے جہاں کوئی ایک مخصوص زبان بولی جاتی ہے۔ لیکن ٹہرئیے: کئی ملکوں میں ہو سکتا ہے کہ کوئی ایک زبان چند لوگ بولیں، لیکن اس پر مہارت بہت کم ہی کو حاصل ہوتی ہے۔

languages-spoken-in-many-countries

نتیجہ:

مستقبل کی کوئی واحد زبان نہیں ہوگی، بلکہ زبانیں سیکھنے والوں کو اپنے اہداف و مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔ تو آپ کون سی زبان سیکھنا چاہیں گے؟


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

مضامین
حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

مکارتھی ازم وجود جمعرات 15 جنوری 2026
مکارتھی ازم

کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟

بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر