... loading ...

یکساں مذہبی، تاریخی، ثقافتی، لسانی ورثہ اور باہم سماجی و اقتصادی حقائق ان مواقع کو پیدا کر سکتے ہیں جن سے فوائد سمیٹ کر پاکستان اور افغانستان کو امن اور بقا ئے باہمی کے اصول اپناتے ہوئے روشن مستقبل کی طرف اپنا سفر شروع کرنا چاہیے۔ چنانچہ کابل اور اسلام آباد میں بیٹھے پالیسی سازوں کو مزید وقت ضائع کیے بغیر فوراً جامع مذاکرات کا آغاز کرتے ہوئے اعتمادسازی کے لیے اقدامات اٹھانے چاہیے تاکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مستحکم اور ہمیشہ قائم و دائم رہنے والے تعلقات کے لیے زمین ہموار کی جا سکے۔ سمت کا تعین کرکے ہی بین الاقوامی اور علاقائی کھلاڑیوں کے ناپاک عزائم کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے جو دو برادر ممالک کے درمیان اختلافات کی خلیج پیدا کرنے پر تلے بیٹھے ہیں اور ان کی بھرپور کوشش ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا جائے۔
یہ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اُس دو روزہ کانفرنس کا لب لباب تھاجو ’’پاکستان اور افغانستان: مثالی دوطرفہ تعلقات کی جانب‘‘ کے عنوان سے 16 اور 17 ستمبر 2015ء کو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد اور سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ ریجنل اسٹڈیز (CSRS) کابل نے مشترکہ طور پر منعقد کی۔
اس گول میز کانفرنس سے افغانستان کے جن دانشوروں اور پالیسی تجزیہ کاروں نے خطاب کیا ان میں ڈائریکٹر جنرل CSRS ڈاکٹر عبدالباقی امین، ڈاکٹر فضل ہادی وزین، ڈاکٹر وحید اﷲ مصلح، اور انجینئرحامد درانی شامل تھے۔ پاکستان کی جانب سے کانفرنس میں جو دانشور شریک گفتگو ہوئے ان میں سابق سفیر رستم شاہ مہمند، ڈائریکٹر جنرل آئی پی ایس خالد رحمن، ایئر کموڈور (ریٹائرڈ) خالداقبال، بریگیڈیر (ریٹائرڈ) سید نذیرمہمند، سابق سفیر ایاز وزیر، آئی پی ایس کے لیڈ کوآرڈی نیٹر عرفان شہزاد، ڈاکٹر انور شاہ اور معراج الحمید شامل تھے۔
دو روزہ کانفرنس چار اجلاسوں پر مشتمل تھی جن میں دونوں قوموں کے درمیان تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور نسلی تعلقات کے بہت سے پہلوؤں پر گفتگو ہوئی اور دونوں ریاستوں کے درمیان درآئی پیچیدگیوں پر سیرحاصل تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے واضح نظر آنے والے ٹھوس اقدامات کی ضرورت محسوس کی گئی۔ یہ مطالبہ کیا گیا کہ تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کے قومی مفادات کا احترام کیا جائے اور انہیں میز پر موضوع گفتگو بناتے ہوئے واضح مقاصد کے ساتھ مخلصانہ مذاکرات کے عمل کا فوری آغاز کیا جائے۔ دونوں ملکوں میں موجود پالیسی سازوں، میڈیا اور دانشوروں کے ایک طبقے کو ان کے منفی کردار کے باعث تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ افغان اور پاکستانی قوموں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کا بڑا سبب ہیں اور اس خطے میں بیرونی قوتوں کے مذموم مقاصد کو فروغ دے رہے ہیں۔
مقررین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر قوموں کے درمیان تعلقات کی تعمیر نو کے لیے مثبت اندازِ فکر اور مشترک خصوصیات و روایات کو سامنے رکھتے ہوئے آگے کی سمت بڑھنا چاہیے۔ مسائل، اختلافات اور بداعتمادیوں کی راہ پر ہی چپک کر رہ جانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بیرونی قوتیں اپنے مفادات کے لیے خطے میں مسائل پیدا کرتی رہیں گی تاہم دونوں ملکوں کی قیادت اور عوام کو سوچنا ہوگاکہ وہ ان بیرونی قوتوں کی کھینچاتانی سے محفوظ رہتے ہوئے آگے کی سمت قدم بڑھائیں اور صاف ستھرے دوطرفہ تعلقات میں بہتری لائیں۔
افغانستان میں امن کے عمل پہ گفتگو کرتے ہوئے دونوں ممالک کے دانشور اس بات پر متفق تھے کہ یہ بات تسلیم کی جانی چاہیے کہ افغان اپنے مسائل کے حل میں بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ افغانستان میں رائے عامہ جنگ کی حمایت نہیں کرتی۔ امریکہ کی قیادت میں لڑی گئی جنگ اس خطے کے لوگوں کے لیے کوئی افادیت نہیں رکھتی اور بیرونی افواج کی موجودگی امن کی راہ میں مستقل رکاوٹ ہے۔ تاہم یہاں ایسی مورچہ بند لابیاں موجود ہیں جو امن نہیں چاہتیں۔ ان میں وہ قوتیں شامل ہیں جن کے اس تنازعے کی طوالت سے مفادات وابستہ ہیں۔ متحارب گروہوں کا سخت موقف بھی اس کا سبب ہے اور اب داعش کا عنصر بھی اس میں شامل ہوتا جا رہا ہے۔ امن کی طرف کسی بھی عمل میں ان عناصر کو سامنے رکھا جانا ضروری ہو گا۔
کانفرنس میں متفقہ طور پر اس بات کو محسوس کیا گیا کہ مہاجرین اور بے گھر افراد کے معاملے کو دونوں معاشروں کے درمیان ایک طویل مدتی تعلق کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس کے لیے ایک ایسا سازگار ماحول تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو صاف شفاف، باہم رضا مندی کے حامل طویل مدتی حل سامنے لا سکے اور جو سب سے بڑھ کرخود مہاجرین اور بے گھر افراد کے لیے قابل احترام ہو۔
دونوں جانب کے دانشوروں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کے فروغ میں سول سوسائٹی، تحقیقی مراکز اور تھنک ٹینکس اہم کر دار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ پالیسی سازوں اور مسئلہ سے متعلق تمام فریقین پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ ایسے اداروں کو آگے آکر فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور ان کے درمیان اشتراک عمل باہم اعتماد سازی کو مضبوط کرنے کے لیے بڑھایا جانا چاہیے۔
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...