وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ذہنی سکون کی ادویات لینے والا زیادہ پرتشدد، نئی تحقیق

جمعه 18 ستمبر 2015 ذہنی سکون کی ادویات لینے والا زیادہ پرتشدد، نئی تحقیق

SSRIs

جدید طبی تحقیق کہتی ہے کہ ذہنی سکون کے لیے ادویات لینے والے نوجوان پرتشدد جرائم کی طرف زیادہ مائل ہوسکتے ہیں۔ پی لاس میڈیسن جنرل میں شائع ہونے والی تحقیق کے لیے انوکھا تحقیقی نمونہ استعمال کیا گیا، جس کا مقصد دوا استعمال کرتے ہوئے اور دوا کے بغیر انہی افراد کے رویے کا تقابل تھا۔

برطانیہ کی آکسفرڈ یونیورسٹی کے سینا فیزل نے اس تحقیق کی قیادت کی اور ان کی ٹیم نے سوئیڈن کے منظور شدہ ادویات کھاتے اور قومی جرائم کھاتے کا تین سال تک جائزہ لیا جس میں ساڑھے 8 لاکھ افراد کو Selective Serotonin Reuptake Inhibitors یعنی SSRIs دیے گئے۔ ان میں سے ایک فیصد افراد پرتشدد جرائم میں ملوث پائے گئے تھے۔ یہ ادویات اکثر و بیشتر ذہنی اضطراب اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے دی جاتی ہیں اور ان میں پروزیک اور پیکسل جیسی مشہور ادویات شامل ہیں۔

مجموعی طور پر یہ ادویات استعمال کرنے والے افراد میں جرائم کی شرح اور تشدد میں اضافہ نہیں دیکھا گیا لیکن 15 سے 24 سال کی عمر کے 43 افراد میں دوا لینے کے بعد پرتشدد سرگرمی کا خطرہ پایا گیا۔ تحقیق نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ دوا لینے کے بعد نوعمر افراد میں شراب کے مسائل بھی پائے گئے جکہ نتائج نے یہ بھی ظاہر کیا کہ دوا کی کم خوراک لینے والے تشدد کے خطرے سے زیادہ دوچار رہے۔

حیران کن طور پر تحقیق نے تجویز کیا ہے کہ نوجوان افراد دواؤں کی خوراک میں اضافہ کریں تاکہ پرتشدد اور مجرمانہ سرگرمیوں کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

فیزل نے ایک برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ کم خوراک لیے والے نوجوان مکمل علاج نہیں کرپاتے اور یوں ہیجان خیز رویے کے خطرے سے دوچار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ تحقیق قطعیت کے ساتھ یہ ثابت نہیں کرتی کہ SSRIs پرتشدد سرگرمیوں میں اضافے کا سبب بنتی ہیں بلکہ کہا کہ اس ضمن میں مزید تحقیق ہونی چاہیے۔

ماضی میں ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ نے بھی پایا تھا کہ ایسی ادویات نو عمر اور نوجوان افراد میں خود اذیتی میں اضافہ کرتی ہیں۔ اس تحقیق میں 10 سے 64 سال کی عمر کے ڈیڑھ لاکھ افراد کا 12 سال تک جائزہ لیا گیا تھا اور دوا کی اوسط خوراک استعمال کرنے والے 24 سال کے اور اس سے کم عمر کے افراد میں خودکشی کا رحجان دوگنا پایا گیا تھا۔

خوراک و ادویات کے حوالے سے امریکا کے سرکاری ادارے ایف ڈی اے نے 2004ء میں ایک جائزہ کیا تھا جس میں پایا گیا تھا کہ ایسی ادویات 18 سے 25 سال کے افراد میں خودکشی کے خطرے کو دو گنا کردیتی ہیں۔ حال ہی میں صحافی بین سوان نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اسلحے کے ذریعے کی گئی پرتشدد کارروائیوں اور ان ادویات کے درمیان کوئی ممکنہ ربط پایا جاتاہے۔


متعلقہ خبریں


ذہنی تناؤ کم کرنے والی ادویات درحقیقت بے اثر ہیں، تحقیق وجود - جمعرات 25 اگست 2016

ذہنی تناؤ کم کرنے والی ادویات کی اکثریت درحقیقت کام نہیں کرتی۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق ذہنی تناؤ کی کمی کے لیے دی جانے والی 14 عام ترین ادویات میں سے صرف ایک ایسی ہے جو سکون آور ادویات سے زیادہ موثر ہے۔ مزید برآں، ان ادویات کا خودکشی کے خیالات اور کوششوں سے تعلق بھی پایا گیا ہے۔ ایک طبی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق نے پایا کہ 14 ادویات میں سے صرف ایک فلوکسیٹائن (پروزیک) ہی بہتر تھی۔ دیگر ادویات میں ایفیکسر نہ صرف غیر موثر پائی گئی بلکہ پانچ دیگر ادویات کے مقابلے میں اس ک...

ذہنی تناؤ کم کرنے والی ادویات درحقیقت بے اثر ہیں، تحقیق

امریکا میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رحجان وجود - بدھ 13 جولائی 2016

ذرا تصور کیجیے کہ امریکا میں دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں گزشتہ 15 سالوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا تصور کیجیے کہ یہ اموات بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی ہیں اور تقریباً برادریوں میں یکساں ہوئی ہیں۔ یہ بھی فرض کرلیجیے کہ ہر سال ملک میں 40 ہزار سے زیادہ افراد دہشت گردی کے حملوں میں مارے جائیں اور یہ بھی کہ دہشت گردی امریکا میں اموات کے 10 سب سے بڑے اسباب میں سے ایک بن گئی ہے۔ یہ ناممکن ہے نا؟ اس لیے کیونکہ اس کے اثرات کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد ...

امریکا میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رحجان

برطانوی افواج میں ذہنی امراض میں 80 فیصد اضافہ وجود - اتوار 19 جون 2016

برطانیہ کی مسلح افواج میں گزشتہ 9 سالوں کے دوران ذہنی امراض میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ وزارت دفاع نے ایک سروے میں یکم اپریل 2007ء سے 31 مارچ 2016ء تک اپنے اہلکاروں کا جائزہ لیا۔ ایسے سابق فوجی اہلکاروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے جنہیں علاج کی ضرورت ہے اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ اس میں مزید اضافے کے لیے تیار رہے۔ تحقیق کے مطابق وزارت دفاع کی جانب سے تشخیص کردہ امراض کی شرح 2007ء میں 1.8 فیصد تھی جو اب 2016ء میں 3.2 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ ذہنی صحت کے مسائل ...

برطانوی افواج میں ذہنی امراض میں 80 فیصد اضافہ

43 لاکھ چینی باشندے سخت ذہنی مریض وجود - هفته 10 اکتوبر 2015

سال 2014ء کے اختتام کے مطابق چین میں شدید ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی تعداد تقریباً 43 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ چین کے قومی صحت و خاندانی منصوبہ بندی کمیشن کا کہنا ہے کہ ان شدید ذہنی مریضوں میں مرد-عورت کا صنفی تناسب 1.07:1 ہے اور 4.67 فیصد افراد ایسے ہیں جو اس مرض کی موروثی تاریخ رکھتے ہیں۔ زیادہ تر مریض، لگ بھگ 83.6 فیصد، مڈل سے کم تعلیم رکھتے ہیں جبکہ نصف سے زیادہ افراد غربت میں زندگی گزارتے ہیں۔ اعداد وشمار نے ظاہر کیا ہے کہ شدید ذہنی امراض کے شکار افراد انتہائی غیر...

43 لاکھ چینی باشندے سخت ذہنی مریض