وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

آبِ زمزم ایک ارضیاتی معجزہ

جمعرات 17 ستمبر 2015 آبِ زمزم ایک ارضیاتی معجزہ

zemzem-well-pulley

حج کے دن ہوں ، عمرے کے مہینے یا طوافِ کعبہ کا قصد–زائرینِ مکہ میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو اِس شہرِ امن گیا ہو اور آبِ زم زم کا تبرک لیے بغیر واپس آیا ہو۔ آج ہر سال تقریبا30 لاکھ حجاجِ کرام فریضہ حج ادا کرنے مکہ مکرمہ آتے ہیں، سیر ہو کر آبِ زم زم پیتے ہیں ا ور بوتلیں بھر بھر کر اپنے ساتھ بطورِ مقدس نشانی لے جاتے ہیں۔ اسے پینے والے بھی اسے پُر تاثیر پاتے ہیں۔ ان کی تھکن دور ہوتی ہے اور انہیں حیرت انگیز تازگی کا احساس بھی ہوتا ہے۔ کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ انہوں نے دنیا کے بہترین معدنی پانی (مننرل واٹر ) میں بھی آبِ زم زم جیسا ذائقہ اور اثر نہیں پایا ہے۔ بہت ممکن ہے ہر شے اور مظہر کی “عقلی توجیہہ”تلاش کرنے والا “معقول ذہن” اسے لوگوں کی مخصوص نفسیاتی کیفیت یا عقیدت مندی سے پیدا ہو جانے والے رجحان کا فطری نتیجہ قرار دے۔ لیکن آب زم زم کا معجزہ صرف اس کی کیمیائی ترکیب، ذائقے اور تاثیر تک ہی محدود نہیں، بلکہ کچھ اور اہم خصوصیات بھی اس آبِ مقدس سے وابستہ ہیں جو کسی غیر جانبدار اور متجسس، سائنسی ذہن رکھنے والے شخص کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ جب ہم نے اس موضوع پر قلم اُٹھانے کا ارادہ کیا اور مختلف ذرائع سے آبِ زم زم کے بارے میں مطالعہ شروع کیا تو رفتہ رفتہ ہماری آنکھوں کے سامنے گویا وہ مناظر آتے چلے گیے۔ آئیے کہ پہلے تخیل کو وسعت دیں تاکہ عقل کی سنگلاخ زمین پر قدم رکھنا آسان ہو جائے۔

پہلا منظر

چار ہزار سال قبل کا زمانہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ، اپنی زوجہ بی بی ہاجرہ کو اللہ کے حکم سے اس بے آب و گیاہ اور بے نام وادی کے عین درمیان، تپتی ہوئی ریت پر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ شِیر خوار حضرت اسماعیل علیہ السلام ، گرمی اور پیاس کی شدت سے نڈھال ہو کر رو رہے ہیں۔ بی بی ہاجرہ کا چہرہ پریشان ہے لیکن دور دور تک بھی کہیں پانی کا نام و نشان نہیں۔ بے زبان اسماعیل کو وہیں وادی میں چھوڑ کر، بی بی ہاجرہ صفا اور مروا کی پہاڑیوں کا ایک کے بعد دوسرا چکر لگا رہی ہیں۔ ہر پھیرے پر پیاس سے بلکتے ہوئے اسماعیل کی آواز، ان کے تھکتے ہوئے پیروں کو رکنے نہیں دیتی اور وہ ایک بار پھر پہاڑی کی طرف بڑھ جاتی ہیں کہ شاید اس مرتبہ بلندی پر پہنچ کر قریب سے گزرتا ہوا کوئی کارواں نظر سے گزر جائے۔ ساتواں پھیرا مکمل کر کے بی بی ہاجرہ واپس وادی کی طرف اُتر رہی ہیں۔ پیاس کی شدت سے نڈھال اسماعیل علیہ السلام روتے روتے اپنی ایڑیاں بھی زمین پر رگڑنے لگے ہیں۔ اور بی بی ہاجرہ کے دیکھتے ہی دیکھتے زمین سے پانی اُبل پڑا ہے۔ اپنے رب کے اس معجزے پر شکر گزار، یہ خاتون پہلے اسماعیل (علیہ السلام) کو پانی پلاتی ہیں اور پھر اپنے سوکھے حلق کو تر کرتی ہیں۔ دریں اثناء پانی خاصا پھیل چکا ہے۔ اسے مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے وہ مٹی اور پتھروں کا ایک حصار بنا دیتی ہیں۔ ربِ کائنات کو اِس نیک بی بی کی یہ ادا اس قدر پسند آئی ہے کہ آنے والے دنوں میں صفا و مروا کے درمیان سات چکروں (سعی ) کو ارکانِ حج میں شامل کر لیا جائے گا کہ اس واقعے کی یاد ہمیشہ تازہ رہے۔ یہ معجزاتی چشمہ جو “زم زم” سے معنون ہو کر مشہور ہو گا، اسی کے فیض کی بدولت یہاں ایک شہر آباد ہو گا جسے قرآن ِ پاک میں “بلد الامین” (امن کا شہر ) کہا جائے گا۔ چند سال بعد اسی چشمے کے پاس حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل، اللہ کے حکم سے خانۂ کعبہ کی تعمیر کریں گے جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کا قبلہ اور رُوئے زمین پر مقدس ترین مقام قرار پائے گا۔

دوسرا منظر

ڈھائی ہزار سال بعد۔۔۔ ۔ لگ بھگ 540 عیسوی کا زمانہ۔ سنت ابراہیمی کے تحت ہر سال ذی الحجہ کے مہینے میں حج کی غرض سے آنے والے زائرین کی شہر مکہ میں آمد ایک معمول بن چکی ہے۔ شیبہ (جو عبدالمطلب کے نام سے مشہور ہیں ) قریش کے سردار مقرر ہوئے ہیں اور دیگر امور کے علاوہ حاجیوں کی ضیافت یعنی ان کے کھانے پینے کا اہتمام بھی انہی کے ذمے ہے ۔ مکے میں پانی کا انتظام انتہائی دشوار کاموں میں شامل ہے۔ شیبہ نے سینہ بہ سینہ روایات میں یہ سن رکھا تھا کہ چاہِ زم زم کا پانی میٹھا اور خوش ذائقہ ہے۔ مگر مشکل یہ تھی کہ برسوں پہلے، جب بنو خزاعہ نے قبیلہ جرہم سے جنگ کرنے کے بعد انہیں یہاں سے بے دخل کیا تو قبیلہ جرہم کے آخری سردار مضاض جرہمی نے جاتے جاتے کعبہ کے کچھ نذرانوں کو (جو اُس کے پاس تھے ) زم زم میں ڈال کر اوپر سے پاٹ دیا۔

1971ء میں ایک مصری ڈاکٹر کا ایک خط مصری اخبارات میں شائع ہوا، جس میں بتایا گیا تھا کہ آبِ زم زم پینے کے لیے موزوں نہیں رہا۔ مجھے فورا خیال آیا کہ یہ مسلمانوں کے خلاف تعصب کی ایک شکل ہے

اب اس واقعے کو اتنے برس گزر چکے ہیں کہ چاِہِ زم زم صرف ایک داستان بن کر رہ گیا ہے۔ مکہ کے لوگ صرف اتنا جانتے ہیں کہ چاہِ زم زم ، بیت اللہ کے آس پاس کہیں پر تھا۔ لیکن کہاں؟ یہ کسی کو نہیں معلوم۔ اہلِ قریش اسے تقریباً بھول چکے ہیں۔ شیبہ چاہتے ہیں کہ چاہِ زم زم کو تلاش کیا جائے اور اسے کھود کر صاف کیا جائے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ اِ س کا سراغ ناپید ہے۔ معلوم نہیں کیوں چاہِ زم زم کی فکر انہیں پوری طرح گھیر چکی ہے۔ کچھ لو گوں نے دبے لفظوں میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ چاہِ زم زم کی تلاش نا ممکن ہے اور عبدالمطلب ایک لاحاصل کوشش کے پیچھے اپنا وقت برباد کر رہے ہیں۔ ہر روز سونے سے پہلے وہ زم زم کے بارے میں دیر تک سوچتے رہتے کہ کاش! مجھے اس کنویں کا سراغ مل جائے تاکہ میں حاجیوں کو اس کا پانی پلا سکوں۔ آج عبدالمطلب خانۂ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہیں اور یہی سوچ رہے ہیں۔ سوچتے سوچتے غنودگی کی کیفیت ان پر طاری ہو گئی ہے۔

“اٹھ اور زم زم کو کھود ! تم اسے کھود کر کبھی پشیمان نہیں ہو گے۔ یہ تمہارے معزز محترم باپ اسماعیل (علیہ السلام) کی نشانی ہے۔ اس کا پانی خشک ہوتا ہے نہ کم۔ تم اس سے بے شمار حاجیوں کو پانی پلا سکو گے۔”

عبدالمطلب چونک کر بیدار ہوتے ہیں۔ غیبی آواز کا ایک ایک لفظ ان کے ذہن میں واضح ہے۔ دوسرے روز بھی وہ اُسی جگہ آرام کر رہے تھے کہ خواب میں وہی آواز پھر سنائی دی۔ تیسرے دن اس آواز نے عبدالمطلب کو پھر وہیں ، اور اُسی کیفیت میں مخاطب کیا مگر اب کی بار زم زم کا پتا بھی بتایا:

“زم زم کا کنواں اس جگہ ہے جہاں کل تم ایک کوے کو اپنی چونچ سے زمین کھودتا دیکھو گے۔”

اگلے دن عبدالمطلب کنواں کھودنے کی تیاری کر کے، کعبے کے سائے میں بیٹھ جاتے ہیں وہ کسی نشانی کے منتظر ہیں۔ کچھ دیر بعد ہی سیاہ رنگ کا ایک کوا غوطے لگا تا ہوا آتا ہے اور زمین پر ایک جگہ اتر کر اپنی چونچ سے مٹی کھودنے لگتا ہے۔اس جگہ کی فوری طور کھدائی کی جاتی ہے اور خواب سچ ثابت ہوتا ہے۔ کھدائی پر مضاض جرہمی کے دفن کر دہ نذرانے،د و تلواریں اور ہرنوں کے دو طلائی مجسمے(سونے کے مجسمے) بھی یہاں سے برآمد ہوتے ہیں۔ عبدالمطلب، چاہِ زم زم کی ازسر نو کھدائی اور صفائی کراتے ہیں۔۔۔ ۔ اور یوں اس کا فیض ایک بار پھر جاری ہو جاتا ہے۔

تیسرا منظر

ایک خود نوشت، از طارق حسین

The-well-of-Zamzam-1326h

ہم عمرے کے لیے ایک بار پھر یہاں آئے ہیں اور مجھے بے اختیار زم زم کے عجائبات یاد آ گیے ہیں۔ یہ سب کچھ کیسے شروع ہوا، یہ بتانے کے لیے میں ماضی میں واپس جانا چاہوں گا۔ 1971ء میں ایک مصری ڈاکٹر کا ایک خط مصری اخبارات میں شائع ہوا، جس میں بتایا گیا تھا کہ آبِ زم زم پینے کے لیے موزوں نہیں رہا۔ مجھے فورا ً خیال آیا کہ یہ مسلمانوں کے خلاف تعصب کی ایک شکل ہے کیوں کہ اس بیان کی بنیاد اس مفروضے پر تھی کہ چوں کہ خانۂ کعبہ ایک نشیبی مقام پر (سطح سمند سے بھی نیچے) واقع ہے لہٰذا شہر مکہ کا استعمال شدہ پانی بھی اپنے فضلے سمیت، نالیوں سے گزر کر زم زم کے کنویں میں گر رہا ہو گا۔ خوش قسمتی سے یہ خبر شاہ فیصل کے کانوں تک بھی پہنچ گئی جسے سن کر انہیں شدید غصہ آگیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ مصری ڈاکٹر کے اس اشتعال انگیز دعوے کو غلط ثابت کیا جائے۔انہوں نے فوری طور پر وزارتِ زراعت و آبی وسائل کو حکم دیا کہ اس معاملے کی چھان بین کی جائے اور آبِ زم زم کے نمونے یورپی تجربہ گاہوں کو بھیجے جائیں تاکہ پینے کے حوالے سے اس کی جانچ ہوسکے۔ اس حکم کی روشنی میں وزارت نے جدہ میں بجلی اور نمک ربائی ( ڈی سیلی نیشن) کے مرکز کو ہدایت کی کہ وہ اس ذمہ داری کو سنبھالے۔ میں اسی پلانٹ پر نمک رُبائی کا انجنیئر ( یعنی سمندر کے کھارے پانی سے پینے کا صاف پانی حاصل کرنے کے لیے مامور کیمیائی انجینئر) تھا۔ اس کام کے لیے میرا انتخاب کیا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس موقع پر مجھے بالکل بھی معلوم نہیں تھا کہ پانی کا کنواں کیسا دکھائی دیتا ہے۔” میں وہاں سے مکہ پہنچا اور کعبے میں تعینات سرکاری عہدیداروں سے مل کر انہیں اپنی آمد کے مقصد سے آگاہ کہا۔ انہوں نے ہر ممکنہ مدد کے لیے ایک شخص کو میرے ساتھ کر دیا۔ جب ہم کنویں پر پہنچے تو میرے لیے یہ تعین کرنا بہت مشکل تھا کہ 18 فٹ لمبے اور 14 فٹ چوڑے تالاب کی طرف دکھائی دینے والا، پانی کا بظاہر مختصر سایہ ذخیرہ وہی کنواں ہے جو آج سے ہزاروں سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں جاری ہوا تھا اور اب تک ہر سال حاجیوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے یہیں سے لاکھوں کروڑوں گیلن پانی حاصل کیا جاتا ہے۔ میں نے اپنے ساتھ آئے ہوئے شخص سے کہا کہ وہ مجھے کنویں کی گہرائی دکھائے۔ پہلے اس نے غسل کیا اور پھر پانی میں اتر گیا۔ پھر وہ پانی میں سیدھا کھڑا ہو گیا۔ میں نے دیکھا کہ پانی کی سطح اس کے کندھے سے ذرا سی اوپر تک تھی جب کہ اس کا اپنا قد تقریباً پانچ فٹ آٹھ انچ تھا۔ پھر اس نے خود کو سیدھا رکھتے ہوئے، کنویں کی دیواریں ٹٹولتے ہوئے ایک سے دوسرے کنارے کی طرف چلنا شروع کیا، تاکہ دیوار میں موجود کسی پائپ یا نالی کا سراغ لگالے اور یہ پتا چلا لے کہ کنویں میں کہاں سے پانی آرہا ہے۔( اسے اجازت نہیں تھی کہ وہ پانی میں سر ڈالے۔ ) تاہم ، اس آدمی کو کنویں میں آنے والی کسی نالی یا پائپ کا سراغ نہیں مل سکا۔” مجھے ایک اور خیال سوجھا۔ چاہِ زم زم سے بڑی بڑی ذخیرہ جاتی ٹنکیاں بھرنے کے لیے طاقتور پمپ وہاں نصب تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر کنویں کا پانی تیزی کے ساتھ اس پمپ کے ذریعے کھینچا جائے تو یقیناً وقتی طور پر پانی کی سطح گرے گی اور یوں ہم نالی یا پائپ کو براہِ راست دیکھ سکیں گے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ پمپنگ کے دوران بھی ایسا کچھ دکھائی نہیں دیا۔ مگر میں جانتا تھا کہ یہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے کسی کنویں میں پانی داخل ہونے کے راستے کا پتا چلا سکتے ہیں۔ لہٰذا میں نے یہ عمل ایک بار پھر دہرانے کا فیصلہ کیا۔ تاہم اس مرتبہ میں نے اس آدمی کو ہدایت کر دی کہ وہ ایک جگہ ساکن کھڑا رہے اور کنویں میں ہونے والی کسی بھی غیر معمولی بات کا احتیاط سے مشاہدہ کرے۔ کچھ دیر بعد ہی وہ چلایا” الحمد للہ! مجھے پتا چل گیا۔ میرے پیروں تلے ریت میں حرکت ہو رہی ہے۔ پانی اسی راستے میں داخل ہو رہا ہے۔” پھر اس نے پورے کنویں کا ایک چکر لگا یا اور مجھے بتایا کہ پورے کنویں میں یہی کیفیت ہر جگہ ہے۔ دراصل کنویں میں آنے والا پانی، تہہ کے ہر مقام سےیکساں طور پر داخل ہوتا ہے جس کی وجہ سے پانی کی سطح اپنی جگہ پر رہتی ہے۔ یہ مشاہدات مکمل کرنے کے بعد میں نے یورپی تجربہ گاہوں کے لیے آبِ زم زم کے نمونے لیے۔ واپسی سے پہلے میں نے کعبہ کے عہدیداروں سے مکہ کے دیگر کنوؤں کے بارے میں دریافت کیا۔ مجھے بتایا گیا کہ دوسرے کنویں اکثر اوقات خشک رہتے ہیں۔” جب میں جدہ میں اپنے دفتر واپس پہنچا اور اپنے افسر کو اس دریافت کے بارے میں بتا یا تو وہ بہت متاثر ہوا۔ مگر اس نے انتہائی غیر معقول توجیہہ بیان کرتے ہوئے خیال ظاہر کیا کہ زم زم کا کنواں اندرونی طور پر بحیرۂ احمر سے متصل ہوسکتا ہے۔ یہ کیسے ممکن تھا جب کہ شہرِ مکہ سمندر سے تقریباً 75 کلو میٹر دور ہے اور شہر کے آس پاس کے بیشتر کنویں اکثر خشک رہتے ہیں؟ آبِ زم زم کے نمونوں کے تجزئیے کے بعد یورپی تجربہ گاہوں نے جو نتائج دئیے تھے، ہمارے تجزیاتی نتائج بھی تقریباً وہی تھے۔ زم زم کے پانی اور شہر کے دوسرے مقامات سے حاصل شدہ پانی میں کیلشیم اور میگنیشیم نمکیات کی حل شدہ مقداروں کا فرق تھا۔ آبِ زم زم میں ان نمکیات کی مقدار تھوڑی سی زیادہ پائی گئی تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ پانی پی کر تھکے ہوئے حاجیوں کو تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ مگر اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ آبِ زم زم میں قدرتی طور پر فلورائیڈ مرکبات بھی موجود ہیں جو اہم جراثیم کُش خصوصیات رکھتے ہیں۔ یورپی تجربہ گاہوں نے اس پانی پر جو تبصرہ کیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پینے کے لیے اس سے بہتر پانی کوئی اور نہیں۔ اس طرح مصری ڈاکٹر کا بیان غلط ثابت ہو گیا۔ جب شاہ فیصل کو اس کی اطلاع دی گئی تو بہت خوش ہوئے اور انہوں نے حکم دیا کہ مصری ڈاکٹر کے دعوے کو غلط ثابت کرنے والی یہ خبر یورپی اخبارات کو جاری کر دی جائے۔ یہ ایک طرح سے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی تھی کہ آبِ زم زم کے تجزیاتی مطالعے کے بعد اس کی کیمیائی ترکیب منظر عام پر لائی گئی۔ درحقیقت آپ جتنا کھوجتے چلے جائیں گے، اتنے ہی زیادہ عجائبات آپ کے سامنے آئیں گے اور آپ اس پانی( آبِ زم زم ) میں اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ معجزات پر ایمان لاتے جائیں گے۔ اب میں آبِ زم زم کی کچھ امتیازی خصوصیات مختصراً بیان کرنا چاہوں گا:٭یہ کنواں (از خود) کبھی خشک نہیں ہوا بلکہ، اس کے برعکس، اس نے پانی کی بڑھتی ہوئی ضروریات ہمیشہ پوری کی ہیں۔

٭ اس کا ذائقہ اور اس میں موجود نمکیات کی مقدار، چاہِ زم زم وجود میں آنے سے لے کر آج تک جوں کی توں ہے۔

٭ اس کی نوشیدگی( یعنی پینے کے لیے موزونیت) بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ عازمینِ حج یا عمرہ میں سے کوئی آبِ زم زم پینے کی وجہ سے بیمار پڑا ہو۔ اس کے برعکس اسے پینے والوں نے ہمیشہ خود کو تازہ دم اور چاق و چوبند ہی پایا ہے۔

٭ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی کنویں کے پانی کا ذائقہ تبدیل ہو جاتا ہے اور اسے کیمیائی طور پر صاف کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ آبِ زم زم کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ بیشتر کنوؤں میں کھدائی کے کچھ عرصے بعد دیواروں پر نامیاتی اجسام اور خودرو نباتات وغیرہ پروان چڑھنے لگتے ہیں۔ چند سال ہی میں ان کی مقدار میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے جو کنویں کے پانی کو بد ذائقہ اور بدبو دار کر کے پینے کے لیے ناموزوں بنا دیتا ہے۔ چاہِ زم زم کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اس میں ایسی کسی نامیاتی افزائش کے آثار نہیں پائے گیے ہیں۔

کیمیائی ترکیب

زم زم کے پانی اور شہر کے دیگر مقامات کے پانی میں کیلشیم اور میگنیشیم نمکیات کی حل شدہ مقداروں کا فرق تھا۔ آبِ زم زم میں ان نمکیات کی مقدار تھوڑی سی زیادہ پائی گئی تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ پانی پی کر تھکے ہوئے حاجیوں کو تازگی کا احساس ہوتا ہے

پاکستانی کیمیکل انجینئر، طارق حسین کی آبِ زم زم کے بارے میں خود نوشت آپ نے ملاحظہ کی۔ یہ آبِ زم زم کا اوّلین کیمیائی تجزیہ تھا۔ بعد ازاں وقتاً فوقتاً آبِ زم زم کا کیمیائی تجزیہ ہوتا رہا ہے اور ہر بار اسے صحت بخش خصوصیات سے مالا مال پایا گیا ہے۔ 1400 ہجری(بمطابق 1980ء) میں شاہ خالد السعودی مرحوم کی زندگی میں چاہِ زم زم کی صفائی اور کنویں کے چاروں طرف جمع ہونے والے پانی کی نکاسی کا انتظام بہتر بنانے کے بعد ، آبِ زم زم کے کچھ تازہ نمونے امریکی تجاہوں (تجربہ گاہوں )میں تجزئیے کے لیے روانہ کیے گیے۔ علاوہ ازیں، اسی دوران سعودی عرب کے مغربی صوبے میں واقع پانی کی فراہمی اور آلودہ پانی کی صفائی پر مامور سرکاری شعبے کی ایک تجربہ گاہ میں بھی کچھ نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔ بعض مقامات پر ڈاکٹر احمد عبدالقادر المہندسی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ آبِ زم زم کی “پی ایچ ویلیو”(pH value) یعنی ہائیڈروجن آئنوں کی تناسبی مقدار 5.7 ہے۔یعنی اس میں معمولی سے الکلی خواص ہیں۔ امریکی تجربہ گاہوں کی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ آبِ زم زم میں معلوم شدہ عناصر کے علاوہ مزید تیس عناصر کی انتہائی معمولی مقداریں (trace amounts) بھی موجود ہیں ان میں سے بعض کی شرح 01.0 حصے فی دس لاکھ (01.0پی پی ایم ) سے بھی کم ہے۔ متعدد کیمیائی تجزیات کے بعد آج یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ سعودی عرب کے گرم اور خشک موسم میں ہونے والی زیادہ تبخیر کی وجہ سے آبِ زم زم میں نمکیات کی شرح نسبتاً زیادہ ہوتی ہے جو اسے انسانی جسم کے لیے مفید بناتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے پانی کی نوشیدنی کے بارے میں خاصی تفصیلات جاری کی ہیں جن کے تحت کسی بھی مقام پر دستیاب پانی میں پینے کے لحاظ سے موزونیت کا تعین کر کے درجہ بندی کی جا سکتی ہے۔ جب آبِ زم زم کا تجزیہ ان معیارات کے مطابق کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ یہ پانی نہ صرف پینے کے لیے بہت موزوں ہے بلکہ عمومی صحت پر بھی اس کے انتہائی مثبت اور غیر معمولی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آبِ زم زم میں موجود اہم معدنیات کا خلاصہ یہ ہے:

معدن ۔۔۔ ۔ تناسبی مقدار (پی پی ایم)
کیلشیم ۔۔۔ ۔ 198
میگنیشیم ۔۔۔ ۔ 7.43
کلورائیڈ ۔۔۔ ۔ 335
گندھک ۔۔۔ ۔ 370
فولاد ۔۔۔ ۔ 15.0
مینگنیز ۔۔۔ ۔ 15.0
تانبا (کاپر) ۔۔۔ ۔ 12.0

ارضیاتی حقائق

zamzam-well-2

جناب عبدالمطلب کے زمانے میں چاہِ زم زم کی کھدائی کے بعد سے لے کر اب تک اس کنویں کی لمبائی، چوڑائی اور گہرائی میں تبدیلی نہیں لائی گئی ہے۔ یعنی یہ آج تک 18 فٹ لمبا، 14 فٹ چوڑا اور تقریباً 5فٹ گہرا ہے۔ مکہ کا شہر جس وادی میں ہے وہ چاروں طرف سے گرینائٹ چٹانوں والے پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے۔ حرم شریف ( مسجد الحرام) وادی میں سب سے نچلے مقام پر ہے۔ خانہ کعبہ اور مسجد الحرام سمیت پورا شہر مکہ، ریت اور گاد کی تہ ( sand and silt formation) پر واقع ہے۔ جس کی گہرائی 50 سے 100 فٹ تک ہے اور جس کے نیچے آتشی چٹانوں کی ایک تہہ پھیلی ہوئی ہے۔ چاہِ زم زم بھی ریت / گاد کی اسی تہہ پر واقع ہے اور اس میں پانی کی سطح ، اطراف کی زمین سے 40 تا 50 فٹ کی گہرائی پر ہے۔ یہ انکشاف یقیناً دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ چاہِ زم زم میں پانی پہنچانے کا کام نفوذ پذیر ریت پر مشتمل ایک تہہ سے ہوتا ہے جسے ریت سے بھری ہوئی ایک لمبی سرنگ کی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ آب اندوخت(aquifer) کسی ڈھلوان سطح کی مانند، ابوالقبیس پہاڑ کی سخت چٹانوں کے نیچے سے گزرتی ہوئی ، کچھ او پر کو اُٹھتی ہوئی طائف کی پہاڑیوں تک چلی گئی ہے۔ اس کا انکشاف جون 1982ء میں اس وقت اتفاقیہ طور پر ہوا جب حرم شریف میں صفا کی جانب ایک سرنگ کھودی جا رہی تھی۔ سرنگ کی چھت کھودتے کھودتے اچانک ہی وہاں سے پانی اُبل پڑا۔ ذراسی دیر میں وہاں جل تھل ہو گیا اور سرنگ میں اس قدر پانی جمع ہو گیا کہ وہاں کا م کرنے والے مزدوروں کی زندگیاں بھی خطرے میں نظر آنے لگیں۔ عین اس لمحے چاہِ زم زم میں پانی کا بہاؤ متاثر ہوا اور شاید تاریخ میں پہلا موقع آیا جب یہ کنواں اس واقعے کے سبب تقریباً خشک ہو گیا۔ شاہ فہد بن عبدالعزیز نے اس واقعے کی فوری چھان بین کے لیے ایک ہنگامی کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی میں شاہ فہد یونیورسٹی آف پٹرولیم اینڈ منرلز سے وابستہ، ارضی طبیعیات کے پاکستانی پروفیسر، ڈاکٹر عدنان نیازی بھی شامل تھے۔ پانی کے تجزئیے سے معلوم ہوا کہ سرنگ میں بھر نے والا پانی اور چاہِ زم زم کا پانی بالکل ایک جیسے تھے۔ لہٰذا یہ ثابت ہوا کہ سرنگ میں کھدائی کے کام نے کنویں تک پانی پہنچانے والی آب اندوخت میں شگاف ڈال کر اس فراہمی کو بُری طرح متاثر کیا تھا۔ جون 1982ء میں جن لوگوں کو اُس سرنگ میں جانے کا موقع ملا تھا، ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے (سرنگ کی ) ٹوٹی ہوئی چھت میں سے پانی کا سیلاب سا اُبلتے ہوئے دیکھا تھا۔ بہر کیف ! فوری مرمت کے بعد یہ شگاف بند کر دیا گیا اور یوں چاہِ زم زم کو پانی کی فراہمی دوبارہ بحال ہو گئی۔

کنوؤں کی اقسام اور آبیات کے قوانین

اس سے پہلے کہ آبِ زم زم کے حوالے سے اس بحث کو مزید آگے بڑھایا جائے ، قارئین کے لیے یہ جاننا ضروری ہو گا کہ زیرِ زمین پانی کا نظریہ(گراؤنڈ واٹر تھیوری ) کیا کہتی ہے اور اس کی مساواتوں کے تحت کسی کنویں میں پانی کے بہاؤ کا تعین کیسے کیا جاتا ہے۔ یہ جاننے کے بعد قارئین اس قابل ہوں گے کہ وہ چاہِ زم زم کی آبیات( Hydraulics) اور زیرِ زمین پانی کے مروجہ نظریات کا آپس میں موازنہ کر سکیں۔ کنوؤں کی دو اقسام ہیں جنہیں بالترتیب” کھلے کنویں ” (Open wells) اور “گہرے کنویں”( Deep wells) کہا جاتا ہے۔ گہرے کنوؤں کے لیے عام طور پر “ٹیوب ویل” کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جو یقیناً بہت سے قارئین کے لیے نیا نہیں ہو گا۔ ایسے مقامات جہاں زیرِ زمین پانی کی گہرائی زیادہ نہ ہو، وہاں کدال اور پھاؤڑے وغیرہ کی مدد سے کھلے کنویں کھودے جاتے ہیں جن کا قطردس سے پندرہ فٹ تک ہوسکتا ہے۔ کسی کھلے کنویں کی عمومی گہرائی 100 فٹ سےکم ہوتی ہے اور اگر اس کے کناروں پر پتھر نہ ہوں تو ان میں مٹی گرنے سے روکنے کے لیے پتھروں یا اینٹوں سے چار دیواری بنا دی جاتی ہے۔ کنویں کے اندر بنائی گئی یہ چار دیوار کچھ ایسی رکھی جاتی ہے کہ پتھروں یا اینٹوں کے درمیان سے پانی رِ س رِ س کر کنویں میں پہنچتا رہے ۔ کنویں کے فرش پر بجری کی موٹی تہہ بچھا دی جاتی ہے تاکہ اگر کبھی کنویں میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہو یا فرش سے پانی کی زیادہ مقدار اُبل پڑے تو مٹی / ریت اوپر نہ آسکے۔ ایسے کسی کنویں کا منفی پہلو ا س میں پانی کی کم شرح اخراج (discharge rate) ہے، جو 1.0 مکعب فٹ فی سیکنڈ (یعنی 45 گیلن فی منٹ ) یا اس سے بھی کم ہوتی ہے۔کنویں سے زیادہ پانی کھینچنے یا زیادہ آبی اخراج کی وجہ سے فرش کی مٹی بھی پانی میں شامل ہو کر اسے گدلا سکتی ہے اور آخر کار اس کا نتیجہ کنویں کی دیواریں گرنے اور اس کے بند ہو جانے کی شکل میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے۔


متعلقہ خبریں


برطانوی سفیر کے قبول اسلام اور فریضہ حج کی ادائی کی خبر سوشل میڈیا پر چھائی رہی وجود - جمعه 16 ستمبر 2016

برطانیہ سے سال رواں میں تقریباً 19 ہزار حجاج نے فریضہ حج ادا کیا جن میں ایک ایسا نومسلم جوڑا بھی شامل تھا جو سوشل میڈیا پر گفتگو کا موضوع بنا رہا۔ مذکورہ نومسلم جوڑا دراصل سعودی عرب میں تعینات برطانوی سفیر سائمن کولنس اور اُن کی اہلیہ ہدیٰ موجرکیچ کا ہے ۔ مذکورہ نومسلم جوڑے نے احرام کی حالت میں اپنی تصاویر بھی شیئر کی ہیں۔ اس اعتبار سے وہ پہلے برطانوی سفیر ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرکے فریضہ حج ادا کیا ہے۔ برطانوی سفیر کی جانب سے قبول اسلام کے بعد حج کی ادائیگی پر اُنہیں پو...

برطانوی سفیر کے قبول اسلام اور فریضہ حج کی ادائی کی خبر سوشل میڈیا پر چھائی رہی

مسلمانوں کو فرقہ واریت سے دور رہنا چاہئے، امام حرم کا خطبہ حج وجود - پیر 12 ستمبر 2016

مسجد الحرام کے امام شیخ صالح بن حُمید نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے کہا کہ مسلم حکمران سن لیں امت سخت حالات سے گزر رہی ہے، جب تک مسلمان مشترکہ طور پر کوششیں نہیں کریں گے، مسائل حل نہیں ہوں گئے۔ اُنہوں نے اسلام کو فلاح اور کامیابی کا راستہ بتاتے ہوئے کہا کہ اسلام ایک معتدل دین ہے، جو مسلمانوں کو اعتدال سے زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے۔ دنیا بھر کے 200 سے زائد ممالک اور خطوں سے آئے ہوئے 15 لاکھ سے زائد مسلمانوں نے میدان عرفات میں حج کا رکن اعظم یعنی وقوف ادا کیا۔ سعودی ...

مسلمانوں کو فرقہ واریت سے دور رہنا چاہئے، امام حرم کا خطبہ حج

عالمی حدت، خلیجی ممالک بڑے خطرے کی زد میں وجود - بدھ 28 اکتوبر 2015

مسلمانانِ عالم کا سب سے بڑا اجتماع، حج، عالمی حدت اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہوگا؟ یہ ایسا سوال ہے جو ابھی تو حیران کر رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہےکہ جس تیزی سے دنیا بھر میں موسم بدل رہے ہیں اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، ہر گزرتے سال کے ساتھ یہ خطرہ لاحق ہوتا جا رہا ہے۔ میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے الفاتح الطاہر اور لویانا میری ماؤنٹ یونیورسٹی، لاس اینجلس کے جیریمی پال ماحول کو نقصان پہنچانے والی گرین ہاؤس گیس کے اخراج سے بڑھنے والے درجہ حرارت اور اس کے انسانی ...

عالمی حدت، خلیجی ممالک بڑے خطرے کی زد میں

ہم بھی وہاں موجود تھے!! الیاس شاکر - پیر 12 اکتوبر 2015

حضرت ابراہیم ؑکو اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی سے روکنے کیلئے بہکانے والا شیطان آج بھی اپنے اس عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے کیونکہ یہ اس کی فطرت ہے اس نے مہلت مانگی تھی۔ 2015 کاحج اپنی خونریز یادیں چھوڑ گیا۔جمعرات 24 ستمبرصبح آٹھ سے نو بجے (سعودی وقت کے مطابق)منی میں جمرات پل کے پاس شارع العرب(شارع 204) پر بھگدڑ مچنے سے769 سے زائد حاجی شہیدجبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے ان میں زیادہ تعداد عورتوں اور عمر رسیدہ حاجیوں کی تھی۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب حجاج رمی کے لیے جا رہے تھے۔1990 ...

ہم بھی وہاں موجود تھے!!

سانحہ منیٰ: پاکستانی میڈیا کے تعصبات اور ابلیس کا حملہ ظفر محمود شیخ - اتوار 04 اکتوبر 2015

سانحہ منیٰ میں ہونے والے جانی نقصان پر پورا عالم اسلام اشکبار ہے۔ اکثریت کی تشو یش کا محور ان کے وہ احباب تھے جو سال رواں خود فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے حجاز مقدس گئے تھے۔ تاہم بہت سوں کی تشویش سانحہ کے بعد پیدا شدہ حالات کے باعث تھی کیونکہ دیگر مسلم ممالک کے ردعمل کے برخلاف برادر اسلامی ملک ایران کا ردعمل اپنے جلو میں فرقہ وارانہ رنگ اور پہلے سے موجود سیاسی مخاصمت لئے ہوئے تھا جس کا لازمی نتیجہ ہیجان کی صورت میں نکلنا تھا ۔بدقسمتی سے پاکستانی میڈیا نے بھی اس کی اپنے روایتی م...

سانحہ منیٰ: پاکستانی میڈیا کے تعصبات اور ابلیس کا حملہ

سانحہ منیٰ، مکہ مکرمہ پر غم کے سائے وجود - جمعه 25 ستمبر 2015

سانحہ جمرات کے ایک روز بعد جمعہ کو حجاج کرام نے ایک مرتبہ پھر شیطان کو کنکریاں مارنے کا آغاز کیا۔ اس دوران ماحول پر غم کی چادر تنی رہی۔ رمی کے لیے جانے والے حجاج کرام میں بھگدڑ مچنے سے گزشتہ روز 719 حاجی شہید اور 900 سے زائد زخمی ہوگئے تھے، جن میں بڑی تعداد ایران اور مراکش کے حاجیوں کی تھی جبکہ پاکستان، بھارت اور دیگر کئی ممالک کے حجاج بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ مسجد حرام میں خطبہ جمعہ کے دوران شیخ صالح الطالب نے کہا کہ "سعودی حکومت حج معاملات کو بااحسن و خوبی انجام دینے ک...

سانحہ منیٰ، مکہ مکرمہ پر غم کے سائے

منیٰ میں بھگڈر۔۔ 717 حجاج شہید اور 863 زخمی وجود - جمعرات 24 ستمبر 2015

مکہ مکرمہ کے نواح میں منیٰ کی خیمہ بستی میں بھگڈر مچنے سے 717 حجاج شہید جبکہ 863 سے زائد زخمی ہو گئے۔محکمہ شہری دفاع کے ٹویٹر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق حادثہ منیٰ کی 204 شاہراہ پر رونما ہوا۔ حادثہ مناسک حج کے آخری مرحلے میں بڑے، درمیانے اور چھوٹے شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے موقع پر رونما ہوا جہاں لاکھوں حجاج جمرات کے مقام پر جمع تھے۔اطلاعات کے مطابق حادثہ مکتب نمبر 93 کے قریب جس جگہ پر پیش آیا وہاں زیادہ تر الجزائری شہری تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں ایک پا...

منیٰ میں بھگڈر۔۔ 717 حجاج شہید اور 863 زخمی

حجاج کی شیطان کو کنکریاں مارنے کے لئے منیٰ آمد وجود - جمعرات 24 ستمبر 2015

حجاج مزدلفہ میں شب بسری کے بعد شیطان کو کنکریاں مارنے اور سنت ابراہیمی کی پیروی میں قربانی اور دیگر مناسک کی ادائی کے لئے جوق در جوق منیٰ پہنچ رہے ہیں۔ اللہ کے مہمانوں نے گزشتہ روز عرفات کے میدان میں نماز ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کی جس کے بعد وہ مزدلفہ روانہ ہو گئے جہاں انہوں نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں اور کھلے آسمان تلے رات اللہ کی عبادت میں گزاری۔ دوسری طرف مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں نماز عید کے عظیم الشان اجتماعات ہوئے۔جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد...

حجاج کی شیطان کو کنکریاں مارنے کے لئے منیٰ آمد

امت مسلمہ میں اخلاص ختم اور فساد پھیل چکا ہے!، خطبۂ حج وجود - بدھ 23 ستمبر 2015

سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے اپنے انتہائی بامعنی خطبۂ حج میں کہا ہے کہ دشمن اسلام کا لبادہ اوڑھ کراسلام کو کمزور کررہے ہیں اور داعش اسلام کے نام پر مسلم امہ کو تباہ کرنے میں مصروف ہے۔ مفتی اعظم 23 ستمبر بروزمیدانِ عرفات میں مسجد نمرہ سے حج کے رکنِ اعظم ''وقوف عرفہ''کے لیے جمع لاکھوں فرزندان توحید سے مخاطب تھے۔ انھوں نے عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کی مذمت کرتے ہوئے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ وہ اسلام کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال ...

امت مسلمہ میں اخلاص ختم اور فساد پھیل چکا ہے!، خطبۂ حج

حجازِ مقدس کی اولین و نایاب ترین تصاویر وجود - بدھ 23 ستمبر 2015

[caption id="attachment_29952" align="aligncenter" width="872"] مسجد حرام کی وہ نایاب تصویر، جو مصری فوٹوگرافر محمد صادق بے نے 1880ء میں لی تھی۔ یہ کیمرے کے ذریعے کھینچی گئی مسجد حرام کی پہلی تصویر ہے[/caption] حج بیت اللہ کی خواہش ہر مسلمان کے دل میں رہتی ہے۔ آج وقوفِ عرفات کے موقع پر دنیا بھر میں براہ راست دکھائے گئے روح پرور مناظر سے اس خواہش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس جدید دور میں تیز رفتار سفر اور بہترین سہولیات کی وجہ سے حج ماضی کے مقابلے میں بہت آسان ہوگیا ہے لیکن آپ...

حجازِ مقدس کی اولین و نایاب ترین تصاویر

لبیک اللھم لبیک کی روح پرور صدائیں۔۔اللہ کے مہمان منیٰ روانہ وجود - منگل 22 ستمبر 2015

مقدس شہر مکہ المکرمہ میں مناسکِ حج کا آغاز ہوگیا ہے اور 25 لاکھ سے زائد عازمین لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے مِنیٰ پہنچ رہے ہیں جہاں وہ رات قیام کے بعد صبح میدان عرفات پہنچیں گے۔ میدان عرفات میں مسجد نمرہ میں خطبہ حج سننے کے بعد عازمین نماز ظہر اور عصر ادا کریں گے۔مگر ان دو نمازوں کے درمیان وقوف عرفات ہوگا جس میں حجاج اللہ رب العزت کے حضور خشوع و خضوع سے رقت آمیز دعائیں کریں گے۔ حجاج کو سورج غروب ہونے کےساتھ ہی میدان عرفات چھوڑنے کا حکم ہے۔ جہاں سےوہ مزدلف...

لبیک اللھم لبیک کی روح پرور صدائیں۔۔اللہ کے مہمان منیٰ روانہ