... loading ...

پیپلزپارٹی کی قیادت میں قائم سندھ حکومت نے وفاق کے خلاف اعلان ِجنگ کردیا ہے۔سینئر وزیر نثار کھوڑو کے ساتھ پریس کانفرنس میں وزیر خزانہ مراد علی شاہ کا کہناتھاکہ گیس صوبے سے باہر نہیں جانےدی جائے گی۔ سندھ سے نکلنے والے ایک سو پچاسی ارب ٹن کوئلےکو بھی اب پنجاب نہیں جانے دیا جائے گا کیونکہ اس کی بھی تیاری ہورہی ہے۔ سندھ حکومت کے ذرائع وفاقی حکومت کے خلاف اعلان بغاوت کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ شریف برادران کا منصوبہ ہے کہ ایل این جی درآمد کے بعدسندھ سے نکلنے والی گیس پنجاب لے جائی جائے اور اس کے بدلے درآمدی گیس سندھ کو دے دی جائے۔منصوبے کا علم ہونےکے بعد سندھ حکومت چاہتی تھی مشترکہ مفادات کی کونسل میں اس پر بات کی جائے گی لیکن وفاق اس آئینی ادارے کا اجلاس بلانے سے گریزاں ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم میں یہ گنجائش موجود ہے کہ کسی بھی معدنی وسیلے پرپہلا حق اس صوبے کا ہےجہاں وہ دریافت ہوتا ہے۔ اس استفسار پر کہ صوبہ وفاق کو کسی دوسرے صوبے کےلیےتصرف سے نہیں روک سکتا اس کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں؟ ذرائع کا کہناتھاکہ یقیناً مگر صوبہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد ہی کسی کو اپنے وسائل پر تصرف دے گا ۔کراچی کی صنعت کو مطلوبہ مقدار میں گیس دینے کے بعد گنجائش ہی نہیں بچے گی۔لہذا عدالت بھی اس پر صوبے کو ریلیف دے گی۔ سندھ اور وفاق کے درمیان اس محاذ آرائی کو ابھی یہیں چھوڑیں اور اس تنازع کی جڑیں تلاش کرتے ہیں جو یقیناً پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کےمابین حالیہ کشیدگی تک پہنچ جاتی ہیں۔ عمران خان نے اس صورت حال پر تازہ تبصرہ یوں کیا ہے کرپشن کے خلاف فعال اداروں اور ان کے سرپرستوں کے دباؤ پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان مک مکا ختم ہوگیاہے ۔دونو ں جماعتوں نے میثاق ِجمہوریت کے نام پر جو معاہدہ کیا تھاوہ درحقیقت ایک دوسرے کی بدعنوانیوں کو تحفظ دینے کے لیے تھا ۔
پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں تک رسائی رکھنے والے ذرائع کا کہناتھاکہ مسلم لیگ ن کی قیادت کو مشکلات کی شکار پیپلز پارٹی کی کم از کم اخلاقی حمایت تو ضرور کرنی چاہیے یہاں تو عالم یہ ہےکہ پیپلز پارٹی حکمران جماعت کی اخلاقی حمایت سے بھی محروم ہے۔ اُدھر پیپلز پارٹی سے ناراض سندھی قوم پرست رہنما کا یہ کہنا ہےکہ پیپلز پارٹی جب اقتدار میں ہو یا اسے حکومت ملنے کاآسرا ہوتوپاکستان کھپے کا نعرہ بھی لگاتی ہے اور زندہ باد کا بھی ،کوئی مشکل آن پڑے یا اقتدار جاتانظر آئے تو سندھ اور سندھی عوام کے لیے اس کےپیٹ میں درد اٹھنے لگتاہے فی الحال پیپلز پارٹی نے سندھ کا بسنتی چولا بالائی سندھ میں بلدیاتی انتخابات اور رہنماوں کے خلاف قائم مقدمات کے باعث پہنا ہے ۔اس کےباوجود سندھ کے ایشوز پر جب جب بات ہوگی ،جو بھی کرے گا قوم پرستوں کی مجبوری ہے کہ اس کےعزائم سمجھنے کے باوجود ایشو کی مخالفت نہ کریں ۔یہ بہر حال طے ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ کے قوم پرستوں سے بھی بالوسطہ رابطے میں رہتی ہے، صوبائی وزیر خزانہ مراد علی شاہ کے والد مرحوم عبداللہ شاہ کےدور وزارت اعلیٰ میں خوداُن کے بھی قوم پرستوں سے اچھے تعلقات تھے اسی تناظر میں بعض قوم پرست مراد علی شاہ کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی شاید اسی لیے صوبائی حقوق کے معاملے پرمراد علی شاہ کو آگے لا ئی ہے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس سندھ کی ایک اہم شخصیت نے “وجود ڈاٹ کام” میں بارہ ستمبر کو شائع ہونے والی اس رپورٹ کی توتصدیق کی ہے کہ پیپلز پارٹی مکمل مزاحمت پر یقین نہیں رکھتی مگرواویلا کرنا اس کی مجبوری ہے۔وہ فی الحال نوازشریف کو ان اداروں کے سامنے بے بس پاتے ہیں جو پیپلز پارٹی کا ٹرائل کررہے ہیں ۔لہذاوہ شور مچا کران اداروں کو بھی دباؤمیں لاسکتی ہے اور ایم کیوایم کی طرح اسے بھی اداروں پر دباؤ کےلیے جواز مہیا ہوسکتے ہیں ۔ذرائع کا کہناہے کہ اس ضمن میں پیپلز پارٹی کوحال ہی میں علی نواز شاہ اورامتیاز شاہ کی گرفتاری اور سزا سے اہم کامیا بی ملی ہے ۔پارٹی سمجھتی ہے کہ علی نواز شاہ اپنے حلقے کی مقبول شخصیت ہیں پارٹی قیادت وابستگان کی منفی ومثبت صلاحیتوں سے خوب واقفیت رکھتی ہے اس لیے مثبت خوبیوں کےمالک علی نواز شاہ پر ہاتھ ڈالنے سے یقیناً محدود وقت کے لیے علی نواز شاہ اور پارٹی کو کچھ مشکل ضرور ہوگی مگر اداروں کی کارکردگی پر شدت سے سوال اٹھیں گے۔آپریشن کوبھی متناز ع بنانےمیں آ سانی ہوگی اور کرنےوا لوں کوبھی۔
پیپلز پارٹی کی قیادت سے قربت رکھنے والے ذرائع کہتے ہیں وہ کبھی بھی نہیں چاہتے کہ نواز شریف حکومت کو کوئی خطرہ ہو نہ ہی وہ تحریک انصاف کو ایسا موقع فراہم کرنا چاہتے ہیں کہ کپتان ،پارٹی کی کسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر حکومت کےلیے مشکلات کھڑی کردے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی نواز حکومت کے خلاف بیان بازی ضرور کررہی ہےمگر وہ اس سطح پر نہیں آنا چاہتے جس سطح پر پچھلے دور میں شہباز شریف چلے گئے تھے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم میاں نوازشریف کے اس بیان کا بھی مقتدر ادارے مختلف پہلوؤں سے جائزہ لےرہے جس میں انہوں نے کہاکہ زرداری صاحب ان کےخلاف بیان کیوں دے رہے ہیں ؟ذرائع کے مطا بق اس کا مطلب تو یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنما ؤں کے خلاف جو کچھ بھی ہورہاہے اس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ۔ملک کے چیف ایگزیکٹو کی یہ بیگانگی ان اداروں کےلیے معنی خیز ہے۔اس ضمن میں یہ پتالگانے کی بھی کوشش کی جارہی ہے کہ آخر میاں نواز شریف اور سابق صدرزرداری کے درمیان کس واسطے سے رابطہ ہے کہ دونوں رہنما ایک حد سے آگے نہیں بڑھنا چاہتے ۔ ذرائع کا اس بارے میں کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے نقطہ نظر کے مطابق اگر چہ مسلم لیگ ن کی حکومت اتنی بااختیار نہیں جتنی خود پیپلزپارٹی اپنے دور میں تھی ،اس کے باوجود پیپلز پارٹی نے اس وقت ایسی کوئی حماقتیں نہی کی جس سے خود اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مارلی جائےکا تاثر پیدا ہو۔مگر نواز حکومت خود ہی حالات کو بارہ اکتو بر ننانوے کی قریب ترین سطح تک لےآ ئی ہے ۔ پھر بھی پارٹی قیادت کو یقین ہے کہ زمینی حالات اور عالمی منظر نامے میں بعض ایسی تبدیلیاں آ چکی ہیں کہ اب بارہ اکتوبر ننانوےکو دُہراناشاید ممکن نہ ہو۔
اب دوبارہ اس سوال پر آتے ہیں کہ سندھ حکومت وفاق کے خلاف کہاں تک جائے گی؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ وہاں تک کہ دونوں کےدرمیان کوئی تیسرا نہ آ سکے !!
پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...
متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...
جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...
پنجاب بیدار ہوگیا، بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی عوامی ریفرنڈم کیلئے ہزاروں کیمپ قائم، مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر...
اسکریپ ڈیلرعمیر ناصر رند کو گرفتار کرلیا،پولیس اہلکارون کی پشت پناہی میں چلنے کا انکشاف ملزم کے قبضے سے 150کلو گرام چوری شدہ کاپر کیبل اور گاڑی برآمد ہوئی ہے، پولیس حکام بن قاسم پولیس نے ایک کارروائی کے دوران اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئ...
2025کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50مسلمان جان سے گئے امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ،عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی...
قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...
ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...
ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...
فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...
ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...
موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...