... loading ...

نیشنل بینک کی تباہی کا پس منظر سمجھنے سے قبل ایک واقعہ پیشِ خدمت ہے ۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک سازش کے تحت کس طرح مرحلہ وار اس قومی ادارے کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے؟
واقعہ کچھ یوں ہے کہ روس کی خفیہ ایجنسی کو پتہ چلا کہ ان کے ملک کی ایک بہت بڑی کمپنی جو امریکہ کے لئے کاروباری چیلنج بن چکی تھی کا ڈائریکٹر امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ بن چکا ہے۔ چنانچہ وہ حرکت میں آگئے اور ایک منصوبہ کے تحت اس کمپنی میں اپنے کئی افراد بطور ملازم داخل کردئیے۔جنہوں نے اس ڈائریکٹر کی کڑی نگرانی شروع کردی۔لیکن دو سال گزرجانے کے باوجود اس کے بارے میں کوئی ثبوت حاصل نہ ہو سکا۔سی آئی اے نے مزید اپنے ایجنٹ ملازمین کے روپ میں بھرتی کروالئے مگر نتیجہ صفررہا۔ حتیٰ کہ وہ ڈائریکٹر ریٹائرہوگیا۔ اس کے فوری بعد مذکورہ کمپنی بھی بند ہوگئی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد یہ ڈائریکٹر امریکا چلا گیا اور وہاں سکونت اختیار کرلی۔ روسی خفیہ ایجنسی کے چیف کو بڑا ملال تھا کہ وہ اس کے خلاف کوئی ثبوت حاصل نہ کرسکا۔ جبکہ انہیں یہ تو معلوم تھا کہ وہ سی آئی اے کا ایجنٹ ہے لیکن یہ معلوم کرنے میں ناکام رہے کہ اس کامشن کیا تھا؟ کچھ عرصہ کے بعد روسی ایجنسی کا چیف بھی ریٹائر ہوگیا۔ اس نے اپنی ناکامی کی و جہ اور حقائق جاننے کے لئے امریکہ جاکر اس ڈائریکٹر سے ملنے کا پروگرام بنایا۔چنانچہ وہ امریکا پہنچ گیا اور اُس ڈائریکٹر سے ملاقات کی۔ جو ایک پُرتعیش بنگلہ میں تمام آسائشوں کے ساتھ رہائش پزیر تھا۔ بات چیت کرتے ہوئے چیف نے اُسے بتایا کہ آپ سی آئی اے کے ایجنٹ ہو۔ اس نے کہا آپ میری طرز زندگی دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یعنی اقرار کرلیا۔ تب روسی چیف نے اس سے استفسار کیا کہ آخر اس کا مشن کیا تھا۔ تو اس نے دلچسپ انکشافات کئے ۔ اُس نے کہا کہ وہ جانتا تھا کہ آپ کو میرے سی آئی اے ایجنٹ ہونے کا علم تھا اورمیری نگرانی ہورہی ہے۔ تاہم آپ نے ساری قوت مجھے اور میری کرپشن کوٹٹولنے میں ضائع کر دیں۔ جبکہ میرا مشن کمپنی کو بند کرنا تھا اور اس مقصد کے لئے میں نے خو د کچھ کرنے کے بجائے اپنی کمپنی میں نااہل اور نکمے افسران بھرتی کرلئے او ر سینئر تجربہ کار و مخلص افسران کو یا تو اسکیم کے تحت فارغ کردیا یا انہیں ان کی ذمہ داریوں سے ہٹادیااور ان کی جگہ اُن نااہل افسران کو متعین کردیا۔ جنہوں نے اپنی نااہلی کی وجہ سے ایسی خراب کارکردگی دکھائی کہ کمپنی کی بنیادیں ہل گئیں۔ اس عمل میں گو دو سال سے زائد کا عرصہ تولگ گیا مگر مشن پورا ہوگیا۔ بالکل یہی عمل نیشنل بینک میں بھی دہرایا جا رہا ہے۔
قومی اثاثے کو ٹھکانے لگانے کا عمل گزشتہ پندرہ برسوں سے مسلسل جاری ہے۔ اس ادارے کی تباہی میں رکاؤٹ بینک کے مخلص اور اس سے جذباتی لگاؤ رکھنے والے ملازمین اور ان کی نمائندہ یونینیں تھیں۔ جو چیک اینڈ بیلنس کا بہترین ذریعہ تھیں ۔ چنانچہ جب سازش کو ناکام ہوتا دیکھا تو کلیریکل اور نان کلیریکل اسٹاف کو ترقی کے نام پر افسر بنانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ چونکہ افسران قانونی طور پر یونین کی رکنیت نہیں لے سکتے۔ اس طرح ان کے ممبران کی تعداد ہزاروں سے کم ہوکر چند سو رہ گئیں۔ یوں افرادی قوت سے محروم نمائندے انتظامیہ کی گرفت میں آگئے۔ دھن کی چمک اور مراعات کی بھرمار سے ان کی قائدانہ صلاحیتیوں کو مفلوج کردیا گیا۔ پھر وہ اقدامات شروع ہوگئے جس کے مطابق نااہل افسران کو آگے لایا جانے لگا۔ مشیروں کے نام پر نااہل لوگوں کو اہم ذمہ داریاں دینے کا عمل شروع ہوگیا۔ ایک ایسے اعلیٰ افسر کو بینک کی صدارت کے منصب پر فائزکردیا گیا جو بینکنگ انڈسڑی کے سب سے بڑے یورو/ڈالربھدنامے( اسکینڈل) کا بنیادی کردار تھے۔ ان کی یہ کمزوری منصوبہ سازوں کے لئے بڑی کاآمد ثابت ہوئی۔ انہوں نے تجربہ کار اور مخلص افسران کو ہٹانے کے لئے ٹرانسفر پوسٹنگ کا بیدردی سے استعمال کیااور وہ مقاصد پورے کئے جس کے تحت اہل افسران سے گلو خلاصی حاصل کرنا تھی۔ ادارے میں اہلیت کی بنیاد پر کم سیاسی بنیادوں پر دھڑا دھڑ ہزاروں بھرتیاں کرلی گئیں۔گولڈن ہینڈ شیک کے نام پر جتنے ملازمین نکالے گئے اس سے کئی گنازیادہ بھرتی ہوچکے ہیں۔حیرت انگیز طور پر گنجائش نہ ہونے کے باوجود 76 ایس وی پی بھرتی ہوئے جن کی اکثریت بینک کی ابجد سے بھی واقف نہیں۔ بدعنوانیوں کا جمعہ بازار اپنی جگہ مگر منصوبہ سازوں نے آئی ٹی کے محکمے کو نشانے پر لیا ہوا ہے۔ گورنمنٹ اکاؤنٹس بالخصوص دفاعی مالیاتی اسٹیٹمنٹ غیروں کے ہاتھوں میں پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔بدانتظامی کا یہ عالم ہے کہ اے ٹی ایم سے نیشنل بینک سرور کا رابطہ آئے روز منقطع رہتا ہے ۔مجبورا ًبینک کے کارڈ ہولڈر دوسرے بینکوں سے کیش ڈرا کرتے ہیں ۔ اس طرح فیس کی مد میں نیشنل بینک کو روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔آئی ٹی کا پورا نظام درآمدی مشیروں کی نااہلی کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ سینئرافسران جو اس ڈیپارٹمنٹ میں عرصہ دراز سے کام کر رہے تھے انہیں مختلف بہانوں سے وہاں سے ٹرانسفر کردیا گیا ہے جبکہ ان کی مہارت ناقابل چیلنج ہے۔وہ نئے ڈگری یافتہ جوآئی ٹی کی اہلیت نہیں رکھتے، انہیں اہم اور حساس پورٹ فولیو دے دیے گیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جو ادارے کی اہم معلومات بینک سے باہر دوسرے اداروں کو منتقل کررہے ہیں۔ آج بھی اگر بینک میں نئے بھرتی ہونے والے افسران کی ڈگریوں کی چھان بین کرائی جائے تو ان کی اکثریت جعلی ڈگری یافتہ نکلیں گی۔ صورتحال یہ ہے کہ نیشنل بینک کو سکیڑ کر ادارے سے کمپنی بنانے کا عمل بڑی خاموشی سے جاری ہے۔ نااہل افسران نے بینک کا حال وہ کردیا ہے جو بندر ادرک ہاتھ لگ جانے کے بعد کرتا ہے۔ مقصد صاف نظر آتا ہے کہ اس ادارے کو بھی ٹی اینڈ ٹی کی طرح کسی سیٹھ کے ہاتھوں فرخت کردیا جائے۔اسلامی بینکنگ، نیشنل انشورنس ، انجینئرنگ پبلک ریلیشنز کی آڑ میں اشتہارات کی مد میں کروڑوں روپے کی لوٹ مار اور بینک کے اثاثوں کو اونے پونے بیچنے کی سازش اور کرپشن کے کئی ہوشربا انکشافات آئندہ احاطۂ تحریر میں لائے جائیں گے۔یہاں صرف یہ نشاندہی مقصود تھی کہ بینک کو ایک منظم منصوبے کے تحت تباہ کیا جارہا ہے۔ جس کے تحت نئے بھرتی کیے گیے افسران کی نااہلیت کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ منصوبہ روس کی سب سے بڑی کمپنی کی تباہی سے ملتا جُلتا ہے۔
میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...
آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...
بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...
وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...
بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...
محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...
اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...
غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...
چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...