وجود

... loading ...

وجود

”جانے کب ہوں گے کم، اِس دنیا کے غم“، دنیا کو جھنجھوڑ دینے والی تصاویر

منگل 08 ستمبر 2015 ”جانے کب ہوں گے کم، اِس دنیا کے غم“، دنیا کو جھنجھوڑ دینے والی تصاویر

دو ستمبر 2015ء، ترکی کے جنوب مغربی شہر بودرم کے ساحل پر ایک تین سالہ بچے کی لاش پڑی تھی۔ اپنی قوم، امت اور وطن کا نوحہ لیے، اقوامِ عالم کے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہوئی ہی لاش تین سالہ ایلان کردی کی تھی جو جنگ زدہ شام سے اپنے والدین کے ساتھ نکلا تھا۔ ایک ایسے ملک سے جو گزشتہ چند سالوں سے خانہ جنگی کا شکار ہے، جہاں ایلان جیسے ہزاروں بلکہ لاکھوں بچے بدترین حالات میں جی رہے ہیں، اور مر بھی رہے ہیں، لیکن دنیا کی توجہ ان کی جانب نہیں کیونکہ “اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا”۔ بدترین حالات میں جب لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بھاگے توایک بہت بڑے مسئلے نے جنم لیا، مہاجرین کا مسئلہ۔لیکن اس مسئلے کی شدت کیا ہے، ایلان کی ایک تصویر نے وہ سب بیان کردیا، جو سالوں سے دنیا کے سامنے نہیں آ پا رہا تھا۔ یہ تصویر دیکھنے والے ہر فرد نے غم، کرب اور دل گرفتگی کی یکساں کیفیت محسوس کی اور یقیناً یہ تصویر عالمی برادری کو اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کرے گی۔

aylan-kurdi

تاریخی تصاویر کے زمرے میں اس نئے باب کا اضافہ ترکی کی دوغان خبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والی فوٹوگرافر نیلوفر دیمر نے کیا ہے اور ان تمام زخموں کو تازہ کردیا ہے جو مختلف مواقع پر جنگوں، قدرتی آفات اور سانحات کے نتیجے میں ابھرنے والے ایسے ہی کرداروں نے دنیا کے سینے پر لگائے تھے۔ آئیے چند ایسی یادگار تصاویر کو دیکھیں، جنہوں نے ایک خاص مسئلے کے حوالے سے عالمی نقطہ نظر کو تبدیل کیا۔ اِس امید کے ساتھ کہ ایلان کی جان کے بدلے شامی پناہ گزینوں کے حالات مزید بہتر ہوں گے اور دنیا بھر کے ممالک اپنی انا کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اِن جنگ زدہ افراد کے زخموں پر مرہم رکھیں گے۔

sharbat-gul

1980ء کی دہائی میں افغان جہاد کے دوران شاید ہی اس تصویر سے زیادہ کسی نے شہرت پائی ہے بلکہ آج بھی یہ تاریخ کی سب سے مشہور تصاویر میں سے ایک ہے۔ 1984ء میں ناصر باغ مہاجر کیمپ میں اسٹیو میک کری نے اس لڑکی کی تصویر کھینچی جس کا نام تک اگلے 18 سالوں تک دنیا کو معلوم نہیں ہوسکا۔ یہ تصویر جون 1985ء میں نیشنل جیوگرافک میگزین کے سرورق پر شائع ہوئی۔ اپریل 2002ء میں شربت گل کی تازہ تصویر ان کی نئی کہانی کے ساتھ اسی جریدے میں پیش کی گئی۔ بہرحال، افغان مہاجرین کے مسئلے اور روس کی جارحیت کے نتیجے میں اس ننھے سے ملک پر کیا بیتی، وہ سب کچھ شربت گل کی آنکھوں سے دنیا بھر نے دیکھا۔


tank-man

شربت گل کا نام تو تقریباً دو دہائیوں کے بعد دنیا بھر کو معلوم ہوگیا لیکن یہ شخص، بہادری کی ایک عظیم داستان رقم کرنے والا، آج تک نامعلوم ہے۔ دنیا اسے ‘ٹینک والا آدمی’ کہتی ہے۔ 1989ء میں چین میں ہونے والے مظاہروں اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں طلباء کی ہلاکت کے بعد بیجنگ کے مرکز میں یہ شخص پیپلز لبریشن آرمی کے ٹینکوں کے سامنے سینہ سپر ہوگیا۔ ٹینکوں نے راستہ بدلنے کی کوشش کی تو یہ بھی چند قدم ہٹ کر سامنے آ گیا۔ اس واقعے کی یہ شاہکار تصویر نیوز ویک کے فوٹوگرافر چارلی کول نے لی تھی جنہیں ورلڈ پریس فوٹو ایوارڈ بھی ملا۔ لیکن اس بہادر شخص کے ساتھ کیا ہوا اور یہ کون تھا؟ آج تک کسی کو نہیں معلوم۔ البتہ دنیا نے جان لیا کہ کمیونسٹ معاشروں میں رائے کو کس طرح دبایا جاتا ہے۔


florence-thompson

1930ء کی دہائی کے اوائل کا زمانہ ریاست ہائے متحدہ امریکا کے لیے مشکل ترین دور تھا۔ Great Depresssion یا عظیم کساد بازاری نے معیشت کی چولیں ہلا دی تھیں۔ انہی دنوں میں 32 سالہ فلورنس تھامسن کی یہ تصویر منظرعام پر آئی۔ فوٹوگرافر ڈورتھیا لانگے نے ریاست کیلیفورنیا میں کھیتوں میں کام کرنے والے افراد کی حالت زار کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے یہ تصویر لی تھی۔ یہ 1936ء تھا اور فلورنس کا شوہر تپ دق میں مر چکا تھا، وہ اپنے سات بچوں کی واحد کفیل تھی۔ یہ تصویر بعد میں عظیم کساد بازاری میں پہنچنے والے نقصان کی علامت بنی۔


napalm-viet-nam

1972ء کی یہ تصویر، جس نے ویت نام میں جاری جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کو دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے فوٹوگراف نک اوت نے ناپام بموں کے حملے کے بعد خوف سے بھاگتے ان بچوں کی تصویر لی۔ درمیان میں بھاگنے والی بچی 9 سال کی کم فوک تھی، جسے ناپام بم کے حملے کے بعد اپنے کپڑے جل جانے کی وجہ سے انہیں اتارنا پڑا۔ یہی تصویر تھی جس نے امریکا بھر میں جنگ مخالف رحجانات کو پروان چڑھایا۔ تصویر کھینچنے کے بعد اوت تمام بچوں کو سائیگون کے ہسپتال لے گئے تھے۔


migration-after-partition-1947

تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت، 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد لاکھوں مسلمانوں نے نوزائیدہ ریاست پاکستان کی جانب ہجرت کی۔ لٹے پٹے مہاجرین کے قافلوں پر راستے میں حملے ہوئے، ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد نے بھوک، بیماری،زہریلے پانی اور بلوائیوں کے حملوں میں اپنی جانیں گنوائیں۔ یوں لاکھوں شہداء کے خون سے مملکت پاکستان کی بنیاد پڑی۔ لائف میگزین کی مشہور خاتون فوٹوگرافر مارگریٹ بورک-وائٹ کی کھینچی گئی یہ اور اس جیسی کئی تصاویر آج بھی اپنے وطن سے عوام کی محبت کو بڑھکاتی ہیں اور یاد دلاتی ہیں کہ یہ وطن ہمیں ایسی قربانیوں اور صعوبتوں کے بعد ملا ہے، جنہیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔


bhopal-tragedy

1984ء میں دو اور تین دسمبر کی درمیانی شب اور بھارت کا شہر بھوپال، یونین کاربائیڈ انڈیا لمیٹڈ کے کارخانے میں دھماکے کے ساتھ گیس کا اخراج ہوا، جس کے نتیجے میں تقریباً 4 ہزار اموات ہوئیں جبکہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ لگ بھگ 16 ہزار افراد مارے گئے تھے۔ متاثرین کی تعداد تو لاکھوں میں تھی۔ زہریلی گیس کے اخراج نے شہر کی فضاء کو ایسا آلودہ کیا کہ آج بھی آنکھ اور نظام تنفس کی بیماریاں اور خرابیاں عام پائی جاتی ہیں اور ذہنی و جسمانی معذور بچوں کی پیدائش میں بھی اضافہ ہوا۔ واقعے کے بعد راگھو رائے کی کھینچی گئی یہ تصویر سانحہ بھوپال کی علامت بن کر ابھری، جس میں ایک نامعلوم بچے کو دفنایا جا رہا ہے۔


abu-ghuraib

عراق جنگ کے دوران 2004ء میں امریکی تحویل میں ایک نامعلوم قیدی کی کھینچی گئی تصویر۔ بطور تشدد قیدی کے ہاتھوں پر بجلی کے تار لگا کر اسے ایک ڈبے پر کھڑا کردیا گیا ہے، جس پر سے اترنے کی کوشش میں اسے بجلی کے جھٹکے برداشت کرنا پڑیں گے۔ یہ تصویر ابوغریب کی اس بدنام زمانہ جیل کی ہے جہاں سے مزید کئی تصاویر سامنے آئیں اور دنیا بھر کے سامنے امریکا کا چہرہ بے نقاب کیا اور عراق میں قیدیوں کی حالت زار کی بھی تصویر کشی کی۔


sudan-starving-child

1993ء میں کیون کارٹر کی جانب سے کھینچی گئی ایک دل دہلا دینے والی تصویر، جس نے دنیا بھر کی توجہ سوڈان میں قحط کی جانب دلائی۔ فوٹوگرافر کو شہرت کے ساتھ ساتھ زبردست تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ انہوں نے خودکشی کرلی۔ یہ تصویر ایک مرتی ہوئی بچی کی ہے، جس کے قریب ایک گدھ انتظار میں بیٹھا ہے، یقیناً اس کی موت کے انتظار میں۔ گو کہ کارٹر کا کہنا ہے کہ انہوں نے تصویر کھینچنے کے بعد گدھ کو بھگا دیا تھا، اور پھر کوئی بچی کو قریبی مرکز تک بھی لے گیا تھا لیکن اس بات پر انہیں ہمیشہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ آخر وہ خود بچی کو کسی محفوظ مقام تک کیوں نہیں لے گئے۔ اس تصویر پر کیون کارٹر کو پولٹزر انعام تو ملا لیکن محض چند مہینوں بعد جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے اس فوٹوگرافر نے خودکشی کرلی۔ اس کی وجہ سخت ذہنی تناؤ بتایا جاتا ہے۔ البتہ اس تصویر کے نتیجے میں سوڈان اور ملحقہ علاقوں میں قحط کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عالمی امداد میں خاصا اضافہ ہوا۔


pakistan-flood-survivors

2010ء میں پاکستان میں موسلا دھار بارشوں کے بعد دریاؤں میں ایسی زبردست طغیانی آئی کہ ملکی تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب کا روپ اختیار کرگئی۔ خیبر پختونخواہ، پنجاب، بلوچستان اورسندھ میں بڑے پیمانے پر تباہی مچی یہاں تک کہ ملک کا پانچواں حصہ سیلابی پانی کے نیچے آگیا۔ تقریباً 1800 اموات ہوئیں لیکن ملک کو 43 ارب ڈالرز کے بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔اس سے پہلے کہ یہ سانحہ ایک انسانی المیہ بن جاتا، پاکستان بھر کے عوام اور پھر دنیابھر نے، اپنی مدد کا ہاتھ آگے بڑھایا جو ڈینیئل بریہولاک جیسے فوٹوگرافرز کی مدد سے ممکن ہوا۔ آسٹریلیا نے تعلق رکھنے والے اس مشہور فوٹوگرافر نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اوراپنی تصاویر کے ذریعے سیلاب متاثرین کی حالت زار دنیا تک پہنچائی۔ یہ تصویر اگست 2010ء کی ہے جس میں مظفر گڑھ کے قریب ایک سیلاب زدہ علاقے میں شخص غالباً اپنے بیٹے کے ساتھ سیلابی پانی سے گزرتے ہوئے محفوظ علاقے کی جانب آتا دکھائی دے رہا ہے۔


متعلقہ خبریں


مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

مضامین
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور وجود جمعه 23 جنوری 2026
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود جمعه 23 جنوری 2026
پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر