مفاہمت کی "تدفین"……!!!


سچ یہ ہے!

پیپلز پارٹی کاایک رہنما کیا گرفتار ہوا لگتا ہے پوری پارٹی ’’اندر‘‘ہوگئی ہے……ایک اوررہنما کی گرفتاری کی تیاریاں مکمل ہیں ……ثبوت مانگنے والے اب الزام لگانے سے بھی پیچھے ہٹ رہے ہیں ……نارتھ ناظم آباد اور کلفٹن میں ضیاالدین اسپتال پر چھاپوں کے دوران ’’پیٹ بھر کے‘‘ ثبوت حاصل کئے گئے ہیں ……اب کسی کو شکوہ نہیں ہونا چاہیے کہ ثبوت کہاں ہیں؟……ڈاکٹر عاصم کی تورینجرز کی تحویل میں مہمان نوازی کی خبریں سامنے آرہی ہیں ……چکن کڑاہی ‘لسی ‘ مچھلی ‘انڈا فرائی ‘جوس اور سلاد سے تواضع کی جارہی ہے ……لیکن پیپلز پارٹی کیوں پریشان ہے؟اس کا جواب لوگ خوب جانتے ہیں۔

ملک میں استعفوں کی سیاست ایک بار پھر عروج پر پہنچنے والی ہے ……پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہہ دیا ہے کہ اب ہمارے استعفے بھی آئیں گے ……جس کے بعد اے این پی بھی اس کی تقلید کرے گی ……آصف زرداری کے سخت پیغام پر بھی وزیر اعظم نواز شریف کی خاموشی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ’’اب مفاہمت اور میثاق ِ جمہوریت کی تدفین کا وقت قریب آپہنچاہے‘‘دہشت گردی اورکرپشن کیخلاف جاری آپریشن ایسا ’’اَن گائیڈڈ میزائل‘‘ ہے جو یہ نہیں دیکھے گا کہ ٹارگٹ اپوزیشن میں موجود ہے یا حکومت میں ……مبصرین اس وقت سیاستدانوں سے زیادہ فوج کوعوام میں مقبول قرار دے رہے ہیں ……جس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت کا پودا جیسے ہی درخت بننے کے قریب پہنچتا ہے اس میں کرپشن کے کیڑے لگ جاتے ہیں ‘عوام جمہوریت سے بددل ہوجاتے ہیں اورپھر علاج کیلئے فوج کی جانب دیکھنا مجبوری بن جاتا ہے ……مفاہمت کی پالیسی 5سال تو چل گئی لیکن اس کے پہیَّے بدعنوانی کی ناہموار سڑک پر چلنے کے باعث مزید سفر کے قابل نہ رہے ……اور اب ایک بار پھر 90کی سیاست کے طعنے دیئے جارہے ہیں ……میاں نواز شریف اور خورشید شاہ نے مل کر ہی چیئرمین نیب لگایا تھا ……لیکن یہ باری میاں صاحب کی ہے اس لئے نیب کا رُخ پیپلز پارٹی کی طرف ہے ……اس سے قبل لوٹ مار سے بھرپوراقتدار کا مزا پیپلز پارٹی اپنے چیئرمین نیب کے زیر سایہ لوٹ چکی تھی……اب ہر دن عید اور ہر رات شب برأ ت تو نہیں ہوسکتی ……ہرعروج کو زوال ہے……کبھی جلدی یا کبھی دیر سے لیکن حساب کتاب ہونا تو تھا ……اور ہوکر رہے گا ……اب کوئی استعفے دے ……اسمبلی چھوڑدے ……سینیٹ کو خیر باد کہہ دے ……یا بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کرے……دہشت گردی اور کرپشن کے مریض کو آپریشن ٹیبل پر مرنے کیلئے نہیں چھوڑا جاسکتا……کوئی قابل ڈاکٹر ادھورا علاج نہیں کرتا ……مریض کے پاس پیسے نہ بھی ہوں تب بھی وہ اس کو بچانے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگادیتا ہے کیونکہ اس کانام مسیحا ہے۔

دہشت گردی اورکرپشن کیخلاف جاری آپریشن ایسا ’’اَن گائیڈڈ میزائل‘‘ ہے جو یہ نہیں دیکھے گا کہ ٹارگٹ اپوزیشن میں موجود ہے یا حکومت میں

ایم کیو ایم اپنے 19مطالبات سے پیچھے ہٹ کرصرف 2مطالبات پر بات کرنے کیلئے راضی ہے ……جن میں اول قائد ایم کیو ایم کی تقاریر وانٹرویوز اور دوئم قربانی کی کھالیں جمع کرنے کی اجازت شامل ہیں ……یہ دونوں مطالبات شاید وزیر اعظم نواز شریف کے اختیار سے باہر ہیں ……اس لئے تو اسحاق ڈار نے کہا کہ’’ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ مذکرات کون سبوتاژ کررہا ہے ؟‘‘اگست کا مہینہ ایم کیو ایم کیلئے بھاری رہا تو ستمبر پیپلز پارٹی کیلئے ستمگر بن سکتا ہے……’’سو سُنار کی ایک لوہار کی ‘‘کے مصداق ایک ہی گرفتاری میں پیپلز پارٹی کو دن میں تارے نظر آگئے ہیں ……شیخ رشید کے بقول ’’یہ تو ٹریلر ہے اصل فلم تو ابھی شروع ہی نہیں ہوئی ‘‘۔

ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری نے ایم کیو ایم کے استعفوں کا معاملہ ٹھنڈا کردیا ……مولانا فضل الرحمن کی بھاگ دوڑ بھی کارآمد ثابت نہیں ہوپارہی ……کہتے ہیں کہ ’’آپریشن جتنا مختصر ہو موثر رہتا ہے امریکہ آج بھی افغانستان اور عراق میں موجود ہے ……اور ناکامی سے دو چار ہے ……آپریشن نہ زیادہ مختصر ہو اور نہ ہی طویل ترین ……بلکہ اس کی نوعیت درمیانی ہونی چاہئے……تاکہ ثمرات مضمرات میں نہ تبدیل ہوں ……پاکستان میں جمہوری عرصہ اب آمریت سے زیادہ ہوچکا ہے لیکن اس کے فوائد اب تک عوام کی دہلیز پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

جمہوری حکومتوں نے ہر ماہ ایک کھرب روپے کا قرضہ لیا ہے لیکن جب عوام سیاستدانوں اور میڈیا سے یہ پوچھتے ہیں کہ یہ قرضہ کہاں خرچ ہوا اور ملکی تقدیر کیوں نہیں بدلی ؟تو سناٹا سا چھاجاتا ہے ……کسی کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا ……حد تو یہ ہے کہ ریلوے لائن کا جو جال انگریز بچھا کر گیا ہم اس میں ایک فٹ کا اضافہ نہیں کرسکے ……یہ اضافہ ہم قرضے میں ضرور کرتے رہے ……پاکستان کی دکھی اور غمگین قوم سیاستدانوں سے مایوس ہوکر فوج اور رینجرز کی طرف دیکھ رہی ہے……اور فوج نے ڈاکٹر عاصم کے بارے میں غیر مفاہمانہ رویہ اپنا کر سندھ کے لوگوں کا دل جیت لیا ہے…… ڈاکٹر عاصم آج گرفتار نہ ہوتے تو یقینا ان کے اسپتال میں مریضوں پرڈھائے جانے والے مظالم پر بھی لکھا جاسکتا تھا ……مانا کہ پیسہ زندگی میں بہت کچھ ہے لیکن سب کچھ نہیں ……پیسے کی ہوس میں مبتلا ہوکر انسان اور انسانیت کی تذلیل کرنا نہ قابل فخر بات ہے نہ اس سے آدمی انسان بنتا ہے ……فقیرانہ لباس میں گھومنے والا عبدالستار ایدھی پورے ملک میں پوجا جاتا ہے لیکن محلات میں رہنے والا ڈاکٹر عاصم 90دن کی گنتی پوری کررہاہے اور اس کی ہمدردی میں کوئی بھی عوامی آواز نہیں ……عید قربان قریب آرہی ہے اور اس بار بکروں ‘دنبوں‘گائے ‘بیل اور اونٹوں کیساتھ ’’کرپٹ کالی بھیڑوں‘‘ کی قربانی بھی ہوسکتی ہے ۔