وجود

... loading ...

وجود
وجود

سلیم احمد : میرا چراغ چپ نہ تھا تیز ہوا کے شور میں

منگل 01 ستمبر 2015 سلیم احمد : میرا چراغ چپ نہ تھا تیز ہوا کے شور میں

تحریر: محمد طارق فاروقی

جدید اردو ادب کی تاریخ کے بے مثال شاعر اور بے بدل نقاد سلیم احمد ۲۷؍ نومبر ۱۹۲۷ء کو ضلع بارہ بنکی کے ایک قصبے کھیولی میں پیدا ہوئے۔ اور یکم ستمبر ۱۹۸۳ء کو کراچی میں وفات پاگئے۔سلیم احمد نے اپنے آبائی قصبے کھیولی سے ہی میٹرک کیا اور میرٹھ کالج میں داخلہ لیا جہاں اُن کے مراسم پروفیسر کرار حسین ،محمد حسن عسکری، ڈاکٹر جمیل جالبی اور انتظار حسین سے اُستوار ہوئے۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان چلے آئے اور ریڈیو پاکستان سے منسلک ہو گئے۔اُنہوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لئے متعدد ڈرامے تحریر کئے۔اور پاکستان کی پہلی جاسوسی فلم ’’راز کی کہانی‘‘لکھی۔ جس پر اُنہیں بہترین کہانی نویس کا نگار ایوارڈ دیا گیا۔وہ اخبارات کے لئے کالم نگاری بھی کرتے رہے۔مگر سلیم احمد کی شخصیت کا اصلی جوہر اُن کے تنقیدی مضامین اور شاعری میں ہے۔ایک شاعر اور نقاد کے طور پر اُن کی ذہانت اور نکتہ رس طبیعت نے نئے اسالیب ومضامین ڈھونڈے اور اردو زبان وبیان کے افق میں تبدیلیاں پیدا کردیں۔ اُن کی شاعری میں شوکتِ ندرت اور نقد میں زبردست وسعت تھی۔سلیم احمد نے اپنے دور کی ادبی فضا کو تخلیقی اور تنقیدی سطح پر کسی بھی دوسرے ادیب سے زیادہ متاثر کیا۔

سلیم احمد کے شاعری کے مجموعے بیاض، اکائی، چراغ نیم شب اور مشرق کے نام سے چھپے ہیں۔اُن کی شاعری کی کچھ جھلکیاں ملاحظہ کیجئے:

دلوں میں درد بھرتا آنکھ میں گوہر بناتا ہوں
جنہیں مائیں پہنتی ہیں میں وہ زیور بناتا ہوں
غنیمِ وقت کے حملے کا مجھ کو خوف رہتا ہے
میں کاغذ کے سپاہی کاٹ کر لشکر بناتا ہوں
٭٭٭
روز مل کر بھی کم نہیں ہوتا
دل میں وہ فاصلہ ہے برسوں سے
٭٭
خیروشر کی خبروں کو مانتے تو سب ہی ہیں
کس کو ہوش رہتا ہے جبر اور ضرورت میں
دونوں درد دیتی ہیں آہِ سرد دیتی ہیں
فرق کچھ نہیں ایسا نفرت ومحبت میں
٭٭٭
دکھ دے یا رسوائی دے غم کو مرے گہرائی دے
جتنا آنکھ سے کم دیکھوں اتنی دُور دکھائی دے
٭٭٭٭٭
جو سودوزیاں کی فکر کرے
وہ عشق نہیں مزدوری ہے
٭٭
خموشی کے ہیں آنگن اور سناٹے کی دیواریں
یہ کیسے لوگ ہیں جن کو گھروں سے ڈر نہیں لگتا
٭٭٭
اس ایک چہرے میں آباد تھے کئی چہرے
اس ایک شخص میں کس کس کو دیکھتاتھا میں
٭٭٭
خود اپنی دید سے اندھی ہیں آنکھیں
خود اپنی گونج سے بہرا ہوا ہوں
مجھے حرفِ غلط سمجھا تھا تو نے
سو میں معنی کا دفتر ہو گیا ہوں
٭٭
اتنی کاوش بھی نہ کر میری اسیری کے لئے
تو کہیں میرا گرفتار نہ سمجھا جائے
٭٭٭
میری زبان آتشیں لو تھی مرے چراغ کی
میرا چراغ چپ نہ تھا تیز ہوا کے شور میں

سلیم احمد نے سترہ سال کی عمر میں ۱۹۴۴ ء میں شاعری شروع کر دی تھی۔وہ اپنے اچھوتے اور نئے اُسلوب ومضامین کے باعث ہمیشہ موضوعِ بحث رہے۔سلیم احمد کی شاعری دراصل ایک ادبی وسماجی مکالمے کی حیثیت رکھتی ہے۔یہی مکالمہ اُن کے تنقیدی مضامین میں مزید وسعت پاتا ہے۔بلاشبہ اُنہوں نے اپنی تنقید میں جوسوالات اُٹھائے وہ محض فن کی پیشہ ورانہ ضرورتوں کو پورا نہیں کرتے، بلکہ یہ زندگی سے اُبھرتے ہیں۔ اُنہوں نے محمد حسن عسکری کی طرح انسان اور آدمی کے مسئلے کو اپنا موضوع بنایا۔ اور اِسے ایک اور جہت سے آشنا کردیا۔ اُنہوں نے آج کے آدمی کے ادھورے پن کی نشاندہی کی اور پورے آدمی اور کسری آدمی کی بحث کو اپنی تنقید کامرکزی پہلو بنایا۔ سلیم احمد کی کتاب’’ نئی نظم اور پورا آدمی‘‘ نے پورے برصغیر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔اُن کے تنقیدی مجموعات میں ادبی اقدار ، غالب کون؟، ادھوری جدیدیت،اقبال ایک شاعراور محمد حسن عسکری آدمی یاانسان شامل ہیں۔اردو ادب کی اس کہکشاں کی لوحِ مزار پر اُن کا ہی یہ شعر تحریر ہے:

ایک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہا
روشنی کے ساتھ رہئے روشنی بن جایئے


متعلقہ خبریں


مضامین
صدر رئیسی کا رسمی دورۂ پاکستان اور مضمرات وجود جمعه 26 اپریل 2024
صدر رئیسی کا رسمی دورۂ پاکستان اور مضمرات

سیل ۔فون وجود جمعه 26 اپریل 2024
سیل ۔فون

کڑے فیصلوں کاموسم وجود جمعه 26 اپریل 2024
کڑے فیصلوں کاموسم

اسکی بنیادوں میں ہے تیرا لہو میرا لہو وجود جمعه 26 اپریل 2024
اسکی بنیادوں میں ہے تیرا لہو میرا لہو

کشمیری قیادت کا آرٹیکل370 کی بحالی کا مطالبہ وجود جمعه 26 اپریل 2024
کشمیری قیادت کا آرٹیکل370 کی بحالی کا مطالبہ

اشتہار

تجزیے
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے! وجود جمعه 23 فروری 2024
گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر