وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

چین کی 15 دلچسپ و عجیب باتیں

هفته 05 ستمبر 2015 چین کی 15 دلچسپ و عجیب باتیں

یولن میں کتے کے گوشت کے میلے نے دنیا بھر میں ایک ہنگامہ برپا کیا، عالمی ذرائع ابلاغ میں اس کی نمایاں خبریں لگیں اور ظاہر ہے کہ یہ سب مثبت خبریں نہیں تھیں۔ اگر آپ بھی ان لوگوں میں سے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ کتے کے گوشت کا میلہ کوئی بہت ہی انہونی چیز ہے، یا یہ کوئی غیر انسانی فعل ہے تو آپ کو چین کے بارے میں مزید جاننے کی ضرورت ہے۔ چین کے بارے میں مندرجہ ذیل حقائق پڑھیں، جو حیران کن بھی ہیں اور کراہیت آمیز بھی، اور ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کے سامنے یولن کے سالانہ میلے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔ ویسے اس میلے پر اب پابندی لگادی گئی ہے۔

1۔ صرف کھانے کے کانٹے بنانے کے لیے 20 ملین درخت سالانہ کاٹ دیے جاتے ہیں

chopsticks

چین کے روایتی کھانے کے کانٹے بنانے کی سالانہ 80 ارب جوڑیوں کی طلب کو پورا کرنے کے لیے ملک میں ہر سال 20 ملین درخت کاٹ دیے جاتے ہیں۔ اگر یہ چینی کانٹے، جنہیں چاپ اسٹکس کہا جاتا ہے، دنیا کے سب سے بڑے عوامی چوراہے بیجنگ کے تیان من اسکوائر پر بچھا دیے جائیں تو یہ اسے 360 مرتبہ ڈھانپ سکتے ہیں! شاید یہی وہ ہے کہ چین میں جنگلات کل رقبے کا محض 20.36 فیصد بچے ہیں، جو اہم ممالک میں کم ترین شرح میں سے ایک ہے (ذریعہ

2۔ جرم آپ کا، قید میں ہم شکل

body-doubles

اگر آپ امیر ہیں، تو آپ جو چاہے خرید سکتے ہیں لیکن چین میں امیر ہونے کے اور بھی کئی فائدے ہیں جن میں سے قید کی سزا سے بچ جانا تک شامل ہے۔ ملک کے امیر اور بااثر افراد کسی جرم کی سزائے قید کاٹنے کے لیے اپنے “ہم شکل” افراد کو حاصل کرلیتے ہیں۔ یہ فعل اتنا عام ہے کہ چین میں ایک کہاوت ہے، ڈنگ چوئی، یعنی “متبادل مجرم”۔ (ذریعہ)

3۔ روزانہ 10 ہزار بلیاں خوراک بن جاتی ہیں

cat-killing-in-china

یہ معاملہ کچھ یولن کے کتا گوشت میلے جیسا ہی لگتا ہے، بس فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں شکار بلّیاں ہیں۔ روزانہ 10 ہزار سے زائد بلیاں صرف گوانگ ڈونگ صوبے میں انسانی خوراک بن جاتی ہیں۔ یہ بات جانوروں کے حقوق کے علمبرداروں کے غضب کو بڑھکانے کے لیے کافی ہے اور وہ اس پر کافی مظاہرے بھی کرچکے ہیں۔ اس کی وجہ بلیوں کو انتہائی ناقص و غلیظ ماحول میں رکھنا اور پھر کھال اتار کر زندہ پکانا ہے۔ (ذریعہ)

4۔ شیر جیسے کتے

dyeing-pet-bizarre-trend-in-china

چینی اپنے پالتو جانوروں کے بال بھی رنگواتے ہیں تاکہ وہ انہیں دیگر جانوروں جیسا بنا سکیں: مثال کے طور پر یہ گولڈن ریٹریور کتا، جسے نارنجی اور سیاہ رنگ دے کر شیر سے مماثلت دی گئی ہے۔ پھر ایسے کتے بھی ہیں جن کے بال رنگوا کر انہیں پانڈا جیسا بنایا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے یہ کہ یہ نفیس اور مہنگا کام ہی چین میں پالتو جانوروں پر اٹھنے والے اخراجات میں اضافے کا سبب ہو؟ جو 1999ء سے 2008ء کے درمیان تقریباً 500 فیصد بڑھ گئے ہیں۔

5۔ چینی وال-ای

WALL-E-robot-restaurants-in-china

چین میں ہالی ووڈ کی مشہور زمانہ فلم وال-ای جیسے روبوٹ رکھنے والے ریستوراں بھی ہیں۔ ان میں سے آنہوئی صوبے میں واقع ہیں جہاں 30 وال-ای روبوٹس گاہکوں سے آرڈر لینے، کھانے پکانے اور پھر اُن کی فراہمی کے کام سرانجام دیتے ہیں۔

لگ بھگ 10 ہزار ڈالرز مالیت کے یہ روبوٹ صارفین کا خیرمقدم بھی کرتے ہیں اور انہیں میزوں تک کھانا بھی پہنچاتے ہیں۔ ساتھ ہی ریستوراں میں پکانے کا کام بھی انہی کے ذمے ہیں۔ لیکن یہ ایک غیر مجاز ریستوراں ہے۔ ایسے ہی عملے رکھنے والے چین میں متعدد دیگر ریستوراں بھی ہیں جو چینی باشندوں میں خاصے مقبول ہیں۔ (ذریعہ)

6۔ پنیر، وحشیوں کی خوراک

cheese-in-china

چین میں دودھ کی مصنوعات کو ہمیشہ خانہ بدوشوں سے جوڑا جاتا ہے، جو چین کے نواح و مضافات میں رہتے تھے اور ماضی میں انہیں وحشی تصور کیا جاتا تھا۔ کئی چینی افراد تو محض اس لیے دودھ کی مصنوعات سے مکمل طور پر اجتناب کرتے ہیں کیونکہ یہ ان خانہ بدوشوں کی خوراک تھی۔ البتہ گزشتہ چند سالوں میں ان کی کھپت میں اضافہ ہوا، لیکن پنیر اب بھی چین کے دسترخوانوں پر نظر نہیں آتا، شاید اس کی بو کی وجہ سے۔ (ذریعہ)

7۔ دنیا بھر کے پانڈے دراصل چین کے

Pandas-on-loan-from-china

سرد جنگ کے زمانے سے چین خیرسگالی کے طور پر دیگر ممالک کو پانڈوں کے تحفے دیتا آ رہا ہے اور یہ روایت آج بھی زندہ ہے۔نومولود پانڈا معاہدے کے تحت واپس چین بھیجا جاتا ہے تاکہ وہ افزائش نسل کرسکے۔ یہ ننھے پانڈے معروف کوریئر کمپنی فیڈایکس کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں۔ (ذریعہ)

8۔ 35 ملین باشندے غاروں میں مقیم

People-live-in-caves-in-china

چین میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد غاروں میں رہتی ہے، جن میں سے بیشتر شان سی صوبے میں ہیں۔ یہ غار چینی زبان میں یاؤڈنگ کہلاتے ہیں اور ان میں سے بیشتر پہاڑوں کے پہلوؤں میں ایک طویل محراب دار کمرے کی صورت میں قائم ہیں جن کا داخلہ نیم بیضوی شکل کا ہے۔ ویسے سننے میں غار میں رہنا کوئی بڑی وحشیانہ اور قدیم چیز لگتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کئی غار بہت شاہانہ قسم کی زندگی رکھتے ہیں۔ (ذریعہ)

9۔ عیسائیوں کا انوکھا مسلک

Jesus-face-plam

چین میں عیسائیوں کا ایک ایسا مسلک اب بھی مانتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب بھی زندہ ہیں اور چین میں ایک چینی عورت کے روپ میں جی رہے ہیں۔ “کلیسائے قادرِ مطلق” نامی یہ مسلک تبلیغ کرتا ہے کہ “دوسرا مسیح” ایک عورت ہے جو خود کو ” قادرِ مطلق” کہتی ہے۔ یہ گروہ سخت ناپسند کیا جاتا ہے اور بسا اوقات تو اسے ایک دہشت گرد تنظیم بھی قرار دیا گیا ہے۔ (ذریعہ)

10۔ چین کی “بچی کچھی عورتیں”

Sheng-nu

20 سال کے قریب کی عمر تک پہنچنے کے باوجود غیر شادی شدہ رہنے والے عورتوں کو چین میں شینگ نو کہتے ہیں یعنی بچی کچھی عورتیں۔ یہ اصطلاح گو کہ چین میں پیدا ہوئی اور اب بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے لیکن اب ایشیا کے دیگر ممالک اور شمالی امریکہ میں بھی اس عمر تک غیر شادی شدہ رہنے والے عورتوں کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ (ذریعہ)

11۔ چینی افواج کا مثالی نظم و ضبط

Chinese-soldier

ذرا یہ تصویر غور سے دیکھیں، اس فوجی کے کالروں کے اوپر دو سوئیاں نظر آ رہی ہیں؟ یہ چینی افواج کے ایک زیر تربیت سپاہی ہیں اور یہ سوئیاں اس لیے لگائی گئی ہیں تاکہ ان کی ٹھوڑی سیدھی رہے۔ ویسے یہ سوئیاں سپاہی کو تھکاوٹ کی وجہ سے سونے سے بھی روکتی ہیں۔ عوامی پیراملٹری پولیس کے افسران بہت سخت تربیت رکھتے ہیں اور اس کو یقینی بنانے کے لیے ان کی وضع قطع سخت اور بہترین ہوتی ہے۔ ان کے کالروں میں سوئیاں لگی ہوتی ہیں اور پشت پر صلیبیں۔ (ذریعہ)

12۔ تاریخ کا طویل ترین ٹریفک جام، 12 دن، 62 میل

60-Mile-Traffic-Jam-in-China

تاریخ کا طویل ترین ٹریفک جام چین میں رہا ہے جو 12 دن تک جاری رہا۔ بیجنگ کے مضافات میں پھیلے ہوئے اس ٹریفک جام کی طوالت 62 میل تھی۔ ٹریفک جام کے دوران گاڑیاں پورے دن بھر میں ایک میل سے کم فاصلہ طے کر پائیں، یہاں تک ڈرائیوروں کو وقت گزاری کے لیے تاش کھیلتے اور سڑک پر سوتے بھی دیکھا گیا۔ (ذریعہ)

13۔ “گٹر تیل” کا ٹوفو اور بکری کے پیشاب میں ڈبویا ہوا گوشت

Gutter-oil

“گٹر تیل” ایک عام اصطلاح ہے، جو پکانے کے اس تیل کے لیے استعمال ہوتی ہے جو مذبح خانوں اور چکنائی کھینچنے والے خاص آلات کے ذریعے گندے پانے کو ری سائیکل کرکے حاصل کیا جاتا ہے۔ متعدد چینی ادارے اور ریستوراں اپنے کھانے ایسے تیل میں پکاتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔ چند ادارے تو بطخ کے گوشت کو بکری یا بھیڑ کے پیشاب میں ڈبو کر رکھتے تاکہ اس میں مخصوص خوشبو یا ذائقہ دے سکیں۔ (ذریعہ)

14۔ بیجنگ کی فضاء، گویا ایک دن میں 21 سگریٹ

air-pollution-in-china

چین کے دارالحکومت بیجنگ کی فضاء اتنی آلودہ اور زہریلی ہوچکی ہے کہ دنیا کے کسی اور حصے میں پے در پے تمباکو نوشی کرنے والا بھی سانس کے امراض کے خطرے کی زد میں اتنا نہیں جتنا کہ بیجنگ کے باشندے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انہیں ہر وقت چہرے کو نقاب سے ڈھانپنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر ملک بھر میں آلودگی کا یہ عالم ہے کہ یہ فضائی آلودگی خلاء سے بھی نظر آتی ہے، اور دیوارِ چین نہیں آتی۔ (ذریعہ)

15۔ “کنوارے لڑکوں کے انڈے”

virgin-boy-eggs

ہر موسمِ بہار میں ڈونگ یانگ میں ایسے انڈے بطور خاص فروخت کیے جاتے ہیں جو لڑکوں کے پیشاب میں ابلے ہوئے ہوتے ہیں۔ انہیں “کنوارے لڑکوں کے انڈے” کہا جاتا ہے اور ایک خاص سوغات تصور کیا جاتا ہے جس کا شہروں میں خوب لطف اٹھایا جاتا ہے۔ یہ تک کہتے ہیں کہ اس کا صحت پر بہت مثبت اثر پڑتا ہے، جیسا کہ خون کی صفائی اور توانائی میں اضافہ۔ ان کی کشش میں مزید اضافہ یہ کہہ کر کیا جاتا ہے “ذائقہ بہار جیسا”! (ذریعہ)


متعلقہ خبریں


حیران کن: 72 سالہ عورت نے اپنے پہلے بچے کو جنم دے دیا وجود - جمعرات 12 مئی 2016

بھارت کی ایک 72 سالہ خاتون نے زندگی میں پہلی بار ایک بچے کو جنم دیا ہے۔ دلجندر کور نامی خاتون نے دو سال تک آئی وی ایف علاج کروایا اور اپریل میں ایک لڑکے کو جنم دیا۔ ان کے شوہر کی عمر 79 سال ہے جبکہ ان کی شادی کو 46 سال گزر چکے ہیں۔ یوں دلجندر ماں بننے والی دنیا کی طویل العمر ترین خاتون بن گئی ہیں۔ گو کہ ان کے پاس کوئی ایسی دستاویز نہیں ہے جس سے وہ اپنی عمر ثابت کر سکیں لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی عمر 70 سے 72 سال ہے۔ ابھی منظر عام پر آنے والی خبر کے مطابق یہ بچہ 19 ا...

حیران کن: 72 سالہ عورت نے اپنے پہلے بچے کو جنم دے دیا