وجود

... loading ...

وجود

اسرائیلی بری، فلسطینی کو پھانسی

اتوار 12 اپریل 2026 اسرائیلی بری، فلسطینی کو پھانسی

ریاض احمدچودھری

چند روز قبل اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے ایک ایسا متنازعہ مسودہ قانون منظورکیاہے، جس کے تحت دہشت گردی کے الزامات میں ملوث فلسطینیوں کو سزائے موت دی جا سکتی ہے۔اس اقدام پر یورپی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کرتے ہوئے اسے امتیازی قرار دیا ہے۔قانون کے حق میں 62 ارکان جن میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بھی شامل تھے، نے ووٹ دیا، جبکہ 48 ارکان نے مخالفت کی، ایک نے ووٹ نہیں دیا اور باقی غیر حاضر رہے۔یہ مسودہ جو شدت پسند دائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، اس سے قبل نومبر میں پہلی بار منظور ہوا تھا۔جرمنی، برطانیہ، فرانس اور اٹلی نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ یہ قانون اسرائیل کے جمہوری اصولوں سے انحراف کا باعث بن سکتا ہے۔انتہا پسند وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے اس قانون کا دفاع کیا اور ووٹنگ سے قبل پھانسی کے پھندے کی شکل کا بیج لگا کر اپنی حمایت ظاہر کی۔ووٹنگ کے بعد انہوں نے ”ایکس ”پر لکھا: ہم نے تاریخ بنا دی! ہم نے وعدہ کیا تھا اور پورا کر دیا۔قانون کے مطابق جو بھی شخص جان بوجھ کر کسی اسرائیلی شہری یا رہائشی کو نقصان پہنچانے یا اسرائیل کے وجود کو ختم کرنے کی نیت سے قتل کرے، اسے سزائے موت یا عمر قید دی جا سکتی ہے۔تاہم مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے لیے اس قانون میں یہ شق شامل ہے کہ اگر اسرائیلی فوجی عدالت کسی قتل کو “دہشت گردی” قرار دے، تو سزائے موت بطور ڈیفالٹ لاگو ہوگی۔اس طرح یہ قانون فلسطینیوں پر تو سزائے موت کے اطلاق کی اجازت دیتا ہے، لیکن کسی اسرائیلی کی جانب سے فلسطینی کے قتل کی صورت میں اس کا اطلاق ممکن نہیں ہوگا۔واضح رہے کہ اسرائیل 1967 سے مغربی کنارے پر قابض ہے، جہاں فلسطینیوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلتے ہیں جبکہ اسرائیلی آبادکاروں کو سول عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے۔قانون کے تحت سزائے موت پر عملدرآمد حتمی فیصلے کے 90 دن کے اندر کیا جا سکتا ہے، جسے 180 دن تک مؤخر بھی کیا جا سکتا ہے۔
انتہا پسند جماعت عوتسما یہودیت (Otzma Yehudit)کی رکن لیمور سون ہار میلیخ(Limor Son Har Melech) جن کے شوہر دوسری انتفاضہ کے دوران ایک حملے میں مارے گئے تھے، نے ارکان سے اس قانون کی حمایت کی اپیل کی۔ یہ ووٹنگ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے تقریباً پانچ ماہ بعد ہوئی ہے، جو 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے بعد عمل میں آئی تھی۔اپوزیشن رکن اور موساد کے سابق نائب سربراہ رام بن باراک نے اس قانون پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے عربوں کے لیے الگ قانون اور اسرائیلیوں کے لیے الگ قانون کا کیا مطلب ہے؟ اس طرح اسرائیل اپنی اقدار کھو رہا ہے اور نفرت و انتقام کی راہ پر چل پڑا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس قانون کو مسترد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فلسطینیوں کے خلاف امتیازی طور پر سزائے موت کے استعمال کو بڑھا دے گا۔قانون کی منظوری کے بعد اسرائیل کی غیر سرکاری تنظیم ایسوسی ایشن فار سول رائٹس نے سپریم کورٹ میں اس کے خلاف درخواست دائر کر دی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کنیسٹ کو مغربی کنارے کے لیے قانون سازی کا اختیار حاصل نہیں اور یہ قانون آئین کے خلاف ہے کیونکہ یہ امتیازی ہے۔یاد رہے کہ اسرائیلی قوانین میں سزائے موت کی گنجائش موجود ہے، تاہم 1962 میں نازی رہنما ایڈولف آئخمان کو دی گئی سزا کے بعد سے اب تک کسی کو سزائے موت نہیں دی گئی۔
اسرائیل نے حال ہی میں لبنان پر گزشتہ ماہ حزب اللہ کے ساتھ تنازع شروع ہونے کے بعد سے اب تک کے سب سے شدید حملے کیے، جن میں درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق ان حملوں میں 112 افراد جان سے گئے اور 837 زخمی ہوئے۔اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ملک بھر میں شہری علاقوں میں موجود حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ حملے ملک کے مختلف حصوں میں کیے گئے، جن میں دارالحکومت بیروت، اس کے جنوبی مضافات اور بقاع وادی شامل ہیں۔ایک لبنانی سکیورٹی ذریعے نے اس بمباری کو اسرائیل کے ساتھ تنازع شروع ہونے کے بعد کی سب سے شدید کارروائی قرار دیا۔عینی شاہدین کے مطابق بیروت میں زخمی اور خون میں لت پت افراد ٹریفک میں اپنی گاڑیاں چھوڑ کر قریبی ہسپتالوں کی طرف دوڑ پڑے۔ریسکیو اہلکاروں نے فورک لفٹس کی مدد سے جلی ہوئی گاڑیوں اور ملبے کو ہٹایا، جبکہ کئی گھنٹوں بعد بھی امدادی ٹیمیں ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف رہیں۔لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اسرائیلی حملے رکوانے میں مدد کرے۔ بیروت نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے اور لبنان میں بھی جنگ بندی کے لیے کوششیں تیز کی ہیں، لیکن اسرائیل اپنے حملے بڑھا رہا ہے۔لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ لبنان کو بھی اس علاقائی معاہدے میں شامل کیا جائے گا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
اسلام آباد:امن کا عالمی مرکز وجود اتوار 12 اپریل 2026
اسلام آباد:امن کا عالمی مرکز

اسرائیلی بری، فلسطینی کو پھانسی وجود اتوار 12 اپریل 2026
اسرائیلی بری، فلسطینی کو پھانسی

نیتن یاہوکے لیے جنگ کا راستہ جیل کی طرف مڑ گیا! وجود اتوار 12 اپریل 2026
نیتن یاہوکے لیے جنگ کا راستہ جیل کی طرف مڑ گیا!

دربار انڈسٹری وجود هفته 11 اپریل 2026
دربار انڈسٹری

برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی وجود هفته 11 اپریل 2026
برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر