وجود

... loading ...

وجود

کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین

هفته 11 اپریل 2026 کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین

ریاض احمدچودھری

کشمیر میں حکام نے مساجد، مدارس اور ان کے انتظام سے وابستہ افراد کی پروفائلنگ کا تفصیلی عمل شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نگرانی کو مضبوط بنانا، ریکارڈ کو بہتر بنانا اور مذہبی اداروں کے کسی بھی غیرقانونی استعمال کو روکنا ہے۔اس سلسلے میں دیہات کے نمبر داروں (ریونیو محکمے کے گاؤں کی سطح کے ملازمین) کو ایک مخصوص فارم دیا گیا ہے، جس کے ذریعے کشمیر کے مختلف علاقوں میں موجود مساجد اور مدارس سے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ اس عمل کے تحت مساجد اور مدارس، امام صاحبان، مدرسوں کے اساتذہ اور انتظامی کمیٹی کے اراکین کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔اس پروفائلنگ مہم کا ایک اہم پہلو مساجد اور مدارس کے مالی معاملات ہیں۔ حکام زمینوں اور عمارتوں کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والے فنڈز کے ذرائع، عطیات اور چندہ، اور روزمرہ اخراجات سے متعلق معلومات طلب کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد ان مذہبی اداروں کے مالی نظام میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانا ہے۔اسی کے ساتھ، اماموں، اساتذہ اور انتظامی کمیٹی کے اراکین سے کئی ذاتی اور شناختی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔ ان میں آدھار کارڈ اور بینک اکاؤنٹ کی معلومات، جائیداد کی تفصیل، پاسپورٹ، راشن کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، سم کارڈز اور موبائل فون کے آئی ایم ای آئی نمبر، نیز سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی معلومات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام معلومات ایک مرکزی ڈیٹا بیس تیار کرنے کے لیے استعمال کی جائیں گی۔ فارم میں اس بات کی معلومات بھی طلب کی گئی ہیں کہ مسجد یا مدرسہ کس مسلک سے وابستہ ہے، جیسے بریلوی، دیوبندی، حنفی یا اہل حدیث۔حکام نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ کشمیر میں صدیوں سے رائج صوفی روایات سے مختلف سخت گیر نظریات کو نوجوانوں کی انتہاپسندی کی ایک وجہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں متعلقہ افراد سے ماضی میں کسی بھی دہشت گرد یا تخریبی سرگرمی میں ملوث ہونے، زیر التوا مقدمات یا عدالت سے سزا سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔ حکام کا واضح کہنا ہے کہ مساجد اور مدارس کی یہ پروفائلنگ کسی مذہبی ادارے کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ یہ ادارے قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کریں اور کسی بھی غلط استعمال کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔ یہ عمل آئندہ ہفتوں میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے، تاکہ وادی بھر میں ایک مستند اور جامع ریکارڈ تیار کیا جا سکے۔
مقبوضہ کشمیر کی آزادی تک تحریک آزادی کشمیر جاری رہے گی۔آزادجموں وکشمیر میں بین المذاہب ہم آہنگی اوررواداری قابل ستائش ہے۔ جس انداز سے پاکستان دنیامیں کامیابیاں حاصل کررہا ہے تحریک آزادی کشمیربھی انشا اللہ کامیاب ہوگی۔ پاکستان کی تمام اقلیتیں تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ کھڑی ہیں اور شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان اندرونی و بیرونی سطح پر امن کا داعی ہے اور اس کی سفارتکاری کے باعث جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی۔ اگر جنگ جاری رہتی تو عالمی سطح پر سنگین معاشی اور انسانی بحران پیدا ہو سکتا تھا۔ پاکستان کے موقف کو دنیا بھر میں تقویت مل رہی ہے اس سے کشمیریوں کی آزادی کی منزل بھی قریب ہورہی ہے۔ پاکستان عالم اسلام کا اہم ستون ہے اور اس نے ہمیشہ امن، اتحاد اور استحکام کا پیغام دیا ہے۔ دشمن قوتیں پاکستان کو نظریاتی انتشار کا شکار کرنا چاہتی ہیں مگر قوم متحد ہو کر ان سازشوں کو ناکام بنائے گی۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس نے لوگوں کے غیر ملکی دوروں کی تفصیلات سمیت ذاتی کوائف جمع کرنے کے لیے ایک متنازعہ مردم شماری شروع کی ہے۔ اس اقدام کی قانونی اورآئینی حیثیت اورممکنہ غلط استعمال کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ اس لیے ماہرین کی رائے ہے کہ مردم شماری میں پولیس کی شمولیت قابل اعتراض ہے کیونکہ یہ موجودہ قانونی فریم ورک سے متصادم ہے۔بھارتی پولیس نے وادی کشمیر کے تمام گھروں میں ایک فارم تقسیم کیا ہے جس میں مکینوں اور بیرون ممالک آباد خاندان کے افراد کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ فارم میں گھر کے ہر فرد کو اپنی اپنی تصاویر لگانا ہوگی اور ان سے انکے نام، جنس، عمر، پیشہ، گھر کے مالک سے تعلق، عسکریت پسندوں کے ساتھ روابط، ملکیتی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر ، گھر کے کسی فرد کے کسی غیر ملکی دورے کی تفصیلات وغیرہ طلب کی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ بھارتی پولیس پہلے بھی کئی مرتبہ کشمیریوں سے اس طرح کی معلومات حاصل کر چکی ہے۔اس حوالے سے گزشتہ کئی روز سے فارم تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ ضلع بارہمولہ کے قصبے سوپور کے ایک رہائشی نے بتایا کہ رواں ہفتے کے شروع میں پولیس کے کچھ اہلکار آئے اور فارم تقسیم کیے۔ انہوں نے ہم سے فارم کا ہر خانہ بھرنے اوراسے فوری واپس جمع کرانے کی ہدایت کی۔بھارتی فورسز نے سرکاری ملازمین سمیت رہائشیوں کی نگرانی بڑھانے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں اس طرح کی متعدد کارروائیاںشروع کر دی ہیں۔ ایک سرکاری ملازم نے کہا کہ انہیں غیر ممالک کا دورہ کرنے کے لیے سی آئی ڈی کلیئرنس حاصل کرنا پڑتی ہے، جس میں حج کا سفر بھی شامل ہے۔ کلیئرنس حاصل کرنے میں ہفتوں، کبھی کبھی مہینے لگتے ہیں۔اگرچہ مردم شماری کے ترمیم شدہ قوانین محققین کو مائیکرو ڈیٹا تک رسائی کی اجازت دیتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ اسے صیغہ راز میں رکھا جائے اور حساس اور ذاتی معلومات کے استعمال پر پابندی ہو۔ لہذا قانونی ماہرین کے مطابق جموں و کشمیر پولیس کی حالیہ کارروائیاں ان قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
دربار انڈسٹری وجود هفته 11 اپریل 2026
دربار انڈسٹری

برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی وجود هفته 11 اپریل 2026
برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی

پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات وجود هفته 11 اپریل 2026
پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات

کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین وجود هفته 11 اپریل 2026
کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین

ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان وجود جمعه 10 اپریل 2026
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر