... loading ...
محمد آصف
اُردو ادب میں نثری نظم ایک ایسی صنف کے طور پر ابھری ہے جس نے اظہار کے روایتی سانچوں سے آزادی حاصل کرتے ہوئے فکر و
احساس کو نئی جہات عطا کیں۔ بیسویں صدی میں اس صنف نے جس شعوری بیداری اور فنی تجربے کے ساتھ اپنی شناخت قائم کی، اکیسویں
صدی میں وہ مزید وسعت اور تنوع کے ساتھ سامنے آئی۔
اس معاصر منظرنامے میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا نام ایک ایسے شاعر، نقاد اور محقق کے طور پر نمایاں ہے جنہوں نے نہ صرف نثری نظم کو
تخلیقی سطح پر آگے بڑھایا بلکہ اس کی فکری بنیادوں کو بھی مضبوط کیا۔ڈاکٹر محسن خالد محسن ہمہ جہت ادبی شخصیت کے حامل ہیں۔ وہ شاعر ہونے
کے ساتھ ساتھ نقاد، محقق، کالم نگار اور معلم بھی ہیں۔ ان کی ادبی تربیت ایک ایسے گھرانے میں ہوئی جہاں نظم و ضبط، اخلاقی اقدار اور صوفیانہ
ذوق موجود تھا۔ یہی عناصر ان کی فکری تشکیل میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ابتدائی تعلیمی سفر سے لے کر اعلیٰ تعلیم، ایم فل اور پی ایچ ڈی
تک کا سفر ان کی علمی وابستگی اور عزم کا آئینہ دار ہے ۔ تدریسی میدان سے وابستگی نے بھی ان کی فکر کو سنجیدگی اور توازن عطا کیا، جس کا اثر ان
کی شاعری اور نثر دونوں میں نمایاں ہے ۔
ان کا شعری سفر غزل سے شروع ہوا، مگر جلد ہی ان کی طبیعت نے آزاد اور نثری نظم کو اپنا مستقل وسیلۂ اظہار بنا لیا۔ ان کے شعری
مجموعوں میں”کچھ کہنا ہے”،”دُھند میں لپٹی شام”،”تلاش” اور”محبت معاہدہ نہیں” خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان مجموعوں میں داخلی
کرب، وجودی سوالات، محبت کی معنویت، معاشرتی بے سمتی اور اخلاقی زوال جیسے موضوعات گہرے شعری شعور کے ساتھ سامنے آتے
ہیں۔ خاص طور پر نثری نظم میں ان کی پہچان زیادہ مستحکم ہوئی ہے ۔
نثری نظم کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں وزن، بحر اور قافیہ کی پابندی لازم نہیں ہوتی، تاہم داخلی آہنگ، معنوی ربط اور شعری فضا
اس کے لازمی عناصر ہیں۔ ڈاکٹر محسن خالد محسن کی نثری نظموں میں یہ تمام عناصر ایک فطری توازن کے ساتھ موجود ہیں۔ ان کی نظم محض بیانیہ
نہیں بنتی بلکہ ایک داخلی موسیقی اور فکری تسلسل کے ساتھ قاری کے ذہن میں اترتی ہے ۔ وہ علامت اور استعارے کو محض فنی آرائش کے طور
پر استعمال نہیں کرتے بلکہ اسے اپنے باطنی تجربے سے جوڑ دیتے ہیں۔ ان کی نظم”یقین کا ماتم” انسانی تعلقات میں اعتماد کی نزاکت کو
موضوع بناتی ہے ۔ شاعر مادی آسائشوں اور ظاہری سہولتوں کو رشتوں کا متبادل تسلیم نہیں کرتا بلکہ اندھے یقین اور بے لوث رفاقت کو اصل
قدر قرار دیتا ہے ۔ اس نظم میں معاشرتی رویوں پر ایک خاموش مگر گہری تنقید موجود ہے ۔ اسی طرح”وہ تم خود ہو” میں خود شناسی اور داخلی
قوت پر زور دیا گیا ہے ۔ شاعر قاری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ رہنمائی کا سرچشمہ باہر نہیں بلکہ انسان کے اپنے باطن میں موجود ہے ۔ یہ فکر فرد کو
خود اعتمادی اور فکری آزادی کی طرف مائل کرتی ہے ۔نظم”میں ہوں مگر کافی نہیں” میں فرد کی وجودی محرومی اور معاشرتی معیاروں سے عدم
مطابقت کا کرب نمایاں ہوتا ہے ۔ شاعر اپنے وجود کو اس تناظر میں دیکھتا ہے جہاں انسان کی قدر و قیمت ظاہری صلاحیتوں اور بازاری
پیمانوں سے طے کی جاتی ہے ۔ اس نظم میں ایک عام انسان کی خاموش جدوجہد اور اندرونی تھکن کا عکس ملتا ہے ۔ اسی طرح”امکان سے
پرے” میں انسانی اختیار، خواہش اور طاقت کی حدود کو نہایت باریک بینی سے پیش کیا گیا ہے ۔ شاعر امکانات کی وسعت کو تسلیم کرتا ہے ، مگر
یہ بھی واضح کرتا ہے کہ ہر امکان حقیقت میں تبدیل نہیں ہو پاتا۔
ڈاکٹر محسن خالد محسن کی نثری نظموں میں تنہائی ایک اہم موضوع کے طور پر ابھرتی ہے ، لیکن یہ محض جسمانی تنہائی نہیں بلکہ ایک باطنی کیفیت
ہے ۔ ان کے ہاں فرد خود کو کبھی”اضافی سطر” محسوس کرتا ہے ، کبھی زمانے کے متن سے کٹتا ہوا وجود۔ یہ احساس دراصل عہدِ حاضر کی بے
معنویت اور انسانی غیر مرئی پن کی علامت ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ ان کی نظموں میں امید کی ایک مدھم مگر مستقل روشنی بھی موجود رہتی ہے ۔ وہ
قاری کو مکمل مایوسی میں نہیں چھوڑتے بلکہ چھوٹے قدم کی اہمیت، آگے بڑھنے کے حوصلے اور ایک نئی صبح کے امکان کی طرف اشارہ کرتے
ہیں۔ان کی نظموں میں عورت کا وجود بھی ایک حساس موضوع کے طور پر سامنے آتا ہے ۔”قیدی عورتیں” جیسی نظموں میں معاشرتی جبر،
داخلی گھٹن اور غیر محسوس زنجیروں کو علامتی پیرائے میں بیان کیا گیا ہے ۔ یہاں شاعر محض ہمدردی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ سماجی ساخت پر سوال
بھی اٹھاتا ہے ۔ ان کی نثری نظم سماجی شعور اور اخلاقی بصیرت کا امتزاج ہے ۔
فنی اعتبار سے دیکھا جائے تو ڈاکٹر محسن خالد محسن کی نثری نظموں میں زبان کی سادگی اور معنویت کی گہرائی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ وہ مشکل
الفاظ یا پیچیدہ تراکیب کے ذریعے قاری کو مرعوب کرنے کی کوشش نہیںکرتے ، بلکہ سادہ جملوں میں بڑے سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان کے
ہاں وقفوں کا استعمال، مختصر اور طویل جملوں کا توازن، اور داخلی مکالمے کی فضا نظم کو مؤثر بناتی ہے ۔ ان کی نظموں میں ایک ایسی داخلی موسیقی
موجود ہے جو روایتی بحروں کی پابندی کے بغیر بھی شعری آہنگ پیدا کرتی ہے ۔ ڈاکٹر محسن خالد محسن کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ محض
تخلیق کار نہیں بلکہ سنجیدہ محقق اور نقاد بھی ہیں۔ کلاسیکی غزل میں تلمیحات، محاورات اور اسلوبیاتی مباحث پر ان کی تحقیقی کاوشیں اس بات کا
ثبوت ہیں کہ وہ روایت سے گہرا رشتہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نثری نظم روایت سے مکمل انقطاع کا اعلان نہیں کرتی بلکہ فکری تسلسل
کو برقرار رکھتے ہوئے نئے اسلوب کی تشکیل کرتی ہے ۔ ان کے ہاں کلاسیکی شعریات کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے اور جدید حسیت کی
جھلک بھی۔ ان کی شاعری میں دکھ صرف ذاتی نہیں رہتا بلکہ اجتماعی اور تہذیبی سطح تک پھیل جاتا ہے ۔ وہ اپنے باطن کی اذیت کو سماج کی
ناانصافیوں اور اخلاقی بحران سے جوڑ دیتے ہیں۔ اس طرح ان کی نظم فرد اور معاشرے کے درمیان ایک مکالمہ قائم کرتی ہے ۔ ان کا شعری
لہجہ کہیں شکوہ ہے ، کہیں سوال، کہیں اعتراف اور کہیں امید کا اعلان۔
ڈاکٹر محسن خالد محسن کی نثری نظم اُردو ادب میں اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ اسے محض تجرباتی صنف کے طور پر نہیں لیتے بلکہ سنجیدہ فکری اظہار
کا وسیلہ بناتے ہیں۔ ان کی تخلیقات میں داخلی کرب، خود شناسی، محبت کی معنویت، سماجی جبر، وجودی سوالات اور اخلاقی اقدار سب ایک
مربوط فکری نظام کا حصہ نظر آتے ہیں۔ وہ قاری کو سوچنے ، رک کر اپنے اندر جھانکنے اور زندگی کے معنی تلاش کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر محسن خالد محسن نے اکیسویں صدی کی نثری نظم کو فکری سنجیدگی، فنی توازن اور تخلیقی دیانت کے ساتھ آگے بڑھایا
ہے ۔ ان کی نظمیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی وجود کے سوالات کا آئینہ ہیں۔ وہ ادب کو محض جمالیاتی تجربہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے شعور کی
بیداری اور معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بھی تصور کرتے ہیں۔ اسی لیے ان کی نثری نظم اُردو ادب میں ایک معتبر اور روشن اضافہ ہے ، جو آنے
والے وقت میں بھی اپنی معنویت برقرار رکھے گی۔مجھے ایسے دوست اور انکی سنگت پر فخر ہے ۔
٭٭٭