وجود

... loading ...

وجود

مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں

پیر 06 اپریل 2026 مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں

ریاض احمدچودھری

بھارت میں توانائی کے سنگین بحران نے نہ صرف ملکی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ حکومتی پالیسیوں کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات کے باعث ایل پی جی (LPG) کی شدید قلت نے ممبئی سے لے کر راجستھان تک معمولاتِ زندگی مفلوج کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں سست روی کا شکار اور عوام شدید مشکلات سے دوچار ہو گئے ہیں۔ممبئی میں ایل پی جی سلنڈرز کی قلت نے چھوٹے کاروباروں اور صنعتوں کو تقریباً ٹھپ کر دیا ہے، جبکہ مزدور طبقہ روزگار ختم ہونے پر اپنے آبائی علاقوں کی جانب واپس جانے پر مجبور ہو رہا ہے۔ شہر میں ایندھن کی کمی کے باعث ٹرانسپورٹ متاثر ہوئی ہے اور سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں معاشی جمود کی واضح تصویر پیش کر رہی ہیں۔جہاں ایک ایل پی جی سلنڈر کی سرکاری قیمت ایک ہزار روپے سے کم ہے، وہیں بلیک مارکیٹ میں اس کی قیمت تین ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے، جس نے عام شہری کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ یہی صورتحال ریاست راجستھان میں بھی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں توانائی بحران نے صنعتی اور گھریلو دونوں سطحوں پر شدید اثرات مرتب کیے ہیں۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران نے حکومت کی ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ خلیجی کشیدگی کے اثرات نے بھارت کی توانائی پالیسیوں میں موجود خامیوں اور خودانحصاری کے دعوؤں کی حقیقت کو آشکار کر دیا ہے، جبکہ مؤثر حکمت عملی کے فقدان نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ایران میں جاری کشیدگی نے دنیا بھر کو متاثر کیا ہے اور اس کے اثرات بھارت تک بھی پہنچے ہیں۔ اس تنازعے کے باعث عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور سپلائی چین پر گہرا اثر پڑا ہے۔بھارت، جو اپنی تیل اور گیس کی بڑی ضروریات کا زیادہ تر حصہ مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے، اس صورتحال سے خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔ ہرمز کی اہم آبی گزرگاہ میں رکاوٹ کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی، جس سے عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔جنگ سے پہلے تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی، جو اب بڑھ کر 100 ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہے، جس سے بھارت کا درآمدی بل بڑھ گیا ہے۔ بھارت میں پریمیم پٹرول اور صنعتی ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔رسد میں کمی اور ترسیل کے مسائل کی وجہ سے ایل پی جی اور ایل این جی کی دستیابی متاثر ہوئی ہے۔جس کا کافی اثر بھارت پر پڑا ہے۔گھریلو اور کمرشل گیس سلنڈرز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔گیس اور ایندھن کی مہنگائی کے باعث روزمرہ اشیا جیسے ہوٹل کے کھانے، چائے، سموسے وغیرہ کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔مختلف فوڈ ایپ کمپنیوں نے اپنے چارجز میں اضافہ کیا ہے۔عالمی سطح پر یوریا اور دیگر کھادوں کی سپلائی متاثر ہونے سے بھارت میں بھی قلت کا خطرہ ہے۔امریکی ڈالر کے مقابلے میں بھارتی کرنسی کی قدر میں کمی آئی ہے۔سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان ہوا ہے اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال ہے۔
بیرونی سرمایہ کاروں نے بڑی مقدار میں پیسہ نکال لیا ہے۔قیمتی دھاتوں کی قیمتیں غیر مستحکم ہو گئی ہیں۔پروازوں کے راستے تبدیل ہونے سے ایندھن اور انشورنس کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔کئی بین الاقوامی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جس سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔پیٹروکیمیکل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے صنعتوں پر دباؤ ہے۔اگر صورتحال برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔گیس کی مہنگائی کے باعث الیکٹرک ککر اور انڈکشن چولہے کی طلب بڑھ گئی ہے۔کشیدگی کے باعث ہزاروں بھارتی شہریوں کی واپسی مشکل ہو گئی ہے۔خلیجی ممالک میں رہنے والے بھارتیوں کی آمدنی متاثر ہونے سے ترسیلات کم ہو سکتی ہیں۔خلیجی ممالک تک بھارت کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ایران میں جاری کشیدگی کے باعث بھارت کا اہم منصوبہ بھی متاثر ہوا ہے۔
بھارت میں گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے ملک کے صنعتی اور سماجی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔جریدے نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ مودی حکومت کی توانائی کی پالیسیاں زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ حکومت کی جانب سے بروقت عالمی منڈی سے معاہدے نہ کرنے اور مقامی پیداوار میں ناکامی نے عوام کو اس دلدل میں دھکیلا ہے۔ بھارت میں گیس کا بحران صرف قیمتوں کا اضافہ نہیں بلکہ مودی سرکار کی انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس نے عام آدمی کا چولہا ٹھنڈا کر دیا ہے۔خلیج میں کشیدگی کے باعث پوری دنیا توانائی کے بحران کا شکار ہے، لیکن مودی سرکار کی دوغلی پالیسیوں نے بھارتی عوام کو دوبارہ پتھر کے دور میں واپس پہنچا دیا ہے۔ایران جنگ کے اثرات سے بھارت میں مہنگائی، توانائی بحران، روپے کی کمی، مارکیٹ نقصان اور سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار وجود پیر 06 اپریل 2026
نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار

مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں وجود پیر 06 اپریل 2026
مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں

ہم نے ملک میں سچ کو منجمد کر دیا ہے! وجود پیر 06 اپریل 2026
ہم نے ملک میں سچ کو منجمد کر دیا ہے!

مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول وجود اتوار 05 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول

کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟ وجود اتوار 05 اپریل 2026
کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر