... loading ...
ریاض احمدچودھری
بھارت میں توانائی کے سنگین بحران نے نہ صرف ملکی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ حکومتی پالیسیوں کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات کے باعث ایل پی جی (LPG) کی شدید قلت نے ممبئی سے لے کر راجستھان تک معمولاتِ زندگی مفلوج کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں سست روی کا شکار اور عوام شدید مشکلات سے دوچار ہو گئے ہیں۔ممبئی میں ایل پی جی سلنڈرز کی قلت نے چھوٹے کاروباروں اور صنعتوں کو تقریباً ٹھپ کر دیا ہے، جبکہ مزدور طبقہ روزگار ختم ہونے پر اپنے آبائی علاقوں کی جانب واپس جانے پر مجبور ہو رہا ہے۔ شہر میں ایندھن کی کمی کے باعث ٹرانسپورٹ متاثر ہوئی ہے اور سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں معاشی جمود کی واضح تصویر پیش کر رہی ہیں۔جہاں ایک ایل پی جی سلنڈر کی سرکاری قیمت ایک ہزار روپے سے کم ہے، وہیں بلیک مارکیٹ میں اس کی قیمت تین ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے، جس نے عام شہری کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ یہی صورتحال ریاست راجستھان میں بھی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں توانائی بحران نے صنعتی اور گھریلو دونوں سطحوں پر شدید اثرات مرتب کیے ہیں۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران نے حکومت کی ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ خلیجی کشیدگی کے اثرات نے بھارت کی توانائی پالیسیوں میں موجود خامیوں اور خودانحصاری کے دعوؤں کی حقیقت کو آشکار کر دیا ہے، جبکہ مؤثر حکمت عملی کے فقدان نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ایران میں جاری کشیدگی نے دنیا بھر کو متاثر کیا ہے اور اس کے اثرات بھارت تک بھی پہنچے ہیں۔ اس تنازعے کے باعث عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور سپلائی چین پر گہرا اثر پڑا ہے۔بھارت، جو اپنی تیل اور گیس کی بڑی ضروریات کا زیادہ تر حصہ مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے، اس صورتحال سے خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔ ہرمز کی اہم آبی گزرگاہ میں رکاوٹ کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی، جس سے عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔جنگ سے پہلے تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی، جو اب بڑھ کر 100 ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہے، جس سے بھارت کا درآمدی بل بڑھ گیا ہے۔ بھارت میں پریمیم پٹرول اور صنعتی ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔رسد میں کمی اور ترسیل کے مسائل کی وجہ سے ایل پی جی اور ایل این جی کی دستیابی متاثر ہوئی ہے۔جس کا کافی اثر بھارت پر پڑا ہے۔گھریلو اور کمرشل گیس سلنڈرز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔گیس اور ایندھن کی مہنگائی کے باعث روزمرہ اشیا جیسے ہوٹل کے کھانے، چائے، سموسے وغیرہ کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔مختلف فوڈ ایپ کمپنیوں نے اپنے چارجز میں اضافہ کیا ہے۔عالمی سطح پر یوریا اور دیگر کھادوں کی سپلائی متاثر ہونے سے بھارت میں بھی قلت کا خطرہ ہے۔امریکی ڈالر کے مقابلے میں بھارتی کرنسی کی قدر میں کمی آئی ہے۔سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان ہوا ہے اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال ہے۔
بیرونی سرمایہ کاروں نے بڑی مقدار میں پیسہ نکال لیا ہے۔قیمتی دھاتوں کی قیمتیں غیر مستحکم ہو گئی ہیں۔پروازوں کے راستے تبدیل ہونے سے ایندھن اور انشورنس کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔کئی بین الاقوامی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جس سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔پیٹروکیمیکل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے صنعتوں پر دباؤ ہے۔اگر صورتحال برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔گیس کی مہنگائی کے باعث الیکٹرک ککر اور انڈکشن چولہے کی طلب بڑھ گئی ہے۔کشیدگی کے باعث ہزاروں بھارتی شہریوں کی واپسی مشکل ہو گئی ہے۔خلیجی ممالک میں رہنے والے بھارتیوں کی آمدنی متاثر ہونے سے ترسیلات کم ہو سکتی ہیں۔خلیجی ممالک تک بھارت کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ایران میں جاری کشیدگی کے باعث بھارت کا اہم منصوبہ بھی متاثر ہوا ہے۔
بھارت میں گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے ملک کے صنعتی اور سماجی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔جریدے نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ مودی حکومت کی توانائی کی پالیسیاں زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ حکومت کی جانب سے بروقت عالمی منڈی سے معاہدے نہ کرنے اور مقامی پیداوار میں ناکامی نے عوام کو اس دلدل میں دھکیلا ہے۔ بھارت میں گیس کا بحران صرف قیمتوں کا اضافہ نہیں بلکہ مودی سرکار کی انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس نے عام آدمی کا چولہا ٹھنڈا کر دیا ہے۔خلیج میں کشیدگی کے باعث پوری دنیا توانائی کے بحران کا شکار ہے، لیکن مودی سرکار کی دوغلی پالیسیوں نے بھارتی عوام کو دوبارہ پتھر کے دور میں واپس پہنچا دیا ہے۔ایران جنگ کے اثرات سے بھارت میں مہنگائی، توانائی بحران، روپے کی کمی، مارکیٹ نقصان اور سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔
٭٭٭