وجود

... loading ...

وجود

ہم نے ملک میں سچ کو منجمد کر دیا ہے!

پیر 06 اپریل 2026 ہم نے ملک میں سچ کو منجمد کر دیا ہے!

اونچ نیچ
۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ

سچائی پر تاریخ فکر کا شائد سب سے زیادہ ہلادینے والا اور خطرناک حد تک قول جارج آر ویل کاہے” جب جھوٹ ہر
طرف ریاستی نظم بن جائے، تو سچ بولنا بغاوت بن جاتاہے ”۔ یہ محض ایک جملہ نہیں ۔یہ ہر سماج کے لیے ایک فلسفیانہ فرد
جرم ہے جہاں سچ کو قانون سے پہلے، اور جھوٹ کو ریاست سے پہلے قبول کر لیا جاتاہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتاہے جب سچ
اخلاق نہیں رہتا ، جرم بن جاتا ہے۔ اور سچ بولنے والا شہری نہیں رہتا خطرہ بن جاتا ہے ۔فرانسس بیکن کا سچائی پر مضمون
ان کے سب سے مشہور اور فکری اعتبار سے بھرپور کاموں میں سے ہے، جو اصل میں 1625 میں شائع ہوا تھا۔ اس مختصر
لیکن گہری بصیرت سے بھرپور مضمون میں، بیکن اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ سچائی کا کیا مطلب ہے اور اسے انسانی
زندگی میں اتنا اہم مقام کیوں حاصل ہے۔ اس نے مضمون کا آغاز رومی گورنر پونٹیئس پیلاطس کا ذکر کرتے ہوئے کیا
جس نے یہ سوال پوچھا، ”سچائی کیا ہے”؟ پھر بھی کوئی وضاحت سننے کے لیے نہیں ٹھہرا۔ بیکن اس لمحے کو یہ تجویز کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے کہ بہت سے لوگ اسی طرح کا برتاؤ کرتے ہیں ۔ وہ واقعی سچائی کی خواہش نہیں کرتے۔ وہ بتاتا ہے کہ کچھ لوگ حقیقت میں جھوٹ سے لطف اندوز ہوتے ہیں، اس لیے نہیں کہ اس سے انہیں فائدہ ہوتا ہے، بلکہ محض
اس لیے کہ جھوٹ تفریحی یا حوصلہ افزا ہو سکتا ہے۔ بیکن سچائی کو سورج کی روشنی سے تشبیہ دیتا ہے، جو ہر چیز کو صاف ظاہر
کرتا ہے، جب کہ وہ جھوٹ کا موازنہ موم بتی کی مدھم روشنی سے کرتا ہے، جو حقیقت کو چھپاتا ہے اور ظاہر کو مسخ کرتا ہے۔
اس کے خیال میں سچائی انسان کے خیالات، قول اور عمل کو طاقت اور یقین دیتی ہے۔ یہ انصاف، سیکھنے اور ایمان کی بنیاد
بناتا ہے۔ جھوٹ عارضی خوشی یا چھوٹے فائدے پیش کر سکتا ہے، لیکن آخرکار یہ معاشرے اور انسانی روح دونوں کو
نقصان پہنچاتا ہے۔ وہ شاعری اور تخیل میں جھوٹ کو بھی پرکھتا ہے جسے وہ بے ضرر اور لذت آمیز بھی سمجھتا ہے۔ بیکن کے
مطابق، شاعرانہ افسانہ ہمیں خوش کر سکتا ہے، لیکن ایسے معاملات میں جن میں حقیقی فیصلے یا اخلاقی ذمہ داری شامل ہو،
سچائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ وہ سچائی کو ”انسانی فطرت کی خود مختار بھلائی” کہتا ہے، یہ تجویز کرتا ہے کہ انسان کے لیے اس
سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں ہے۔ بیکن ان لوگوں کی تعریف کرتا ہے جو سچائی کے ساتھ سچائی کی تلاش کرتے ہیں اور
ایمانداری کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ سچائی الہی سے جڑی ہوئی ہے، اور جو لوگ اس کی پیروی
کرتے ہیں وہ واقعی بابرکت ہیں۔سچ وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتا ہے۔ کسی بھی سماج یا ریاست کے
لیے سچ محض ایک اخلاقی قدر نہیں، بلکہ اس کی بقا، استحکام اور وقار کی بنیادی شرط ہے۔ جہاں سچ کو قربان کیا جاتا ہے،
وہاں قانون محض کاغذ، انصاف ایک تماشا اور ریاست ایک خول بن کر رہ جاتی ہے۔افلاطون نے کہا تھا:”اگر ریاست کو
قائم رکھنا ہے تو سب سے پہلے روح کو سچ کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔”یہ بات محض فلسفیانہ نعرہ نہیں، بلکہ تاریخ کا نچوڑ ہے۔
سچ وہ مشترک بنیاد ہے جس پر شہریوں کا اعتماد کھڑا ہوتا ہے۔ اعتماد ٹوٹ جائے تو ریاست کی عمارت اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے۔باہر سے مضبوط، اندر سے بوسیدہ۔سچ سماج کو خود احتسابی سکھاتا ہے۔ سقراط نے سچ کی تلاش میں زہر کا پیالہ پی لیا مگر جھوٹ سے سمجھوتہ نہ کیا۔ اس کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچ سوال اٹھاتا ہے، ضمیر جگاتا ہے اور طاقت کو
جواب دہ بناتا ہے۔ جہاں سوال دبائے جائیں، وہاں جبر جنم لیتا ہے؛ اور جہاں جبر ہو، وہاں ریاست خوف کے سہارے
چلتی ہے۔قانون کے نہیں۔کانٹ کے نزدیک سچ اخلاقی فرض ہے ”سچ بولنا کسی نتیجے کے خوف سے مشروط نہیں ہونا
چاہیے”۔ ریاستیں جب مصلحت کے نام پر جھوٹ کو جائز ٹھہراتی ہیں تو وہ اپنی اخلاقی اتھارٹی کھو دیتی ہیں۔ پھر قانون اطاعت نہیں کروا پاتا، صرف تعمیل کروا پاتا ہے۔اور تعمیل خوف سے ہوتی ہے، احترام سے نہیں۔سچ انصاف کی سانس
ہے۔ ارسطو نے کہا تھا کہ انصاف سچ کے بغیر ممکن نہیں۔ عدالتوں میں، پارلیمان میں، اور نصاب میں۔جہاں جہاں سچ
دبایا جائے، وہاں انصاف لنگڑا ہو جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جھوٹ پر کھڑی ریاستیں وقتی فتوحات تو حاصل کر لیتی ہیں،
مگر دیرپا امن نہیں۔نطشے نے خبردار کیا تھا:”وہ معاشرہ جو سچ سے بھاگتا ہے، آخرکار وہم کو حقیقت سمجھنے لگتا ہے”۔جب
وہم غالب آ جائے تو قومیں اپنے زخموں کو فتح اور اپنی کمزوریوں کو عظمت کا نام دیتی ہیں۔ یہ خود فریبی آخرکار اجتماعی زوال
میں بدل جاتی ہے۔سچ طاقت کو انسانیت کے تابع کرتا ہے۔
ہنہ آرنٹ کے مطابق، جھوٹ کی سیاست حقیقت کے مشترک احساس کو توڑ دیتی ہے، اور جب مشترک حقیقت نہ رہے تو مکالمہ ختم ہو جاتا ہے، صرف شور باقی رہتا ہے۔ ریاست مکالمے سے مضبوط ہوتی ہے، شور سے نہیں۔ آخر میں، سچ کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں۔یہ اجتماعی امانت ہے۔ سماج جب سچ کی حفاظت کرتا ہے تو وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے وقار محفوظ کرتا ہے۔ اور جب ریاست سچ کو ادارہ بنا لیتی ہے تو وہ خوف نہیں، امید پیدا کرتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ سچ کے بغیر ریاست محض اقتدار ہے، اور سماج محض ہجوم، سچ کے ساتھ ریاست ذمہ داری بنتی ہے، اور سماج ضمیر۔ یہی فرق قوموں کی
تقدیر لکھتا ہے۔مسئلہ یہ نہیں کہ ہم سچ نہیں جانتے، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے سچ کو منجمد کر دیا ہے۔ پاکستانی ریاست اور سماج
کی فکری تاریخ دراصل اسی قدیم جنگ کی ایک جدید شکل ہے۔ بہاؤ بمقابلہ استحکام۔ ہیراکلیٹس بمقابلہ افلاطون ،آگ
بمقابلہ پتھر، یہاں سچائی کو کسی زندہ، تاریخی عمل کے طور پر قبول نہیں کیا گیا، بلکہ اسے ایک مقدس، ناقابلِ سوال فارمولا بنا
دیا گیا۔ایک بار طے ہو گیاتو ہمیشہ کے لیے طے ہو گیا۔نصاب میں، قانون میں، مذہب میں، اور ریاستی بیانیے میں۔یہ
افلاطونی مابعدالطبیعات کا خالص اطلاق ہے۔ایک”مثالی پاکستان” جو تاریخ میں کہیں موجود نہیں،مگر جس کے نام پر
حال کو بار بار قربان کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہاں تضاد جرم ہے۔اختلاف غداری،اور سوال فتنہ۔ارسطو کا عدمِ تضاد
کا قانون یہاں منطق نہیں، ریاستی اخلاقیات بن چکا ہے۔یا تو تم ہمارے ساتھ ہو،یا ہمارے خلاف۔درمیان کوئی بہاؤ،
کوئی جدلیات، کوئی تاریخی شعور نہیں۔مگر تاریخ کبھی نہیں رکتی۔پاکستان کا اصل المیہ یہ ہے کہ ریاست خود کو مکمل سمجھ بیٹھی
جبکہ معاشرہ ابھی بن رہا تھا۔یہ وہی لمحہ تھا جب آگ کو بجھایا گیا،اور اس کی جگہ یادگاریں کھڑی کی گئیں۔ہیگل ہمیں بتاتا
ہے کہ جب ریاست خود کو”حتمی”سمجھنے لگے،تو وہ تاریخ سے کٹ جاتی ہے۔ اور جو ریاست تاریخ سے کٹ جائے، وہ
بالآخر عوام سے بھی کٹ جاتی ہے۔یہی ہم دیکھ رہے ہیں۔یہاں آئین کو زندہ دستاویز نہیں،بلکہ ایک جامد متن بنا دیا
گیا۔یہاں نظریہ پاکستان کو سوال کے قابل نہیں،بلکہ عبادت کے قابل سمجھا گیا۔یہاں مذہب کو اخلاقی جدلیات
نہیں،بلکہ حتمی جواب بنا دیا گیا۔نطشے اگر آج زندہ ہوتا،تو شاید یہی کہتا یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں زندگی کو”سچ”کے
نام پر سزا دی جا رہی ہے۔لیکن جہاں جمود ہے،وہاں ردِعمل بھی جنم لیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاست یا تو شدت میں بولتی ہے یا مکمل خاموشی میں ڈوب جاتی ہے۔درمیانی، جدلیاتی،
بالغ گفتگو کے لیے سماج تیار ہی نہیں کیا گیا۔کیونکہ بہاؤ خطرناک ہوتا ہے۔بہاؤ سوال اٹھاتا ہے۔بہاؤ طاقت کو عارضی
بنا دیتا ہے۔اور طاقت کو سب سے زیادہ خوف اسی بات سے ہوتا ہے۔نجات اگر کوئی ہے تو وہ کسی نئے نعرے میں
نہیں،کسی نئے مسیحا میں نہیں،بلکہ اس جرأت میں ہے کہ ہم سچ کو تاریخ میں واپس لے آئیں۔سچ کو زندہ مانیں۔تضاد کو
دشمن نہیں،حرکت کو جرم نہیں۔کیونکہ فلسفہ اور قومیںتبھی زندہ رہتی ہیںجب وہ جلنے سے نہ گھبرائیں۔آگ کے بغیر، روشنی
ممکن نہیں۔یہ ہی سچائی ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار وجود پیر 06 اپریل 2026
نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار

مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں وجود پیر 06 اپریل 2026
مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں

ہم نے ملک میں سچ کو منجمد کر دیا ہے! وجود پیر 06 اپریل 2026
ہم نے ملک میں سچ کو منجمد کر دیا ہے!

مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول وجود اتوار 05 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول

کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟ وجود اتوار 05 اپریل 2026
کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر