... loading ...
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
سچائی پر تاریخ فکر کا شائد سب سے زیادہ ہلادینے والا اور خطرناک حد تک قول جارج آر ویل کاہے” جب جھوٹ ہر
طرف ریاستی نظم بن جائے، تو سچ بولنا بغاوت بن جاتاہے ”۔ یہ محض ایک جملہ نہیں ۔یہ ہر سماج کے لیے ایک فلسفیانہ فرد
جرم ہے جہاں سچ کو قانون سے پہلے، اور جھوٹ کو ریاست سے پہلے قبول کر لیا جاتاہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتاہے جب سچ
اخلاق نہیں رہتا ، جرم بن جاتا ہے۔ اور سچ بولنے والا شہری نہیں رہتا خطرہ بن جاتا ہے ۔فرانسس بیکن کا سچائی پر مضمون
ان کے سب سے مشہور اور فکری اعتبار سے بھرپور کاموں میں سے ہے، جو اصل میں 1625 میں شائع ہوا تھا۔ اس مختصر
لیکن گہری بصیرت سے بھرپور مضمون میں، بیکن اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ سچائی کا کیا مطلب ہے اور اسے انسانی
زندگی میں اتنا اہم مقام کیوں حاصل ہے۔ اس نے مضمون کا آغاز رومی گورنر پونٹیئس پیلاطس کا ذکر کرتے ہوئے کیا
جس نے یہ سوال پوچھا، ”سچائی کیا ہے”؟ پھر بھی کوئی وضاحت سننے کے لیے نہیں ٹھہرا۔ بیکن اس لمحے کو یہ تجویز کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے کہ بہت سے لوگ اسی طرح کا برتاؤ کرتے ہیں ۔ وہ واقعی سچائی کی خواہش نہیں کرتے۔ وہ بتاتا ہے کہ کچھ لوگ حقیقت میں جھوٹ سے لطف اندوز ہوتے ہیں، اس لیے نہیں کہ اس سے انہیں فائدہ ہوتا ہے، بلکہ محض
اس لیے کہ جھوٹ تفریحی یا حوصلہ افزا ہو سکتا ہے۔ بیکن سچائی کو سورج کی روشنی سے تشبیہ دیتا ہے، جو ہر چیز کو صاف ظاہر
کرتا ہے، جب کہ وہ جھوٹ کا موازنہ موم بتی کی مدھم روشنی سے کرتا ہے، جو حقیقت کو چھپاتا ہے اور ظاہر کو مسخ کرتا ہے۔
اس کے خیال میں سچائی انسان کے خیالات، قول اور عمل کو طاقت اور یقین دیتی ہے۔ یہ انصاف، سیکھنے اور ایمان کی بنیاد
بناتا ہے۔ جھوٹ عارضی خوشی یا چھوٹے فائدے پیش کر سکتا ہے، لیکن آخرکار یہ معاشرے اور انسانی روح دونوں کو
نقصان پہنچاتا ہے۔ وہ شاعری اور تخیل میں جھوٹ کو بھی پرکھتا ہے جسے وہ بے ضرر اور لذت آمیز بھی سمجھتا ہے۔ بیکن کے
مطابق، شاعرانہ افسانہ ہمیں خوش کر سکتا ہے، لیکن ایسے معاملات میں جن میں حقیقی فیصلے یا اخلاقی ذمہ داری شامل ہو،
سچائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ وہ سچائی کو ”انسانی فطرت کی خود مختار بھلائی” کہتا ہے، یہ تجویز کرتا ہے کہ انسان کے لیے اس
سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں ہے۔ بیکن ان لوگوں کی تعریف کرتا ہے جو سچائی کے ساتھ سچائی کی تلاش کرتے ہیں اور
ایمانداری کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ سچائی الہی سے جڑی ہوئی ہے، اور جو لوگ اس کی پیروی
کرتے ہیں وہ واقعی بابرکت ہیں۔سچ وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتا ہے۔ کسی بھی سماج یا ریاست کے
لیے سچ محض ایک اخلاقی قدر نہیں، بلکہ اس کی بقا، استحکام اور وقار کی بنیادی شرط ہے۔ جہاں سچ کو قربان کیا جاتا ہے،
وہاں قانون محض کاغذ، انصاف ایک تماشا اور ریاست ایک خول بن کر رہ جاتی ہے۔افلاطون نے کہا تھا:”اگر ریاست کو
قائم رکھنا ہے تو سب سے پہلے روح کو سچ کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔”یہ بات محض فلسفیانہ نعرہ نہیں، بلکہ تاریخ کا نچوڑ ہے۔
سچ وہ مشترک بنیاد ہے جس پر شہریوں کا اعتماد کھڑا ہوتا ہے۔ اعتماد ٹوٹ جائے تو ریاست کی عمارت اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے۔باہر سے مضبوط، اندر سے بوسیدہ۔سچ سماج کو خود احتسابی سکھاتا ہے۔ سقراط نے سچ کی تلاش میں زہر کا پیالہ پی لیا مگر جھوٹ سے سمجھوتہ نہ کیا۔ اس کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچ سوال اٹھاتا ہے، ضمیر جگاتا ہے اور طاقت کو
جواب دہ بناتا ہے۔ جہاں سوال دبائے جائیں، وہاں جبر جنم لیتا ہے؛ اور جہاں جبر ہو، وہاں ریاست خوف کے سہارے
چلتی ہے۔قانون کے نہیں۔کانٹ کے نزدیک سچ اخلاقی فرض ہے ”سچ بولنا کسی نتیجے کے خوف سے مشروط نہیں ہونا
چاہیے”۔ ریاستیں جب مصلحت کے نام پر جھوٹ کو جائز ٹھہراتی ہیں تو وہ اپنی اخلاقی اتھارٹی کھو دیتی ہیں۔ پھر قانون اطاعت نہیں کروا پاتا، صرف تعمیل کروا پاتا ہے۔اور تعمیل خوف سے ہوتی ہے، احترام سے نہیں۔سچ انصاف کی سانس
ہے۔ ارسطو نے کہا تھا کہ انصاف سچ کے بغیر ممکن نہیں۔ عدالتوں میں، پارلیمان میں، اور نصاب میں۔جہاں جہاں سچ
دبایا جائے، وہاں انصاف لنگڑا ہو جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جھوٹ پر کھڑی ریاستیں وقتی فتوحات تو حاصل کر لیتی ہیں،
مگر دیرپا امن نہیں۔نطشے نے خبردار کیا تھا:”وہ معاشرہ جو سچ سے بھاگتا ہے، آخرکار وہم کو حقیقت سمجھنے لگتا ہے”۔جب
وہم غالب آ جائے تو قومیں اپنے زخموں کو فتح اور اپنی کمزوریوں کو عظمت کا نام دیتی ہیں۔ یہ خود فریبی آخرکار اجتماعی زوال
میں بدل جاتی ہے۔سچ طاقت کو انسانیت کے تابع کرتا ہے۔
ہنہ آرنٹ کے مطابق، جھوٹ کی سیاست حقیقت کے مشترک احساس کو توڑ دیتی ہے، اور جب مشترک حقیقت نہ رہے تو مکالمہ ختم ہو جاتا ہے، صرف شور باقی رہتا ہے۔ ریاست مکالمے سے مضبوط ہوتی ہے، شور سے نہیں۔ آخر میں، سچ کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں۔یہ اجتماعی امانت ہے۔ سماج جب سچ کی حفاظت کرتا ہے تو وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے وقار محفوظ کرتا ہے۔ اور جب ریاست سچ کو ادارہ بنا لیتی ہے تو وہ خوف نہیں، امید پیدا کرتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ سچ کے بغیر ریاست محض اقتدار ہے، اور سماج محض ہجوم، سچ کے ساتھ ریاست ذمہ داری بنتی ہے، اور سماج ضمیر۔ یہی فرق قوموں کی
تقدیر لکھتا ہے۔مسئلہ یہ نہیں کہ ہم سچ نہیں جانتے، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے سچ کو منجمد کر دیا ہے۔ پاکستانی ریاست اور سماج
کی فکری تاریخ دراصل اسی قدیم جنگ کی ایک جدید شکل ہے۔ بہاؤ بمقابلہ استحکام۔ ہیراکلیٹس بمقابلہ افلاطون ،آگ
بمقابلہ پتھر، یہاں سچائی کو کسی زندہ، تاریخی عمل کے طور پر قبول نہیں کیا گیا، بلکہ اسے ایک مقدس، ناقابلِ سوال فارمولا بنا
دیا گیا۔ایک بار طے ہو گیاتو ہمیشہ کے لیے طے ہو گیا۔نصاب میں، قانون میں، مذہب میں، اور ریاستی بیانیے میں۔یہ
افلاطونی مابعدالطبیعات کا خالص اطلاق ہے۔ایک”مثالی پاکستان” جو تاریخ میں کہیں موجود نہیں،مگر جس کے نام پر
حال کو بار بار قربان کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہاں تضاد جرم ہے۔اختلاف غداری،اور سوال فتنہ۔ارسطو کا عدمِ تضاد
کا قانون یہاں منطق نہیں، ریاستی اخلاقیات بن چکا ہے۔یا تو تم ہمارے ساتھ ہو،یا ہمارے خلاف۔درمیان کوئی بہاؤ،
کوئی جدلیات، کوئی تاریخی شعور نہیں۔مگر تاریخ کبھی نہیں رکتی۔پاکستان کا اصل المیہ یہ ہے کہ ریاست خود کو مکمل سمجھ بیٹھی
جبکہ معاشرہ ابھی بن رہا تھا۔یہ وہی لمحہ تھا جب آگ کو بجھایا گیا،اور اس کی جگہ یادگاریں کھڑی کی گئیں۔ہیگل ہمیں بتاتا
ہے کہ جب ریاست خود کو”حتمی”سمجھنے لگے،تو وہ تاریخ سے کٹ جاتی ہے۔ اور جو ریاست تاریخ سے کٹ جائے، وہ
بالآخر عوام سے بھی کٹ جاتی ہے۔یہی ہم دیکھ رہے ہیں۔یہاں آئین کو زندہ دستاویز نہیں،بلکہ ایک جامد متن بنا دیا
گیا۔یہاں نظریہ پاکستان کو سوال کے قابل نہیں،بلکہ عبادت کے قابل سمجھا گیا۔یہاں مذہب کو اخلاقی جدلیات
نہیں،بلکہ حتمی جواب بنا دیا گیا۔نطشے اگر آج زندہ ہوتا،تو شاید یہی کہتا یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں زندگی کو”سچ”کے
نام پر سزا دی جا رہی ہے۔لیکن جہاں جمود ہے،وہاں ردِعمل بھی جنم لیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاست یا تو شدت میں بولتی ہے یا مکمل خاموشی میں ڈوب جاتی ہے۔درمیانی، جدلیاتی،
بالغ گفتگو کے لیے سماج تیار ہی نہیں کیا گیا۔کیونکہ بہاؤ خطرناک ہوتا ہے۔بہاؤ سوال اٹھاتا ہے۔بہاؤ طاقت کو عارضی
بنا دیتا ہے۔اور طاقت کو سب سے زیادہ خوف اسی بات سے ہوتا ہے۔نجات اگر کوئی ہے تو وہ کسی نئے نعرے میں
نہیں،کسی نئے مسیحا میں نہیں،بلکہ اس جرأت میں ہے کہ ہم سچ کو تاریخ میں واپس لے آئیں۔سچ کو زندہ مانیں۔تضاد کو
دشمن نہیں،حرکت کو جرم نہیں۔کیونکہ فلسفہ اور قومیںتبھی زندہ رہتی ہیںجب وہ جلنے سے نہ گھبرائیں۔آگ کے بغیر، روشنی
ممکن نہیں۔یہ ہی سچائی ہے۔
٭٭٭