وجود

... loading ...

وجود

مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول

اتوار 05 اپریل 2026 مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول

ریاض احمدچودھری

میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ضلع گاندر بل میں رشید احمد مغل نامی ایک نوجوان کو فرضی جھڑپ میں مارنے کی تکلیف دہ خبر آئی جبکہ بھارتی ایجنسیوں” این آئی اے، ایس آئی اے ، سی آئی کے” وغیرہ کی طرف سے بھی کشمیریوں کی جھوٹے مقدمات میں گرفتاری اورعدالتوں میں فرد جرم عائد کرنے کی خبریں روز کا معمول ہے۔ علاقے میں ہرطرف خوف و دہشت کا ماحول پیداکیا گیا ہے اور ہر کسی کو خطرناک اور مشکوک سمجھا جاتا ہے۔ زور زبردستی کی اس پالیسی سے نہ تو امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی ترقی کا راستہ کھل سکتا ہے۔
میر واعظ نے نما ز جمعہ کی ادائیگی کیلئے آئے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہاکہ بہت دنوں کے بعد جامع مسجد میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔ کشمیر کے مسلمانوں کی اس مرکزی عبادت گاہ تک رسائی حکام کی مرضی سے بار بار روک دی جاتی ہے، یہاں عید کی نماز بھی نہیں ادا کرنے دی گئی۔ شب قدر اور جمع الوداع کے موقوں پر بھی مسجد قفل کی گئی۔یہ سب محض ایک مسجد کو بار باربند کرنے کی بات نہیں ہے بلکہ لوگوں کے مذہبی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔ بدقسمتی سے کشمیریوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔جیسا کہ مقتول رشید احمد کے اہل خانہ نے کہا کہ وہ ایک پارٹ ٹائم کمپیوٹر آپریٹر تھا جس کا عسکریت پسندی سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اسے بھی اٹھا کر بہیمانہ طریقے سے مار دیا گیا۔ نوجوان کے غمزدہ اہل خانہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے انصاف کے خواہاں ہیں اورہم صرف یہ امید کر سکتے ہیں کہ انصاف ہو گا کیونکہ یہ ایک انتہائی تلخ حقیقت ہے کہ اس طرح کے واقعات کے مجرموں کو کبھی سزا نہیں ملی ہے۔
بی جے پی کی کٹھ پتلی بھارتی مودی سرکار نے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے قتل و غارت اور منظم استحصال کی انتہا کر دی ہے، جہاں قابض بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیز نے ایک اور کشمیری نوجوان کو بہیمانہ تشدد کے بعد قتل کر دیا۔بھارتی بہیمانہ تشدد کے بعد قتل کیے گئے کشمیری نوجوان کی شناخت خالد شریف بٹ کے نام سے ہوئی ، جس کی مسخ شدہ لاش جموں و کشمیر کے علاقے وجے پور میں ملی، جس کے بعد سوگوار خاندان کی جانب سے نوجوان خالد شریف کے بہیمانہ قتل پر بھرپور احتجاج کیا گیا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی غنڈہ گردی عروج پر پہنچ چکی ہے ، تاہم بھارت کو یاد رکھنا چاہیے ظلم و ستم کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریکوں کو کبھی کمزور نہیں کر سکتے۔ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سول سوسائٹی کے ارکان نے کہاہے کہ نریندر مودی کی حکومت نے علاقے کودنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔سول سوسائٹی کے ارکان نے کہا کہ مودی کی زیرقیادت ہندوتواحکومت نے متنازعہ علاقے کو ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے جہاں بنیادی آزادیوں کو منظم طریقے سے سلب کیا جارہاہے۔ 10 لاکھ سے زائد فوجیوں کی تعیناتی کے باعث یہ خطہ کرہ ارض کے سب سے زیادہ فوجی جماؤ والے علاقوں میں سے ایک ہے جہاں شہری مسلسل نگرانی اور خوف میں رہتے ہیں۔کارکنوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت نے کشمیریوں کو زندہ رہنے کے حق سمیت تمام بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہے جہاں قتل وغارت، تشدد اور بلاجواز گرفتاریاں روز کا معمول بن چکی ہیں۔
بھارتی افواج کا علاقے میں قتل عام کا ایک طویل اور سنگین ریکارڈ ہے جس سے استثنیٰ اور جبر کا ماحول قائم کرنے میں مدد ملتی ہے۔سول سوسائٹی کے ارکان نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنوری 1989 سے فروری 2026 تک کم از کم 96ہزار489 کشمیری بھارتی گولیوں سے شہیدہو چکے ہیں جس سے دہائیوں سے جاری المناک تشدد کی عکاسی ہوتی ہے۔ تقریباً آٹھ دہائیوں سے جموں و کشمیر کے عوام منظم ریاستی جبر برداشت کررہے ہیں جبکہ شہری آزادیوں، میڈیا اور اظہاررائے پر پابندیوں کا سلسلہ مزیدتیز کردیاگیا ہے۔مشکلات کے باوجود کشمیری عوام پرعزم ہیں اوروہ انصاف کے لیے بین الاقوامی برادری کی طرف دیکھ رہے ہیں۔سول سوسائٹی نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ صورت حال کا نوٹس لیں اور بھارت کو جوابدہ ٹھہرائیں۔انہوں نے تنازعہ کشمیر کو ایک طویل انسانی اور سیاسی بحران قرار دیتے ہوئے فوری بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کیا۔جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق نے بھارتی فورسز کی طرف سے بیگناہ نوجوانوں کے جعلی مقابلوں میں مسلسل قتل اور کالے قوانین کے تحت گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وحشیانہ کارروائیاں فوری طور پر بند کرنے اور مجرموں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول وجود اتوار 05 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول

کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟ وجود اتوار 05 اپریل 2026
کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کر کے اپریل فول منایا ! وجود اتوار 05 اپریل 2026
ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کر کے اپریل فول منایا !

امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ وجود هفته 04 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ

بھارتی گودی میڈیا وجود هفته 04 اپریل 2026
بھارتی گودی میڈیا

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر