وجود

... loading ...

وجود

بھارتی گودی میڈیا

هفته 04 اپریل 2026 بھارتی گودی میڈیا

ریاض احمدچودھری

گودی میڈیا ایک اصطلاح (گودی میڈیالسانی طور پر،میڈیا گود میں بیٹھا ہے جسے تجربہ کار ہندوستانی صحافی رویش کمار نے متعصب ہندوستانی پرنٹ اور ٹی وی نیوز میڈیا کو بیان کرنے کے لیے تیار کیا اور مقبول کیا، جو بر سر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کو 2014 سے) کھل کر حمایت کرتا ہے۔ یہ اصطلاح بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے نام پر ایک جملہ ہے اور یہ ٹیلی ویژن اور دوسرے میڈیا کا حوالہ دینے کا ایک عام طریقہ بن گیا ہے جنھیں “حکمران جماعت (یعنی بھارتی جنتا پارٹی) کے منہ کے نوالے” کے طرز پر سمجھا جاتا ہے۔عرف عام میں گودی میڈیا کسی بھی ملک کے ذرائع ابلاغ کے ایسے طرز عمل کو ظاہر کرتا ہے جو بالعموم حکمران طبقے کی مدح سرائی کرتا ہے، ان کے ہر اقدام کو سراہتا ہے، مگر ان خبروں کو جو حکمران طبقے کے خلاف ہوتی ہیں انھیں یا قابل توجہ نہیں سمجھتا یا پھر ان خبروں کو شاذ و نادر ہی اپنی اہم خبروں کے بیچ جگہ دیتا ہے۔ یہ رویہ یا تو ذرائع ابلاغ کے ان حلقوں کے بیچ پایا جاتا ہے جو فکری ہم آہنگی کی وجہ سے حکمرانوں کا ساتھ دیتا ہے یا پھر کسی لالچ اور طمع کی وجہ سے حکمرانوں کا ساتھ دیتا ہے جس میں حکومت کی جانب سے جاری اشتہارات اور دیگر فوائد میڈیا کی زبان گوئی کی ہیئت بدل دیتے ہیں۔ کبھی کبھی بر سر اقتدار حکومت یا اس کی مشنری کا ڈر جیسے کہ انکم ٹیکس اور انفورس منٹ ڈائریکٹوریٹ کے چھاپے، ہتک عزت کے مقدمے اور دیگر تادیبی اقدامات بھی میڈیا کو حکومت کا طابع، مطیع و فرماں بردار بنا دیتے ہیں۔ ان سبھی صورتوں میں ذرائع ابلاغ اور صحافت کی آزادانہ کار کردگی بے حد متاثر ہوتی ہے۔
تاریخی اعتبار سے میڈیا کا حکومتوں کی جانب سے جھکاؤ اور ان کے شانہ بشانہ موافقت کرنا کوئی عام بات نہیں ہے۔ گرچہ عام طور سے یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مغربی دنیا میں میڈیا ایک آزاد حیثیت رکھتا ہے لیکن شمالی کوریا اور دنیا کے کچھ خطوں میں میڈیا کو کوئی آزادی حاصل نہیں ہے اور چھاپنے اور برقی میڈیا دونوں پر حکومت کا زبردست کنٹرول رہتا ہے۔ تاہم بھارت اور پاکستان جیسے ممالک میں میڈیا کی آزادی مختلف ادوار میں مختلف نوعیت اور شکل میں رہی ہے۔ گودی میڈیا کی اصطلاح کا آغاز 2016ء میں نوٹ بندی کے بعد ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب لوگ ملک میں 85 فی صد رائج الوقت کرنسی نوٹ یکسر منسوخ اور ناکارہ ہونے کی وجہ سے بینکوں کے آگے قطاروں میں کھڑے دھکے کھا رہے تھے اور بھارت کے تقریباً سارے چینل یہ دکھا رہے تھے کہ لوگ حکومت کے اس اقدام سے خوش ہیں۔ اسی طرح بعد کے کچھ سالوں میں میڈیا کا بڑا حلقہ حکومت کے ہر اقدام کا حامی ہو گیا اور صرف حزب اختلاف میں سقم ڈھونڈنے لگا۔ رویش کمار، ابھیسار شرما، پونیا پرسون واجپائی اور کرن تھاپڑ جیسے چند صحافیوں کے سوا جو متوازن تنقید کی دعوت دیتے رہے، بیش تر میڈیا حکومت کی تعریف میں ہی لگا رہا۔امریکی تنظیم جینو سائیڈ واچ نے بھارتی میڈیا کو عالمی سطح پر بے نقاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ میڈیا سنسنی خیزی اور شور شرابے کے ذریعے گمراہ کن دعوؤں اور نفرت انگیز بیانیے کو فروغ دینے میں پیش پیش ہے۔ بھارتی میڈیا بی جے پی کے زیراثر غیر جانبداری کا لبادہ اتار چکا ہے اور حقائق دکھانے سے گریزاں ہے۔
رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں صحافتی آزادی نچلی ترین سطح پر برقرار ہے اور مسلمانوں کے خلاف جرائم کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی مقدمات، حراست اور تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بی جے پی کی مسلمان دشمنی پر مبنی اصلاحات نفرت انگیز میڈیا پر بار بار دہرائی جاتی ہیں۔ گودی میڈیا نے عوام کی سوچ اور رائے پر اثر انداز ہو کر لوگوں کی عقل سلب کر دی ہے، اور بھارتی میڈیا کے متاثرین اب مودی کے ہر جھوٹ کو سچ مان کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ سنسنی خیزی اور جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈے کے باعث معاشرتی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ عالمی سطح پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ ریاستی سرپرستی میں گمراہ کن پراپیگنڈا اور ہندوتوا نظریے کی ترویج کرنے والا گودی میڈیا دنیا بھر میں بے نقاب ہو چکا ہے۔ملک میں صحافیوں کو محدود آزادی کا سامنا، اور مسلمان مخالف جرائم کی رپورٹنگ کرنیوالے صحافی مقدمات، حراست یا تحقیقات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بعض میڈیا اداروں کی جانب سے پیش کی جانے والی سنسنی خیزی اور یکطرفہ رپورٹنگ عوامی رائے پر اثر انداز ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے اور سیاسی بیانیے کو بلاچیلنج قبول کیا جا رہا ہے۔کچھ میڈیا ادارے ریاستی سرپرستی میں ہندوتوا نظریہ کی ترویج اور مخصوص سیاسی جماعت کے حق میں معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے عالمی سطح پر بھارتی میڈیا کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ماہرین اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ صحافتی آزادیاں مضبوط ہونے اور شفاف رپورٹنگ کی حمایت کے بغیر، ملک میں معلوماتی توازن قائم رکھنا مشکل ہوگا۔اس ضمن میں ملکی اور بین الاقوامی تنظیمیں بھارتی میڈیا کی نگرانی اور اصلاحات کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ وجود هفته 04 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ

بھارتی گودی میڈیا وجود هفته 04 اپریل 2026
بھارتی گودی میڈیا

ایک سوال۔۔۔۔؟ وجود هفته 04 اپریل 2026
ایک سوال۔۔۔۔؟

4اپریل جب آتا ہے ! وجود هفته 04 اپریل 2026
4اپریل جب آتا ہے !

بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام وجود جمعه 03 اپریل 2026
بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر