وجود

... loading ...

وجود

خوشی کی حقیقی شناخت :باطن کی خوشبو اور کردار کی مٹھاس

جمعرات 02 اپریل 2026 خوشی کی حقیقی شناخت :باطن کی خوشبو اور کردار کی مٹھاس

محمد آصف

انسان کی اصل پہچان اس کے ظاہری لباس، دولت یا مقام سے نہیں بلکہ اس کے باطن، اخلاق اور رویّے سے ہوتی ہے ۔ آج کے اس تیز
رفتار اور مادہ پرست دور میں ہم اکثر اپنی پہچان کو ظاہری چیزوں سے جوڑ دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل شناخت اس
کے دل کی کیفیت اور اس کے کردار کی مٹھاس میں پوشیدہ ہوتی ہے ۔ جس طرح ایک خوشبودار پھول اپنی خوشبو سے پہچانا جاتا ہے ، اسی طرح
ایک اچھا انسان اپنے اخلاق، محبت اور خلوص سے جانا جاتا ہے ۔ یہی باطن کی وہ مُشک ہے جو نظر تو نہیں آتی مگر ہر دل کو اپنی طرف کھینچ لیتی
ہے ۔اس حقیقت کو ایک سادہ سی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے ۔ اگر ایک گلاس دودھ سے بھرا ہوا ہو تو آپ اس میں مزید دودھ شامل نہیں کر سکتے، لیکن اگر آپ اس میں شکر ڈالیں تو وہ خاموشی سے اپنی جگہ بنا لیتی ہے اور پورے دودھ کو میٹھا کر دیتی ہے ۔ شکر اپنی موجودگی کا شور نہیں
مچاتی، نہ ہی وہ جگہ کے لیے دھکم پیل کرتی ہے ، بلکہ خاموشی سے اپنا اثر دکھاتی ہے ۔ بالکل اسی طرح اچھے اور خالص دل والے لوگ بھی کسی
کے دل میں جگہ بنانے کے لیے شور نہیں کرتے ۔ وہ اپنے اخلاق، محبت اور مٹھاس کے ذریعے دلوں میں اتر جاتے ہیں اور اپنی موجودگی کا
احساس اس انداز میں دلاتے ہیں کہ لوگ انہیں کبھی بھلا نہیں پاتے ۔ ایسے لوگ اپنی باتوں سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے پہچانے جاتے
ہیں۔ وہ دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں، مشکل وقت میں سہارا بنتے ہیں، اور خوشی کے لمحات میں دوسروں کے ساتھ خوشیاں
بانٹتے ہیں۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ، باتوں میں نرمی، اور دل میں خلوص ہوتا ہے ۔ یہی وہ خوبیاں ہیں جو کسی بھی انسان کو دوسروں کے
دلوں میں زندہ رکھتی ہیں۔ وہ اپنی موجودگی سے زندگی کے ذائقے کو بہتر بنا دیتے ہیں، بالکل ایسے جیسے شکر دودھ کو میٹھا کر دیتی ہے ۔ ان کی
یادیں لوگوں کے دلوں میں خوشبو کی طرح بسی رہتی ہیں، جو وقت کے ساتھ ماند نہیں پڑتیں بلکہ مزید گہری ہوتی جاتی ہیں۔
انسانی زندگی میں خوشی کا بھی ایک اہم مقام ہے ۔ مگر یہ خوشی صرف ظاہری ہنسی یا وقتی مسرت کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک اندرونی کیفیت ہے
جو انسان کے باطن سے جنم لیتی ہے ۔ اگر دل مطمئن ہو، نیت صاف ہو، اور سوچ مثبت ہو تو خوشی خود بخود چہرے پر جھلکنے لگتی ہے ۔ اسی لیے کہا
جا سکتا ہے کہ خوشی دراصل باطن کی مُشک اور بہار کی علامت ہے ۔ یہ روح کی وہ مسکراہٹ ہے جو انسان کو اندر سے زندہ رکھتی ہے اور
دوسروں تک بھی اپنی روشنی پہنچاتی ہے ۔ اگر ہم انسانیت کی اصل خوراک کی بات کریں تو وہ نہ صرف روٹی اور پانی ہے بلکہ اس سے کہیں
زیادہ اہم وہ جذبات اور رویّے ہیں جو دلوں کو زندہ رکھتے ہیں۔ دو چمچ ہنسی، ایک چٹکی مسکراہٹ، محبت کا ایک قطرہ اور خلوص کی ہلکی سی خوشبو
یہی وہ عناصر ہیں جو انسانی رشتوں کو مضبوط بناتے ہیں اور زندگی کو خوبصورت بناتے ہیں۔ جب ہم کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہیں،
کسی کے دکھ کو کم کرتے ہیں، یا کسی کے دل کو خوش کرتے ہیں، تو دراصل ہم انسانیت کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں۔
بدقسمتی سے آج کے دور میں ہم ان سادہ مگر قیمتی چیزوں کو بھولتے جا رہے ہیں۔ ہم اپنی مصروفیات، مقابلہ بازی، اور خود غرضی میں اس
قدر کھو چکے ہیں کہ دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنا بھول گئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں اہمیت دیں، مگر ہم خود دوسروں کو وہ اہمیت
نہیں دیتے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں محبت ملے ، مگر ہم خود محبت دینے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ یہی رویّہ ہماری زندگیوں کو بے رنگ اور
بے ذائقہ بنا دیتا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سوچ اور رویّے کو بدلیں۔ ہمیں اپنی پہچان کو ظاہری چیزوں کے بجائے اپنے
کردار سے جوڑنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اصل کامیابی دوسروں کے دل جیتنے میں ہے ، نہ کہ صرف دنیاوی کامیابیوں کے حصول میں۔
جب ہم اپنے اندر محبت، خلوص اور نرمی پیدا کریں گے تو یہ خوبیاں خود بخود ہمارے اردگرد کے ماحول کو بھی متاثر کریں گی۔ لوگ ہمارے
قریب آنا چاہیں گے ، ہم سے بات کرنا پسند کریں گے ، اور ہماری موجودگی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیں گے ۔
اسلامی تعلیمات بھی ہمیں یہی درس دیتی ہیں کہ انسان کی اصل قدر اس کے تقویٰ، اخلاق اور نیکی میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی
شخص سب سے زیادہ پسندیدہ ہے جو دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو، جو سچ بولے ، جو دوسروں کی عزت کرے ، اور جو اپنے عمل سے
معاشرے میں خیر پھیلائے ۔ حضور اکرم ۖ کی سیرت ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے ، جنہوں نے ہمیشہ نرمی، محبت اور درگزر کو ترجیح دی۔
اگر ہم اپنی زندگیوں کو ان اصولوں کے مطابق ڈھال لیں تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ پورا معاشرہ امن، محبت
اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکتا ہے ۔اسی طرح اگر ہم غور کریں تو ہر انسان کے اندر ایک خوبصورت پہلو ضرور موجود ہوتا ہے ، لیکن مسئلہ یہ ہے
کہ ہم اکثر دوسروں کے منفی پہلوؤں کو زیادہ دیکھتے ہیں اور مثبت باتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اگر ہم اپنی سوچ کو مثبت بنا لیں اور دوسروں
میں اچھائی تلاش کرنا شروع کر دیں تو ہماری زندگی بھی آسان اور خوشگوار ہو جائے گی۔ اچھے الفاظ، اچھا گمان، اور اچھا رویّہ نہ صرف
دوسروں کو خوش کرتا ہے بلکہ خود ہمارے دل کو بھی سکون بخشتا ہے ۔ یہی وہ چھوٹے چھوٹے عمل ہیں جو بڑی تبدیلیوں کا سبب بنتے ہیں۔ ایک
اور اہم پہلو یہ ہے کہ خوشی اور مٹھاس صرف لینے کا نام نہیں بلکہ دینے کا بھی نام ہے ۔ جب ہم دوسروں کو خوشی دیتے ہیں تو دراصل ہم اپنی
خوشی میں اضافہ کرتے ہیں۔ ایک مسکراہٹ، ایک اچھا لفظ، یا ایک چھوٹی سی مدد کسی کے لیے بڑی خوشی کا سبب بن سکتی ہے ۔ یہ وہ سرمایہ ہے
جو خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے ۔ جو لوگ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے لیے بھی آسانیاں پیدا
کر دیتا ہے ۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ خوشی کی حقیقی شناخت ہمارے باطن سے جڑی ہوئی ہے ۔ اگر ہمارا دل صاف ہے ،نیت خالص ہے ، اور ہمارا
رویّہ مثبت ہے تو ہم نہ صرف خود خوش رہیں گے بلکہ دوسروں کے لیے بھی خوشی کا باعث بنیں گے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں مٹھاس،
محبت اور خلوص کو شامل کریں، کیونکہ یہی وہ عناصر ہیں جو انسان کو ایک خوبصورت اور یادگار شخصیت بناتے ہیں۔ جب ہم اپنے اندر اس
باطن کی خوشبو پیدا کر لیں گے تو ہماری پہچان خود بخود نکھر جائے گی، اور ہم ایک ایسی زندگی گزار سکیں گے جو نہ صرف ہمارے لیے بلکہ
دوسروں کے لیے بھی باعثِ رحمت اور خوشی ہوگی۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارت میں جعلی ڈگری کا دھندا وجود جمعرات 02 اپریل 2026
بھارت میں جعلی ڈگری کا دھندا

مرجھایا ہو ا دل معاشروں کو قبرستان بنا دیتا ہے! وجود جمعرات 02 اپریل 2026
مرجھایا ہو ا دل معاشروں کو قبرستان بنا دیتا ہے!

ڈالر کیوں بڑھ رہا ہے؟ وجود جمعرات 02 اپریل 2026
ڈالر کیوں بڑھ رہا ہے؟

خوشی کی حقیقی شناخت :باطن کی خوشبو اور کردار کی مٹھاس وجود جمعرات 02 اپریل 2026
خوشی کی حقیقی شناخت :باطن کی خوشبو اور کردار کی مٹھاس

تسبیح خواں وجود بدھ 01 اپریل 2026
تسبیح خواں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر