... loading ...
امریکہ سے
۔۔۔۔۔۔
جاوید محمود
اسرائیل کو نقل مکانی کی ایک اہم بے مثال لہر کا سامنا ہے، جنگی تھکاوٹ سیاسی انتشار اور معاشی تناؤ کی وجہ سے 2024سے لے کر اب تک 150,000اسرائیلی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور ہر آنے والا دن اسرائیلیوں کو ملک چھوڑنے پہ مجبور کر رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر مذاکرات کر رہا ہے لیکن تہران بارہا کہہ چکا ہے کہ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران بات چیت کا اعتراف کرنے سے خوفزدہ ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ انہیں اپنے ہی لوگ مار ڈالیں گے تو پھر کس پر یقین کیا جائے؟ کیا امن بس آنے ہی والا ہے یا دونوں فریق ایک مہنگی اور طویل جنگ کے لیے تیار ہو رہے ہیں، جس سے توانائی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی رہیں گی اور پوری دنیا کو گرمیوں تک متاثر کرے گی ۔اشارے یہ بتاتے ہیں کہ ہم اب ایک ایسی صورتحال میں داخل ہو رہے ہیں جو روس یوکرین جنگ کے خاتمے پر پیدا ہونے والے تعطل سے زیادہ مختلف نہیں ۔دونوں فریقین کہتے ہیں کہ وہ جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنی اپنی شرائط پر یہ صورتحال دونوں کے لیے قابل قبول شرائط سے بہت دور ہے، جب یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تو واشنگٹن اور یروشلم کو اس بات کی امید تھی کہ ایران کے مقابلے میں ان دونوں ممالک کی زبردست فوجی برتری اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا سبب بنے گی ۔اگر ایسا بھی ہوتا تو پہلے ہی شدید معاشی مشکلات کے شکار ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جاتا اور وہ امریکہ کی شرائط پر امن کی درخواست کرتا ،ایسا نہیں ہوا۔ لہذا امریکہ اور اسرائیل جو چاہتے ہیں ضروری نہیں کہ انہیں حاصل ہو کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایرانی حکومت اپنے قیام کے ساتھ خود کو مزید مضبوط کرتی چلی جا رہی ہے۔ اسرائیل کے چینل 12 نیٹ ورک کی جانب سے شائع امریکی 15 نکاتی منصوبے کی تفصیلات میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا خاتمہ یمن میں حوثیوں اور لبنان میں حزب اللہ جیسی پراکسی ملیشیاؤں کی حمایت کا خاتمہ شامل ہے۔ اس کے برعکس ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے جنگی ہرجانے کی ادائیگی، آبنائے ہرمزپر ایران کے مکمل اختیار کو تسلیم کرنے سمیت آئندہ ایران پر حملہ نہ کرنے کی ضمانت جیسی شرائط رکھی ہیں۔
ایران کا ماننا ہے کہ خطے کا سب سے بڑا ملک ہونے کے ناطے جس کی آبادی نو کروڑ سے زیادہ ہے اور خلیج میں سب سے طویل ساحلی پٹی رکھتا ہے، اسے نگہبان یا پولیس مین کے طور پر اپنا جائز کردار ادا کرنے دیا جانا چاہیے ،ایک ایسا کردار جو اسے شاہ کے دور حکومت میں حاصل تھا جو 1979کے اسلامی انقلاب کے ساتھ ختم ہو گیا ۔ایران چاہتا ہے کہ امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا جس کا صدر دفتر بحرین میں ہے وہ خطے سے نکل جائے تاکہ ایران اپنے اتحادیوں روس چین اور شمالی کوریا کی حمایت سے خلیج میں سب سے بڑی فوجی طاقت بن سکے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اسے امریکہ پر اعتماد کرنے میں شدید مسئلہ ہے کیونکہ دو مرتبہ پہلے 2025میں اور پھر دوسری مرتبہ رواں سال فروری میں وہ مذاکرات کے لیے رضامندی ظاہر کر چکا تھا مگر اس کے باوجود امریکہ دوسری مرتبہ نہ صرف مذاکرات سے پیچھے ہٹا بلکہ اس نے ایران کے خلاف طاقت کا استعمال کرتے ہوئے حملے شروع کر دیے، اب تک جو کچھ ہوا ہے اور جو ہو رہا ہے خلیجی عرب ممالک اس کی وجہ سے سخت پریشان ہیں۔ انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام سے کوئی خاص لگاؤ تو نہیں تھا لیکن اس تنازع سے پہلے وہ اس کے ساتھ ایک غیر یقینی مگر قابل عمل مفاہمت تک پہنچ چکے تھے ۔اب وہ خوفزدہ ہیں اور ایسے میں خطے کی صورتحال کو دیکھ رہے ہیں کہ جہاں امریکہ نے اس جنگ میں اپنی پوری کوشش کی لیکن ایرانی حکومت کو گرانے میں ناکام رہا ہے اور اس پر یہ کہ امریکہ نے ایران کو ایسے نقصانات پہنچائے ہیں کہ جس کے بعد وہ شدید غصے کی حالت میں ہے جس کے اثرات خلیج کے اس پار ایران کے ہمسایہ ممالک پر پڑ رہے ہیں، جنہیں ڈرونز اور میزائلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ واشنگٹن اور امریکی سینٹر کمانڈ کی مایوسی کے برعکس ایران اب ایک ماہ پہلے کے مقابلے میں اسٹریٹیجک طور پر کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے، کیونکہ اس نے اہم آبی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمزپر عملاً کنٹرول قائم کر رکھا ہے، اس سے تہران کو عالمی توانائی کی منڈی پر بے پناہ اثر رسوخ حاصل ہو گیا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ ان کے اختیارات کو محدود کر دے گا۔ مثال کے طور پر خلیجی ریاستیں چاہتی ہیں کہ حالات ایک ماہ پہلے جیسے ہو جائیں لیکن اب بہت کچھ بدل چکا ہے اور ایران اب پیچھے ہٹنے والا نہیں۔ ٹرمپ کے اختیا رات میں ممکن ہے اضافہ ہو جائے کیونکہ تقریباً 5000امریکی میرینز کی خطے میں آمد اس کے ساتھ امریکی 82 ایر بورڈویژن کے پیرا ٹروپرز بھی شامل ہیں لیکن اس سب میں خطرات بھی موجود ہیں ان افواج کو مختلف مقامات پر تعینات کیا جا سکتا ہے ۔ایران کے تیل کے برآمدی ٹرمینل خارگ جزیرہ سے لے کر صوبہ ہرمزگان میں ایران کے ساحل تک یا بحیرۂ احمر کے جنوبی مرکزی دروازے بابل المندب کے اہم آبی راستے تک یا پھر انہیں صرف تہران پر مزید سفارتی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن کسی بھی زمینی کارروائی میں امریکی جانی نقصان کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے تہران کو اندرونی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس سے امریکہ ایک ایسے تنازع میں مزید گہر ائی تک اُلجھ سکتا ہے، جسے بہت سے لوگ وار اف چوائس یا ایسی جنگ جس کا انتخاب کیا گیا ہو قرار دے رہے ہیں ۔اسلامی جمہوریہ ایران میں نظام کا مسلسل برقرار رہنا اس کے رہنماؤں اور اس کے مطالبات کو مزید حوصلہ دے رہا ہے، اسے یقین ہے کہ وقت اور جغرافیہ دونوں اس کے حق میں ہیں جتنا زیادہ وائٹ ہاؤس دنیا کو یہ بتاتا ہے کہ ایران کسی معاہدے کے لیے بے تاب ہے، اتنا ہی کم ایران اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں ایران امریکہ اور عرب ممالک کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کے کھڑا ہے اور ایران اس وقت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مثال ہے۔
٭٭٭