وجود

... loading ...

وجود

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن

بدھ 25 مارچ 2026 مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن

ریاض احمدچودھری

مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری میں بھارتی فورسز نے بڑے پیمانے پرتلاشی اور محاصرے کی کارروائی شروع کی ہے۔ بھارتی فوج نے سندر بنی اور ضلع کے دیگر علاقوں میں مبینہ طورپر نامعلوم افراد کی مشکوک نقل و حرکت کی اطلاعات پرمحاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی۔بھارتی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیاہے کہ انٹیلی جنس معلومات اور مسلسل نگرانی کی بنیاد پر لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ نتھوا ٹبہ، سندر بنی میں عسکریت پسندوں کی مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاع ملی تھی۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جموں وکشمیر کانگریس کے ارکان اسمبلی عرفان حفیظ لون اور افتخار احمد نے بھارتی ریاستوںمیں معصوم کشمیریوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور ہراسانی اورتشددکے واقعات کے خلاف کشمیر اسمبلی کے باہر احتجاج کیا۔ایم ایل اے عرفان لون اورافتخار احمد نے اسمبلی کے باہر ایک بینر اٹھاکر احتجاج ریکارڈ کرایا۔جبکہ جموں یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے طلبا نے نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کے مطالبے کے حق میں جموں میں ایک زبردت احتجاجی مظاہرہ کیا۔ طلبا نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے قابض حکام کے خلاف احتجاجی مارچ کیا اور توی پل کو بلاک کر دیا جس سے ٹریفک میں خلل پڑا۔مشتعل طلباء اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بی جے پی کی ہندوتواحکومت منظم طریقے سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں لوگوں کو وحشیانہ ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ 5اگست 2019کو دفعہ370 اور35A کی منسوخی کے بعد بی جے پی حکومت نے کشمیری عوام کی سیاسی آواز کو دبانے اور خاموش کرانے کے لیے غیر قانونی اور وحشیانہ اقدامات مزید تیز کر دئے ہیں۔
بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں، بھارت کے قومی تحقیقاتی ادارے نے پوری وادی کشمیر میں چھاپے مارنے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے جبکہ مقامی لوگ مسلسل ہراساں کرنے کی شکایات کررہے ہیں۔ این آئی اے کی ٹیموں نے معاون فوجی دستوں کے ساتھ مل کر سری نگر، کپواڑہ، بارہمولہ اور کولگام اضلاع میں کئی علاقوں کی تلاشی لی۔بھارتی حکام نے طویل کارروائیوں کے دوران دستاویزات اور الیکٹرانک آلات ضبط کر لیے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس طرح کے مسلسل چھاپے ایک معمول بن چکے ہیں جس کے تحت مختلف بہانوں سے شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان میں خوف کی فضا پیدا کی جاتی ہے۔بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج نے جموں خطے کے راجوری اور پونچھ اضلاع میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ بھارتی فوجیوں اور پیرا ملٹری اہلکاروں نے دونوں جڑواں اضلاع کے کئی علاقوں کے تمام داخلی اور خارجی راستے سیل کر کے تلاشی کے عمل میں تیزی لائی ہے۔ قابض بھارتی فورسز اہلکار گھروں میں داخل ہو کر خواتین، بچوں اور معمر افراد سمیت مکینوں کو سخت ہراساں جبکہ نوجوانوں کو فوجی کیمپوں اور تھانوںمیںپیش ہونے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ بھارتی فوج نوجوانوں پر اپنے لیے بطور مخبر کام کرنے کیلئے بھی دباؤ ڈال رہی ہے۔
بھارتی فوج کی شمالی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ ان چیف لیفٹیننٹ جنرل پراتیک شرما نے آپریشن کا جائزہ لینے کیلئے حال ہی میں پونچھ میں شاہستار اور راجوری سیکٹر میں ہنجنوالی کا دورہ بھی کیا۔ پونچھ اور راجوری میں بھارتی فوج کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے علاقے کے لوگوں کی مشکلا ت اور خوف ودہشت کے ماحول میں اضافہ کر دیاہے۔مقبوضہ کشمیر کے علاقے کلگام میں بھارتی فوج کا آپریشن بری طرح ناکام ہوگیا،کولگام آپریشن میں بھارتی افواج کو بری طرح ناکامی کا سامنا، 12 دنوں میں 9 بھارتی فوجی ہلاک، ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز ناکارہ، بھوکے پیاسے فوجی مٹی کھانے پر مجبور ہو گئے۔ کولگام میں ہونیوالا یہ آ پریشن بھارتی افواج اورکشمیری مزاحمت کاروں کے درمیان طویل ترین لڑا ئی ثابت ہوئی جس میں 12 دنوں میں 9 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز بھی ناکارہ ثا بت ہوئے، آپریشن میں کرنل سمیت بھارتی فوج کے 14 اہلکار شدید زخمی ہوئے۔کلگام میں 12 روزہ آپریشن کے بعد بھارتی فوج کو خالی ہاتھ پسپائی اختیار کرنا پڑی،ایک بھارتی فوجی نے اپنے آخری پیغام میں کہا 5 دن سے کھانے پینے کو کچھ نہیں، فوجی مٹی کھا کر زندہ ہیں،، ہلاک فوجی کے رشتہ دار نے انکشاف کیا گولہ باری میں گھری بھارتی فوج مدد سے محر و م، اب بچنے کی امید نہیں،ضروری راشن اور سازوسامان پہنچانے میں ناکامی کا سامنا ہے اور بھارتی فوجی قیادت بے بس ہو گئی، مقتول فوجی کے اہلخانہ کا کہنا ہے حکومت اور فوج صر ف دعوؤں کی حد تک بہادر ہیں۔مزاحمت کار آپریشن کے دوران محاصرہ توڑ کر جنگل کی جانب جانے میں کامیاب ہوگئے۔ دوسری جانب حریت کانفرنس کا کہنا ہے کلگام آپریشن بھارتی فوج کی سب سے بڑی حالیہ شرمناک ناکامی قراردیتے ہوئے کہا ہے مودی حکومت سیاسی ناکامی چھپانے کیلئے کٹھ پتلی فوجی آپریشن کروا رہی ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن وجود بدھ 25 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن

ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری وجود بدھ 25 مارچ 2026
ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری

کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے! وجود بدھ 25 مارچ 2026
کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے!

مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری وجود منگل 24 مارچ 2026
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم وجود منگل 24 مارچ 2026
یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر