وجود

... loading ...

وجود

کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے!

بدھ 25 مارچ 2026 کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے!

جاوید محمود
۔۔۔۔۔۔
امریکہ سے

ایف 35لڑاکا طیارہ امریکی دفاع کے لیے ایک فخر سمجھا جاتا ہے، جسے ایران نے گرا کر امریکہ سمیت عالمی برادری کو حیران کر دیا ہے۔ امریکہ کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کا بنایا ہوا یہ لڑاکا طیارہ جوائنٹ اسٹرائک فائٹر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، امریکی محکمہ دفاع کے اندازے کے مطابق ایک ایف 35طیارے کی قیمت کم از کم 77 ملین ڈالر ہے۔ ایف 35لڑاکا جیٹ ففتھ جنریشن لڑاکا جیٹ ہے ،اور اسے اپنی سپر
سونک رفتار کے لیے جانا جاتا ہے، اس لیے دور فاصلے سے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت اس سے میدان میں جنگ میں جدید طیاروں میں سرفہرست بناتی ہے جبکہ امریکن سینٹر کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران نے ایندھن بردار جہاز کو گرا کر امریکہ کو ایک اور سرپرائز دیا ہے۔ اب تک ایران نے امریکہ کے 13طیاروں کو گرا کر تباہ کیا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے حملوں کے بعد ایران نے مشرقی وسطیٰ پر خودکش ڈرونز کے ذریعے 2000سے زائد جوابی حملے کیے ہیں۔ نسبتاً سستے ایرانی ڈرونز کو تباہ کرنے کے لیے اب تک 800سے زیادہ دفاعی میزائل داغ جا چکے ہیں، جن میں سے ہر میزائل کی لاگت 40 لاکھ ڈالرز تک ہے۔ خلیجی خطے کے دفاع کے لیے امریکہ کا سب سے عام دفاعی نظام پیٹریاٹ ہی ہے جسے اتحادی ایرانی ڈرونز کو روکنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ جنگ امریکہ اور اس کے خلیجی اتحادیوں کے لیے بہت مشکل رہی ہے۔ ایک جانب ایرانی ڈرونز سے دفاع کے لیے نظام ناکافی ہے اور دوسری جانب مزید میزائل تیار کرنے میں وقت لگے گا ،جب ایران نے 202 میں سینکڑوں ڈرونز کے ساتھ اسرائیل پر حملہ کیا بتایا جاتا ہے کہ اس وقت برطانیہ نے ان میں سے کچھ کو گرانے کے لیے لڑاکا طیاروں کے ذریعے میزائل داغے ،ہرمیزائل کی قیمت تقریبا دو لاکھ پاؤنڈز بتائی جاتی ہے۔ ایران کے بلسٹک میزائلوں اور شاہد ڈرونز کو روکنے کا واحد ذریعہ یہی مہنگے دفاعی میزائل ہیں۔ ایران کے شاہد 136 ڈرون کی لاگت کا تخمینہ 20ہزار سے 50ہزار ڈالرز کے درمیان لگایا گیا ہے۔ اب امریکہ کوشش کر رہا ہے کہ ایرانی ڈرونز کو غیر موثر بنانے کے لیے کوئی سستا طریقہ تلاش کیا جائے، اس کے لیے امریکہ نے یوکرین کی تجربے سے استفادہ کرنے کا سوچا ہے۔ ایران حالیہ برسوں میں روس کوڈرونز برآمد کرتا رہا ہے لیکن اب روس خود ایرانی ٹیکنالوجی استعمال کر کے ملک میں کم قیمت اور زیادہ موثر ڈرونز بنا رہا ہے۔ روس نے ان ڈرونز کو زیادہ تعداد میں استعمال کیا ہے اور یوکرین کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں ایک نیا ڈرون لوکس بھی لانچ کیا ہے۔ ایک ڈرون کی قیمت کم از کم 35 ہزار ڈالر ہو سکتی ہے۔ مشرقی وسطیٰ میں امریکی افواج کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کہتے ہیں امریکہ نے ایرانی ڈیزائن کی نقل تیار کی اسے بہتر بنایا اور اب اسے ایران کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ ایرانی خودکش ڈرون دھماکہ خیز مواد لے کر چلتے ہیں، ہدف پر لگنے کے بعد پھٹتے ہیں اور خاصا نقصان پہنچاتے ہیں ۔
ایک ایرانی ڈرون کویت میں ایک فوجی اڈے کے اندر جا کر پھٹ گیا جس سے چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے ان میں سے کچھ حملے شہروں میں بھی ہوئے ہیں جنہوں نے خلیج فارس کے ممالک میں خوف پھیلایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ایران کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہے جس کا مقصد خوف پیدا کرنا اور امریکہ پر جلد جلد جنگ سے دستبردار ہونے کا دباؤ ڈالنا ہے۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ایرانی ڈرون تیز رفتاری سے نیچے آتا ہے اور منامہ بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے صدر دفترمیں نصب ایک ریڈار سے ٹکراتا ہے جس کے نتیجے میں ملبہ فضا میں بکھر جاتا ہے اور ڈھانچہ نیچے گر جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ڈرون دبئی کے علاقے پام جمیرہ میں ہوٹل سے ٹکراتا ہے جس کے نتیجے میں آگ کا ایک بڑا گولا بنتا ہے اور دھماکے کی زوردار آواز آتی ہے۔ خطے میں موجودہ توانائی کے شعبے پر ان ڈرونز کے حملے خاص طور پر موثر رہے ہیں۔ خلیجی ساحل پر واقع سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری راس تنورہ نے اس وقت پیداوار روک دی جب ایک ڈرون کو روکے جانے کی کوشش کے دوران ملبہ گرنے سے وہاں آگ بھڑک اٹھی۔ قطر میں بھی دنیا کی سب سے بڑی مایا قدرتی گیس ایل این جی برامد کرنے والی تنصیب بند کر دی گئی، جب اس مقام کو ایرانی ڈرونز نے نشانہ بنایا۔ ان ڈرونز کی زیادہ سے رینج تقریبا 2500کلومیٹر ہے اور یہ تہران سے یونانی دارالحکومت ایتھنزتک پرواز کر سکتے ہیں۔ تجارتی ڈرونز کے برعکس شاہد ڈرون کو پرواز کے دوران کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بجائے اسے لانچ کرنے سے پہلے پروگرام کیا جاتا ہے تاکہ وہ سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم کی مدد سے ہدف تک طے شدہ راستے پرواز کرے اگرچہ یہ ڈرونز بلسٹک میزائلوں کے مقابلے میں بہت کم رفتار سے سفر کرتے ہیں لیکن ان کا ڈیزائن اور کم بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت انہیں ریڈار اور دفاعی نظاموں کی پکڑ میں آنے سے بچاتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایران نے جنگ شروع ہونے سے پہلے لاکھوں کی تعداد میں شاہد ڈرونز تیار کیے تھے تاہم یہ واضح نہیں کہ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد ان میں سے کتنے صحیح سلامت موجود ہیں۔ ایرانی پاسدارن انقلاب سے وابستہ فارس نیوز نے ایک تصویر شائع کی جس میں قطار درقطارڈرونز ایک ایسی جگہ موجود ہیں جو زیر زمین سرنگ دکھاتی دیتی ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ ویڈیو کس وقت ریکارڈ کی گئی ۔خیال رہے کہ ایران نے زیر زمین عسکری تنصیبات بنائی ہیں جن میں میزائل اور ڈرون اسٹوریج کی صلاحیت موجود ہے۔ ایرانی امور کے ماہر نکولس کارڈ کے مطابق ڈرونز اور میزائلوں کے استعمال کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے دفاعی نظاموں کا ذخیرہ استعمال کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا ایک اور مقصد بھی ہے خوف اور نفسیاتی دباؤ پیدا کرنا تاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو جنگ بند کرنے کے لیے آمادہ کیا جا سکے۔ خیال رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28فروری کو ایران کے خلاف شروع کی گئی کارروائی کے بعد سے لے کر اب تک 13امریکی طیاروں کی تباہی کی تصدیق ہو چکی ہے ۔مختلف کارروائیوں میں اسرائیل کی جانب سے ایرانی فضائیہ اور اس کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی کہ اب تک ایرانی فضائیہ کے کتنے طیارے تباہ ہوئے ہیں ۔یہ ایک بہت بڑا لاجسٹک آپریشن ہوتا ہے جس میں ایک ہی وقت میں بہت سے طیارے فضا میں موجود ہوتے ہیں ۔فضا میں ایندھن بھرنے کے عمل میں لڑاکا طیارے کو ٹینکر طیارے کے بہت قریب آنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ٹینکر سے فیول پائپ نکال کر نیچے کی طرف لایا جاتا ہے۔ انجن لینے والا ہوائی جہاز اس پائپ کے قریب آتا ہے اور ٹینکر کے نیچے نصب لائٹ سسٹم کی مدد سے اپنی پوزیشن درست کرتا ہے ،تاکہ پائپ کو جہاز سے جوڑا جا سکے۔ پائپ جوڑنے کے بعد ایندھن کی منتقلی شروع ہو جاتی ہے اور یہ عمل کئی منٹ تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس دوران طیارہ ٹینکر سے صرف چند فٹ کے فاصلے پرپرواز کرتا ہے اور اکثر یہ کام رات کو کیا جاتا ہے ۔پائلٹ کو اس وقت کے دوران پائپ یا بعض اوقات شٹل کارڈ کی شکل والے ڈراپ سے رابطہ برقرار رکھنے کے لیے کافی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طور پر جب قریب میں بہت سے دوسرے طیارے لڑ رہے ہیں، کئی بار دشمن سے بچنے کے لیے طیاروں کی لائٹس بھی مکمل طور پر بند رکھی جاتی ہے۔ ایران کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 18فروری سے ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں میں کم از کم ایک 1,444افراد ہلاک اور 18,551زخمی ہو چکے ہیں جب کہ امریکی فوج نے پورے خطے میں ایرانی حملوں میں 13 ہلاکتوں 200زخمیوں کی تصدیق کی ہے، جبکہ ایرانی حملوں میں اسرائیل میں کم از کم 18افراد ہلاک اور 3730سے زائد زخمی ہوئے ہیں ۔ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ جنگ کے پہلے 12دنوں میں امریکی اخراجات 5 16.بلین ڈالرز ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اس جنگ میں ہر روز ایک بلین ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ ایران یہ جنگ بہت حکمت کے ساتھ لڑ رہا ہے جس کی وجہ سے عالمی معیشت وقت سے پہلے ہچکولے کھانے لگی ہے ۔حالانکہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ چھ ماہ کی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے جبکہ دوسری طرف امریکہ سمیت عرب ممالک اس جنگ کو جلد سے جلد ختم کرنے کے حق میں ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط ماننے پر رضامند ہو جائیں گے؟
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن وجود بدھ 25 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن

ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری وجود بدھ 25 مارچ 2026
ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری

کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے! وجود بدھ 25 مارچ 2026
کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے!

مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری وجود منگل 24 مارچ 2026
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم وجود منگل 24 مارچ 2026
یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر