وجود

... loading ...

وجود

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

منگل 24 مارچ 2026 یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

ریاض احمدچودھری

23 مارچ یوم پاکستان کے موقع پرمقبوضہ کشمیر میں سبز ہلالی پرچم لہرائے گئے۔ سرینگر، کولگام، شوپیاں اور دیگر علاقوں میں مسلسل تین روز تک پاکستانی پرچم لہرائے اور پوسٹر چسپاں کئے گئے جن میں یوم پاکستان کے سلسلے میں پاکستانی عوام اور حکومت کو مبارکباد دی گئی۔ پوسٹروں میں قائداعظم محمد علی جناح،علامہ اقبال ،فیلڈ مارشل اور قائد حریت سید علی گیلانی شہید سمیت حریت رہنماؤں کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔
وادی میں کشمیریوں کے یوم پاکستان منانے پر کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لے لیاگیا جس پر کشمیریوں نے پابندیوںکے باوجود احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین پر بھارتی فوج کی پیلٹ گن فائرنگ سے کئی افراد زخمی ہوگئے۔ ضلع شوپیاں اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ہڑتال سے روزمرہ زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ چھترا گام گائوں میں قابض فوج نے ایک اور فوجی آپریشن شروع کردیا ہے۔ مظاہرین نے شدید پتھرائو کیا جس کے جواب میں انہیں منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے پھینکے گئے۔ جب مظاہرین منتشر نہیں ہوئے تو فورسز نے پیلٹ استعمال کئے۔ جھڑپوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ 3 نوجوان بری طرح پیلٹ لگنے سے زخمی ہوئے جنہیں سرینگر منتقل کردیا گیا۔ یاور یوسف کی بائیں آنکھ میں پیلٹ لگے ہیں۔
ظالم اور سفاک مودی حکومت مقبوضہ کشمیر میں بربریت اور جلادیت کی ساری حدیں پار کررہی ہے۔ لیکن مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی جدوجہد کی شاندار کامیابی اور بھارتی فوج کی درگت بننے سے مودی سرکار پر لرزہ طاری ہو گیا۔ کشمیر میں پاکستان کے حق میں لگنے والے نعروں نے ان کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ آزادی کے متوالے جب پاکستانی سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیںتو نئی دہلی کے ایوانوں میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ اب آزادی کے پروانوں سے اس قدر خوف زدہ ہوگئی ہے کہ پوری وادی میں سبز کپڑے کی فروخت پر بندش لگا دی ہے۔
ہندوستان کا بندوق کی نوک پر پوری وادی میں وہ شیطانی کھیل جاری ہے جو کشمیری مسلمانوں کے آزادی کے جوش و جذبے کو کم کرنے کے بجائے اور تیز کرتا جارہا ہے۔ بھارتی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ وادی میں انٹرنیٹ اور سیل فون پر تو پہلے ہی پابندی لگا چکی ہے۔اب بھارتی حکومت نے پوری وادی میں گہرے سبز رنگ کے کپڑے کی فروخت پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔ کپڑے کے تاجروں کو کہہ دیا کہ اگر کسی نے خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ مقبوضہ جموں کشمیر کے طول عرض میں آج بھی کشمیری نوجوان اپنے سروں اور چہروں پر سبز ہلالی پرچم باندھ کر نکلتے ہیں۔ آج بھی جب کسی کشمیری جوان کا جنازہ اٹھتا ہے تو اسے سبز ہلالی پرچم میں لپیٹا گیا ہوتا ہے۔ بھارتی مظالم کے خلاف ہونے والے جلسے جلوسوں میں سبز پرچموں کی بہار دیکھی جا سکتی ہے۔
سبز رنگ سے کشمیری مسلمانوں کی جذباتی وابستگی پاکستانی پرچم کی وجہ سے بھی ہے اور عمومی رائے میں بھی دنیا بھر کے مسلمان سبز رنگ سے روحانی و مذہبی لگاؤ رکھتے ہیں۔مختلف ایام کے موقع پر وادی بھر میں سب ہلالی پرچم لہرانا گزشتہ کچھ عرصہ سے روایت بن چکی ہے۔ جواں سال شہید کشمیری کمانڈر اور حزب المجاہدین کے رہنما برہان مظفر وانی اور ان کے ہم عمر مزاحمت کاروں نے تحریک آزادی کشمیر کو نیا رخ دیا ہے جس کے بعد مودی سرکار کی بوکھلاہٹ عروج پر ہے۔حال ہی میں شہید ہونے والے ایک کشمیری نوجوان کے جلوس جنازہ کے مناظر انٹرنیٹ پر وائرل ہوئے ۔ اس ویڈیو میں شہید نوجوان کی والدہ اور ہمشیرہ جنازہ کے قریب کھڑے ہو کر لاالہ الااللہ اور شہادت پر شکر پر مبنی نعرے لگوا رہی ہیں۔سینئر حریت رہنماؤںکا کہنا ہے کہ کشمیری عوام ریلیوں میں پاکستان کا پرچم لہراتے رہیں گے۔ پاکستان ہمارا پڑوسی اور کشمیریوں کا خیر خواہ ہے۔ کشمیریوں کا کہنا ہے کہ وادی میں پاکستان کا جھنڈا پہلی مرتبہ نہیں لہرایا گیا اور پاکستانی پرچم لہرانا کوئی جرم نہیں۔بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ کشمیر ”پاکستان بھارت تنازع” نہیں بلکہ سہ فریقی مسئلہ ہے۔ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی سرحدی تنازع نہیں بلکہ سْلگتا ہوا انسانی مسئلہ ہے اور کشمیری حق خود ارادیت حاصل کرکے رہیں گے۔مقبوضہ کشمیر میں تمام تر بھارتی مظالم اور فوجی کارروائیوں کے باوجود تحریک آزادی کا زور کم ہوتا نظر نہیں آتا۔
جموںوکشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قراردینے والے بھارت کی معروف یونیورسٹی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ادارے میں ایک تقریب سے پہلے لگائے گئے بینرز میں جموں وکشمیر کے بغیر بھارت کانقشہ دکھایا ہے۔ نقشے کو تقسیم برصغیر کے خلاف ایک ڈرامے سے پہلے دکھا یاگیاجس کو یونیورسٹی میں دکھاناتھا۔تاہم ہندو انتہا پسندوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو تقریب منسوخ کرنے پر مجبورکیا۔یونیورسٹی نے اگرچہ تقریب منسوخ کردی پھر بھی اس نے جموںوکشمیر کی متنازعہ حیثیت سے انکار نہیںکیا جیسا کہ یونیورسٹی کے اندر اور باہر لگائے گئے بینرز میں دکھایا گیا۔ یہ پوسٹرز ایک ڈرامہ سوسائٹی نے بنائے ہیں۔کشمیر میں بے گناہ لوگوں کو اب بھی بلاوجہ گرفتار کیا جارہا ہے۔ حراستی اموات، گرفتار کے بعد لاپتہ کردینے، شہریوں کے مکانات نذر آتش کردینے اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے کے واقعات برابر جاری ہیں۔ ماضی میں پاکستان اور بھارت میں جتنے بھی مذاکرات ہوئے وہ اس وجہ سے ناکام ہوگئے کہ ان میں تنازعہ کے اصل فریق کشمیریوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ ہم بارہا اپنے طور سے عندیہ دے چکے ہیں کہ اگر پاکستان، بھارت اور کشمیری قیادت تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے کسی متفقہ فیصلہ پر پہنچتی ہے تو یہ تینوں فریقوں کو لازمی طور پر قبول کرنا ہوگا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری وجود منگل 24 مارچ 2026
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم وجود منگل 24 مارچ 2026
یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

زوال پزیری۔۔۔ جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے! وجود منگل 24 مارچ 2026
زوال پزیری۔۔۔ جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے!

لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال وجود پیر 23 مارچ 2026
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

آئی ہے عید ہر سال کی طرح وجود پیر 23 مارچ 2026
آئی ہے عید ہر سال کی طرح

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر