... loading ...
جاوید محمود
۔۔۔۔۔۔
امریکہ سے
امریکی صدر ٹرمپ کا خیال تھا کہ وہ ایران پر حملہ کر کے حکومت بدل دیں گے اور شاہ کے بیٹے کی سربراہی میں نئی حکومت تشکیل دیں گے۔ لیکن ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملے کے جواب میں جو رد عمل دیا اس نے پوری دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ہے اور اب ایسا لگ رہا ہے کہ اس جنگ کوایران لیڈ کر رہا ہے۔ کلسٹر بموں والے ایرانی میزائلوں سے اسرائیلی پریشان ہیں جو تل ابیب اور اسرائیل کے مختلف شہروں میں تباہی مچا رہے ہیں ۔عین ممکن ہے کہ امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کوا بھرتے ہوئے نئے عالمی نظام کے تحت لڑی جانے والی ابتدائی بڑی جنگوں میں شمار کیا جائے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد کے بیشتر عرصے میں جنگ اور سفارت کاری با ضابطہ طور پر ایک ایسے ڈھانچے کے اندر آپریٹ کرتی رہیں جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ جیسے اداروں کے زیر اثر تشکیل پایا تھا، حتی کہ جب جنگ کے دوران بھی ان عالمی اصولوں کو توڑا گیا یا اپنے مقاصد کے لیے انہیں استعمال کیا گیا تب بھی حکومتیں عموماً اپنی کارروائیوں کو اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے جواز دینے کی کوشش کرتی تھی مگر ایران جنگ میں یعنی تمام عوامل محدود کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔بین الاقوامی فریم ورک سے ہم آہنگ نظر آنے کے بجائے حالیہ ا سٹیریٹجک فیصلے فوجی سیاسی یا سیکورٹی کیلکولیشنز سے متاثر نظر آتے ہیں۔ ایران کے لیے ایسے حالات میں کام کرنا بالکل نیا نہیں ہے۔ کئی دہائیوں سے یہ ملک وسیع بین الاقوامی پابندیوں اور سیاسی تنہائی میں زندگی گزار رہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس نے ایسے نیٹ ورک اور معاشی طریقہ کار تیار کیے ہیں جو بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کو بائی پاس کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں ۔دنیا کی جانب سے کسی ایک ملک پر عائد اتنی وسیع پابندیوں کا شکار ہونے کے باوجود ایران نے اپنا تیل برآمد کرنا اور خطے میں اپنا اثرسوخ برقرار رکھنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے ۔ماضی کی کشیدگیوں میں ایران کا بڑا مقصد اکثر یہ رہا ہے کہ مخالفین پر معاشی یا سیاسی دباؤ بڑھایا جائے اور اس حد تک بڑھایا جائے کہ وہ بیرونی قوتیں کشیدگی کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں ۔
دوسری جانب اسرائیل بھی ایسے ماحول میں کام کرنے کا عادی ہے جہاں بین الاقوامی معاہدے اس کے لیے فوری آپریشنل حد میں تبدیل نہیں ہوتے ۔اسرائیلی فوجی نظریہ طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ جب اسرائیلی قیادت کو کسی جانب سے سنگین خطرہ محسوس ہو تو برق رفتار اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ پیشگی حملے اور زبردست طاقت کا استعمال اس حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اسی دورانیہ میں اسرائیل مسلسل یہ حساب لگاتا رہا ہے کہ اس کی سلامتی کی ترجیحات اس کی جانب سے کی گئی کسی بھی فوجی کارروائی کو جواز بخشتی ہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسے امریکہ کی مضبوط اسٹریٹجک حمایت حاصل ہے، امریکہ اس نظام کے اندر ایک مختلف حیثیت رکھتا ہے۔ واشنگٹن 1945کے بعد سامنے آنے والے عالمی نظام کا محض حصہ نہیں ہے ،بلکہ اس نے اسے ڈیزائن کرنے اور قائم رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سامنے آنے والے عسکری اتحادوں ،عالمی اداروں اور قانونی اصولوں کے نیٹ ورکس نے اکثر عالمی سطح پر امریکی اثر رسوخ کو فروغ دینے کا کام کیا ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں امریکہ جس موقع پر اس نظام کو کھلے عام نظر انداز کرنے کے قریب آیا وہ 2003 میں عراق پر امریکی حملہ تھا ۔اس وقت بھی واشنگٹن نے عراق میں فوجی مداخلت کو ایسے وسیع تر اتحاد کی کوشش کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تھی ۔اس ضمن میں بنائے گئے نام نہاد اتحاد میں برطانیہ آسٹریلیا اور پولینڈ جیسے امریکی اتحادی شامل تھے۔ ساتھ ہی درجنوں دیگر حکومتیں مختلف سطحوں پر اس معاملے میں امریکہ کو حمایت فراہم کر رہی تھیں ۔اگرچہ جنگ کے قانونی جواز پر شدید اختلاف رہا مگر پھر بھی امریکہ نے اس کارروائی کو کثیرالجہتی تناظر میں رکھنے کی کوشش کی تاہم موجودہ ایران اسرائیل اور امریکہ تصادم میں بین الاقوامی قانونی جواز پر زور تمام فریقوں کی جانب سے کم مرکزی دکھائی دیتا ہے اور اعلیٰ حکام کے بیانات میں ایک مختلف لہجہ اپنایا گیا ہے۔ مثال کے طور14 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حملوں کے ایک نئے سلسلے کے تحت ایران کے خارگ جزیرے کے بڑے حصے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے ۔ٹرمپ نے این بی سی نیوز کو مزید بتایا کہ ہم محض تفریح کے لیے اسے جزیرہ خارگ کو مزید کئی مرتبہ نشانہ بنائیںگے اس نوعیت کے بیانات ایسے سفارتی انداز کو ظاہر نہیں کرتے ہیں جو روایتی طور پر بڑی امریکی فوجی کارروائیوں کے موقع پر نظر آتا تھا۔ اس نئے انداز اور ڈھنگ میں معاشی ذرائع کو بھی زیادہ جارحانہ طور پر اپنی پالیسیوں کے فروغ کے لیے استعمال کیا گیا ہے ۔محصولات یعنی ٹیرف تجارتی پابندیاں اور مالی اقدامات نہ صرف مخالفین بلکہ دیرینہ شراکت داروں پر بھی لاگو کیے گئے ہیں، واشنگٹن کی جانب سے یورپی حکومتوں بشمول برطانیہ اور نیٹو اتحادی ممالک کو دفاعی اخراجات، مائیگریشن کی پالیسی ،تجارتی طریقوں اور روس کے ساتھ تعلقات جیسے مسائل پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایسی پالیسیاں قلیل مدت میں موثر دکھائی دے سکتی ہیں تاہم ان پالیسیوں کے طویل مدتی اثرات کم واضح ہیں۔ اگر اصولوں پر مبنی نظام کے بنیادی معمار ہی ان اصولوں پر کم زور دینا شروع کر دیں تو دیگر حکومتی بھی خود کو ان اصولوں کا کم پابند محسوس کر سکتی ہیں۔
ماضی میں ہونے والے تصادم میں ایران کے رویے نے یہ ظاہر کیا ہے کہ کیسے ان کی قیادت نے ان ہی حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کیا ۔ماضی کے بحرانوں کے دوران بشمول 2025میں ایران اسرائیل کی 12 روزہ جنگ کے دوران تہران نے فوجی رد عمل دیتے ہوئے بھی بڑی حد تک اپنی اسٹریٹیجک ریڈ لائنز کا خیال رکھا ۔اگرچہ یہ 12روزہ تنازع بین الاقوامی قانونی ڈھانچے سے انحراف پر مبنی تھا مگر ایران کی جانب سے جوابی اقدام بھی ناپ تول کر اٹھایا گیا، جب گزشتہ تنازع میں ایران نے قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے الحدید ایئر بیس پر میزائل داغے تھے تو حملے سے قبل غیر رسمی انتبابات قطر اور امریکی حکام کو دیے گئے تھے ،اس طرح کے اشارے اس سے پہلے عراق میں امریکی اہداف پر ایرانی حملوں کے دوران بھی دیکھے گئے تھے۔ خاطر خواہ نقصان اٹھانے کے باوجود تہران کا جوابی اقدام اس طرح ترتیب دیا گیا تھا کہ کشیدگی وسیع پیمانے پر نہ بڑھے اور علاقائی جنگ کی صورت اختیار نہ کرے تاہم موجودہ جنگ میں یہ صورتحال کمزور دکھائی دیتی ہیں امریکہ اسرائیل کے ابتدائی حملے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کی ہلاکت کے بعد ایران نے پورے جزیرہ نما عرب میں امریکی تنصیبات پر حملے کیے جن میں فوجی اڈے اور شہری اہداف و ڈھانچے دونوں شامل تھے۔ اسی دوران ایران نے دنیا کے سب سے اہم بحری راستے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو دونوں طرف سے متاثر کیا ہے اور اس نوعیت کے ایرانی اقدامات کے نتائج فوری سامنے آئے، تیل و گیس کی عالمی منڈیوں نے شدید رد عمل ظاہر کیا اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹ میں تیل ، گیس کی عالمی سپلائی چین کو دباؤ کا شکار کیا۔ بین الاقوامی کاروبار اور حکومتوں کے لیے یہ واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ کس طرح ایک علاقائی تنازع تیزی سے عالمی سطح پر معیشت کو جھٹکے پہنچا سکتا ہے۔ دیگر بڑی طاقتیں ان واقعات سے اپنے نتائج اخذ کر رہی ہیں۔ روس کو عالمی سطح پرتیل و گیس کی بلند قیمتوں سے فائدہ ہو سکتا ہے جبکہ امریکہ کی جانب سے ماسکو پر پابندیوں کا دباؤ بھی کم ہوا ہے۔ اس کے برعکس یورپی یونین نے اس کی مخالفت کی ہے۔ دوسری جانب چین غالبا ًقریب سے دیکھ رہا ہے کہ اس حالیہ تنازع کے نتیجے میں بین الاقوامی اصول کس حد تک بدل سکتے ہیں اور کس سمت میں جا سکتے ہیں۔ حالیہ ایران تنازع کے پس منظر میں حالات جو رخ اختیار کرتے نظر آرہے ہیں، اس پر یورپ محدود اثر رکھتا دکھائی دیتا ہے۔ سفارتی کوششوں کے باوجود یورپی یونین اور برطانیہ زیادہ تر خود کو حالات کو دیکھنے والے کے طور پر پاتے ہیں ،نہ کہ انہیں تشکیل دینے والے کے طور پر۔ مشرقی وسطیٰ میں اس جنگ سے پیدا ہونے والا سوال وسیع تر ہے، یہ سوال اس بین الاقوامی نظام کی پائیداری سے متعلق ہے جس نے 1945سے عالمی تعلقات اور سیاست کو تشکیل دیا ۔اگرچہ یہ نظام کبھی بھی عالمگیر سطح پر قبول نہیں کیا گیا اور اکثر اس پر اعتراض کیا گیا پھر بھی اس نے ایک ایسا ڈھانچہ فراہم کیا جس کے اندر رہتے ہوئے طاقت استعمال کی جاتی رہی ہے اور اگر یہ ڈھانچہ مزید کمزور ہوتا رہا تو نتیجہ ایک ایسا بین الاقوامی ماحول ہو سکتا ہے جہاں ریاستی رد عمل دکھانے میں مشترک عالمی اصولوں پر کم اور اپنی صلاحیت پر زیادہ انحصار کریں ۔ایسے منظر نامے میں وہ ممالک بھی جو ابتدا میں اس نظام کے معمار تھے ،اس کی زوال پزیری کے ایسے نتائج کا سامنا کر سکتے ہیں جن کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔