وجود

... loading ...

وجود

لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

پیر 23 مارچ 2026 لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

چوپال /عظمیٰ نقوی

عید الفطر اور عید الاضحیٰ ہماری تہذیب و ثقافت کا وہ حسین امتزاج ہیں جن میں خوشیوں، محبتوں اور تعلقات کی مٹھاس گھلی ہوتی ہے، مگر بدلتے وقت کے ساتھ جہاں بہت سی روایات دم توڑ رہی ہیں وہیں ایک خوبصورت روایت جس کا تعلق دلوں کو جوڑنے سے تھا، وہ عید کارڈ بھی اب آہستہ آہستہ ماضی کا قصہ بنتا جا رہا ہے اور لیٹر بکس جو کبھی عید کارڈز سے بھرے ہوتے تھے، اب خاموشی کا منظر پیش کرتے ہیں۔
کبھی زمانہ تھا کہ عید سے کئی دن پہلے ہی ڈاکیے کی آمد کا انتظار کیا جاتا تھا اور لیٹر بکس کھلتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی کہ شاید کسی اپنے کا محبت بھرا عید کارڈ آیا ہو، جس پر نہ صرف خوبصورت الفاظ لکھے ہوتے بلکہ خوشبو، محبت اور خلوص کی ایک انمول جھلک بھی ہوتی تھی، لوگ اپنے پیاروں کے لیے دل سے منتخب کیے گئے عید کارڈ خریدتے، ان پر اپنے ہاتھ سے پیغام لکھتے اور ڈاک کے ذریعے دور دراز تک اپنے جذبات پہنچاتے تھے، یہ صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوتا تھا بلکہ اس میں محبت، اپنائیت اور احساس کی پوری کہانی سمائی ہوتی تھی، مگر آج کل کے جدید دور میں جہاں موبائل فون، سوشل میڈیا، واٹس ایپ اور ای میل نے زندگی کو تیز رفتار بنا دیا ہے وہیں ان سہولتوں نے روایتی طریقۂ اظہار کو بھی کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے، اب لوگ ایک کلک سے میسج بھیج دیتے ہیں، نہ لفافہ چاہیے نہ ڈاک ٹکٹ، نہ انتظار کی کوئی کیفیت باقی رہتی ہے اور نہ وہ خوشی جو لیٹر بکس سے خط یا کارڈ نکلنے پر محسوس ہوتی تھی، عید کارڈ کی جگہ اب “ایموجیز” اور مختصر پیغامات نے لے لی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان ڈیجیٹل پیغامات میں وہ گرمی، وہ خلوص اور وہ اپنائیت باقی ہے جو ایک ہاتھ سے لکھے گئے عید کارڈ میں ہوتی تھی؟ یقینا نہیں، کیونکہ ٹیکنالوجی نے سہولت تو دی ہے مگر جذبات کی گہرائی کو کہیں نہ کہیں کمزور کر دیا ہے، لیٹر بکس کا وہ دور جب ڈاکیا عید کارڈز سے بھرا بیگ اٹھائے محلے میں داخل ہوتا تھا اور بچے خوشی سے دوڑتے ہوئے اپنے کارڈ وصول کرتے تھے، آج محض ایک یاد بن چکا ہے، اب نہ وہ انتظار ہے، نہ وہ جوش، نہ وہ حیرت اور نہ وہ خوشی جو ایک وقت میں عید کا لازمی حصہ ہوا کرتی تھی، افسوس کہ نئی نسل نے عید کارڈ کی روایت کو نہ صرف اپنایا نہیں بلکہ شاید اس کا نام بھی بھول رہی ہے، اگر کبھی کسی گھر میں کوئی کارڈ آ بھی جائے تو اسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے جیسے کوئی نایاب چیز ہاتھ لگ گئی ہو، ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم صرف سہولتوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے اپنی خوبصورت روایات کو کھو رہے ہیں؟
عید کارڈ صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک ایسا ذریعہ تھا جس کے ذریعے ہم اپنے رشتوں کو مضبوط کرتے تھے، بزرگوں کے لیے عزت اور چھوٹوں کے لیے محبت کا اظہار ہوتا تھا، یہ وہ ذریعہ تھا جو دلوں کو قریب لاتا تھا اور فاصلے کم کرتا تھا، اگرچہ ٹیکنالوجی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن ہمیں اپنی روایات کو بھی زندہ رکھنا ہوگا، کیونکہ ثقافتیں روایات سے ہی زندہ رہتی ہیں، اگر ہم نے عید کارڈ جیسی روایات کو مکمل طور پر چھوڑ دیا تو آنے والی نسلیں اس خوبصورت احساس سے محروم رہ جائیں گی جو کبھی ہمارے لیے عید کا اصل حسن تھا، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوبارہ ان روایات کو زندہ کرنے کی کوشش کریں، کم از کم سال میں ایک بار اپنے پیاروں کو عید کارڈ بھیج کر اس خوبصورت روایت کو زندہ رکھا جائے، کیونکہ ایک سادہ سا کارڈ بھی کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر سکتا ہے اور دلوں کو جوڑ سکتا ہے، لیٹر بکس کی خاموشی ہمیں یہ پیغام دے رہی ہے کہ ہم نے شاید کہیں نہ کہیں اپنی اقدار کو چھوڑ دیا ہے، لیکن اگر ہم چاہیں تو یہ روایت دوبارہ زندہ ہو سکتی ہے، بس ضرورت ہے ایک چھوٹے سے قدم کی، ایک چھوٹے سے کارڈ کی اور ایک بڑے جذبے کی، عید کارڈ کی روایت ختم نہیں ہوئی بلکہ صرف ہم نے اسے نظر انداز کیا ہے، اور اگر ہم نے چاہا تو اسے پھر سے زندہ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ خوشی بانٹنے کا بہترین ذریعہ آج بھی وہی کاغذ کا کارڈ ہے جس میں دل کی بات لکھی ہوتی ہے اور جو خاموشی سے لیٹر بکس میں انتظار کرتا ہے کہ کوئی اسے پھر سے زندہ کر دے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال وجود پیر 23 مارچ 2026
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

آئی ہے عید ہر سال کی طرح وجود پیر 23 مارچ 2026
آئی ہے عید ہر سال کی طرح

بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی وجود پیر 23 مارچ 2026
بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی

ایرانی ایٹم بم وجود پیر 23 مارچ 2026
ایرانی ایٹم بم

ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی ! وجود پیر 23 مارچ 2026
ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر